Sabitlenmiş Tweet
ستارہ سحر☕
11.1K posts

ستارہ سحر☕
@IR__2am
خاموش خواب، سنائی نہ دینے والی کہانیاں✨
بھاڑ Katılım Ocak 2025
747 Takip Edilen1.6K Takipçiler
ستارہ سحر☕ retweetledi
ستارہ سحر☕ retweetledi

یہ آفر آج بھی پہلے دن کی طرح موجود ہے
Most important *****
زرا وہ لڑکیاں تو سامنے آئیں جن کو میں نے 2018 سے لے کر آج کی تاریخ تک افیئر کا کہا ہو ، دوستی کا کہا ہو ، یا کسی بھی رشتے کا کہا ہو ؟؟
اگر کسی کو کہا ہے تو براہ مہربانی سکرین شاٹ لگا دیں
عباس
Abbas Khan…!!!☕️@AbbasKhan251
Most important ***** زرا وہ لڑکیاں تو سامنے آئیں جن کو میں نے 2018 سے لے کر آج کی تاریخ تک افیئر کا کہا ہو ، دوستی کا کہا ہو ، یا کسی بھی رشتے کا کہا ہو ؟؟ اگر کسی کو کہا ہے تو براہ مہربانی سکرین شاٹ لگا دیں عباس
اردو
ستارہ سحر☕ retweetledi

@AbbasKhan251 بہت خوبصورت تحریر چاند نما شخص کا یہ تخیل ہمشیہ سلامت رہے
اردو
ستارہ سحر☕ retweetledi

تیسرا اور آخری حصہ
چاند نما شخص کی پگلی
جب تم اداس ہو گے جب تمہاری یہ خاموشی یہ تنہائی تمہیں اندر سے کھانے لگے گی (اس کی آواز کانپ رہی تھی)
!! تو میرے پاس آؤ گے نا
!! اسی بینچ پر
!! اسی چاند کے سامنے
!! ہماری اس تخیل کی دنیا میں
!! کہ اس تخیل کا خاتمہ میری موت ہے
(میں نے اس کے چہرے کو دیکھا)
…وہ واقعی منت کر رہی تھی…
جانتی ہو نا پگلی کہ یہ تخیل کبھی ختم نہیں ہوگا (میں نے اسے تسلی دی )
وقتی مصروفیات ہو سکتی ہیں دنیاداری کے کچھ کام ہو سکتے ہیں مگر میرا انتظار کرنا کہ یہ چاند نما شخص سب سے نکل کر تمہارے پاس ضرور آئے گا تمہارے پاس نہیں آؤں گا تو کس کے پاس جاؤں گا ؟
پھر زیادہ دیر نہ کرنا کہ کہ یہ انتظار جہاں امید کو زندہ رکھتا ہے وہاں تکیلف بھی بہت دیتا ہے (لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ اور آنکھوں میں آنسوں لیے اس نے میری طرف دیکھا)
میں نے سیگریٹ کو دیکھا جو اب تک سلگایا نہیں تھا اور اسے واپس ڈبی میں رکھ دیا تھا
وہ اٹھی زمین سے ایک اور کانچ کا ٹکڑا اٹھایا اور اسے کینوس پر لگا دیا مگر تصویر مکمل نہیں کی۔
تم۔نے اسے مکمل کیوں نہیں کیا ؟(میں نے پاس کھڑے ہو کر سوال کیا )
کیونکہ ابھی تم بھی نامکمل ہو جس دن تم مکمل ہو گے اس کو بھی مکمل کردوں گی ۔(وہ میری طرف مڑی اور یہ کہتے ہوئے بینچ پر جا کر ساتھ پڑی ڈائری اٹھا لی جس کا خالی صفحہ بھی انتظار میں تھا کہ اس پر آج کا سبق لکھا جائے)
چاند نما شخص بیٹھو۔ (اس نے ڈائری بند کی اور کھڑی ہو گئی)
بیٹھی رہو میرے پاس میں نے بازو سے تھام کر اسے۔ پاس بٹھایا )
پڑھ کر سناؤں کیا لکھا ہے ؟
!!ہاں سناؤ نا
وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی آیا ہے میری امید ٹوٹی نہیں ہے ۔ میرا چاند نما شخص پوری دنیا سے الگ ہے وہ کہتاہے انتظار کرنا شاید اسے معلوم نہیں کہ میں ہمیشہ یہیں اسی بینچ پر…اسی چاند کے سامنے… صرف اس کا انتظار کرتی ہوں ۔ وہ کہتا ہے اپنے پیاروں کو وعدوں کی ڈور میں باندھتے نہیں ہیں نہ انھیں شرطیں رکھ کر آزماتے ہیں بلکہ یقین اور اعتماد کے ساتھ ان کی واپسی کا انتظار کرتے ہیں جن سے محبت کی جاتی ہے ان کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا نہ ان کو قید کیا جاتا ہے بلکہ ان کا ساتھ دیا جاتاہے۔ پختہ یقین اور امید کے ساتھ کہ جو ہمارا ہے وہ ہمارا رہے گا اور اگر یقین پختہ ہو تو جن کا ہم انتظار کر رہے ہوتے ہیں وہ ہمارے پاس ضرور آتے ہیں وقتی دوریاں رشتوں کو کمزور نہیں بلکہ اور مضبوط بناتی ہیں۔ ۔(اس نے یہ کہہ کر ڈائری بند کر دی )
اور کچھ لکھنا ہے چاند نما شخص ؟( اس نے میری طرف دیکھا اور پوچھا)
نہیں آج کے لیے اتنا کافی ہے پگلی !!
اس نے آہستہ سے سر میرے کندھے پر رکھ دیا
تم ابھی پھر چلے جاؤ گے نا…؟(اس نے بہت دھیمی اور اداس آواز میں پوچھا)
میں نے کوئی جواب نہیں دیا
وہ ایک دم مسکرائی(جیسے جواب پہلے سے معلوم ہو)ٹھیک ہے میں پھر تمہیں یہیں ملوں گی (اس نے میرے ہاتھ کو تھامتے ہوئے کہا )
میں نے اس کی طرف دیکھا تو محسوس ہوا ۔کہ وہ پگلی صرف میرا انتظار نہیں کرتی بلکہ وہ میرے لوٹ آنے کے یقین کے ساتھ جیتی ہے اور شاید میں ہر باراسی یقین اور اعتماد کی
وجہ سے واپس آجاتا ہوں
عباس
اردو

پہلا حصہ
چاند نما شخص کی پگھلی
رات کا پچھلا پہر کھلےآسمان تلےاس مخصوص بینچ پر وہ اکیلی بیٹھی سامنے آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھنے میں محو تھی اس چاند کی روشنی میں سامنے رکھے کینوس پر بکھرے شیشے کے ٹکڑے ہلکے سے چمک رہے تھے ۔میں تھکے ہوئے قدموں سے سیڑھیاں چڑھنے لگا ہر قدم جیسے کسی بوجھ کو گھسیٹ رہا ہو۔میرے قدموں کی آہٹ کو محسوس کرتے ہوئے بھیگی آواز سے اس نے کہا
چاند نما شخص تم آگئے
میں نے کوئی جواب نہیں دیا خاموشی سے اس کے پاس بینچ پر بیٹھ گیا (ہاتھ میں سیگریٹ کی ڈبی اور انگلیوں میں لائٹر اور اس کی طرف دیکھا جو مجھ سے نظریں چرا رہی تھی)
رو رہی تھی (میں نے لہجے میں سختی لاکر اس سے پوچھا )
نہیں تو بالکل بھی نہیں (آنسو پونچھتے ہوئے اس نے کہا)
ایک دم خاموشی چھا گئی اور اس خاموشی میں پگلی کی نظریں آسمان سے چمکتے چاند سے ہٹ کر مجھ پر (اس کے چاند نما شخص پر ) جمی ہوئی تھیں
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے صدیوں سے پیاسی آنکھوں کو اب سیرابی نصیب ہوئی ہو ۔
کیا دیکھ رہی ہو (میں نے خاموشی کو چیرتے ہوئے پوچھا)
ہمیشہ کی طرح صرف اور صرف تمہیں میرے تخیل کے شہزادے ( وہ مسکراتی ہوئی نم آنکھوں سے بولی )
کیا تمہیں یقین تھا کہ میں آؤں گا (میں نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا )
پختہ یقین ہے چاند نما شخص (وہ میری طرف مکمل مڑی آنکھوں میں نمی کی جگہ اب التجا نے لے لی تھی )
اور اگر میں نہ آتا تو (میں نے چہرے پر تھکی ہوئی مسکراہٹ سجائے پوچھا )
تو میں جانتی ہوں تم مصروف ہوتے ہو اس خود غرض دنیا کے نام نہاد رشتوں میں اور جانتے ہو میں یہاں بیٹھی تمہارا انتظار کرتی ہوں ( میرے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے وہ کہنے لگی) کیونکہ تم جہاں بھی ہوتے ہوں آخر میں میرے پاس آتے ہو ہماری اس پر سکون دنیا میں
یہ ہاتھوں پر کیا ہوا ؟(میں نے اس کے ہاتھوں پر نظریں جمائے پوچھا ،اس پگلی کے ہاتھ پر زخم تھے کہیں سے خون ابھی تک رِس رہا تھا تو کہیں خون جم کر نشان چھوڑ چکا تھا )
معمولی سے زخم ہیں تمہارے زخموں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں (اس نے ہاتھوں کی لرزش چھپائے مظبوط آواز میں کہا)
میں نے اس کے ہاتھوں کی لرزش محسوس کرتے ہوئے اردگرد نظریں دوڑائیں جگہ جگہ کانچ کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے اور سامنے پڑے کینوس پر کچھ ٹکڑے جڑے تھے ۔
یہ سب کیا ہے کیا کر رہی تھی ؟ (میں نے نرم لہجے میں پوچھا )
وہ زمین پر پڑے کانچ کے ٹکڑے چننے لگی ٹکڑے ہاتھوں میں چبھ رہے تھے خون بہہ رہا تھا مگر وہ چاند نما شخص کی پگلی تھی اس نے زخموں پر بھی خاموشی سے صبر کرنا سیکھا تھا ۔
میرے سوال کا جواب نہیں دیا تم نے (میں نے سخت لہجے میں سوال دہرایا )
تمہیں جوڑ رہی تھی (میرے قدموں میں بیٹھتے ہوئے میرے گھٹنے پر سر رکھتے ہوئے وہ کہنے لگی)
اور خود کو زخمی کر رہی توڑ رہی ؟(میں نے اب لہجے کو نرم کیا )
یہ زخم بہت معمولی ہیں چاند نما شخص مجھے تمہارے زخم ،تمہاری اداسی تکلیف دیتی ہے زخمی کرتی ہے (اس نے بے بس نگاہوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا )
میں نے ڈبی سے سیگریٹ نکالا مگر سلگایا نہیں ( آج اس کے ساتھ بیٹھے میں نے ابھی تک ایک بھی سیگریٹ نہیں سلگایا تھا )
جانتی ہو پگلی یہ جو اردگرد لوگ موجود ہیں نا سب بدلہ چاہتے ہیں سب محبت کا خراج مانگتے ہیں ان سب کے درمیان ہنستے رہنا ہی زندگی ہے۔
تو کیا زندگی میں یہ سب برداشت کرنا ضروری ہے ؟(اس نے میرے گھٹنوں سے سر ذرا سا اٹھا کر میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا )
ہاں پگلی آزمائشوں کی بھٹی میں جلو گی نہیں تو کندن کیسے بنو گی ؟
ہممم سمجھ گئی چاند نما شخص (اس نے پھر سے سر کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے جواب دیا )
کچھ دیر خاموشی پھیل گئی خاموشی سے گھبرا کر اس نے سوال کیا ۔
چاند نما شخص کیا تمہیں معلوم ہے ؟
کیا؟ (میں نے سر اس کی طرف موڑتے ہوئے پوچھا )
یہ خاموشی تمہاری خاموشی یہی مجھے سب سے زیادہ زخمی کرتی ہے (میں جو سیگریٹ سلگانے لگا تھا میری انگلیاں لائٹر پر رک گئیں)
جب تم کچھ نہیں کہتے نا یونہی خاموش رہتے ہو نا تو ایسا لگتا ہے میری روح تڑپ رہی ہے جیسے میں کہیں نہیں ہوں جیسے تمہاری دنیا میں میری کوئی جگہ نہیں ۔(وہ گھٹنوں پر سر رکھے آسمان کی طرف تکتے بولتی جارہی تھی اور اس کی آواز مجھے اندر تک اترتی محسوس ہو رہی تھی)
مگر جانتے ہو میرا تم پر یقین مجھے کمزور نہیں پڑنے دیتا مجھے بدگمانی سے محفوظ رکھتا ہے ۔مجھے کہتا ہے میرا چاند نما شخص ضرور آئے گا جانتے ہو یہ انتظار جتنا خوبصورت ہے نا اتنا ہی تکلیف دہ بھی ہے ۔
میں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا وہ واقعی رو رہی تھی اس کی آواز کی نمی، لرزتی پلکیں ، پھیکی مسکراہٹ سب اس کے
اندر کا احوال بتا رہے تھے یوں لگ رہا تھا
جاری ہے اگلے ٹویٹ میں
اردو

دوسرا حصہ
چاند نما شخص کی پگلی
اس نے آنسوؤں کو بھی خاموش رہنے کی
تلقین کر دی ہو کیونکہ وہ آنکھوں تک محدود تھے
اٹھو ادھر آکر بیٹھو (میں نے اسے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا)
وہ اٹھ کر میرے پاس آکر بیٹھ گئی آنکھوں میں عجیب سی ضد تھی چاند نما شخص سنو ۔
ہمم کیا ہوا ؟
تم جانتے ہو تم میری پہچان ہو تم میری ہر دعا کا حصہ ہو تم تخیل کی دنیا کے حسین شہزادے ہو تم میرے چاند نما شخص ہو پگلی کے چاند نما شخص تمہارے ہونے سے یہاں رونق ہے ،ہر گیت ،ہر نظم،ہر کہانی تم ہو ،تم محبت بانٹنے والے ایک رحم دل بادشاہ ہو کہ جس کی رعایا نے صرف اپنے بادشاہ سے محبت کرنا سیکھا ہے،تم روزوں کے بعد ملنے والی عید کی خوش کی طرح ہو ،تم کسی اور سیارے سے ہجرت زدہ لگتے ہو کیونکہ تم بے حس نہیں تم پتھر دل نہیں تم پگلی کے چاند نما شخص ہو جو کہ واجب المحبت ہے تم اداس اچھے نہیں لگتے تم خوش رہا کرو ۔(وہ میری طرف دیکھتے ہوئے ملتجی لہجے میں بولی )
ابھی تم محبت کے ان راستوں پر بالکل نئی ہو تم یہ سب نہیں سمجھو گی !(میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا )
تو سمجھاؤ نا میں سمجھنا چاہتی ہوں (وہ تھوڑا جذباتی ہوتے ہوئے کہنے لگی )
سنو پگلی(میں کچھ لمحے خاموش رہا پھر اس سے کہا)
تم جو یہ کر رہی ہو نا یہ محبت نہیں ( میں نے اس کے زخمی ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا )
تو پھر کیا ہے ؟(اس نے ایک دم خوفزدہ ہو کر پوچھا)
اسے خود کو مٹانا کہتے ہیں مگر ابھی تمہیں یہ بھی نہیں آتا ثابت قدم رہو گی تو سیکھ جاؤ گی (میں نے اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھاما)
اور تمہارا وہ درد، وہ تکیلف جو تم خود پر بھی ظاہر نہیں ہونے دیتے جو اندر ہی اندر تمہیں کھا رہے ہیں جو مجھے تڑپا رہے ہیں اس کا کیا ؟(اس نے بے بسی سے سوال کیا)
یہ درد ہی میری کل کائنات ہیں جب میرے پاس کوئی نہیں ہوتا تو یہ تنہائی ہی میری ساتھی ہوتی ہے(یہ کہہ کر میں خاموش ہو گیا)
چاند نما شخص تم جانتے ہو میں نے صرف تمہیں لفظوں سے محسوس نہیں کیا( آہستہ سے اور قریب ہوتے ہوئے اس نے کہا )
جانتا ہوں تمہارا چاند نما شخص نہیں جانتا ہوگا تو پھر کون جانتا ہوگا۔
یہ درد ،یہ تکلیف تمہارا ٹوٹنا تمہاری اداسی،یہ تمہارے رشتوں کے لگائے ہوئے زخم یہاں پر محسوس ہوتے ہیں (اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا )
پگلی ہو تم بالکل (میری گرفت لائٹر پر مضبوط ہوئی)
ہاں کیونکہ سمجھدار لوگ اتنا محسوس نہیں کرتے (اس نےنم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے کہا )
چاند نما شخص ایک بات کہوں
جی کہو (میں نے چہرہ اس کی طرف موڑ کر کہا )
میں دعا کرتی ہوں اللّٰہ تمہیں سمجھدار لوگوں سے محفوظ رکھے کیونکہ سمجھدار لوگ ہر کام میں اپنا فایدہ سوچتے ہیں حتیٰ کہ محبت بھی سوچ کر نفع نقصان کی بنیاد پر کرتے ہیں( وہ انگلیوں سے کھیلتے ہوئے کہہ رہی تھی اس کے ہاتھوں پر بھی خون جما ہوا تھا)
ایک دم ہوا کا جھونکا آیا اور کینوس پر پڑے کانچ کے ٹکڑوں نے آواز پیدا کی اور وہ دوبارہ کانچ کے ٹکڑے اٹھانے کے لیے جھکی ۔میں نے فوراً اس کا ہاتھ تھام کر روکا بس کردو کتنے ٹکڑے مکمل کرو گی ایک جوڑو گی تو دوسرا اکھڑ جائے گا
تب تک جوڑتی رہوں گی جب تک تمہارے اندر کے زخم ختم نہیں ہو جاتے اور تمہاری تصویر مکمل نہیں ہو جاتی (وہ مظبوط لہجے میں کہنے لگی)
ہر چیز مکمل ہونے کے لیے نہیں ہوتی بس کردو (میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا )
چلو بتاؤ اگر میں تمہیں جوڑنا چھوڑ دوں تو کیا تم ٹوٹنا چھوڑ دو گے ؟ اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا )
مشکل کام نہیں ہوتے مجھ سے میں نے اسے جھاڑتے ہوئے کہا اور ہر وقت کا سوچنا چھوڑ دو تم بھی(خاموشی پھر سے ہمارے درمیان آن وارد ہوئی )
ایک وعدہ کرو گے ؟(ذرا سی دیر خاموش رہنے کے بعد حسب عادت وہ پھر بول پڑی )
جانتی ہو نا میں وعدے نہیں کرتا(میں نے جواب دیا )
چاند نما شخص تم وعدے کیوں نہیں کرتے ؟
کیونکہ وعدے کرنا بہت آسان ہے مگر نباہنا مشکل ہوتا ہے!!
مشکل کیسے دل سے کرو تو نباہ بھی ہو جاتے ہیں (وہ معصومیت سے بولی )
دیکھو پگلی بعض اوقات تقدیر ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی ہو سکتا ہے ہمارا کوئی پیارا کسی مجبوری کے تحت وعدہ پورا نہ کر سکے اور ہمارا رشتہ خراب بھی ہو سکتا ہے (میں نے نرمی سے اسے سمجھایا)
ہمممم سمجھ گئی تم ایک بہترین استاد ہو جس کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے!!
اور تم ایک ضدی شاگرد (میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا )
چاند نما شخص تم مسکراتے ہو تو اردگرد بہار لگتی ہے مسکراتے رہا کرو نا !(وہ حسرت سے میرے چہرے کو دیکھ رہی تھی جہاں ہلکی سی مسکراہٹ کی لہر ابھر کر معدوم ہو چکی تھی )
سنو چاند نما شخص ایک التجا ہے اس نے تڑپ کر کہا (اس کی آنکھوں میں اب صرف محبت نہیں تھی خوف تھا بچھڑ جانے کا خوف )
ہاں بولو پگلی (میں جانتا تھا اب وہ کیا کہنے والی ہے)
جاری ہے اگلے ٹویٹ میں
2/2
اردو


