𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇

4.1K posts

𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 banner
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇

𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇

@ImAhmers

𝓓𝓸𝓷’𝓽 𝓒𝓸𝓶𝓹𝓪𝓻𝓮 𝓨𝓸𝓾𝓻𝓼𝓮𝓵𝓯 𝓦𝓲𝓽𝓱 𝓞𝓽𝓱𝓮𝓻𝓼. 𝓑𝓮 𝓣𝓱𝓮 𝓢𝓾𝓷 𝓐𝓷𝓭 𝓣𝓱𝓮 𝓜𝓸𝓸𝓷 𝓐𝓷𝓭 𝓢𝓱𝓲𝓷𝓮 𝓦𝓱𝓮𝓷 𝓘𝓽’𝓼 𝓨𝓸𝓾𝓻 𝓣𝓲𝓶𝓮.

Karachi, Pakistan Katılım Mayıs 2025
2.6K Takip Edilen2.7K Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇@ImAhmers·
اور اگر میں تجھ سے پہلے مر جاؤں گا وعدہ ہے میرا میں تجھ سے ملنے آؤنگا کبھی صبح کی پہلی دھوپ میں کبھی بلی یا کبھی تتلی کے روپ میں کبھی دوپہر کی چھاؤں بن کے کبھی تیری پرچھائی کبھی تیرے پاؤں بن کے میں آؤں گا تجھ سے ملنے آؤں گا توں ڈھونڈنا مجھے- میں تیرے گھر کے چمیلی کی خوشبو میں آؤنگا میں بارش کی بوندوں میں مٹی کی خوشبو میں آؤنگا زندگی کے جینے کے طریقے سکھاؤں گا میں ہر رات تیرے خوابوں میں آؤنگا تجھے کبھی یاد آئے میری تو چھت پہ آنا تو میں اس رات تجھے گلے سے لگاؤنگا اور اگر میں تجھ سے پہلے مر جاؤں گا وعدہ ہے میرا میں تجھ سے ملنے آؤں گا 🌹♥️
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 tweet media
اردو
2
1
7
414
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 retweetledi
Samina khan
Samina khan@Saminakhan4000·
صبح سویرے ہلکا پھلکا ناشتہ دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے، جس سے آپ دن بھر چاک و چوبند اور توانا رہتے ہیں۔ ✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️ آپ صبح کا ناشتہ کس وقت کرتے ہیں؟؟
Samina khan tweet media
اردو
13
2
19
369
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 retweetledi
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
زندگی میں سب سے مشکل کام وقت کو سمجھنا ہےانسان اکثر ان لمحوں کی قدر نہیں کرتا جو اس کے پاس ہوتے ہیں لیکن جب وہی لمحے گزر جاتے ہیں تو دل میں ایک خاموش افسوس رہ جاتا ہے ہم ہمیشہ بڑے خوابوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں مگر سکون اکثر چھوٹی چھوٹی چیزوں میں چھپا ہوتا ایک کپ چائے ماں کی آواز حتی کہ اپنے کا ساتھ وقت ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر چیز ہمیشہ نہیں رہتی اس لیے جیتے جاگتے لمحوں کی قدر کرنی چاہیے۔
اردو ورثہ tweet media
اردو
3
7
32
1.7K
Maria Baloch
Maria Baloch@MariaBalochPK·
جب حضرت سلیمان علیہ السلام کی عظیم سلطنت کا چرچا ہر طرف پھیل گیا تو تمام پرندے ان کی فرمانبرداری میں حاضر ہونے لگے۔ جب انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنا رازداں اور اپنی زبان سمجھنے والا پایا تو ہر جماعت خوش دلی کے ساتھ ان کے دربار میں آ پہنچی۔ پرندوں نے اپنی معمول کی چہچہاہٹ ترک کر دی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی مجلس میں بنی آدم سے بھی زیادہ بلیغ اور فصیح انداز میں گفتگو کرنے لگے۔ ہر پرندہ اپنی اپنی دانائی اور خصوصیات بیان کرتا تھا۔ یہ اظہار کسی فخر یا خود نمائی کی خاطر نہ تھا بلکہ اپنی فطری صلاحیتوں کو واضح کرنے کے لیے تھا تاکہ حضرت سلیمان علیہ السلام دینِ حق کی تعلیم اور ہدایت کے فروغ میں ان سے بہتر طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔ آخرکار ہُد ہُد کی باری آئی۔ اس نے عرض کیا: "اے بادشاہ! ایک ایسا ہنر بیان کرنا چاہتا ہوں جو بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے، کیونکہ مختصر اور جامع بات ہی زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے۔" حضرت سلیمان علیہ السلام نے دریافت فرمایا: "وہ کون سا ہنر ہے؟" ہُد ہُد نے جواب دیا: "جب میں بلند فضا میں پرواز کرتا ہوں تو زمین کی گہرائیوں میں موجود پانی کو بھی دیکھ لیتا ہوں۔ میں یہ بھی جان لیتا ہوں کہ وہ کہاں موجود ہے، کتنی گہرائی میں ہے، اس کا رنگ کیا ہے، اور یہ کہ وہ زمین کے اندر سے چشمے کی صورت میں پھوٹ رہا ہے یا کہیں سے رس کر جمع ہوا ہے۔ اے سلیمان علیہ السلام! آپ اپنے لشکر میں مجھ جیسے واقفِ حال کو ضرور شامل رکھیے۔" حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: "بہت اچھا، پھر تم بنجر اور دشوار گزار صحراؤں میں ہمارے ساتھ رہا کرو۔ تم ہماری رہنمائی بھی کرو اور آگے آگے چل کر پانی کی تلاش بھی کرتے رہو تاکہ ضرورت کے وقت ہمیں پانی کا سراغ ملتا رہے۔" جب کوّے نے سنا کہ ہُد ہُد کو یہ اعزاز حاصل ہوگیا ہے تو اس کے دل میں حسد پیدا ہوا۔ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: "ہُد ہُد نے حقیقت کے خلاف بات کی ہے اور گستاخی کا ارتکاب کیا ہے۔ بادشاہ کے حضور ایسا دعویٰ کرنا جسے ثابت نہ کیا جا سکے، خلافِ ادب ہے۔ اگر اس کی نگاہ واقعی اتنی تیز ہوتی تو مٹھی بھر مٹی میں چھپے ہوئے پھندے کو کیوں نہ دیکھ پاتا؟ وہ جال میں کیوں پھنستا اور پنجرے میں کیوں قید ہوتا؟" حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: "اے ہُد ہُد! کیا واقعی تم نے میرے سامنے ایسا دعویٰ کیا ہے جو درست نہیں؟" ہُد ہُد نے عرض کیا: "خدا کے لیے، اے بادشاہ! میرے دشمن کی باتوں میں نہ آئیے۔ اگر میرا دعویٰ جھوٹا ثابت ہو تو میری گردن حاضر ہے، فوراً سزا دے دیجیے۔ لیکن جہاں تک موت یا اللہ تعالیٰ کے حکم سے گرفتاری کا تعلق ہے، اس سے بچنے کی طاقت نہ میرے پاس ہے اور نہ کسی اور کے پاس۔ اگر اللہ تعالیٰ میری عقل اور بصیرت کی روشنی کو برقرار رکھے تو میں ہوا میں اڑتے ہوئے جال اور پھندے کو بھی دیکھ سکتا ہوں، لیکن جب حکمِ الٰہی نافذ ہوتا ہے تو عقل ماند پڑ جاتی ہے، چاند تاریکی میں ڈوب جاتا ہے اور سورج کو بھی گہن لگ جاتا ہے۔ میری عقل اور میری بینائی میں اتنی قوت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور اس کے حکم کا مقابلہ کر سکے۔" ماخذ: کتاب: حکایاتِ رومی، حصہ اول (صفحہ 23)
Maria Baloch tweet media
اردو
1
6
15
714
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 retweetledi
TARIQ MASOOD BUTT🇵🇰
زندہ اونٹ سے براہ راست بوٹی، تکہ اور کباب تک کا سفر! 🔥 یہ ٹیکنالوجی انشاءاللہ اگلے سال تک پاکستان کے ہر شہر، میں لگ جائے گی۔ پاکستان میں حلال فوڈ انقلاب آ رہا ہے! 🇵🇰🐪
اردو
37
142
758
173.4K
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 retweetledi
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
سلسلے خواب کے اشکوں سے سنورتے کب ہیں آج دریا بھی سمندر میں اترتے کب ہیں وقت اک موج ہے آتا ہے ، گزر جاتا ہے ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ، ابھرتے کب ہیں یُوں بھی لگتا ہے تری یاد بہت ہے لیکن زخم یہ دل کے تری یاد سے بھرتے کب ہیں لہر کے سامنے ساحل کی حقیقت کیا ہے جن کو جینا ہے وہ حالات سے ڈرتے کب ہیں یہ الگ بات ہے لہجے میں اداسی ہے شمیم ورنہ ہم درد کا اظہار بھی کرتے کب ہیں فاروق شمیم
اردو ورثہ tweet media
اردو
2
5
22
1.4K
Mamnoon.official
Mamnoon.official@Talkshawkvj·
محبت ایک نفسیاتی مسئلہ ہے یہ نارمل اور پریکٹیکل لوگوں کو کبھی نہیں ہوتی___!! ♥️😻
Mamnoon.official tweet media
اردو
3
1
10
111
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 retweetledi
Sameer
Sameer@ArihantAli·
खामोशी सबसे बड़ा हथियार है: कभी-कभी किसी की बकवास पर मुस्कुराकर चुप रह जाना, सामने वाले को आपकी चीख-पुकार से कहीं ज़्यादा चोट पहुंचाता है। गुस्सा एक ऐसा तेज़ाब है जो उस बर्तन को ज़्यादा नुकसान पहुँचाता है जिसमें वो रखा है, बनिस्बत उसके जिस पर वो डाला जाता है।"❤️💕🌾
Sameer tweet media
हिन्दी
15
28
38
392
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 retweetledi
M D Ambedkar
M D Ambedkar@MukhdeoRammd112·
साथियों बहुत अच्छा स्पेस चल रहा है जल्द जुड़े और फॉलोअर प्राप्त करें x.com/i/spaces/1jxXg…
हिन्दी
54
97
92
2.3K
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 retweetledi
Shumaila Naz
Shumaila Naz@shum_aila123·
اک اور جہاں بھی ہے مرا منتظر، یہ پڑھ کر.. ساقی میں اس جہاں میں، جینے سے ڈر گیا. x.com/i/spaces/1jxXg…
اردو
42
180
124
3.9K
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 retweetledi
Friend
Friend@izanattari12·
I'm working hard to create valuable and engaging content every day. Every new follower motivates me to keep improving and sharing more. If you enjoy my posts, follow my account and be part of this growing community x.com/i/spaces/1jxXg…
English
43
152
113
3.2K
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 retweetledi
ADIL..KHAN
ADIL..KHAN@adilkhan8th·
آپ کا دل ہمارے پاس ہے، اور ہمارا دل آپ کے پاس ہے۔ ❤️ اب فاصلے چاہے جتنے بھی ہوں، محبت کا یہ خوبصورت احساس ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے۔ 🌹✨ आपका दिल हमारे पास है, और हमारा दिल आपके पास है। अब फ़ासले चाहे जितने भी हों, मोहब्बत का ये खूबसूरत एहसास हमेशा हमारे साथ है। @Black_ston5g
23
65
88
1.6K
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 retweetledi
Maria Baloch
Maria Baloch@MariaBalochPK·
18 ذوالحجہ کے دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے شہادت کا واقعہ بہت لمبی ہیں لیکن مختصر سنو پہلے یہ بات کہ ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اور بہت حیا والے تھے ان کو امت ذوالنورین کہتی تھی کیونکہ انہوں نے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں سے نکاح کیا تھا بہت نرم دل تھے بہت زیادہ خرچ کرنے والے تھے جب مدینہ میں پانی کی قلت ہوئی تو انہوں نے اپنا پیسہ دے کر رومہ کا کنواں خرید لیا اور ساری امت کے لیے وقف کر دیا جب تبوک کی جنگ آئی تو عثمانی غنی رض نے اکیلے ایک لشکر کا خرچہ اٹھا لیا تھا ایسے آدمی تھے وہ جب مصر کوفہ اور بصرہ کے کچھ لوگ مدینہ آ گئے تھے ان لوگوں کے دل میں کچھ شرارتی باتیں ڈال دی گئی تھیں کچھ لوگ انہیں بھڑکاتے تھے کہتے تھے کہ خلیفہ نے اپنے رشتہ داروں کو گورنر بنا دیا ہے انصاف نہیں ہو رہا تو یہ لوگ جمع ہو کر مدینہ آ گئے اور آ کر حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کر لیا تھا وہ دن رات گھر کے باہر شور مچاتے تھے یہ لعنتی لوگ گالیاں دیتے تھے خلیفہ سے مطالبہ کرتے تھے کہ اپ گورنروں کو ہٹاؤ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے بہت نرمی سے بات کی تھی وہ گھر کی چھت پر آ کر کہتے تھے کہ اے میرے بھائیو میں تمہارا خلیفہ ہوں میں نبی کا ساتھی ہوں مجھے بتاؤ تمہاری کیا شکایت ہے میں ٹھیک کر دوں گا انہوں نے بار بار وعدہ کیا کہ جو غلطی ہو گئی ہے میں اسے درست کروں گا لیکن وہ لعنتی لوگ ماننے والے نہیں تھے کیونکہ ان کے دل میں پہلے ہی آگ لگا دی گئی تھی پھر ایک دن حضرت عثمان غنی رض نے کہا کہ اچھا میں تمہارے ساتھ ایک آدمی بھیجتا ہوں جو تمہاری بات سن کر گورنر کو ہٹا دے گا وہ لوگ مان گئے اور واپس چلے گئے راستے میں ایک آدمی نے ان کا خط پکڑ لیا تھا اس خط میں لکھا ہوا تھا کہ جب یہ لوگ واپس پہنچیں تو ان کو پکڑ کر سزا دو جب یہ خط لوگوں کے ہاتھ لگا تو وہ غصے سے پاگل ہو گئے انہیں لگا کہ خلیفہ نے دھوکہ دیا ہے حالانکہ حضرت عثمان رض کو اس خط کا علم ہی نہیں تھا بعد میں پتہ چلا کہ یہ شرارت کسی اور کی تھی بس پھر وہ لعنی لوگ واپس مڑے اور سیدھا مدینہ آ گئے اس بار ان کے ہاتھ میں تلواریں تھیں پہلے صرف بات تھی اب خون کی بات آ گئی تھی انہوں نے مدینہ کے دروازے بند کر دیے اور سیدھا حضرت عثمان کے گھر کی طرف دوڑے صحابہ نے روکنے کی کوشش. کی حضرت حسن حضرت حسین عبداللہ بن زبیر اور دوسرے نوجوان صحابہ گھر کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ جب تک ہم زندہ ہیں کوئی اندر نہیں جا سکتا لیکن حضرت عثمان غنی معصوم رض نے اندر سے آواز دی کہ میرے بچو ۔ہٹ جاؤ میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے مسلمان کا خون بہے اگر میں مر جاؤں تو امت بچ جائے گی تو مجھے مار دو لیکن تلوار نہ اٹھاؤ وہ لوگ دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہو گئے تھے گھر میں حضرت عثمان رض قرآن پڑھ رہے تھے ان کے سامنے قرآن کھلا ہوا تھا اور وہ آیت تلاوت کر رہے تھے فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم یعنی اللہ تمہارے لیے کافی ہے اور وہ سب کچھ سنتا جانتا ہے جب وہ لوگ اندر آئے تو حضرت عثمان غنی معصوم رض. نے قرآن بند نہیں کیا وہ بیٹھے رہے اور کہا کہ اے میرے بھائیو میں تم سے اللہ اور رسول کا واسطہ دیتا ہوں مجھ پر تلوار نہ اٹھاؤ لیکن ان کے دل پتھر ہو چکے تھے ان لوگوں پر لعنت ہوں قاتلین عثمان. رض کی انجام پر تحریر لکھونگا انشاءاللہ پھر جو پہلا وار حضرت عثمان رض کی بیوی نائلہ رض کے ہاتھ پر لگا جب اس نے خاوند کو بچانے کے لیے ہاتھ آگے کیا تھا اس کا ہاتھ کٹ گیا اور انگلیاں گر گئیں وہ چیخ کر بولی کہ تمہیں شرم نہیں آتی خلیفہ کو مار رہے ہو لیکن وہ نہ رکے دوسرا وار حضرت عثمان رض کے سر پر لگا خون بہنے لگا وہ سجدے میں گر گئے اور آخری سانس تک قرآن سے لپٹے رہے جب وہ شہید ہو گئے تو ان کا خون قرآن کی اس آیت پر گرا فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم اور وہ داغ آج تک قرآن کے اس نسخے پر موجود ہے شہادت کے بعد تین دن تک ان کا جنازہ پڑھنے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ شہر میں خوف تھا رات کو چپکے سے چند لوگوں نے ان کو جنت البقیع میں دفن کر دیا تھا نہ کفن پورا تھا نہ تابوت تھا امیر المومنین دنیا سے ایسے چلے گئے یہ واقعہ تفصیلی ہیں سازش وغیرہ بہت باتیں نہیں لکھی لیکن ہم جب یہ واقعہ پڑھتے ہیں تو دل رو دیتا ہے کیونکہ وہ آدمی جس نے ساری زندگی امت پر پیسہ لٹایا جس نے قرآن جمع کیا جس نے مسجد بنائی اسے اسی امت کے لوگوں نے گھر میں محصور کر کے شہید کر دیا بس یہی سے امت کا دل ٹوٹ گیا تھا یہی سے وہ دراڑ پڑی تھی جو آج تک بند نہیں ہوئی
Maria Baloch tweet media
اردو
4
8
25
924
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 retweetledi
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
اداکار محمد علی کی حیثیت پاکستان میں ایک فلمی اداکار کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سفیر کی بھی تھی۔ وہ اور ان کی بیگم زیبا کسی اور ملک جاتے تو اکثر حکمرانوں سے ان کی ملاقات ہوتی تھی۔ یہ حیثیت ان کو اپنے کرشماتی پرسنلٹی کی بدولت ملی تھی۔ اخلاق ان کا بہت اچھا تھا۔ مہمان نواز تھے۔ وہ اپنی جیب میں پیسے نہیں رکھتے تھے بلکہ زیبا بھابھی نہیں رکھنے دیتی تھی کہ یہ دوسرے لوگوں کو دے دیتے ہیں۔ 1974 میں لاہور میں جب اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی تو ہوٹلوں کی کمی تھی۔ تو فیصلہ کیا گیا کہ سربراہا نے مملکت کو لوگوں کے گھروں میں ٹھہرایا جائے گا۔ محمد علی کی کوٹھی جو گلبرگ میں واقع تھی وہاں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل اکر ٹھہرے۔ یہ ایک بڑے اعزاز کی بات تھی۔ 1981 میں جب محمد علی اور زیبا انڈیا گئے تو اندرا گاندھی کی حکومت تھی اور ان کی ملاقات ہندوستان کی وزیراعظم اندرا گاندھی سے ہوئی۔ منقول
اردو ورثہ tweet media
اردو
4
7
102
5.3K
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 retweetledi
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
ایک صاحب فرماتے ہیں😅😅😅 مقامی بینک کے معلومات نمبر پر فون کیا تو پہلے ہمارا شکریہ ادا کیا گیا اور اس کے بعد عندیہ دیا گیا کہ آپ کی کال ریکارڈ کی جائے گی۔ پھر کہا گیا اردو کے لئے ایک دبائیے، ہم نے تامل نہ کیا، فوراً ایک صاحبزادے گویا ہوئے* *This is Kamran, how can I help you ?* *ہم نے ان سے کہا ،"میاں صاحبزادے ! ہم نے تو اردو کے لئے ایک دبائیے پر عمل کیا ہے اس کے باوجود یہ انگریزی ؟ فرمانے لگے "جی بولیے ؟" ہم نے کہا،" بولتے تو جانور بھی ہیں انسان تو کہتا ہے" جواباً ارشاد ہوا ,"جی کہیے،" ہم نے کہا ،" ہم کہہ دیتے ہیں مگر آپ کو اخلاقاً کہنا چاہئے تھا " فرمائیے! “ اب وہ پریشان ہوگئے کہنے لگے, “ سوری، فرمائیے کیا کمپلین ہے؟“ *ہم نے کہا ,"ایک تو یہ کہ سوری نہیں معذرت سننا چاہیں گے اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے، دوسری بات یہ کہ کمپلین نہیں شکایت اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے،" اب تو سچ مچ پریشان ہوگئے اور کہا," سر میں سمجھ گیا آپ شکایت بتائیں" ہم نے کہا," سر نہیں، جناب, اس لیے کہ ایک نمبر کا یہی تقاضا ہے" شکایت سننے کے بعد کہا، "جی ہم نے آپ کی شکایت نوٹ کرلی ہے اسے کنسرن ڈپارٹمنٹ کو فارورڈ کردیتے ہیں،" ہم نے کہا، " کیا...؟" تو واقعتاً بوکھلا گئے، ہم نے کہا," شکایت نوٹ نہیں بلکہ درج کرنی ہے اور متعلقہ شعبہ تک پہنچانی ہے اس لیے کہ ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے" کہنے لگے," جناب میں سیٹ سے اٹھ کر کھڑے کھڑے بات کر رہا ہوں آپ نے اردو کے لئے ایک نہیں ہمارا گلا دبایا ہے." ہم نے کہا، “ ابھی کہاں دبایا ہے، آپ سیٹ سے کیوں اٹھے, آپ کو نشست سے اٹھنا چاہئے تھا، پتہ نہیں ہے آپ کو ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے" کہنے لگے “ اب میں رو دوں گا!*“ ہم نے کہا ,"ستم ظریفی یہ ہے کہ آپ کی گفتگو اور ستھرا لہجہ بتارہا ہے کہ آپ کا تعلق اردو گفتار گھرانے سے ہے مگر کیا افتاد پڑی ہے آپ پر کہ منہ ٹیڑھا کرکے اپنا مذاق بنوا رہے ہیں ۔!! کہنے لگے," میرے باپ کی توبہ....!! 😅😅😅 (اقبال اے رحمان) منقول ــــــــــــ
اردو ورثہ tweet media
اردو
6
17
81
5.7K
𝒮ℳ 𝒜𝒽𝓂ℯ𝓇 retweetledi
اردو ورثہ
اردو ورثہ@UrduVirsa·
بے پرواہ دلدار سجن تیرے ناز پسند ، تیری چال پسند، تیرے ہونٹ پسند ، رخسار پسند ،تیرے منہ دی ہِک ہِک گال پسند ، تیرے نین پسند... محبوب کی تعریف جب سرائیکی شاعری میں ڈھلتی ہے تو لفظ بھی محبت اوڑھ لیتے ہیں، منصور ملنگی کی دلکش آواز مل جائے تو ہر مصرع دل میں اتر جاتا ہے ♥️
اردو
4
19
76
4.6K