Ink and Aansoo

35 posts

Ink and Aansoo banner
Ink and Aansoo

Ink and Aansoo

@InkAndAansoo

Likhta hoon jo dil rota hai 🥀 Words soaked in tears, pen dipped in struggle For Kaptaan, for Pakistan, for Haqeeqi Azadi

Katılım Ekim 2025
118 Takip Edilen543 Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
دیوار سے اُٹھتی نمی کی بُو نے اُسے جگایا۔ کونے میں رکھا چراغ، جس کی لُو تھرتھرا رہی تھی، اُس کی دائیں آنکھ کی دھندلی روشنی میں ایک پیلا ہیولا سا ٹھہرا ہوا تھا۔ بائیں آنکھ سے دیکھتا تو دنیا اب بھی اپنی پرانی شکل میں دکھتی تھی: سیمنٹ کا فرش، ایک پلنگ، ایک گلاس، اور سرہانے رکھی وہ کتاب، جو مہینوں سے اُس تک نہیں پہنچی تھی۔ باہر گزرگاہ میں قدموں کی آواز اُٹھی، آہستہ، گنی ہوئی، جیسے کوئی گن کر چل رہا ہو۔ وہ اب اُن قدموں کے ہر سُر پہچان جاتا تھا، یہ وہ سپاہی نہیں تھا جو رات تین بجے آتا تھا، نہ ہی وہ جو فجر سے پہلے گزرتا تھا۔ اُسے یاد آیا، سلیمان اور قاسم چھوٹے تھے، لان میں ننگے پاؤں دوڑا کرتے تھے۔ ماں بار بار کہتی، "بچوں کو جوتا پہناؤ، فرش بہت ٹھنڈا ہے"، اور وہ ہنستے ہوئے کہا کرتا، "زمین سے رابطہ نہ ٹوٹنے دو۔" اب اُس کی زمین بس اِتنی سی تھی کہ کھڑے ہو کر دو قدم چلتا، تو دیوار آن لگتی تھی۔ زمین سے رابطہ پہلے سے کہیں گہرا تھا۔ مگر بچے دور تھے۔ ویزا۔ یہ لفظ آخری بار سُنا، تو اُسے ہنسی آ گئی تھی، اپنے بیٹوں کو۔ اپنے ہی ملک کا۔ پھر ہنسی اندر ہی اندر بیٹھ گئی، جیسے ان چاہا مہمان دروازے سے واپس موڑ دیا گیا ہو۔ عید کے دن، فون پر دونوں کی آوازیں سُنیں، تو دل میں آیا، کہ بڑے بیٹے کی آواز اب باپ سے ملتی جلتی ہے۔ - بابا، طبیعت کیسی ہے؟ - ٹھیک ہوں، تم بتاؤ۔ - گھر کب آئیں گے آپ؟ - وقت ٹھیک ہو، تو۔ اِس "ٹھیک ہوں" میں، جو کچھ نہ کہا گیا، ایک عمر چھپی تھی۔ سچ یہ تھا کہ گلاس کا پانی صاف نہ تھا، اور دائیں آنکھ سے دنیا ہر روز تھوڑی سی اور دور سرک رہی تھی۔ مگر جو "ٹھیک ہوں" بیٹوں کو کہنا چاہیے تھا، وہی کہا۔ پھر بہنوں کا قافلہ گیٹ تک پہنچا تھا، وہاں سے لوٹا دیا گیا۔ اُسے یہ رات بعد میں کسی سپاہی کی سرگوشی سے معلوم ہوئی، ایک سپاہی، جو نوکری کے باوجود انسان رہنا چاہتا تھا۔ "باجی گیٹ پر بیٹھ گئیں تھیں"، اُس نے سرگوشی میں کہا، "دھوپ میں۔" اُس نے سر ہلایا، اور کچھ نہ کہا۔ کیا کہتا؟ بہنوں کا دھوپ میں بیٹھنے کا غم کیا اُن پرچیوں سے بڑا تھا جو ہر دن ایک نئی بات لے کر آ رہی تھیں؟ ایسا ترازو اُس کے پاس تھا کہاں؟ ایک رات اُسے بتایا گیا، یا شاید وہ خبر نہیں، خواہش تھی، کہ اگر وہ ایک سطر لکھ دے، تو سب نرم ہو جائے گا۔ ایک سطر۔ قلم بھی پاس تھا، روشنائی بھی۔ اُس نے قلم اُٹھایا۔ دیر تک اُس کی نوک کو چراغ کی روشنی میں دیکھتا رہا، اور پھر رکھ دیا۔ درویش کی طرح، جو چادر اوڑھ کر پانی پار کرتا ہے، اُس نے خاموشی اوڑھ لی۔ باہر قدموں کی آواز ایک پل بھر کو رکی، پھر چل پڑی۔ اب اُس پر کھلا کہ خاموشی اُس اکیلے کی نہیں رہی۔ وہ اب اُن گمنام لوگوں کی تھی، جنہیں نام تک نہ ملا، اور کسی ماں کی، جس کے بیٹے کی خبر کبھی نہ آئی، اُس استاد کی جسے ایک نظم نے درسگاہ سے ہی باہر کر دیا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ یہ سب اُس کے ساتھ جس وردی کے حُکم سے ہو رہا تھا، اُس کے سامنے جھکنا آسان ہے۔ مگر سُنی سُنائی بات اور دیکھی ہوئی بات کے بیچ ایک ایسی دیوار تھی جسے وہ اپنی آنکھ سے نہیں چھو سکتا تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا، جھکنا آسان لگتا ہے۔ مگر جھکنے کے بعد جو باپ بیٹوں کو ملتا، وہ اُن سے پہلے اپنے آپ سے رخصت ہو چکا ہوتا۔ اُس نے کروٹ بدلی، چراغ کا رخ موڑ دیا۔ پھر بہت آہستہ سے، جیسے کوئی پرانے زخم کو چومنے سے پہلے سانس روک لیتا ہے، اُس نے سوچا: بچوں سے دور رہنے کی قیمت کیا ہے؟ اُس نے کسی کو بھی جواب نہ دیا، نہ اپنے دل کو۔ گزرگاہ میں قدموں کی آواز پھر اُٹھی، گنی ہوئی، ٹھہر ٹھہر کر۔ چراغ کی لُو ایک بار اور تھرتھرائی۔ پھر، جیسے کوئی بے زبان دعا بستی کے سکوت میں تحلیل ہو جاتی ہے، رات نے اپنی چادر اور بھی موٹی کر لی۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
31
200
383
18.9K
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
سزا کا موسم دری کا وہ کونا جہاں پسینہ جذب ہو کر رنگ بدل چکا تھا، وہاں اس نے انگلی رکھی اور کچھ نہ سوچا۔ سیل کی چھت گرمی میں نیچے آتی محسوس ہوتی تھی، جیسے کوئی ارادہ ہو۔ باہر بارش کا شبہ تھا، صرف شبہ، کیونکہ اس کھڑکی سے آسمان کا ایک تکونا ٹکڑا نظر آتا تھا جس میں بادل آتے اور کسی اور دشت کو بھگونے چلے جاتے۔ مہر، جو کبھی دستاویزوں پر اس کے حرف کے ساتھ ہوتی تھی، اس کی یاد بھی ویسے ہی گئی تھی۔ گرمی کوئی موسم نہیں رہی تھی، وہ ایک ارادہ بن گئی تھی۔ سیل کی دیوار دن چڑھنے سے پہلے ہی گرم ہو جاتی اور شام تک وہ تپش بھیتر کی طرف دھکیلتی رہتی، جیسے کوئی اسے اندر سے پکانا چاہتا ہو۔ پہلے وہ اس گرمی کا نام نہیں جانتا تھا، لیکن اب سمجھ آ گئی تھی کہ یہ سزا کا ایک حرف تھا جو زبانی نہیں، جسمانی لکھا جا رہا تھا۔ قمیص پسینے میں بھیگ کر دو بار نچڑ چکی تھی اس دن۔ پانی کا نل تھا، لیکن پانی نہیں آیا۔ بجلی کا تار تھا، لیکن بجلی نہیں آئی۔ ابتدا میں اس نے سمجھا کہ یہ خرابی ہے۔ پھر سمجھ آئی کہ یہ خواہش ہے، کسی کی خواہش کہ وہ ٹوٹے۔ ٹوٹنا۔ یہ لفظ اس نے اپنے اندر گھمایا، جیسے پتھر ہاتھ میں گھمایا جاتا ہے، سمجھنے کے لیے، رکھنے کے لیے نہیں۔ ٹوٹنا کیا ہوتا ہے؟ آواز نکلنا؟ یا آواز بالکل بند ہو جانا؟ وہ نہیں جانتا تھا۔ جانتا تھا تو یہ کہ جب تک بارش کا وہ شبہ تھا، وہ تکونا آسمان، وہ بادل جو آتے اور چلے جاتے، اس کے اندر کوئی چیز باقی تھی جو گنی نہیں جا سکتی تھی۔ اس نے سوچا وہ دن جب پہلی بار کسی نے کہا تھا کہ اس قوم کو اصلی آزادی کا خواب دکھانا مشکل کام ہے۔ اس وقت مہر اس کے پاس تھی، وہ مہر جو کاغذوں کو وزن دیتی تھی، ارادوں کو شکل۔ آج مہر کسی اور کے پاس تھی، شاید کسی اور کام کے لیے۔ یہ سوچ اس نے اندر دھکیل دی جیسے پسینے میں بھیگے کپڑے کو دیوار سے دور کیا جاتا ہے۔ - کیا تم تھک نہیں گئے؟ یہ آواز اس کی اپنی تھی، اس حصے کی جو رات کے گاڑھے اندھیرے میں پوچھتا ہے۔ - تھکنے کا حق نہیں ابھی۔ کیوں۔ اس کا جواب اس نے خاموشی میں رکھا، جیسے کوئی چیز اٹھانے سے پہلے رکھی جاتی ہے۔ لوگوں کے درمیان ایک بات چلتی تھی کہ قید بھی ایک جواب ہے، سوال کا نہیں، خوف کا۔ یہ جملہ اسے یاد نہیں کہ کس نے کہا تھا، لیکن اس میں کچھ تھا جو اسے اندر سے چھوتا تھا بغیر اجازت لیے۔ اس نے سوچا کہ شاید آزادی بھی ایسی ہی ہے، وہ تمہاری طرف آتی ہے، تم اس کی طرف نہیں جاتے۔ اس شاید کو اس نے اندر رکھا، جیسے کوئی امانت رکھی جاتی ہے۔ دیوار پر نمی کا ایک دھبہ تھا، چھوٹا، جیسے بارش کی ایک بوند کسی دراڑ سے آ گئی ہو۔ اس نے اسے دیکھا، دیکھتا رہا۔ پھر آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی دھبہ خشک ہو گیا، یا شاید تھا ہی نہیں۔ اس نے سوچا کہ مہر جب ہوتی ہے تو نشان چھوڑتی ہے۔ جب نہیں ہوتی، تب بھی۔ یہ سوال مہینوں پہلے کسی نے پوچھا تھا، ایک ملاقات میں جب ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں۔ - کبھی تو بارش آئے گی اس طرف بھی؟ آواز کیسی تھی، یاد نہیں۔ لفظ یاد ہیں۔ - آتی ہے۔ ہمیشہ آتی ہے۔ اس وقت یقین سے بولا تھا۔ اب بھی بولا۔ مگر آواز آئی نہیں، صرف ہونٹ ہلے۔ اندر کہیں کچھ تھا جو پسینے میں بھیگنے کے باوجود نچڑا نہیں تھا۔ رات کے اس حصے میں جب سیل کی دیوار کچھ کم گرم ہوتی تھی، صرف کچھ کم، اس نے دری پر پیشانی رکھ دی۔ بارش کی وہ بوند جو دیوار کے پار گری تھی، شاید وہیں ہے ابھی تک، زمین میں، کسی جڑ کے پاس، کسی درخت کی پیاس بجھانے کے لیے جو ابھی اگا نہیں۔ مہر کی وہ سیاہی جو اس کے ہاتھ پر کبھی لگتی تھی، آج صرف دری کے رنگ بدلے ہوئے کونے میں باقی تھی، اس کے پسینے کی صورت، جس کی کوئی نقل نہیں ہوتی۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
0
22
43
670
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
وہ لکیر صندوق کی کنڈی نے کلک کی آواز دی اور اُس کا ہاتھ وہیں ٹھہر گیا۔ تمغہ اندر تھا، سرخ مخمل پر، چمکتا ہوا، جیسے کوئی سوال ہو جو جواب کے انتظار میں لیٹ گیا ہو۔ گلی میں کاغذ کا ٹکڑا ہوا میں اُڑا اور سیڑھیوں سے قدموں کی آواز آئی، پڑوسی کی، معمول کی، بے نیاز۔ گرمی کی رات میں پنکھا سست تھا۔ اور اُس کا ہاتھ، جو اُس دن کانپا نہیں تھا، آج کانپ رہا تھا۔ اُس رات اُس نے صرف صندوق بند نہیں کیا تھا۔ اُس نے کچھ اور بھی بند کرنا چاہا تھا، مگر وہ چیز بند نہیں ہوئی۔ وہ دن یاد آیا۔ فائل میز پر آئی تھی دوپہر کو، جب دفتر میں پنکھا بند تھا اور ہوا رکی ہوئی تھی۔ کاغذ کے اوپر سرکاری مہر تھی، نیلی روشنائی، دھبہ تھوڑا سا دائیں طرف، جیسے جلدی میں لگائی گئی ہو۔ کاغذ موٹا تھا، سرکاری قسم کا، جس کے کنارے ہتھیلی کو کاٹ لیتے ہیں اگر آدمی جلدی پلٹے۔ عبارت لمبی تھی، دفتری، سانس روک دینے والی، اور نیچے ایک خالی لکیر تھی، نام کے لیے، دستخط کے لیے۔ اُس نے پڑھا تھا۔ سطریں آنکھوں سے گزری تھیں، ایک ایک کر کے، جیسے کوئی گنتی کرتا ہے اور جانتا ہے کہ مجموع کیا آئے گا۔ وہ جانتی تھی کہ اُس خالی لکیر کے بھرنے کا مطلب کیا ہے, کئی خاندانوں کی برسوں پرانی آبادی ایک صبح اُجڑ جائے گی، اور حکم کا کاغذ ایک الماری میں بند ہو جائے گا۔ مگر اُس نے قلم اُٹھایا تھا، اور ہاتھ نہیں کانپا تھا۔ کیوں نہیں کانپا؟ ایک ہفتہ پہلے، افسرِ اعلیٰ کے کمرے میں، کرسی کے چمڑے کی بو اور ٹھنڈک تھی۔ اُس کی آواز تھی: "آپ کا ریکارڈ بہت اچھا ہے، بیگم صاحبہ۔ ہم اسے اچھا رکھنا چاہتے ہیں۔" اُس نے سمجھ لیا تھا۔ اپنی ہتھیلی دیکھی تھی، صاف، بے داغ، اور انگلی سے کرسی کے ہتھے پر روئیں کا ایک ریشہ ٹھیک کیا تھا، جیسے باقی سب ٹھیک ہو۔ فائل سے دو ہفتے پہلے، بستی کی ایک عورت آئی تھی۔ ادھیڑ، دوپٹہ دونوں ہاتھوں سے پکڑے ہوئے، آنکھیں سوجی ہوئی، گلے میں الفاظ پھنسے ہوئے جیسے رونا اندر رک گیا ہو اور باہر کا راستہ بھول گیا ہو۔ اُس عورت کے قدموں کی آواز ابھی بھی گونجتی ہے، اُس دالان میں جہاں اُسے بیٹھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ "ہمارے بچے کہاں جائیں گے، صاحبہ؟" "آپ کا معاملہ متعلقہ محکمے میں درج ہو جائے گا۔" متعلقہ محکمہ۔ یہ الفاظ اب بھی اُس کے منہ میں ایک کھٹے پھل کی طرح ہیں، بے ذائقہ، دیر سے آنے والے، جو نگلے بھی نہ جائیں اور باہر بھی نہ آئیں۔ اُس عورت نے کاغذ کا ایک ٹکڑا میز پر رکھا تھا، ہاتھ سے لکھا ہوا، حروف لڑکھڑاتے ہوئے، ایک عرضی جس میں لکھا تھا کہ ہمارا گھر ہے، ہمارے بچے ہیں۔ وہ کاغذ فائل کے نیچے دب گیا۔ اُس نے قلم ٹوپی لگائی، اُسے سیدھا رکھا، اور فائل سرکائی۔ جب قلم رکھا تو پاس کھڑے کلرک نے کہا: "صاحبہ، گواہی کی بھی جگہ ہے، وہاں بھی نام چاہیے۔" اُس نے کلرک کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ بس ہاتھ بڑھایا، اور نام لکھ دیا۔ دستخط ہو گئے۔ فائل بند ہو گئی۔ بستی اُجڑی۔ اور آٹھ مہینے بعد قدموں کی آوازیں تھیں دفتر میں، ہلکی پھلکی، گنگناتی، مبارک باد لیے آنے والی۔ تمغہ آیا، سرخ مخمل پر، صدارتی دستخطوں کے ساتھ، ایک کاغذ کے ہمراہ جس میں لکھا تھا ترقی و خدمت۔ اُس نے قبول کیا، مسکرائی، تصویر کھنچوائی، گھر آئی۔ اور اُس رات بھی ہاتھ نہیں کانپا تھا۔ یہ اُسے یاد تھا۔ کھڑکی کے باہر، گلی میں، وہی کاغذ کا ٹکڑا تھا، یا کوئی اور جیسا ہی، اب نالی کے کنارے اٹکا ہوا۔ قدموں کی آواز آئی، کسی بچے کی، ہلکی، بے خبر۔ اور اُس کا ہاتھ میز پر پڑا تھا، خالی، کانپتا ہوا۔ کبھی کبھی وہ نماز کے بعد جائے نماز پر بیٹھی رہتی، نہ سوچتی، نہ مانگتی، بس بیٹھی رہتی۔ ہتھیلیاں گھٹنوں پر، گھر کی آوازیں باہر، اندر کچھ ایسا جو رکنے کا نام نہ لے۔ اُس نے کاغذ کا وہ ٹکڑا یاد کیا جو بستی کی عورت میز پر چھوڑ گئی تھی، ادھوری اُردو، لڑکھڑاتے حروف، ایک گھر کی پوری درخواست چند سطروں میں سمٹی ہوئی۔ وہ ٹکڑا کہیں نہیں تھا اب۔ مگر اُس کا ہاتھ کانپ رہا تھا، اور باہر گلی میں قدموں کی آواز تھی، آہستہ، مسلسل، جیسے پانی کسی دیوار کی جڑ میں اُترتا ہے۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
1
19
29
633
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
حافظ عدنان خان کے نام الماری کی چرچراہٹ روزِ اوّل سے اسی کونے پر ٹوٹتی تھی, ام عدنان کو یاد تھا کہ عدنان نے کبھی اسے ٹھیک نہیں کیا تھا۔ اس صبح بھی اس نے دروازہ کھینچا، اس کے کپڑے وہیں لٹکے تھے، سلیقے سے، خاموشی سے, گویا وہ کسی لمحے لوٹنے والا ہو۔ پرانی قمیص کی جیب میں وہ کاغذ اب بھی دبا تھا جس پر سرکاری مہر لگی تھی، اور گھر کے صحن میں اس کے قدموں کی آواز کا ایک ذرہ بھی باقی نہ تھا۔ رات کے پچھلے پہر جب وہ آئے تھے، گلی میں بوٹوں کی آہٹ پھیلی تھی, ام عدنان دروازے کے پیچھے کھڑی رہ گئی تھی، ہاتھ میں تسبیح اور ہونٹوں پر دعا جو الفاظ تک نہیں پہنچ سکی تھی۔ عدنان کو انہوں نے اس کے کمرے سے نکالا۔ وہ خاموش رہا تھا, اس کی آنکھوں میں نہ خوف تھا، نہ التجا، نہ اپنے آپ کو بچانے کی کوئی پناہ۔ صرف ایک عجیب سکون تھا جو ماں کے لیے آنسوؤں سے زیادہ بھاری تھا۔ وہ ملتان کا نوجوان تھا جس نے تحریک میں اپنا سب دیا تھا۔ ہر جلسے میں آگے، ہر گرفتاری میں ثابت قدم۔ خبروں کے مطابق نو مئی کے بعد ہزاروں کارکنوں کو پکڑا گیا تھا، عدنان بھی انہی میں سے ایک تھا۔ اس کے خلاف مقدمے درج ہوئے, وہی کاغذ، وہی مہریں، وہی سلسلہ جو ہر سرگرم نوجوان کے لیے انتظار کر رہا تھا۔ ام عدنان مہینوں انتظار کرتی رہی, خط لکھتی، پھر خود ڈاکخانے سے لوٹ آتی کیونکہ یہ نہیں معلوم تھا کہ خط پہنچتا بھی ہے یا نہیں۔ وہ تاریخوں پر عدالت کے دروازے تکتی رہی، وہاں بھی اس کا نام صرف دستاویزوں پر تھا، حقیقت میں نہیں۔ جیل کے مہینے اس کے جسم پر اپنے نشان چھوڑ گئے تھے۔ جب وہ لوٹا تو ام عدنان نے اسے دروازے پر دیکھا, وہی قد، وہی چال، مگر آنکھوں کے نیچے دھنسی ہوئی سیاہی اور گال کی ہڈی جو پہلے کبھی ایسی نہ ابھری تھی۔ اس نے اپنے بیٹے کو گلے سے لگایا تو محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے اندر سے کچھ نکال لیا ہو, وہ چیز جو ہڈی نہیں ہوتی، نہ خون ہوتا ہے، مگر ہوتی ضرور ہے۔ "اماں، مجھے کچھ نہیں ہوا، فکر نہ کرو۔" وہ ہنسا تھا, اس مسکراہٹ سے جو صرف ماں کو دکھانے کے لیے بنائی جاتی ہے اور جسے ماں پہلی نظر میں پہچان لیتی ہے۔ "بیٹا، تو بتا, سچ بتا۔" ام عدنان کا دل جانتا تھا کہ جو آنکھیں مہینوں سلاخوں کے پیچھے رہی ہوں، وہ اس طرح نہیں چمکتیں۔ دن گزرتے گئے۔ اس کی طبیعت کبھی پہلے جیسی نہ ہوئی, نہ اس کی آواز میں وہ بلندی لوٹی جس سے وہ جلسوں میں نعرہ لگاتا تھا، نہ اس کے قدم اس تیزی سے اٹھے جیسے ایک بار اٹھتے تھے۔ بخار آتا، چھوٹتا، پھر لوٹتا۔ رات کو ام عدنان اس کے کمرے کے باہر بیٹھ کر قدموں کی آواز سنتی, وہ کروٹ لیتا، اٹھتا، پانی پیتا۔ یہ آوازیں اسے زندگی کی علامت لگتیں، سہارا لگتیں، جیسے تسبیح کے دانے۔ ایک دن اس نے آنکھیں بند کر کے کہا: "اماں، اللہ کا شکر ہے، جو ہونا تھا ہو گیا۔ راستہ صحیح تھا۔" ام عدنان نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا, تپ رہا تھا۔ اس نے اپنی آواز تھامی، اندر دھنسائی، اور صرف یہ کہا: "ہاں بیٹا، راستہ صحیح تھا۔" اس شب وہ پرانی قمیص کی جیب سے وہ ورق نکال کر بیٹھی۔ سرکاری مہر اب بھی واضح تھی، سرخ، گہری, جیسے ورق کا گوشت نوچ لیا گیا ہو۔ اس نے ورق موڑا، رکھ دیا۔ یہ ایک الزام تھا، حتمی فیصلہ نہیں۔ مگر اس الزام نے جو کچھ لے لیا، اسے کسی عدالت کا فیصلہ واپس نہیں کر سکتا تھا۔ آخر میں وہ رات آئی جب اس کے کمرے سے کوئی آواز نہ آئی۔ قدموں کی کوئی چاپ نہیں، پانی کے گلاس کی کوئی ٹھنک نہیں، کروٹ لینے کی کوئی آہٹ نہیں۔ ام عدنان اٹھی، دروازہ کھٹکھٹایا, کوئی جواب نہیں۔ اندر گئی تو دیکھا عدنان کی آنکھیں بند تھیں، چہرے پر وہی سکون جو گرفتاری کی رات تھا, مگر اب یہ سکون واپس نہیں جانے والا تھا, اور ام عدنان کا دل جانتا تھا یہ خالق حقیقی کی طرف کا سفر تھا۔ اب گھر کی الماری بے وجہ چرچراتی ہے۔ ام عدنان کبھی کبھی اسے یوں کھولتی ہے جیسے کوئی کھڑکی کھول کر ہوا دیکھتا ہے, آئے گی یا نہیں۔ کپڑے وہیں ہیں، اسی ترتیب میں، اور سرکاری مہر والا ورق اب ایک تہہ کیے ہوئے رومال میں لپٹا قمیص کی جیب میں ہے۔ وہ کبھی کبھی یہ رومال چھوتی ہے اور اپنے اندر سنتی ہے, اس کے قدموں کی آواز، جو صحن میں نہیں، مگر یاد میں آج بھی چلتی ہے۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
10
80
165
6.4K
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
بہنوں کی 6 ماہ سے صرف ایک ملاقات کی کہانی۔ دروازے کی کنڈی ابھی ٹھنڈی تھی, رات کی پچھلی کروٹ اس لوہے میں سمٹی پڑی تھی۔ عظمی نے ہاتھ روکا، جیسے اندر سے کوئی آواز آنے والی ہو، کوئی قدموں کی آواز, بھائی کی، جو مہینوں سے بند دروازوں کے پار تھا، لیکن آواز نہ آئی۔ آنگن میں رات کی بارش کا پانی ابھی خشک نہیں ہوا تھا اور وہ پھر چل پڑی, اسی جانب، جہاں سے ہر بار خالی ہاتھ لوٹتی تھی۔ چھ مہینے ہو گئے تھے۔ کبھی دروازہ بند ملتا، کبھی کاغذ پر لکھا ہوتا کہ ملاقات نہیں ہو سکتی، کبھی راستہ ہی بند کر دیا جاتا۔ عظمی نے ان سب کو گنا نہیں تھا, گنتی سے دل اور بھاری ہو جاتا۔ جیل کی طرف جانے والی سڑک پر آج پھر ناکے تھے۔ آگے پولیس والے کھڑے تھے، پیچھے دوسری بہن چلتی آ رہی تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور رک گئیں, نہ مڑنے کا ارادہ، نہ آگے جانے کی اجازت۔ قدموں کی آواز رک گئی، لیکن دل نہیں رکا۔ سپاہی نے کہا: "راستہ بند ہے، واپس جاؤ۔" عظمی نے کچھ نہ کہا۔ اس نے جانا تھا جہاں جانا تھا۔ وہ رات یاد آ گئی جب وہ جیل کے باہر بیٹھی تھیں۔ ٹھٹھرتی رات تھی، آسمان صاف تھا لیکن زمین سرد۔ قدموں کی آواز ہر طرف سے آتی تھی, پولیس کے بوٹ، آنے والوں کے قدم، جانے والوں کی بے سود واپسی۔ پھر پانی آیا, بارش نہیں، ٹھنڈی نلی کا پانی، سردی میں کپڑوں کو بھگوتا ہوا، جیسے کوئی کہہ رہا ہو, واپس چلی جاؤ۔ لیکن وہ نہیں گئیں۔ انہوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما تھا, چپ چاپ، بغیر کسی نے کچھ کہے۔ عید کا دن بھی گزر گیا, جیسے ہر دن گزر رہا تھا، بس نام بدل کے۔ نہ بھائی کی آواز آئی، نہ ملاقات ہوئی۔ اس دن عظمی نے بڑی بہن سے پوچھا: "ایسے کبھی سوچا تھا، بہنا…؟" بڑی بہن نے جواب میں کچھ نہ کہا۔ اس کی آنکھوں میں جو تھا، اسے لفظ نہیں ملتے تھے, ربا، بس اتنی سی بات۔ بھائی کے اندر کیا حال تھا, یہ کسی کو ٹھیک سے معلوم نہ تھا۔ کہا جاتا تھا کہ طبیعت ٹھیک نہیں، آنکھ کی تکلیف نے گھیر رکھا ہے، علاج میں دیر ہو رہی ہے۔ خبروں کے مطابق وہ مہینوں سے تنہا رکھا گیا تھا، ملنے والوں کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا تھا۔ وہ اندر تھا اور وہ باہر, درمیان میں لوہے کے دروازے اور کاغذ کے حکم۔ ایک دن انہیں گرفتار کر کے دور چھوڑ آئے, ویرانہ راستہ، نہ سواری، نہ جان پہچان کا کوئی چہرہ۔ وہاں عظمی کھڑی تھی، پاؤں کے نیچے کنکر، اوپر آسمان، اور دل میں ایک ہی بات: "وہ ہمارا بھائی ہے، ہم اسے دیکھنے جاتے ہیں, یہ کوئی جرم نہیں۔" واپسی کا راستہ بارش کے بعد کیچڑ سے بھرا ہوا تھا۔ قدموں کی آواز مٹی میں دب جاتی تھی، آگے کوئی نہ تھا۔ وہ چلتی رہی۔ تھکاوٹ تھی لیکن رکنا نہیں تھا۔ ایک بار جب وہ عدالتی درخواست لے کر گئیں تو دروازے پر بیٹھے سپاہی نے سرسری نظر ڈالی اور کہا: "آج نہیں۔" بس اتنا۔ نہ وجہ، نہ اگلی تاریخ، نہ نظر ملانے کی ہمت۔ یہ بات روایت کی صورت چلتی تھی، تصدیق کسی کے پاس نہ تھی, کہ ملاقات روکنے کا یہ سلسلہ اتفاق نہیں تھا، ارادہ تھا۔ عظمی نے اسے سوچا لیکن کہا نہیں۔ اس نے ہاتھ کی پشت دیکھی, وہی ٹھنڈی کنڈی ہتھیلی میں اتری تھی، ہڈیوں تک۔ گھر لوٹ کر وہ صحن میں بیٹھ گئی۔ بھائی کو آخری بار دیکھے چھ مہینے ہو گئے تھے۔ اس کے ہاتھ میں نہ کوئی خط تھا، نہ کوئی پروانہ, صرف وہی ٹھنڈ تھی جو لمبے سفر سے واپس آتی ہے اور دیر تک ہڈیوں میں رہتی ہے۔ عظمی نے آنکھیں بند کیں اور بھائی کا چہرہ یاد کرنے کی کوشش کی, چہرہ نہیں آیا۔ آواز آئی، پرانی، گھریلو، جو ہنستے وقت ذرا بھاری ہو جاتی تھی۔ آواز کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ شام کو بارش پھر آئی, وہی پرانی بارش، جو پوچھتی نہیں کہ کب برسے۔ صحن میں پانی بھرنے لگا اور عظمی نے دیکھا کہ پرانی چابی ابھی تک دروازے کی کنڈی میں لٹکی ہے, زنگ لگا، لیکن ہے۔ دور سے قدموں کی آواز آئی, کسی گلی میں کوئی چل رہا تھا۔ اس نے آنکھیں موند لیں اور سنتی رہی۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
2
39
73
1.6K
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
بنوں میں شہید پولیس اہلکاروں کے نام رحیم کی چپل ابھی تک دروازے کے پاس تھی۔ جاتے وقت انہوں نے اسے اتارا تھا، وردی کے بوٹ پہنے تھے, یہ سوچتے ہوئے کہ واپسی پر پھر پہنیں گے۔ شاہدہ نے اس رات چپل کو دروازے سے نہیں ہٹایا۔ اندر دراز نیم کھلی تھی، ڈیوٹی سلپ کا کاغذ کنارے سے جھانک رہا تھا, آخری رات کا وہ کاغذ جو وہ میز پر بھول گئے تھے۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ شاہدہ وہیں کھڑی رہی, چپل اٹھاؤں یا نہ اٹھاؤں, اور پھر کچھ نہیں کیا۔ وہ رات جب وہ گئے تھے، بارش نہیں تھی۔ ستارے تھے اور چاند آدھا تھا۔ رحیم نے وردی پہنتے ہوئے آئینے میں دیکھا تھا، پھر شاہدہ کی طرف مڑے اور مسکرائے, وہ مسکراہٹ جس میں کچھ اور بھی تھا، کوئی بھاری شے جو وہ اٹھائے پھرتے تھے اور جسے کبھی زبان پر نہیں لائے تھے۔ شاہدہ نے اس وقت چاہا تھا کہ کچھ کہے۔ مگر کیا کہتی, کہ نہ جاؤ؟ وہ بھی جانتی تھی کہ چوکی کی ڈیوٹی ان کی تھی اور بنوں کی سرزمین پر ڈیوٹی سے غیر حاضری موت سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ اس نے صرف دروازے تک چھوڑا تھا۔ واپس آ کر اس نے دراز کھولی، ڈیوٹی سلپ اٹھائی، پھر واپس رکھ دی۔ کاغذ ٹھنڈا تھا انگلیوں میں۔ اگلے دن دوپہر کے وقت دروازے پر دستک ہوئی, وہ آہستگی جو خبر کو اندر آنے سے پہلے معذرت کرتی ہے۔ ایس پی صاحب آئے تھے، ساتھ دو اور اہلکار تھے۔ ان کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا, سرکاری کاغذ، سرخ مہر لگی ہوئی۔ شاہدہ نے لفافہ نہیں لیا۔ ایس پی صاحب نے گلا صاف کیا اور بولے: "شاہدہ بی بی، حکومت آپ کے ساتھ ہے۔ رحیم خان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔" شاہدہ نے باہر دیکھا, بارش شروع ہو گئی تھی، وہ باریک بارش جو آہستہ آہستہ سب کچھ گیلا کر دیتی ہے مگر آواز نہیں کرتی۔ صحن میں اماں کی پرانی رکابی کنارے پر پڑی تھی، بارش کا پانی بوند بوند اس میں جمع ہو رہا تھا۔ وہ جانتی تھی یہ الفاظ کہاں سے آتے ہیں, اسی جگہ سے جہاں سے ڈیڑھ سال پہلے مالی خیل والے اہلکاروں کے لواحقین کو بھی ایسے ہی الفاظ ملے تھے۔ وہ الفاظ ہر بار نئے ہوتے مگر ان کا وزن ہر بار پرانا ہوتا تھا۔ شاہدہ کی چھوٹی بیٹی، جو سات سال کی تھی، کمرے سے باہر آئی۔ اس نے ماں کا دامن پکڑ کر پوچھا: "ابا کب آئیں گے؟" کمرے میں ایک لمحے کے لیے سب کچھ رک گیا۔ ایس پی صاحب نے نظریں نیچی کر لیں۔ شاہدہ نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کچھ نہیں بولی۔ کھڑکی پر بارش کی لکیریں ایک ایک کر کے اتر رہی تھیں۔ ایس پی صاحب نے کاغذوں کا لفافہ میز پر رکھ دیا, ان کے پاس اور کچھ نہیں تھا دینے کو۔ پھر انہوں نے وہی کہا جو ہر بار کہا جاتا تھا: "انتقام لیا جائے گا۔ دشمن کو بخشا نہیں جائے گا۔" شاہدہ کے ذہن میں اس وقت وہ عورت آئی جس کا شوہر ٹینک ضلع میں شہید ہوا تھا, اسے بھی یہی کہا گیا تھا۔ اور اس سے پہلے بھی، اور اس سے بھی پہلے۔ خبروں کے مطابق پندرہ, ایک ہی رات میں، ایک ہی چوکی پر۔ کہا جاتا تھا کہ حملہ آوروں نے ڈرون بھی استعمال کیے تھے, کہ یہ اچانک وار نہیں تھا۔ انتقام ہوتا رہا ہوگا, مگر شہادتوں کی تعداد کم نہیں ہوئی۔ یہ سوچ کر شاہدہ کے سینے میں کچھ اٹھا, غصے اور درد کی درمیانی وہ شے جس کا نام اردو میں نہیں ملتا۔ ایس پی صاحب اٹھنے لگے تو شاہدہ نے ایک بار ان کی آنکھوں میں دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں وہی بھاری شے تھی جو رحیم کی مسکراہٹ میں تھی, وہ بھاری شے جو کہی نہیں جاتی، اٹھائی جاتی ہے۔ شاہدہ نے کچھ نہیں کہا, کیونکہ جو کہنا تھا وہ ان الفاظ میں نہیں آتا تھا جو اس نے سیکھے تھے۔ "اللہ صبر دے۔" انہوں نے کہا، اور باہر نکل گئے۔ وہ چلے گئے۔ بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ شاہدہ کمرے میں واپس آئی اور اس دراز کے سامنے بیٹھ گئی جو ابھی تک نیم کھلی تھی۔ اس نے کاغذوں کا سرکاری لفافہ اٹھایا اور اسے دراز میں رکھ دیا, رحیم کی ڈیوٹی سلپ کے ساتھ۔ باہر بارش میں ایک پرندہ کسی چھت کی اوٹ میں دبکا ہوا تھا، پروں کو اپنے اوپر سمیٹے، انتظار میں کہ پانی رکے۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
1
20
43
722
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
9 مئی کی داستان جب سابق وزیراعظم کو عدالت کے احاطے سے گرفتار کیا گیا۔ میز کی دراز آدھی کھلی تھی, اسی طرح جیسے اصغر نے چھوڑی تھی اس رات سے پہلے جب قدموں کی آوازیں سیڑھیوں پر آئیں اور پھر کبھی نہیں آئیں۔ زہرہ نے اسے بند کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، لیکن انگلیاں کاغذوں کو چھوتے ہی رک گئیں, وہی کاغذ جن پر اصغر نے کچھ لکھا تھا، جو اب ہوا میں لرزتے تھے جیسے کوئی سوال ابھی تک ادھورا ہو۔ زہرہ نے کاغذوں کو ہاتھ نہیں لگایا۔ وہ دیوار کے ساتھ ٹھہر گئی اور اس تصویر کو دیکھتی رہی جو ابھی تک اس کی آنکھوں میں موجود تھی, ٹیلی ویژن کی اسکرین پر وہ آدمی جس کی ٹانگ پر پلستر چڑھا تھا، وہیل چیئر میں بیٹھا، اور رینجرز اسے گریبان سے پکڑ کر کھینچ رہے تھے۔ عدالت کا احاطہ تھا, جہاں قانون رہتا ہے، یا رہنا چاہیے تھا۔ لیکن اس صبح وہاں صرف بوٹوں کے تلووں کی آواز تھی, قدموں کی آواز جو گھسیٹنے کی ہوتی ہے، چلنے کی نہیں۔ اصغر اس وقت گھر میں تھا۔ اسکرین کے سامنے بیٹھا تھا، ہاتھوں میں وہی پرانا موبائل جس پر وہ خبریں پڑھتا تھا۔ زہرہ نے دیکھا کہ اس کے جبڑے بھنچ گئے تھے، گردن کی رگ ابھر آئی تھی۔ "اماں، یہ دیکھ رہی ہو؟ وہیل چیئر پر ہے۔ پلستر کے ساتھ۔ پھر بھی اٹھا لیا۔" زہرہ نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے صرف چادر کا پلو کھینچا اور نگاہ پھیر لی۔ لیکن کانوں نے وہ آواز سن لی تھی جو اسکرین سے نکل کر کمرے میں بھر گئی تھی, وہیل چیئر جو پیچھے چھوٹ گئی تھی، وہ آدمی جسے زخمی ٹانگ سمیت گھسیٹا جا رہا تھا۔ زہرہ کو لگا جیسے کسی نے قانون کو اس کے اپنے زخم کے ساتھ پکڑ کر کھینچا ہو۔ اندر کچھ تھا جو منہ تک آنا چاہتا تھا، لیکن اس نے روک لیا۔ اس کی انگلیاں چادر کے پلو میں بے ارادہ کچھ ڈھونڈتی رہیں۔ خبروں کے مطابق یہ گرفتاری ایک ایسے مقدمے میں ہوئی تھی جس میں ریاست کا کوئی ثابت شدہ نقصان نہیں تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اس دن کا انتخاب اتفاق نہیں تھا, کہ آگ لگانا مقصد تھا تاکہ راکھ میں تحریک کو دفن کیا جائے۔ اصغر شام کو نکلا۔ زہرہ نے دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر روکنے کی کوشش کی۔ "کہاں جا رہے ہو؟" "باہر۔ بس باہر۔" اس نے جوتے پہنے اور دروازہ بند کر لیا۔ زہرہ نے اس کے قدموں کی آواز سنی, سیڑھیوں پر، پھر گلی کے پتھروں پر، پھر کچھ نہیں۔ اس نے سوچا تھا کہ رات تک لوٹ آئے گا۔ رات گزری۔ صبح آئی۔ اصغر نہیں آیا۔ تین بجے صبح پڑوسن کا لڑکا آیا تھا, یہ بتانے کہ محلے کے کئی نوجوان اٹھا لیے گئے ہیں۔ کاغذات کے بغیر۔ وکیل کے بغیر۔ بس اٹھا لیے گئے۔ شوہر اگلے دن تھانے گیا۔ خالی ہاتھ لوٹا۔ "انہوں نے کہا کہ نام فہرست میں نہیں ہے۔" وہ اس رات کے بعد سے فہرستوں کی دنیا میں جی رہے تھے, جن میں جو ہونا چاہیے تھا نہیں تھا، اور جو نہیں ہونا چاہیے تھا وہ تھا۔ مہینے گزرے۔ خبریں آئیں کہ ہزاروں نوجوانوں کو فوجی عدالتوں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ تاریخیں لگیں، تاریخیں ٹلیں۔ زہرہ رات کے پچھلے پہر اٹھتی تھی، اصغر کے کمرے کی دہلیز پر کھڑی ہو کر اندھیرے میں کاغذوں کی وہ مبہم شکل دیکھتی تھی جو دراز میں پڑے تھے, جیسے وہ خود سانس لے رہے ہوں۔ ایک روز ڈاک میں ایک لفافہ آیا, سرکاری مہروں والا، ایسی عبارت میں لکھا ہوا جو سمجھ آتی تھی اور سمجھ نہیں آتی تھی۔ زہرہ نے پڑھا اور میز پر رکھ دیا۔ اس کے ہاتھ نہیں کانپے، لیکن اندر کہیں کوئی چیز آہستہ آہستہ سرکتی رہی, جیسے فرش کے نیچے پانی ہو اور اوپر سے کچھ نظر نہ آئے۔ اصغر کی دراز میں ابھی بھی وہی کاغذ تھا جس پر لکھا تھا, یہ ملک ہمارا ہے۔ زہرہ نے اسے اٹھایا تھا اور واپس رکھ دیا تھا۔ کیونکہ اسے سمجھ نہیں آیا تھا کہ یہ جملہ کس چیز کا ثبوت ہے, جرم کا یا معصومیت کا۔ اور شاید اب اس فرق سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ آج بھی وہ اسی دراز کے سامنے کھڑی تھی۔ کاغذ ویسے ہی تھے, لرزتے، ادھورے، انتظار میں۔ باہر کہیں قدموں کی آواز تھی, سیڑھیوں پر نہیں، گلی میں, کوئی اجنبی راہگیر، کوئی اور۔ زہرہ کے پیر خود بخود دروازے کی طرف اٹھے، جیسے ہر بار اٹھتے تھے۔ اس کی انگلیاں دستک سے پہلے ہی کنڈی پر ٹھہر گئیں, لکڑی کی ٹھنڈی کنڈی، جو اس کی ہتھیلی میں خاموش پڑی تھی اور کچھ نہیں دیتی تھی۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
1
32
58
1.1K
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
جیل میں ہپاٹائیٹس سے انتقال کرنے والے پی ٹی آئی ورکرز کے نام۔ دیوار کی نمی ابھی بھی اس کی ہتھیلی میں تھی جب اس نے ہاتھ ہٹایا۔ ملاقات گاہ کی کچی چھت سے بارش کا پانی رستا تھا، فرش پر ہلکی ہلکی لکیریں بناتا ہوا, اور وہ سوچ رہی تھی کہ یہی پانی، یہی برستا آسمان، جیل کے اندر کیوں زہر بن جاتا ہے۔ اس نے اپنا دوپٹہ سینے سے لگایا، جہاں کاغذ کا وہ پرچہ دبا ہوا تھا جسے اس نے کئی ہفتے پہلے لکھا تھا اور ابھی تک جمع نہیں کیا تھا۔ وہ قطار میں کھڑی تھی۔ اس کے آگے ایک بوڑھا تھا جس کی انگلیاں کانپتی تھیں، پیچھے ایک نوجوان عورت جو چپ تھی لیکن جس کی آنکھیں ہر آواز پر چونک اٹھتی تھیں۔ ملاقات گاہ کی دیواروں پر سیلن کے نشان تھے، گہرے اور پرانے، جیسے عمارت کے جسم میں کوئی پرانا زخم ہو جو ہر موسم میں تازہ ہو جاتا ہو۔ قدموں کی آواز آتی رہی, پہرے داروں کی، سخت اور بے ترتیب, اور وہ ہر بار اس آواز پر ذرا سی سکڑتی تھی، جیسے کسی کو پتہ نہ چلے کہ وہ یہاں ہے۔ جب اس کا بیٹا آیا تو اس نے پہلے اس کے چہرے کو پڑھا, اس طرح جیسے ماں پڑھتی ہے، پوری جلد کو، پوری آنکھوں کو۔ وہ کمزور تھا۔ بازو پتلے، آنکھوں کے نیچے کچھ گہرا اترا ہوا جو نیند سے نہیں، کسی اور چیز سے آتا ہے۔ اس نے جالی کے آر پار اپنی انگلیاں اس کی انگلیوں سے چھوئیں اور محسوس کیا کہ ہاتھ ٹھنڈا ہے, باہر سے، اندر سے نہیں, جیسے دھوپ نے مہینوں سے چھوا نہ ہو۔ "ماں، شہزاد نہیں رہا۔" اس نے اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھا۔ کوئی آنسو نہیں تھا اس کی آنکھوں میں، کوئی کپکپاہٹ نہیں, صرف ایک خبر تھی جو آنکھوں میں اتر کر وہیں بیٹھ گئی تھی۔ "کب؟" "پرسوں کی رات۔ کہتے ہیں بیمار تھا۔ اصل میں وہی پانی پیتا تھا جو ہم سب پیتے ہیں, نلکے سے، ہفتوں سے۔ انتظامیہ کو خبر تھی۔ کوئی نہیں آیا۔" وہ کچھ نہ بولی۔ شہزاد کا چہرہ اسے یاد تھا, گذشتہ ملاقات میں وہ جالی کے پاس بیٹھا تھا، کچھ ہنس رہا تھا، اپنے بچوں کا ذکر کر رہا تھا۔ اب وہ چہرہ کہیں نہیں تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو اپنی گود میں دیکھا اور کاغذ کی وہ چبھن محسوس کی جو ہفتوں سے اس کے سینے میں تھی, وہ پرچہ، وہ درخواست جو اس نے لکھی تھی اور جو ابھی تک کہیں نہیں پہنچی تھی۔ اس نے وہ کاغذ کئی ہفتے پہلے لکھا تھا, پانی کے بارے میں، انتظامیہ کے نام۔ دو بار نکالا تھا اسے، دو بار واپس تہ کر لیا تھا۔ اگر جمع کیا تو بیٹے پر نظر پڑے گی۔ شاید ملاقات بند ہو جائے۔ شاید اور کچھ۔ وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی وہ "اور کچھ", کاغذ کے کنارے سے انگلیاں ہٹا لیں اور دوپٹہ واپس اوپر کر لیا۔ کہا جاتا تھا کہ مرنے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جن کے معاملے ایک مخصوص مقدمے سے جڑے تھے, اس نے بھی یہ بات سنی تھی اور اسے اپنے ذہن کے کسی گوشے میں بند کر دیا تھا جہاں وہ چیزیں رکھی جاتی ہیں جن سے ڈر لگتا ہے, اس لیے نہیں کہ وہ غلط ہیں، بلکہ اس لیے کہ اگر وہ صحیح ہیں تو پھر کیا کیا جائے، اور یہ سوال اس کا جسم نہیں اٹھا سکتا تھا، ابھی نہیں۔ اس نے بیٹے سے پوچھا کہ کیا وہ ٹھیک ہے۔ بیٹے نے کہا ہاں۔ دونوں جانتے تھے کہ اس ہاں میں کوئی سچ نہیں تھا، صرف ایک پردہ تھا جو ماں اور بیٹے کے درمیان کھینچا جا رہا تھا تاکہ ملاقات کا وقت کچھ دیر اور چلے۔ باہر بارش ابھی جاری تھی, قدموں کی آواز دوبارہ گونجی، لوہے کے دروازے پر، اور وہ آواز اس کی ریڑھ کی ہڈی میں اتر گئی۔ "ماں، وہ پرچہ جمع مت کرنا۔" اس نے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس نے نہیں پوچھا کہ کیسے معلوم ہوا, ماں بیٹے کے درمیان کاغذ بھی بولتا ہے، چھپ کر بھی، دوپٹے کے نیچے سے بھی۔ اس نے صرف اس کا ہاتھ تھاما، جالی کے آر پار، اور کچھ نہ کہا, کیونکہ کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں جو کہا جا سکتا۔ وہ جیل کے دروازے سے باہر نکلی تو بارش اب بھی برس رہی تھی۔ کاغذ ابھی اس کے سینے سے لگا ہوا تھا، اتنی بار تہ کیا اور کھولا کہ اس کی سلوٹیں ہتھیلی کی لکیروں جیسی ہو گئی تھیں۔ اس نے ہاتھ پھیلایا, بارش کا پانی اس کی ہتھیلی میں جمع ہوا، صاف، ٹھنڈا، بے ضرر, اور اس نے اسے وہیں رہنے دیا، کہیں نہیں پھینکا، کہیں نہیں پہنچایا۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
3
76
143
2.9K
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
کہانی ایک باپردہ عورت کی جس پہ عدت جیسا گھٹیا کیس ڈال کر عدالتوں میں ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ تہہ کیا ہوا جائے نماز اس کے قدموں کے پاس پڑا تھا، جیسے کوئی عہد مڑا ہوا ہو۔ سیل کی فرش پر ٹھنڈک تھی جو ہڈیوں میں اترتی تھی، مگر آنکھ کھولتے ہی دائیں طرف کا وہی اندھیرا سایہ, سیاہ دھبہ جو اب روشنی کو کاغذ کی طرح مروڑ دیتا تھا، اسے بے شکل کر دیتا تھا۔ اس نے دوپٹہ اٹھایا، اور جانے کیوں اس کے ذہن میں وہ مہر ابھری جو اس کے نکاح کی سند پر تھی, اور جو آگے چل کر اسی کے جرم کی دلیل بن گئی تھی۔ دیوار کے کونے سے ایک کیڑا رینگا، پھر دوسرا، پھر تیسرا, یہ وہ ساتھی تھے جو رات کو بھی ساتھ رہتے تھے۔ گرمی ایسی تھی جیسے ہوا نے خود اس جگہ آنے سے انکار کر دیا ہو۔ پانی کا گھونٹ لیا تو منہ میں کچھ ایسا تھا جو نہ نگلا جاتا تھا، نہ تھوکا۔ باہر گارڈ کے جوتوں کی سست آواز آئی, قدم اٹھتے، گرتے، اٹھتے، گرتے, وہ آواز ہی اب دن اور رات کا حساب بتاتی تھی، باقی کوئی علامت نہ رہی تھی۔ چھت پر ایک پرانا داغ تھا جو ہر بار نئی شکل اختیار کرتا دکھتا تھا، جیسے خود اس کے دن ہوں, ایک ہی جگہ بند، مگر ہر نظر میں تھوڑا الگ، تھوڑا اجنبی۔ اسے یاد تھا وہ دن جب پہلی بار کہا گیا کہ عدالت جانا ہے۔ اس نے پوچھا کیوں؟ جواب ملا, نکاح کے لیے۔ مگر نکاح تو ہو چکا تھا، سنت کے مطابق، گواہوں کے سامنے، اللہ کی نظر میں۔ پھر عدالت کیوں؟ اور عدالت میں کون ہوگا؟ نامحرم جج، نامحرم وکیل، نامحرم نظریں, وہ نظریں جن سے بچنے کے لیے اس نے برسوں سے اپنا چہرہ، اپنا وجود ڈھانپ رکھا تھا۔ اس کے گھر کی چار دیواری کبھی قید نہیں تھی, وہ اس کا انتخاب تھی، اس کی عبادت کا حصہ تھی، وہ دروازہ تھا جو صرف محرموں کے لیے کھلتا تھا۔ مگر اب وہی چار دیواری توڑ کر اسے سڑکوں پر لایا گیا تھا, گاڑی کی کھڑکی سے دنیا اندر دیکھ رہی تھی اور اس کے پاس کوئی دیوار نہ تھی جس کے پیچھے چھپتی۔ عدالت کے کمرے میں کاغذوں کا ڈھیر تھا, طلاق کے کاغذ، نکاح کے کاغذ، مہر کے کاغذ، اس کی زندگی کے تمام موڑوں پر لگی سرکاری مہریں, جیسے وہ کوئی انسان نہیں، ایک فائل ہو جسے ادھر سے ادھر منتقل کیا جا رہا ہو۔ ایک وکیل کھڑا ہوا اور اس نے براہِ راست اس کی طرف دیکھ کر پوچھا: "آپ کی عدت کب ختم ہوئی؟" وہ خاموش رہی۔ اس خاموشی میں ہزار باتیں تھیں, وہ باتیں جو ایک عورت اپنے جسم کے بارے میں کسی نامحرم کو نہیں بتاتی، نہیں بتا سکتی، نہیں بتانی چاہیے۔ یہ سوال اس سے نہیں پوچھا جا سکتا تھا, یا یوں کہیے کہ پوچھا نہیں جانا چاہیے تھا۔ مگر عدالت انتظار کرتی رہی، کمرے میں سانسیں رکی رہیں، اور اس کے وکیل نے آہستہ کہا: "ان سوالوں کا جواب دینا ضروری نہیں۔" اس نے ایک لمحے کے لیے اپنی انگلیوں کی طرف دیکھا، پھر جواب دیا, آہستہ، ٹوٹے لفظوں میں، اپنی عزت کا ایک ایک ٹکڑا اس بھرے کمرے میں رکھتی چلی گئی, اور پھر بھی سزا ملی۔ خبروں کے مطابق، قید میں اسے صاف پانی اور قابلِ خوردنی کھانے سے محروم رکھا گیا۔ تنہائی بائیس گھنٹے سے کم نہ ہوتی، کبھی دس دن سے بھی زیادہ۔ کسی اقوامِ متحدہ کے نمائندے نے یہ سب کاغذ پر لکھا, کہ یہ حالات بین الاقوامی معیار سے گرے ہوئے ہیں, مگر وہ کاغذ بھی کسی فائل میں بند ہو گیا، کوئی مہر کسی کام نہ آئی۔ اس کا نکاح جرم نہیں تھا, کیونکہ بعد میں عدالت نے انہیں بری بھی کر دیا۔ مگر بریت کی خبر آنے سے پہلے نیا مقدمہ آ گیا، نئی مہر لگ گئی، نئے کاغذ آ گئے, اور وہ اسی سیل میں رہی۔ آنکھ کا درد مہینوں سے تھا۔ پہلے دھندلاہٹ، پھر سیاہ نقطے، پھر ایسا لگا جیسے دنیا کسی کاغذ کی طرح ایک طرف سے سکڑتی جا رہی ہو۔ اسپتال لے گئے، آپریشن ہوا، رات جاگ کر گزری۔ ڈاکٹر نے جاتے وقت کہا تھا: "آرام ضروری ہے، کم از کم کچھ دن۔" اگلی صبح وہ واپس سیل میں تھی۔ گارڈ نے کنڈی بند کرتے ہوئے بے التفاتی سے کہا: "یہاں آرام نہیں ملتا۔" اب وہ دوپٹہ دوبارہ تہہ کر رہی تھی, اسی طرح جیسے برسوں پہلے اپنے گھر میں کرتی تھی، صبح کی نماز کے بعد، جب چار دیواری خود کی بنائی ہوئی تھی اور کوئی اسے توڑنے نہیں آیا تھا۔ دائیں آنکھ سے دھندلا کاغذی سایہ تھا، بائیں سے سیل کی دیوار, مگر انگلیوں کو کپڑے کی تہہ معلوم تھی، وہ نرمی جو ابھی بھی اس کے پاس تھی، وہ مہر جو کسی عدالت نے توڑی نہیں تھی، جو ابھی بھی اس کے اندر تھی, اور باہر گارڈ کے قدموں کی آواز دور ہوتی چلی گئی۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
6
44
67
1.1K
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
کہانی ایک ڈاکٹر کے گھر رینجرز کے حملے کی، وہ ڈاکٹر جو سینکڑوں زندگیاں بچانے کے بعد آج کینسر جیسے موضی مرض کے ساتھ بے گناہ جیل کاٹ رہی ہیں۔ فرش کی ٹھنڈک سجدے میں پیشانی تک اٹھتی تھی، اور یاسمین کو لگتا تھا کہ اس ایک لمحے میں دنیا کا سارا شور کہیں ٹھہر گیا ہے۔ باہر بارش کی باریک پھوار دیوار پر ٹپکتی تھی، اور دور سے قدموں کی آواز آئی, پہلے ہلکی، پھر بھاری، پھر جیسے زمین کے سینے پر کوئی مُہر لگا رہا ہو۔ اس نے آنکھیں بند رکھیں، ہونٹ حرکت میں رہے، اور دل کی اُس گہرائی سے کچھ مانگا جو الفاظ نہیں بن سکتا تھا, نہ التجا، نہ شکایت، بس ایک سانس جو خدا کے سامنے کھلتی ہو۔ دروازے پر ایک دھماکے کی آواز آئی۔ یاسمین نے پیشانی فرش سے اٹھائی نہیں۔ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ یہ آواز سنی ہوئی ہے, کسی زمانے میں کہیں، کسی مریض کی بند کھڑکی پر دستک کی طرح، کسی رات کسی ہسپتال کے دروازے پر جب خبر اچھی نہیں ہوتی تھی۔ لیکن یہ آواز اس سے مختلف تھی۔ یہ مانگ نہیں کر رہی تھی, یہ مطالبہ کر رہی تھی۔ بارش تیز ہو گئی تھی۔ دیوار پر پانی کا مسلسل ٹپکنا ایک لے بن گیا تھا، اور یاسمین نے ایک لمحے کو سوچا, عجیب بات ہے، کہ پانی بھی ہر سطح کے ساتھ ایک الگ آواز نکالتا ہے۔ سنگِ مرمر پر گرے تو نفیس، مٹی پر گرے تو گہرا، کچی اینٹ پر گرے تو بے بس۔ قدموں کی آواز قریب آ گئی, ایک نہیں، کئی۔ جوتوں کی ٹھوس آہٹ، ہتھیاروں کی کھنک، کسی کی سانسوں کی تیزی جو دروازے کے پار بھی محسوس ہوتی تھی۔ "باہر آئیں۔" یہ آواز کمرے میں داخل ہوئی جیسے غیر مدعو مہمان، سلام کیے بغیر۔ یاسمین کے ہونٹوں نے سورہ کا آخری لفظ مکمل کیا۔ اس نے سلام پھیرا, پہلے دائیں، پھر بائیں, اور اٹھی۔ اس کے گھٹنے فرش کی ٹھنڈک سے اکڑے ہوئے تھے، لیکن یہ اکڑن اسے کمزور نہیں لگی۔ ایک ڈاکٹر کا بدن جانتا ہے کہ درد کا مطلب ہمیشہ خطرہ نہیں ہوتا۔ باہر، خبروں کے مطابق، اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر لیا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ ڈنڈے اٹھے اور شیشوں پر پڑے, ایک بار، دو بار، جیسے کوئی بات کرنا نہیں چاہتا تھا، صرف توڑنا چاہتا تھا۔ یاسمین کا ہاتھ دروازے کی کنڈی پر تھا جب ایک دھکا آیا اور وہ ایک طرف کو لڑکھڑائی۔ کچھ تیز محسوس ہوا تھا, کہاں، ابھی معلوم نہیں تھا۔ بدن بعض اوقات اپنے زخم بعد میں گنتا ہے، پہلے نہیں۔ اس نے دیکھا, ایک وردی، ایک چہرہ جو اسے نہیں دیکھ رہا تھا، جو کسی کام کو دیکھ رہا تھا۔ "آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔" اس نے کچھ نہیں کہا۔ اس کے اندر کوئی لفظ نہیں اٹھے, نہ غصہ، نہ اشک۔ صرف ایک سوال تھا جو اس نے بھی خود سے نہیں کیا، بس محسوس ہوا جیسے پیاس محسوس ہوتی ہے, کیا یہ وہی ملک ہے جس کے ہسپتالوں میں اس نے رات رات جاگ کر مریضوں کو بچایا تھا؟ بارش بڑھتی رہی۔ گاڑی کا ٹوٹا شیشہ بارش سے دھل رہا تھا, کرچیاں سیٹ پر تھیں، فرش پر تھیں، یاسمین کی آستین پر تھیں۔ کسی نے انہیں صاف کرنے کی زحمت نہیں کی۔ قدموں کی آواز اب چاروں طرف سے آتی تھی۔ یاسمین نے ایک پرانی مریضہ کو یاد کیا جو کہتی تھی, جب بخار اپنی انتہا پر ہو تو انسان کو وہ دکھائی دیتا ہے جو صحت میں چھپا رہتا ہے۔ اس وقت اسے کچھ ایسا ہی لگا, کہ ان ٹوٹے شیشوں میں، ان قدموں کی آواز میں، اس بارش کی لے میں، کوئی سچ چھپا ہے جو کہیں لکھا نہیں جائے گا، کسی کاغذ میں درج نہیں ہوگا۔ "ہمیں احکامات ملے ہیں۔" یاسمین نے اسے دیکھا۔ وردی میں ایک جوان آدمی تھا, شاید اس کے کسی مریض کی عمر کا۔ اس کی آنکھوں میں وہ چیز تھی جو یاسمین نے ہسپتال میں ہمیشہ پہچانی تھی, کام کرنے کی مجبوری، سمجھنے کی خواہش نہیں۔ اس نے اپنا دوپٹہ سنبھالا۔ "ٹھیک ہے۔" وہ لفظ کہاں سے آیا، اسے خود نہیں معلوم تھا۔ گھٹنوں میں فرش کی وہ ٹھنڈک ابھی تھی, جیسے نماز کا بچا ہوا حصہ ہو جو بدن چھوڑنے سے پہلے ٹھہر گیا ہو۔ گاڑی چل پڑی۔ بارش اب دھیمی ہو گئی تھی, ایک باریک، مسلسل پردے کی طرح۔ یاسمین نے کھڑکی سے باہر دیکھا، سڑک پر پانی کی پتلی تہہ جمع ہو گئی تھی اور اس میں لاہور کی روشنیاں کانپتی تھیں۔ قدموں کی آواز اب نہیں آتی تھی, لیکن فرش کی وہ ٹھنڈک ابھی بھی پیشانی پر تھی، جیسے سجدے کا نشان کسی طاقت کے مٹائے نہیں مٹتا، اور بارش کی باریک پھوار ٹوٹے شیشے کی کرچیوں کو آہستہ آہستہ دھو رہی تھی۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
4
49
101
1.9K
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
9 مئی کی ایک داستان صنم جاوید اور فلک جاوید کے نام تہہ کیا ہوا دوپٹہ اس کے بائیں طرف رکھا تھا, جیسے اس نے اس صبح اسے احتیاط سے موڑ کر رکھا ہو اور لوٹنے کا ارادہ کیا ہو۔ صنم نے برسوں میں نہ اسے چھوا، نہ وہ کاغذ کھولا جو اس کی مٹھی میں تھا۔ باہر سے قدموں کی آواز آئی اور وہ رک گئی, انتظار میں نہیں، عادت سے۔ کاغذ کا وہ ٹکڑا جو اس کی مٹھی میں تھا, عدالت کا نام، اگلی تاریخ، اور درمیان میں اس کا اپنا نام, ایک زندگی کا خلاصہ، بے رنگ حروف میں۔ جس دن وہ نکلی تھی، صبح کا کھانا نہیں کھایا تھا۔ بچے ابھی سوئے ہوئے تھے, بڑا بیٹا سات سال کا، چھوٹی بیٹی چار کی, اور دوپٹہ اسی جلدی میں تہہ کر کے بستر کے کنارے رکھ آئی تھی، جیسے لمحہ بھر میں پلٹ آئے گی۔ فلک، اس کی چھوٹی بہن، دروازے پر کھڑی تھی، آنکھوں میں وہ جلن جو آنسو سے نہیں، غصے سے آتی ہے۔ خبر آئی تھی کہ انہیں گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا گیا, ویڈیو تھی، آواز تھی، اور پھر سڑکیں تھیں جو اچانک لوگوں سے بھر گئی تھیں۔ صنم کو آج بھی یاد ہے اپنے قدموں کی آواز, سڑک کے پتھروں پر، تیز، بے ترتیب، فلک کے قدموں کے ساتھ ساتھ۔ ہوا میں نعرے تھے جیسے کسی دریا کا شور ہو، لیکن اس کے اندر ایک ہی تصویر تھی, بستر کا کنارہ، سویا ہوا بچہ، اور وہ دوپٹہ جو ابھی تہہ ہی رکھا تھا۔ پھر سب کچھ ایک لمحے میں بدلا۔ ہاتھ تھے، ہجوم تھا، اور پھر ہاتھکڑی تھی, نرم نہیں، سرد۔ کوٹ لکھپت کی پہلی رات فرش پر گزری۔ دیوار نم تھی، اور قدموں کی آواز باہر سے آتی رہی, پہرے داروں کے بوٹ، رات بھر، جیسے گھڑیال۔ کاغذ ان کے پاس نہ تھا، قلم نہ تھا، صرف دل تھا جو بچوں کا نام دہراتا رہا۔ جیل کے اندر باتیں آتی تھیں, کانوں کانوں, کہ نو ہزار سے زائد لوگ پکڑے گئے ہیں۔ کہا جاتا تھا کہ ان میں سے بہت سے محض دیکھنے نکلے تھے، ہجوم میں پکڑ لیے گئے, حتمی فیصلہ کسی کے پاس نہ تھا، صرف کاغذ تھے جو بڑھتے رہے۔ مہینے گزرے۔ پھر برس۔ امی ابو پہلے لاہور آتے، پھر کبھی فیصل آباد، کبھی سرگودھا, جہاں سماعت ہوتی، وہاں پہنچتے۔ ان کے پیروں میں اب وہ جان نہ تھی جو ہوا کرتی تھی، لیکن قدموں کی آواز ہر بار ملاقاتی کمرے میں صنم کے کانوں تک پہنچ جاتی, امی کی جوتی کی وہ آہٹ جو اسے دروازے سے پہلے ہی پہچان آتی تھی۔ بچوں نے کئی مہینے فون پر آواز سنی، پھر وہ بھی بند ہو گیا۔ بڑے بیٹے نے ایک روز نانو سے پوچھا تھا, امی کب آئیں گی؟ نانو نے کہا تھا، جلد, لیکن جلد کا ترجمہ کوئی نہیں جانتا تھا، نہ نانو، نہ صنم، اور نہ وہ کاغذ جو ہر نئی تاریخ کے ساتھ ایک نئی دوری لے آتا تھا۔ ایک ملاقات میں امی نے ہاتھ تھام کر کہا: "بیٹا، رووے نہ کر, بچے ٹھیک ہیں، ہم سنبھال رہے ہیں۔" صنم چپ رہی۔ آنسو آئے بھی تو روک لیے، کیونکہ فلک قریب تھی اور فلک کو اس نے کبھی ٹوٹتے نہیں دیکھا تھا, ایک بار بھی نہیں۔ پھر ایک شام فلک نے دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: "آپا، جب باہر نکلیں گے نا, سب سے پہلے بچوں کو لے کر بارش میں بھیگیں گے۔" صنم نے کاغذ اٹھایا, وہی جس پر اگلی پیشی لکھی تھی, اور اسے موڑ کر مٹھی میں چھپا لیا۔ الزام تھا کہ جن خواتین نے احتجاج کیا وہ تشدد میں شریک تھیں۔ عدالتوں کے کاغذ بڑھتے رہے، سماعت پر سماعت، شہر پر شہر۔ ایک رات صنم نے آہستہ پوچھا: "تجھے ڈر نہیں لگتا کبھی؟" فلک لمحہ بھر چپ رہی، پھر آنکھ نہ اٹھاتے بولی: "لگتا ہے، آپا۔ لیکن ڈر اکیلا نہیں آتا, ساتھ حوصلہ بھی لاتا ہے۔" رات گئے، جب قدموں کی آواز کم ہو جاتی اور صحن میں سناٹا پھیل جاتا، صنم وہ تہہ کیا ہوا دوپٹہ اٹھاتی اور اپنے گھٹنوں پر رکھ لیتی, بغیر اوڑھے، بغیر بچھائے۔ کاغذ اگلی تاریخ کا منتظر تھا۔ فلک پاس ہی لیٹی تھی، آنکھیں بند، سانس میں وہی خاموش ضد جو کبھی لفظ نہیں بنتی۔ باہر کہیں دور, شاید صحن میں، شاید حافظے میں, بارش کے پہلے قطرے کی آواز ہوئی اور فرش پر ایک ٹھنڈی لکیر پھیل گئی۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
1
23
48
607
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
گل پلازہ میں آگ کا منظر جوتی کی ایڑی گھِس گئی تھی۔ زینب نے وہ جوڑا اٹھایا اور سوچا کہ رشید کو آج کہے گی، موچی کے پاس بھیج دو۔ جوتا واپس رکھا، دروازے کے پاس، جہاں وہ ہر روز رکھتا تھا, اس طرح، جیسے قدموں کی آواز ابھی آنے والی ہو۔ باہر سے کسی کی آواز آئی، پھر فون بجا، اور جب سنا تو اس کے ہاتھ سے مہر کی وہ انگوٹھی، جو اس نے نکاح کے دن پہنی تھی، میز پر گر گئی۔ گل پلازہ کے باہر رات کا اندھیرا آگ کی روشنی میں جل رہا تھا۔ دھواں اتنا گھنا تھا کہ ناک اور آنکھیں ایک ساتھ بند ہو جاتی تھیں۔ عورتیں چیخ رہی تھیں، مرد دروازوں کے قریب بھاگتے تھے، اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ایسے کھڑی تھیں جیسے وہ بھی نہیں جانتیں کہ کیا کریں۔ فرش پر قدموں کی آواز, بھاگتی، ٹھوکریں کھاتی، ایک دوسرے سے ٹکراتی, نے زینب کو ہجوم میں گم کر دیا۔ دیوار کی گرمی اس کے ہاتھ کو محسوس ہوئی جب اس نے سہارا لیا۔ اس نے ایک پولیس والے کو پکڑا۔ "اندر کوئی ہے ابھی تک؟ میزانین پر دکاندار؟" "باجی، راستے بند ہیں, تالے لگے ہیں, ہم کوشش کر رہے ہیں۔" وہ ہٹ گئی۔ تالے لگے ہیں۔ یہ الفاظ اس کے ذہن میں گھومتے رہے، اس کاغذ کی طرح جو کوئی پھاڑ کر پھینک دے اور ہوا پھر بھی اسے اٹھاتی رہے۔ رشید سولہ سال سے میزانین پر برتن بیچتا تھا۔ اس کی دکان کا وہ چھوٹا سا کونا اسے یاد آیا, جہاں وہ صبح جاتا اور شام کو فون کرتا, بس نکلا ہوں، آدھ گھنٹے میں۔ وہ قدموں کی آواز جو سیڑھیوں پر آتی تھی، دروازے کی دستک، پھر اس کا نام, زینب, ایک خاص طریقے سے، جو صرف اسی کا تھا۔ یہ سب کچھ اس لمحے کسی اور طرف تھا، بند، جیسے تالے لگے ہوں۔ بھیڑ میں سلیم ملا, رشید کا پڑوسی دکاندار، زمینی منزل والا۔ بال جھلسے ہوئے، قمیص کا کنارا جلا ہوا، آنکھوں میں جو لالی تھی وہ آنسوؤں کی نہیں تھی، دھوئیں کی تھی۔ اس نے زینب کو دیکھا تو نظریں جھکا لیں۔ "سلیم بھائی, رشید کا کچھ پتہ ہے؟" "باجی، میں نے آواز دی تھی, اوپر سے جواب آیا تھا, پھر دھواں اتنا ہو گیا کہ" وہ آگے نہ بول سکا۔ زینب نے جانا کہ وہ اس لیے نہیں بول سکتا کہ بات مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس نے سر ہلایا اور بھیڑ میں واپس مڑ گئی۔ گھنٹے گزرتے رہے۔ ریسکیو کے لوگ کہتے رہے, اوزار نہیں، ماسک نہیں، راستہ نہیں بنتا۔ سولہ میں سے تیرہ راستے پہلے سے بند تھے, کسی نے تالے لگائے اور گھر چلا گیا، یہ سوچے بغیر کہ جو اندر ہیں وہ نکلیں گے کیسے۔ یہ سنتے ہوئے اس کے اندر کچھ جلنے لگا, غصہ نہیں بالکل، اس سے بھی گہرا کچھ, وہ احساس جو تب ہوتا ہے جب معلوم ہو کہ جو ہوا وہ ہونا نہیں چاہیے تھا۔ فجر کی اذان ہوئی اور آگ ابھی بھی اندر کہیں زندہ تھی۔ کسی نے بتایا کہ برتن والی دکان میں, میزانین پر, تیس لاشیں ملی ہیں۔ وہ دروازہ بند کر کے بیٹھے تھے، دھوئیں سے بچنے کی کوشش میں، لیکن دھواں وہاں بھی پہنچا۔ برتن والی دکان۔ وہی دکان جس کا پتہ زینب کو ازبر تھا۔ قدموں کی آواز رک گئی اس کے اندر۔ وہ گری نہیں۔ اس نے اپنے آپ کو روکا, بچے گھر پر تھے، اٹھنا ضروری تھا, اور اس نے ہاتھ باندھے اور اندر سے، بہت آہستہ، صرف اپنے لیے کہا: "یا اللہ، میں نہیں جانتی کیوں۔ لیکن تو جانتا ہے۔" یہ شکوہ نہیں تھا۔ سوال بھی نہیں تھا۔ یہ بس ایک تسلیم تھی۔ نکاح کے دن قاضی صاحب نے مہر پڑھا تھا اور رشید نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا, اتنے یقین سے جیسے کوئی کاغذ پر دستخط نہ کرے بلکہ کچھ زیادہ پختہ کرے۔ سولہ سال میں اس نے وہ مہر ادا کیا, ہر اس شام جب لوٹا، ہر اس لمحے جب اس نے اس کا نام لیا، ہر اس رات جب اس نے جوتی دروازے کے پاس رکھی۔ صبح کی روشنی نے راکھ کو گرم کیا۔ کوئی ریسکیو والا قریب سے گزرا, بوٹوں کی قدموں کی آواز پختہ فرش پر، صاف اور بے پروا۔ زینب نے آنکھیں اٹھائیں، پھر بند کر لیں۔ گھر پر، دروازے کے پاس، وہ جوتا ابھی بھی دھرا ہوگا, ایڑی گھسی، موچی کا انتظار کرتا, اور مہر کی انگوٹھی میز پر پڑی ہوگی، ٹھنڈی، اس وعدے کی گواہ جو پورا ہو چکا تھا۔
Ink and Aansoo tweet mediaInk and Aansoo tweet media
اردو
5
31
65
1.9K
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
کسانوں کے حالات پہ اختر نے نیم کھلی دراز میں ہاتھ ڈالا تو انگلیاں کاغذوں کی سرسراہٹ پر ٹک گئیں، وہی کاغذ جن پر ابا کے انگوٹھے کے نشان سیاہ پڑے تھے، تین ایکڑ کی گواہی جو نسل در نسل سکڑتی آ رہی تھی۔ دور ابر نے گرجنا شروع کیا، اور اس گرج میں اختر نے وہ پرانی آس نہیں سنی جو بچپن سے سنتا آیا تھا، بارش آئے گی، دھرتی بجھے گی، بلکہ اس بار صرف یہ سوچا اگر فصل بھیگی تو کاٹیں گے کہاں، اور اگر نہ بھیگی تو زندہ رہیں گے کیسے۔ آنگن کی مٹی پھٹی پڑی تھی، دراڑیں اتنی گہری کہ انگلی اندر چلی جائے۔ ٹیوب ویل کی چرچراہٹ وقفے وقفے سے آتی تھی، کیونکہ بجلی کی قیمت نے آدھا بجٹ کھا لیا تھا۔ گندم کی بالیاں کٹ چکی تھیں، صحن میں بوریاں قطار میں کھڑی تھیں، مگر وہ بھری بوریاں اختر کی آنکھوں میں خالی تھیں، ان میں نفع نہیں، گھاٹا بھرا تھا۔ دور کٹائی مشین کی مدھم آواز آئی، اور اختر نے سوچا اس سال بھی مشین کا کرایہ قرض سے دیا۔ اس نے کاغذ نکال کر سیدھا کیا، آدھا پھٹا، آڑھتی کے دستخطوں اور مہروں سے بھرا۔ ابا نے یہ قرض بیج کے لیے لیا تھا۔ اختر نے کھاد کے لیے بڑھایا۔ اب یہ قرض بیٹے کی اسکول فیس کا سہارا تھا۔ عدد بدلتے رہے، قرض نے شکل نہیں بدلی, جیسے زمین کا رقبہ گھٹتا رہا مگر بوجھ بڑھتا رہا۔ دادا نے بارہ ایکڑ چھوڑی تھی، باپ نے تقسیم کر کے تین اسے دیے، اور وہ تین بھی اب پوری نہیں لگتی تھیں۔ ہفتے پہلے جب آڑھتی آیا تھا تو آواز میں نرمی تھی مگر حساب میں نہیں۔ "بھائی، اس سال تو پورا ادا نہیں ہو سکتا۔ آدھا اگلے سال ڈال دیتے ہیں۔" اختر خاموش رہا۔ خاموشی کوئی جواب نہیں ہوتی، مگر اس روز وہ سب جوابوں سے بڑی تھی۔ آڑھتی نے ہاتھ ملایا اور مڑ گیا، اور اختر کو لگا جیسے کسی نے کندھے پر ایک اور بوری رکھ دی ہو، بغیر پوچھے، بغیر رکے۔ گھر لوٹا تو بیوی نے وہی کاغذ اٹھا کر دیکھے۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں, اس لیے نہیں کہ وہ کمزور تھی، بلکہ اس لیے کہ وہ سمجھ رہی تھی۔ اختر نے اس کی آنکھوں میں کہا، سنایا نہیں: "یہ کاغذ تین پشتوں کا حساب ہیں، صرف میرا نہیں۔" مندی کا وہ دن اختر کی یادداشت میں دھبے کی طرح بیٹھ گیا۔ ترازو کے پلڑے جھکتے رہے مگر قیمت گرتی رہی۔ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت ختم کر دی تھی، اور جو بھاؤ ملا وہ ڈھائی ہزار روپے فی من, جبکہ کاشت پر تین ہزار دو سو روپے لگ چکے تھے۔ ہر من پر سات سو روپے کا گھاؤ تھا، اور گھاؤوں کی تعداد گننے کی ہمت نہیں تھی۔ پاس کھڑے ایک کسان نے کہا: "من کا بھاؤ ڈھائی ہزار ہو گیا, لاگت سے بھی کم ہے، بھائی۔" اختر نے سر ہلایا۔ مندی میں ہر طرف بھری بوریاں تھیں اور خالی چہرے۔ خبروں کے مطابق کئی کسانوں نے فصل گھاٹے میں بیچ کر آڑھتیوں کو ادائیگی کی تھی۔ حکومتی سہولتیں بڑے زمینداروں تک پہنچتی تھیں، چھوٹے کاشتکار تک نہیں۔ مگر اختر کے لیے الزام اور تجربے کا فرق مٹ چکا تھا، کیونکہ اس کے ہاتھ ہر بار خالی لوٹتے تھے۔ شام کو لوٹا تو آسمان پر بادل ڈھیر ہو چکے تھے۔ زمین کے نیچے ساٹھ فٹ تک پانی کا سراغ مشکل تھا، مگر اوپر سے بارش آتی تو نعمت بھی تھی اور وبال بھی, کٹی بوریاں بھیگتیں تو برباد۔ اختر نے منہ اوپر کیا, ہوا میں مٹی کی وہی خوشبو تھی جو بارش سے پہلے آتی ہے، وہی جو بچپن میں دوڑ کر باہر لے جاتی تھی۔ بیوی نے اندر سے آواز دی: "بارش آنے سے پہلے دراز بند کر دو, کاغذ گیلے ہو جائیں گے۔" اختر نے دراز کی طرف دیکھا۔ کاغذ اندر تھے, ابا کے نشانوں والے، آڑھتی کے دستخطوں والے۔ بارش ان کا کیا بگاڑے گی, وہ تو پہلے ہی بھیگے ہوئے تھے، اس نمی سے جو آنکھ میں آتی ہے مگر گرتی نہیں۔ اس نے دراز بند کی۔ باہر بارش شروع ہو گئی, پہلے آہستہ، پھر تیز, اور آنگن کی پھٹی مٹی پر پانی کے قطرے گرے تو جو خوشبو اٹھی اس میں نہ خوشی تھی نہ غم، صرف ایک پرانی یاد تھی جسے دوہرانے کی سکت نہیں رہی تھی۔ اختر وہیں بیٹھا رہا, کاغذ بند دراز کے پیچھے محفوظ، اور بارش آنگن کی ہر دراڑ میں اترتی رہی، جیسے زمین کچھ بھول جانا چاہتی ہو، مگر دراڑیں بہت گہری تھیں۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
1
27
53
741
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
یہ تحریر ڈرون اٹیکس سے شہید ہونے والے بچوں کے نام بچے کی کاپی الماری کے اوپری خانے میں رکھی تھی، ادھوری لکھائی، اوپر سے پھٹا ہوا صفحہ، جیسے کسی نے لکھنے سے پہلے ہی ہار مان لی ہو۔ پلوشہ نے اسے ہاتھ نہ لگایا۔ باہر بارش شروع ہو گئی تھی، اور اس بارش میں وہ چیز نہیں تھی جو روز رات کو آسمان میں گھومتی ہے، وہ بھاری، مسلسل گھن گھناہٹ جو قدموں کی آواز کو بھی نگل جاتی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور پانی کی آواز سنتی رہی۔ دو سال پہلے اس کاپی کا مالک سالار ابھی آٹھویں جماعت میں تھا۔ اس کی انگلیوں پر ہمیشہ سیاہی کے دھبے رہتے تھے جو دھلنے سے بھی نہ جاتے، استاد نے کہا تھا کہ بچہ ذہین ہے، بس قلم پر ضرورت سے زیادہ زور دیتا ہے۔ اس کے بابا نے ہنس کر کہا تھا کہ یہ پختون خون کا ہاتھ ہے، جہاں لکھتا ہے، مٹتا نہیں۔ اس دن بارش نہیں تھی۔ آسمان صاف تھا اور دوپہر کی دھوپ اینٹوں پر پڑ رہی تھی، وہ خشک، چپٹی روشنی جو پتھروں کو گرم کرتی ہے لیکن کچھ نرم نہیں کرتی۔ پلوشہ آٹا گوندھ رہی تھی، انگلیاں آٹے میں ڈوبی ہوئی، باہر صحن سے قدموں کی آواز آ رہی تھی۔ اور سالار کے قدم، باپ بیٹا، دری کا وہی مڑا ہوا کونا ٹھیک کر رہے تھے۔ پھر ایک لرزش ہوئی۔ پھر آواز۔ پھر سب رک گیا۔ پڑوسی رخسانہ بعد میں آئی، آنکھیں سوجی ہوئی، ہاتھ میں گاڑھی چادر تھی جیسے سردی کا موسم ہو، حالانکہ گرمی تھی۔ "پلوشہ، تم ٹھیک ہو؟" پلوشہ نے جواب نہیں دیا۔ وہ دری کے مڑے ہوئے کونے کو دیکھ رہی تھی جو ابھی تک ویسے ہی تھا، کوئی نہیں آیا تھا اسے ٹھیک کرنے۔ "یہ اللہ کی مرضی تھی، بہن۔" پلوشہ نے سوچا، لیکن یہ بات نہیں کہی، کہ خبروں کے مطابق چار سو سے زائد حملے ہوئے اور مارے جانے والوں میں سے صرف دو فیصد واقعی وہ تھے جن کے نام فہرستوں میں درج تھے۔ باقی سب کا حساب کسی کے پاس نہیں تھا، نہ نام، نہ عمر، نہ کوئی کاپی۔ یہ خطہ صدیوں سے اجنبی ہاتھوں کی سیاست کا تختہ مشق رہا ہے، جہاں ہر بکھرے گھر کا حساب کسی دفتر میں نہیں، کسی کاپی میں بھی نہیں۔ پلوشہ نے آٹے والے ہاتھ کپڑے سے صاف کیے اور اٹھ گئی۔ برسوں بعد سنا تھا کہ لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں، گلیوں میں، شہروں میں، اپنے لاپتہ بچوں کے نام لے کر، اپنی زمین میں دفن بارودی سرنگوں کی فہرست بنا کر، قدموں کی آواز سے احتجاج کرتے ہوئے۔ وہ آوازیں پلوشہ نے رات کو سنی تھیں، ریڈیو پر، جب حسنیٰ سو جاتی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ اس تحریک نے وہ سوال اٹھائے جو کوئی سرکاری دفتر جواب نہیں دینا چاہتا تھا۔ پھر وہ تحریک بھی خاموش کر دی گئی۔ مہینوں بعد، چھوٹی بیٹی حسنیٰ نے وہ کاپی الماری سے نکالی۔ "امی، یہ بھائی کی کاپی ہے؟" "رکھ دے، بیٹا۔ پانی ابھی برس رہا ہے۔" حسنیٰ نے کھڑکی سے باہر دیکھا، بارش تھی۔ اس نے کاپی واپس رکھ دی اور باہر چلی گئی۔ اس رات پلوشہ نے خود وہ کاپی نکالی۔ درمیان میں ایک ادھورا جملہ تھا، "وطن وہ جگہ ہے جہاں" اور اس کے بعد صفحہ خالی تھا۔ اس نے قلم اٹھانے کا سوچا، پھر رکھ دیا۔ کچھ جملے سالار ہی مکمل کر سکتا تھا۔ باہر بارش تھمنے لگی تھی اور اس نے محسوس کیا کہ اب تھوڑی دیر میں پھر وہ آواز آئے گی، آسمان میں، کہیں دور، وہی گھن گھناہٹ جو قدموں کی آواز کو نگل جاتی ہے۔ بارش رک گئی۔ پلوشہ نے کاپی بند کی اور الماری میں واپس رکھ دی۔ گھر میں صرف اس کے اپنے قدموں کی آواز تھی، فرش پر ہلکی، اجنبی سی، جیسے وہ خود سے بھی پوچھ رہی ہو کہ یہاں کون ہے ابھی۔ باہر صحن میں بارش کا پانی دری پر ٹھہرا ہوا تھا، چھوٹا سا تالاب، جو کہیں نہیں جاتا تھا، بس وہیں ٹھہرا رہتا تھا، جیسے کسی کا انتظار کرتا ہو۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
2
31
57
636
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
یہ تحریر تونسہ میں ایڈز کا شکار ہونے والے بچوں کی ایک آواز ہے۔ بچے کی کاپی الماری کی دراز میں پڑی تھی، جو رباب نے مہینے بھر سے نہیں کھولی تھی۔ پہلے صفحے پر زین نے موٹے موٹے حروف لکھے تھے، الف، باء، پھر ایک ادھوری پے، جیسے ہاتھ کسی خیال میں کھو گیا ہو۔ صحن میں قدموں کی آواز ہوئی تو رباب نے بے اختیار سر اٹھایا، وہی پرانی عادت، وہی انتظار، لیکن دروازے پر ہوا کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس کاغذ نے، جو آج صبح اس کے ہاتھ میں آیا تھا، سب کچھ بدل دیا تھا۔ رباب کو یاد تھا وہ دن جب زین کو پہلی بار بخار آیا تھا، جمادی الثانی کی تپتی دوپہر، دھوپ اتنی تیز کہ صحن میں چلنا مشکل تھا۔ اس نے شوہر علی سے کہا کہ سرکاری ہسپتال لے چلو، ڈاکٹر ہیں وہاں، ٹیکہ لگوا دو، بچہ ٹھیک ہو جائے گا۔ تونسہ کا ہسپتال، وہی جگہ جہاں ہر ماں اپنے بچے کا علاج کروانے جاتی تھی، کیونکہ اس سے سستا اور قریب کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وارڈ میں بہت رش تھا۔ ایک نرس بچوں کی لمبی قطار میں سے ایک کے بعد ایک کو سامنے لاتی جا رہی تھی۔ رباب نے دیکھا، لیکن دیکھ کر بھی نہ سمجھی۔ وہی سرنج جو پچھلے بچے کو لگی تھی، پونچھ کر زین کے بازو میں اتار دی گئی۔ ہاتھ تیز تھے، آواز نرم، بچہ رویا، ماں نے پیٹھ تھپتھپائی، اور اس لمحے میں، جو نہیں ہونا چاہیے تھا، ہو گیا۔ زین کے قدموں کی آواز ابھی بھی رباب کے کانوں میں گونجتی ہے، وہ دوڑتا تھا، چھت سے نیچے آتا تھا، اور اس کی آواز پوری گلی میں پھیل جاتی تھی، جیسے ساری دنیا کو خبر دے رہا ہو کہ میں یہاں ہوں۔ اب وہ آواز نہیں آتی۔ وہ تھکا ہوا لیٹا رہتا ہے، اور دن گزرتے ہیں۔ جب رپورٹ آئی، وہ سادہ کاغذ جس پر بس چند الفاظ اور ایک نام لکھا تھا، تو علی کے ہاتھ کانپ گئے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ تونسہ میں تین سو سے زیادہ بچوں کا یہی حال تھا۔ بی بی سی کی تحقیقات سامنے آئیں تو پتہ چلا کہ وارڈ میں ایک ہی سرنج دس دس بچوں کو لگتی رہی تھی، اور نصف سے زیادہ بچوں تک بیماری اسی آلودہ سوئی سے پہنچی تھی۔ "ہم کیا کریں گے اب؟" علی نے وہ کاغذ میز پر رکھ دیا، اور اس کی آواز میں ایسی خالی جگہ تھی جو کوئی لفظ نہیں بھر سکتا تھا۔ رباب نے جواب نہ دیا۔ وہ صرف دیکھتی رہی، اس بچے کو، اس گھر کو، اس ادھوری کاپی کو۔ جب گنتی سو سے اوپر پہنچی، تب حکومت کو سنائی دیا، مارچ پچیس میں ہسپتال کا سربراہ معطل ہو گیا۔ لیکن خبروں کے مطابق، وہ معطل افسر چند مہینوں بعد کسی اور سرکاری صحت مرکز میں بحال ہو گیا، جہاں وہ آج بھی بچوں کا علاج کر رہا ہے۔ نو بچے مر چکے ہیں۔ اور پھر وہ خبر آئی، خبروں کے مطابق اسی پنجاب نے گیارہ اعشاریہ سات ارب روپے کا گلف اسٹریم طیارہ خریدا جو دسمبر پچیس میں لاہور پہنچا۔ وہی پنجاب، جہاں تونسہ کا سرکاری ہسپتال ہر بچے کو الگ سرنج نہ دے سکا۔ "یہ اللہ دی مار اے، رباب۔ یہ صرف ہماری غلطی نہیں۔" یہ بات پڑوسن فریدہ نے کہی تھی، جس کی بچی بھی اسی ہسپتال میں گئی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے سرنجیں بار بار استعمال ہوتی تھیں۔ رباب کے ذہن میں صرف ایک بات گھومتی رہتی تھی، وہ زین کو وہاں لے گئی تھی کیونکہ اسے یقین تھا کہ سرکار کی جگہ محفوظ ہوتی ہے۔ وہ یقین اب بھی اس کے اندر کہیں موجود تھا، سینے میں اٹکے کانٹے کی طرح، جو کھینچنے سے نہیں نکلتا، بھولنے سے نہیں جاتا۔ "جگر دا ٹکڑا لے کے گئی سی، تے کی ملیا؟" یہ الفاظ اس نے خود سے کہے، آہستہ، اس طرح جیسے کوئی دعا کرے جسے یقین نہ ہو کہ سنی جائے گی۔ علی دوائیوں کی پرچی لے کر باہر نکل گیا، وہ کاغذ جس پر ایسی دوائیں لکھی تھیں جو ٹھیک نہیں کر سکتی تھیں، صرف آگے بڑھنے سے روک سکتی تھیں۔ "رباب، یہ تیری غلطی نہیں…" یہ جملہ اسی کمرے میں کہیں اٹکا رہا۔ رباب نے نہ مانا، نہ انکار کیا۔ شام ڈھلے رباب نے وہ دراز کھولی اور زین کی کاپی ہاتھ میں لی۔ الف، باء، ادھوری پے۔ اس نے رپورٹ والا کاغذ، جو نہ پھاڑا جا سکتا تھا نہ بھلایا جا سکتا تھا، آہستہ سے اس کے اندر رکھ دیا۔ باہر گلی میں کسی بچے کے قدموں کی آواز آئی۔ رباب نے ہاتھ روکا، آنکھیں بند کیں، اور اس آواز کو جانے دیا، جیسے پانی ریت میں اترتا ہے۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
5
47
89
2.4K
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
عمران خان کی ہسپتال میں گزری رات کی داستان تہہ کیا ہوا دوپٹہ ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا، جب رات کے دو بجے فون آیا تھا تو سر پر ڈھنگ سے رکھنا یاد نہیں رہا۔ پیمز کے باہر فرش کی ٹھنڈ پاؤں میں اترتی تھی، اور اندر سے وقفے وقفے سے بوٹوں کے قدموں کی آواز آتی، بھاری، یکسر، جیسے کوئی لفظ بار بار دہرایا جائے اور اس کے معنی مٹتے جائیں۔ کاغذ کا وہ ٹکڑا، اطلاعیہ جو کسی نے اس کے فون پر بھیجا تھا، اس کی مٹھی میں تھا، ابھی تک کھولا نہیں تھا۔ اسلام آباد کی رات موسمِ بہار میں بھی سرد ہوتی ہے۔ وہ وہاں ڈیڑھ گھنٹے سے کھڑی تھی۔ اس نے دوپٹہ آخرکار کندھے پر ڈالا، تہہ میں، کیونکہ کھولنا یاد نہیں آیا، یا شاید کھولنے کی ہمت نہیں تھی، وہ خود نہیں جانتی تھی۔ پھاٹک کے پاس ایک سپاہی کھڑا تھا، رائفل کندھے پر، آنکھیں سیدھ میں۔ اس نے پوچھا تھا: "کیا ہم اندر جا سکتے ہیں؟ صرف ایک بار، دیکھنا چاہتے ہیں۔" سپاہی نے گردن نہیں موڑی۔ "اجازت نہیں ہے۔" وہ کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر ایک ہسپتال کا ملازم، سفید کوٹ میں، تھکا ہوا چہرہ، اس راستے سے گزرا۔ اس نے اسے روکا، آواز نیچی رکھی: "ڈاکٹر صاحب، کچھ بتا سکتے ہیں؟" وہ رکا، اس کے گرد نظر دوڑائی، پھر آہستہ بولا: "بس یہی کہہ سکتا ہوں، طریقہ کار ہو گیا ہے۔ وہ ٹھیک ہیں۔ باقی اللہ جانے۔" یہ چار لفظ تھے۔ "وہ ٹھیک ہیں۔" اس نے انہیں اپنے اندر اتارنے کی کوشش کی جیسے پانی پیا جاتا ہے پیاس کے وقت، لیکن حلق میں کہیں اٹک گئے۔ اس نے دوپٹے کا کونا دبایا۔ اس کے جی میں آیا، ایک آنکھ میں اندھیرا اترتا ہے تو بندہ کیا دیکھتا ہے؟ کون سے چہرے پہلے دھندلاتے ہیں؟ اپنے گھر کی دیواریں یاد رہتی ہیں؟ یا صرف اس کوٹھڑی کی چھت رہ جاتی ہے، جس میں گرمی اور حبس کے ساتھ کوئی انسانی آواز مہینوں نہ آئے؟ ایک بار اس نے سوچا تھا کہ جب کوئی دور ہو تو اس کی آنکھوں کا رنگ سب سے پہلے بھول جاتا ہے۔ آج اس کی مٹھی بھنچ گئی، بھائی کی آنکھوں میں جو روشنی تھی، وہ روشنی جو الفاظ میں نہیں چہرے میں جلتی تھی، کہیں وہ بھی نہ بجھ جائے۔ خبروں کے مطابق، اہلِ خانہ اور ذاتی معالجین کو باوجود طلب کیے جانے کے مریض سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ وہ رات کے اندھیرے میں لائے گئے تھے، بغیر کسی اطلاع کے، بغیر کسی گواہ کے۔ تقریباً دو سال سے زیادہ عرصے سے وہ اڈیالہ جیل میں بائیس گھنٹے تنہائی میں رہتے تھے، اقوامِ متحدہ کے قوانین میں ایسی تنہائی کو تشدد کہا گیا ہے۔ اکتوبر دو ہزار پچیس تک ان کی بینائی دونوں آنکھوں میں مکمل تھی۔ پھر دھندلاہٹ شروع ہوئی، کہا جاتا تھا کہ مہینوں تک درخواستوں کے باوجود کوئی علاج نہ ملا۔ جب پیمز آئے تو رات کو آئے۔ جب گئے تو واپس اسی جگہ گئے۔ اس تنہائی، اس گرمی، اس بے توجہی نے وہ لوتھڑا بنایا جو آنکھ کی رگ میں بیٹھ گیا۔ مگر جب آنکھ کی رگ میں خون جم جاتا ہے تو وہ نظر نہیں آتا، صرف دھندلا کر جاتا ہے۔ وہ اسپتال کی دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔ قدموں کی آواز پھر آئی، اس بار تیز، گروہ میں، جیسے کسی کو لے جایا جا رہا ہو۔ اس نے گردن اٹھائی۔ ایک گاڑی تھی، شیشے گہرے، روشنیاں بند۔ وہ سمجھ گئی۔ "بندے دا بندہ وی نہیں رہیا"، یہ جملہ اس کی پھوپھی کہا کرتی تھیں، اور اسے اس وقت کبھی سمجھ نہیں آتا تھا۔ آج، اس رات، آیا۔ اس نے مٹھی کھولی۔ کاغذ، وہ تحریر، سلوٹوں سے بھری تھی۔ الفاظ تھے "طبی طور پر مستحکم"، "آنکھ میں انجکشن"، "روانہ کر دیا گیا۔" گاڑی جا چکی تھی، قدموں کی آواز جا چکی تھی۔ بھائی گیا تھا، واپس اسی تاریکی میں جہاں سے لایا گیا تھا۔ وہ وہاں کھڑی رہی، کتنی دیر اور، وہ نہیں جانتی۔ اسلام آباد کی رات آہستہ آہستہ پھیکی پڑنے لگی تھی، مشرق کی طرف کچھ سرمئی اجالا آیا۔ قدموں کی آواز اب نہیں تھی۔ صرف پرندے تھے، ایک دو، دور سے۔ کاغذ اس کے ہاتھ میں تھا، سلوٹوں میں دبا ہوا، جیسے کوئی بات کہی گئی ہو جو کہنی نہیں چاہیے تھی۔ دوپٹہ ابھی تک تہہ میں تھا، اس کے کندھے پر۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
1
47
80
1.8K
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
سابق وزیراعظم کی رہائش گاہ پہ حملہ دروازے کی کنڈی کانپ رہی تھی، ایسے، جیسے لوہے کو بھی کچھ معلوم ہو۔ باہر قدموں کی آواز ایک ہجوم کی نہیں، ایک طوفان کی تھی، ضرب در ضرب، ایڑی پر ایڑی، جیسے زمین سے کوئی پرانا حساب مانگنے آیا ہو۔ اس نے ہاتھ اٹھایا اور میز پر رکھے کاغذوں کو چھوا، بچوں کی پرانی تصویریں، چھوٹی چھوٹی انگلیوں کے نشانوں سے گرم، ابھی بھی گرم، جیسے لمس تھوڑی دیر پہلے گیا ہو۔ کمرے میں ہوا ٹھہری ہوئی تھی، جیسے سانس روکے بیٹھی ہو۔ کھڑکی سے صحن کا پرانا نیم نظر آتا تھا، ایک شاخ پچھلے چھاپے کے بعد سے جھکی تھی، سیدھی کبھی نہ ہوئی۔ فرش پر ہلکی دھول کا ایک طبق تھا، جیسے رات نے اپنے پاؤں کے نشان چھوڑ دیے ہوں اور صبح کو خبر نہ ہو۔ اس نے وہ کاغذ اٹھایا جو سب سے اوپر تھا، سلیمان نے سات برس کی عمر میں بنائی تھی تصویر ابو کی، کرکٹ کی بال کے ساتھ، آسمان نیلا، سورج پیلا اور ذرا ٹیڑھا، جیسے چھوٹا ہاتھ پوری طرح قابو میں نہ رہا ہو۔ کاغذ کے کونے مڑے ہوئے تھے، رنگ جگہ جگہ سے اٹھ چکے تھے، مگر اس نے یہ تصویر کبھی نہیں پھینکی۔ کچھ چیزیں ہوتی ہیں جنہیں انسان پھینک نہیں سکتا، خواہ خالی ہاتھ رہنا پڑے۔ پھر قاسم کی آواز یاد آئی، لندن کا وہ آخری ملنا، جب دونوں بیٹے ہوائی اڈے تک چھوڑنے گئے تھے اور قاسم نے ہنس کر کہا تھا: "ابو، ہم تو یہاں رہتے ہیں، مگر آپ وہاں رہتے ہو جہاں ہم ہونا چاہتے ہیں۔" اس نے جواب میں کچھ نہیں کہا تھا، بس ہاتھ رکھا تھا اس کے کندھے پر، کچھ دیر کے لیے، جیسے اس ایک ہاتھ میں کئی باتیں ہوں جو زبان سے نہیں نکلتیں۔ سلیمان اس وقت چپ کھڑا تھا، ایسے جیسے وہ جانتا ہو کہ یہ لمحہ تصویر نہیں بنتا، بس محسوس ہوتا ہے، اور محسوس ہونا ہی اسے ہمیشہ کا بنا دیتا ہے۔ باہر آواز اور بڑھی۔ قدموں کی آواز اب دیوار کے ساتھ ساتھ آ رہی تھی، دائیں سے بائیں، پھر بائیں سے دائیں، جیسے کوئی جانور سونگھ کر راستہ ڈھونڈتا ہو۔ پھر وہ آواز جو آنسو گیس سے پہلے آتی ہے، ایک سائیں سائیں، ایک سرسراہٹ، اور پھر ایک دھاڑ۔ گھر کانپا۔ چھت پر پالے ہوئے کبوتر اڑے۔ باہر کسی ملازم نے پکارا، خوف زدہ، پنجابی میں: "صاحب جی، بوٹا نہیں روک رہا انہاں نوں" آواز ادھوری رہی۔ بوٹوں کی گرج اندر آئی، ایک کے بعد ایک، کئی جوڑے، اور ساتھ لائے وہ بے رحمی جو کسی حکم سے نہیں، کسی اندھے خوف سے پیدا ہوتی ہے۔ میز پر رکھے کاغذ جھٹکے گئے۔ سلیمان کی تصویر فرش پر گری۔ "یہ کیا ہے یہ سب؟" کسی نے تصویر اٹھائی، دیکھی، پھر پھینک دی، پھر پاؤں تلے آئی۔ بچوں کے رنگ فرش پر بکھر گئے، جیسے کوئی پھول مسل دے اور مسلنے کا بھی ہوش نہ رہے۔ اس کے اندر کچھ ٹوٹا، آہستہ، بے آواز۔ جیسے پرانا درخت ہوا سے نہیں، اپنے بوجھ سے گرتا ہے۔ کمرے کی دیوار سے پیٹھ لگائے وہ بیٹھا رہا، تہتر برس کا یہ جسم جانتا تھا کہ اس سے تہتر برس میں قانون نہیں ٹوٹا تھا، آج قانون اسے توڑنے آیا تھا۔ آنکھوں میں پانی آیا، رکا رہا۔ شور باہر تھا، اندر وہی گرم سکوت تھا جو اس نے پہلی بار تب محسوس کیا تھا جب بیٹوں کو چھوڑ کر لوٹتے ہوئے گاڑی کی سیٹ پر ہاتھ رکھا تھا، اور ہاتھ کانپا نہیں تھا۔ اور پھر اچانک، ایسے جیسے کوئی بات آئے جو عقل سے نہیں، روح کی گہرائی سے آتی ہے: "ربا، جو لینا ہو لے لو، تصویریں بھی، گھر بھی۔ جو دینا تھا، دے چکا ہوں۔" یہ اس نے بلند نہیں کہا۔ مگر جیسے ہی کہا، اندر سے، کندھے ڈھیلے ہو گئے، جیسے بوجھ کسی اور نے اٹھا لیا ہو۔ اگلی صبح جب روشنی اڈیالہ کی تنگ کوٹھڑی میں کسی باریک جھری سے اندر آئی، تو اسے وہی تصویر یاد آئی، سلیمان کا بنایا ٹیڑھا سورج، پیلا اور بے فکر۔ کاغذ چاہے فرش پر بکھرے، رنگ مٹتے نہیں، یہ بات اسے اس بچے نے سکھائی تھی جسے اس نے پوری طرح پاس نہیں رکھا۔ باہر قدموں کی آواز ابھی بھی آتی تھی، مگر اندر کی کنڈی اب بھی اسی کے ہاتھ میں تھی۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
4
42
62
899
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
26 نومبر کے شہدا کے نام تہہ کیا ہوا دوپٹہ اس کی گود میں پڑا تھا، جیسے کوئی بے نام امید ہو جو ابھی سنبھالی نہیں گئی۔ دروازے کی طرف نگاہ جاتی تھی تو قدموں کی آواز سنائی دیتی تھی، پر وہ نہ تھے، بس رات کی ہوا تھی۔ بیٹا صبح گیا تھا ہنستے ہوئے، بہت پر جوش تھا، ہونٹوں پر پارٹی ترانہ۔ ایسے سفروں سے ماؤں کو الوداع نہیں کہا جاتا۔ پورے محلے میں اس صبح کا رنگ الگ تھا۔ گلیاں ابھی سوئی ہوئی تھیں جب سلیم کے قدم صحن پار کر کے باہر نکل گئے، قمیص نئی تھی، جوتے چمکتے ہوئے، ہونٹوں پر وہی نظم جو ان دنوں ہر گلی سے سنائی دیتی تھی۔ ماں نے آواز دی تھی، رک جا، ابھی ناشتہ نہیں کیا، پر اس نے مڑ کر صرف اتنا کہا: "امی، جب لیڈر آزاد ہوگا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔" وہ چلا گیا۔ ماں نے پیچھے سے دیکھا تک نہیں، کیونکہ دیکھنا ایک الوداع ہوتا جو اسے منظور نہ تھا۔ پیچھے رہ گئی وہ اور اس کی گود میں وہ تہہ کیا ہوا دوپٹہ جو صبح سے تہہ پر تہہ ہوتا جا رہا تھا، جیسے ہاتھ خود سے کچھ نہ کرنا چاہتے ہوں اور بس کپڑے کی سلوٹوں میں الجھے رہنا چاہتے ہوں۔ دن بھر قدموں کی آوازیں آتی رہیں، پڑوسیوں کی، گلی سے گزرنے والوں کی، بچوں کی جو اسکول سے لوٹ رہے تھے۔ ہر بار کان اٹھتے تھے، ہر بار دل کہتا "یہ وہ ہے"، ہر بار کوئی اور نکلتا تھا۔ نومبر کی شام فرش ٹھنڈا تھا پاؤں تلے، صحن میں نیم کی چھاؤں لمبی ہوتی جا رہی تھی۔ ٹی وی پر کچھ نہ تھا، بس اعلانات اور وہی سرکاری لہجہ جو کسی بات کو نہ کہتے ہوئے سب کچھ کہہ دیتا ہے۔ تسبیح کے دانوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بس ایک ہی لفظ نکلا، ربا خیر، جو سدا سے ماواں دی دعا ہے جدوں بول ختم ہو جاندے نے۔ پڑوسن آئی رات کو، چہرے پر بے چینی تھی: "بہن، سنا ہے اسلام آباد میں لائٹیں بند کر دی ہیں انہوں نے" ماں نے کچھ نہ کہا۔ ہاتھ دوپٹے کی تہوں میں گھس گئے۔ پڑوسن چلی گئی، صحن خالی رہا، اور آسمان میں بادل آ گئے تھے جو شہر کو ڈھانپنا چاہتے تھے۔ رات گئی تو کہیں دور سائرن کی آواز آئی، ایک نہیں، کئی۔ وہ آواز جو بتاتی ہے کہ کہیں کچھ ٹوٹ گیا ہے، ہڈی یا دل یا تسبیح کا دھاگا، کچھ نہ کچھ۔ باہر بارش شروع ہو گئی، ہلکی، بے آواز، جیسے کوئی روتا ہو پر آواز نہ نکالنا چاہتا ہو۔ ماں کا دل صحن میں تھا، گلی میں تھا، اس شہر کے کسی چوک میں تھا جہاں اس کا بیٹا کسی ترانے کی آخری لائن گا رہا تھا یا شاید گا چکا تھا۔ صبح پو پھٹے سے پہلے محلے کا ایک لڑکا واپس آیا، اکیلا، ڈرا ہوا، کاغذ کا ایک ٹکڑا ہاتھ میں، بارش میں بھیگا ہوا، جس پر کچھ نام لکھے ہوئے تھے۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ماں نے کھولا۔ "سلیم کہاں ہے؟" لڑکے نے کاغذ آگے بڑھایا۔ بولا نہیں۔ ماں نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ وہ جانتی تھی کہ جو کاغذ اس طرح لائے جاتے ہیں، انہیں پکڑنے سے پہلے ایک پل ٹھہرنا پڑتا ہے، کیونکہ اس کے بعد دنیا پہلے جیسی نہیں رہتی۔ خبروں کے مطابق، اس رات ایک گمنام ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے اتنی گولیوں کے زخموں کی سرجریز اس سے پہلے کبھی ایک رات میں نہیں کی تھی، پر اس کی آنکھیں لڑکے کا چہرہ نہیں، کاغذ کو دیکھ رہی تھیں۔ "اندر آ جا، بیٹے۔" اس نے لڑکے کو اندر بلایا، کاغذ لیا، اور دروازہ بند کر لیا۔ وہ چوک، جسے اب لوگ شہدا چوک کہتے ہیں، آج بھی وہاں سے گزرنے والوں کے پاؤں بھاری کر دیتا ہے۔ ماں کے ہاتھ میں وہی کاغذ ہے جو اس رات بھیگا تھا، پانی سے یا آنسوؤں سے، اس نے سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ وہ صحن میں بیٹھتی ہے اب بھی کبھی کبھی، اور قدموں کی آواز سنتی ہے، پر اس بار آواز باہر سے نہیں، اندر سے آتی ہے۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
6
42
86
1.2K
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
الماری کی چرچراہٹ نے صبح کا آغاز کیا۔ علیمہ خانم نے اندر سے وہی تہہ کیا ہوا کاغذ نکالا، کناروں پر انگلیوں کی پرانی لکیریں، گویا سینکڑوں بار کھول کر پڑھا گیا ہو۔ کاغذ اتنا نرم ہو گیا تھا کہ اب خود سے مڑتا تھا، جیسے اسے بھی یاد ہو کہ کہاں جانا ہے۔ علیمہ خانم نے اسے دوپٹے میں چھپایا، چپل پہنی، اور اپنے قدموں کی آواز کو پہچانا، وہ کھٹ کھٹ جو ہر روز اسے اڈیالہ جیل کے پھاٹک تک لے جاتی تھی اور ہر روز انہی قدموں کو خالی واپس لاتی تھی۔ جیل کے پھاٹک پر زنگ کا ایک دھبہ تھا جو اس نے ایک ہزار دن پہلے دیکھا تھا، تب وہ ناخن کے برابر تھا، اب پھیل کر آدھا کنڈا ڈھک چکا تھا۔ علیمہ خانم نے پھاٹک کے سامنے والی دیوار سے پشت ٹکائی اور پتھر کی ٹھنڈک کو محسوس کیا، وہی ٹھنڈک جو جسم سے نہیں، ارادے سے اترتی ہے۔ رات کا پانی ابھی فرش کے پتھروں پر تھا۔ علیمہ خانم کے جوتے کی ایڑی نے اسے چھوا، بے ساختہ، جیسے کوئی بچہ ٹھہرے پانی میں پیر ڈالے۔ اوپر بجلی کے تار پر ایک کوا بیٹھا تھا، بالکل ساکت، اس کی آنکھوں میں کوئی سوال نہ تھا۔ علیمہ کو کوا اچھا لگا، بس یونہی، بغیر کسی وجہ کے۔ پھاٹک کے اندر سے قدموں کی آواز آئی، بھاری، سیمنٹ پر۔ سپاہی نے چہرہ باہر نکالا اور علیمہ خانم کو دیکھ کر اندر کی طرف مڑ گیا۔ "بی بی، آج ملاقات نہیں ہوگی۔" علیمہ نے دوپٹے سے کاغذ نکالا، وہ تہہ کیا ہوا حکم جو ہر روز نکالا جاتا اور ہر رات واپس رکھا جاتا۔ اس نے اسے سپاہی کی طرف بڑھایا، انگلیاں سیدھی، کلائی ساکن۔ "یہ دیکھیں، حکم ہے، ہفتے میں دو بار" سپاہی کی آنکھیں کاغذ پر ایک لمحے کو رکیں، پھر اٹھیں، پھر چھت کی طرف چلی گئیں، جیسے وہاں کوئی جواب لکھا ہو جسے پڑھنا نہیں۔ "میرے پاس کوئی اجازت نہیں۔" علیمہ خانم نے کاغذ واپس لیا۔ ایک لمحے کو سیدھا کیا، پھر موڑا۔ دوپٹے میں رکھا۔ ہاتھ نہیں کانپے، وہ وقت بہت پہلے گزر گیا تھا۔ اب ہاتھ صرف تہہ کرنا جانتے تھے، موڑنا جانتے تھے، صبر کرنا جانتے تھے۔ دیوار کے سائے میں ایک اور عورت بیٹھی تھی، ادھیڑ عمر، سر پر سفید دوپٹہ، آنکھیں زمین پر۔ علیمہ خانم وہاں جا کر بیٹھ گئی، اپنے قدموں کی آواز کو سنتے ہوئے، وہی کھٹ کھٹ جو آج ہزارویں بار اسے یہاں تک لائی تھی۔ دوسری عورت نے سر اٹھائے بغیر کہا: "کتنے دن ہوئے؟" علیمہ خانم نے جواب نہ دیا۔ اس کی گنتی ختم نہیں ہوئی تھی، ایک ہزار دن، ایک ہزار صبحیں، ایک ہزار بار یہ پھاٹک اور یہ منہ پھیرنا۔ لیکن گنتی کا دکھ ختم ہو گیا تھا۔ اب صرف ایک ساکن بوجھ تھا، جیسے بہت پرانی تکلیف جو ناسور بن جائے اور درد کرنا بھول جائے، بس رہے، سانس لے، موجود ہو۔ اس کی آنکھیں دیوار پر ٹک گئیں۔ خبروں کے مطابق اسکے بھائی کو ایک ایسی کوٹھری میں رکھا گیا تھا جہاں قدرتی روشنی نہ تھی اور ہوا کا گزر محدود تھا۔ کہا جاتا تھا کہ موسم کے ساتھ وہاں ٹھٹھرن اور دھکن انتہا پر جاتی تھی۔ اور یہ بات روایت کی صورت چلتی تھی، تصدیق کسی کے پاس نہ تھی، کہ آنکھوں میں تکلیف مہینوں سے بڑھتی رہی اور بروقت علاج نہ ہو سکا۔ علیمہ نے سوچا کہ بھائی اندھیرے میں کیا دیکھتا ہوگا۔ شاید یہی سب، یہ زنگ، یہ کوا، یہ فرش کا پانی۔ شاید بھائی ایک عورت کے قدموں کی آواز بھی سنتا ہوگا جو ہر روز آتی ہے، ہاتھ میں کاغذ، اور ہر روز خالی واپس جاتی ہے۔ شاید بھائی یہ بھی جانتا ہو کہ کاغذ پر بھی زنگ لگتی ہے، بس دکھائی نہیں دیتی۔ وہ شام کو انہی قدموں کی آواز لیے واپس آئی، اب ہر قدم صبح سے بھاری تھا۔ الماری کھولی۔ چرچراہٹ وہی تھی، ہزارویں بار بھی وہی۔ کاغذ کو اندر رکھا، ایسے جیسے کوئی بیمار پودے کو مٹی میں دبا دے، نہ امید، نہ یاس، بس ہاتھ کی عادت۔ الماری بند ہوئی۔ علیمہ صحن میں آئی۔ جہاں صبح رات کا پانی تھا، اب خشک دھول تھی۔ اس نے بیٹھ کر ہتھیلی زمین پر رکھی اور کچھ نہ سوچا، بس ہتھیلی رکھی، جیسے صرف یہ محسوس کرنا ہو کہ زمین ابھی بھی ہے۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
3
38
75
877
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
فرش کی ٹھنڈک رات کے پچھلے پہر اور گہری ہو جاتی، پاؤں کے تلوے اسے جذب کرتے، اور وہ سرد لہر آہستہ آہستہ ریڑھ کی ہڈی تک چڑھ آتی جو پرانے زخم سے پہلے ہی تھکی تھی۔ دالان میں قدموں کی آواز گزری، رات کا پہرہ، اور وہ آواز دیوار سے ٹکرا کر لوٹ آئی جیسے یہ سیل خود بھی وقت کو گننا جانتا ہو۔ کونے میں وہ کاغذ پڑا تھا، تہہ کیا ہوا، خاموش، جیسے ہر موڑ ایک دن کو اپنے اندر لپیٹتا ہو۔ وہ دیوار کے ساتھ لگا بیٹھا تھا، پیٹھ کو اس نمی سے سہارا دیتا جو اب آشنا ہو چکی تھی۔ ستمبر سے اس سیل کی دیواریں اس کی دوسری کھال بن گئی تھیں، ان کا سردی میں سکڑنا، گرمی میں پسیجنا، اور وہ مدھم بند ہوا جو پھیپھڑوں میں جاتے ہوئے کچھ زیادہ محنت مانگتی۔ اوپر چھت میں ایک باریک دراڑ تھی جو بارش کے بعد ہمیشہ گیلی ہو جاتی، وہی اس کے لیے آسمان کا اکلوتا پتہ تھا۔ کچھ دیر پہلے بارش ہوئی تھی۔ مٹی کی سوندھی خوشبو کسی دراز سے آئی تھی، ہلکی، پرانی، جیسے کوئی یاد دروازہ کھٹکھٹائے۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور اس خوشبو کو پوری سانس میں کھینچا۔ لاہور کا صحن آ گیا ذہن میں، گرمیوں کی ڈھلتی شام، ماں کی چارپائی اور تسبیح کی ہلکی کھنک، وہ لمحہ اس نے اپنے اندر روکے رکھا جتنی دیر ممکن تھا۔ کل وکیل آیا تھا۔ دس منٹ کی ملاقات، شیشے کے پار، نگران آنکھوں کے سامنے۔ انسانی چہرہ دیکھنا بھی اب نعمت لگتا تھا۔ "اقوامِ متحدہ نے پھر رپورٹ دی ہے۔" اس نے صرف سر ہلایا۔ رپورٹیں آتی تھیں، دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ جاتی تھیں۔ "باہر لوگ آج بھی جمع ہیں۔ جیسے کل تھے۔" یہ بات چپ کرا گئی، ایک گرم خاموشی جو گلے میں اٹک گئی۔ وہ لوگ، جنہیں اس نے اپنے خوابوں میں پہلے بسایا تھا، سیاست میں بعد میں، اب اس کے بغیر زندہ تھے، لڑتے تھے، باہر کھڑے تھے۔ اس کی انگلیاں ہلکی لرزش میں تھیں، نہ سردی سے، کچھ اور۔ اس نے مٹھی بند کر لی۔ خبروں کے مطابق، اس قید تنہائی کو عالمی اداروں نے ناانسانی حالات قرار دیا تھا۔ لیکن یہ الفاظ اس سے بہت دور کے تھے، باہر کی دنیا کے الفاظ جو اندر کی دنیا سے کبھی نہیں ملتے۔ اندر صرف یہ تھا: فرش کی ٹھنڈک، کمر کا مدھم درد، اور وہ کاغذ جو کونے میں پڑا تھا۔ اس نے کاغذ اٹھایا، تہہ در تہہ کھولا۔ بیٹے کے ہاتھ کا لکھا خط تھا، آخری ملاقات سے بھی پہلے کا۔ اس کا ایک جملہ اسے یاد تھا، لیکن وہ اسے آنکھوں سے نہ پڑھتا تھا، صرف ذہن میں، رات کو، جب قدموں کی آواز دور ہو جاتی اور سیل خاموش پڑ جاتا۔ وہ خط اس کے لیے وہی تھا جو زخمی کے لیے پانی ہوتا ہے، کھول لو تو سکون ملے، لیکن پھر تڑپ اور تیز ہو جائے۔ اس نے اسے پھر تہہ کیا، آہستہ، ایک موڑ، دو موڑ، تین موڑ۔ اس کی ماں کی آواز آئی، برسوں پہلے کی، جب وہ ایک میچ ہار کر گھر لوٹا تھا اور خاموش بیٹھ گیا تھا: "بیٹا، گھٹنے تو زمین کو لگتے ہیں، لیکن سر آسمان کی طرف رہنا چاہیے۔" ایک ہزار دن۔ وہ عدد اس نے ذہن میں رکھا، کوئی فخر نہیں، کوئی شکایت نہیں، نہ کوئی آنسو جو گالوں تک پہنچے۔ بس ایک وزن جو اٹھانا تھا، اور وہ اٹھائے ہوئے تھا۔ اس نے نگاہ اٹھائی، چھت کی وہی دراڑ تھی۔ ان ہزار دنوں میں یہ دراڑ نہیں بدلی تھی، اور وہ اس میں آسمان ڈھونڈتا رہا تھا، چاہے وہ آسمان صرف ایک دراڑ کی چوڑائی کا ہو۔ شاید یہی کافی تھا۔ اس نے گھٹنوں کو دونوں ہتھیلیوں سے چھوا، ریڑھ نے ایک سرد آہ لی۔ پھر سیدھا ہو کر آنکھیں بند کیں۔ "اللہ کافی ہے۔" اس نے بغیر آواز کے، خود سے کہا۔ اور اس کے بعد کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہ رہی۔ دالان میں قدموں کی آواز پھر گزری، ایک بار، دو بار، اور پھر سب تھم گیا۔ اس نے وہ کاغذ آہستہ مٹھی میں بند کر لیا۔ مینہ کی خوشبو ابھی بھی ہوا میں تھی، دھیمی، جیسے کوئی دور سے سلام بھیج رہا ہو۔ فرش ابھی بھی ٹھنڈا تھا، لیکن مٹھی گرم تھی۔ وہ ایک کاغذ کی گرمائش جو لفظوں سے نہیں، ایک بیٹے کی لکھائی سے آتی تھی۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
4
32
69
1.1K
Ink and Aansoo
Ink and Aansoo@InkAndAansoo·
فرش کی ٹھنڈک پاؤں کی تلی سے کمر تک چڑھتی ہے جب وہ نماز کے بعد وہیں بیٹھ جاتی ہے، مصلّے کو تہہ کیے بغیر۔ گود میں کاغذوں کا بنڈل ہے، ہر ورق پر کوئی مہر، کوئی دستخط جو اس کی سمجھ سے باہر ہیں لیکن جن کا بوجھ وہ مہینوں سے اٹھائے پھرتی ہے۔ گلی سے قدموں کی آواز آتی ہے اور وہ ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ ان کاغذوں میں اس کا بھائی قید ہے، وہ بھائی جسے کبھی دنیا مسحور ہو کر سنتی تھی۔ وہ کتنے برسوں سے اس گھر کی دیواروں کو جانتی ہے، وہی پرانی چاندی کا رنگ، گوشے میں پڑی الماری جس کی کنڈی ٹوٹی تھی اور اس نے خود ڈھونڈ کر لگوائی تھی۔ اب وہ الماری بند رہتی ہے کیونکہ اندر جو کاغذ ہیں انہیں نکالنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ سزاؤں کے کاغذ۔ ملاقات سے انکار کے کاغذ۔ وکیل کے آنے جانے کے کاغذ۔ وہ ان کاغذوں کو ہاتھ لگاتی ہے تو اس کی انگلیاں کانپتی ہیں، نہ غصے سے، نہ ڈر سے، بلکہ اس احساس سے کہ کاغذ بھی ایک زبان بولتے ہیں جو اس نے کبھی نہیں سیکھی۔ باہر بارش ہو رہی ہے، ہلکی ہلکی، بنا کسی اعلان کے، جیسے اسے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ گلی کی اینٹیں گیلی ہیں اور جب کوئی گزرتا ہے تو قدموں کی آواز بھیگ کر بھاری ہو جاتی ہے۔ وہ کھڑکی کی جالی سے باہر دیکھتی ہے، دھوپ نہیں، بادل نہیں، بس وہ سفید سفید خلا جو بارش کے وقت سب چیزوں کو ایک رنگ میں لے آتا ہے۔ اس نے ایک بار اپنے بھائی سے پوچھا تھا، برسوں پہلے، کہ وہ ان اونچی چوٹیوں پر کیوں جاتا ہے جہاں سانس لینا مشکل ہو جائے۔ وہ ہنسا تھا، سوچتا رہا، پھر بولا تھا: "بڑا سوچتا ہوں جاتے جاتے، مگر پہنچ کر سوچنا بھول جاتا ہوں۔" وہ مسکرائی تھی، سمجھی نہیں تھی۔ اب سمجھتی ہے۔ ہمسائی خاتون آئی تھی کچھ دن پہلے، آہستہ سے اندر آ کر بیٹھ گئی اور پوچھا: "بیگم صاحبہ، کتنے عرصے سے ہے یہ سب؟" اس نے کچھ نہیں کہا۔ کمرے کی ہوا بھاری تھی، دیوار پر لگا کیلنڈر اپنی جگہ سے ہلنا بھول گیا تھا، اور فرش اب بھی ٹھنڈا تھا جیسے صبح سے ٹھنڈا ہے۔ وہ کاغذوں کا کونا موڑتی رہی۔ گلی میں قدموں کی آواز آتی رہی، اجنبی قدم، روزمرہ کے قدم، وہ قدم جو کبھی بڑے میدانوں میں دوڑتے تھے اور جن کی آواز دنیا نے گنی تھی، آج ایک چھوٹی سی کوٹھری میں بند ہیں جس کا فرش اس کے گھر کے فرش سے زیادہ ٹھنڈا ہوگا۔ اسے یاد آتا ہے۔ کھلی ہوا میں بھاگتے وہ قدم، انیس سو بانوے کا وہ کپ جو قوم کو ملا اور جو آج تک اکیلا ہے۔ والدہ کی یاد میں ہسپتال بنایا، اپنی ہر یادگار چیز بیچ کر۔ میانوالی کے پہاڑوں کے دامن میں غریب بچوں کے لیے علم کا دروازہ کھولا۔ ایک سو اسی سے اوپر مقدمے، یہ اس نے سنا تھا۔ گنا تھا۔ پھر گننا چھوڑ دیا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ ملاقاتیں بند کر دی گئی ہیں، کہ باہر کی آواز تک نہیں پہنچنے دیتے۔ یہ ایک الزام تھا، حتمی فیصلہ نہیں، کہ آنکھ کی تکلیف پر بروقت توجہ نہیں دی گئی۔ اقوام متحدہ نے بھی ایک کاغذ بھیجا، لکھا کہ یہ قید بلا جواز ہے۔ وہ کاغذ بھی الماری میں ہے، باقی کاغذوں کے ساتھ۔ ہمسائی خاتون نے پھر پوچھا، بہت آہستہ سے: "وہ ٹوٹ نہیں گئے ہوں گے؟" اس نے الماری کی طرف دیکھا، پھر اپنے ہاتھوں کی طرف، انگلیاں ابھی کاغذ کا ٹھنڈاپن لیے تھیں، پھر باہر کھڑکی کی طرف۔ "جو پہاڑوں پر چڑھا ہو، اس کے قدموں میں چٹان ہوتی ہے۔" وہ بولی اور خود چپ ہو گئی۔ رات کو بوندیں تھم جاتی ہیں لیکن گیلی اینٹوں کی خوشبو رہ جاتی ہے۔ وہ الماری کھولتی ہے، ایک کاغذ نکالتی ہے اور اسے تہہ کر کے رکھ دیتی ہے، اسی ترتیب سے جیسے سالوں پہلے سے رکھتی آئی ہے۔ گلی میں رات کے قدموں کی آواز نہیں آتی لیکن اسے آتی محسوس ہوتی ہے، دور سے، جیسے پہاڑوں پر کسی کے قدم ابھی بھی رکے نہیں۔ فرش پر چھت سے ایک قطرہ، جالی سے چوا، سیمنٹ پر پھیلتا ہے اور ٹھہر جاتا ہے۔
Ink and Aansoo tweet media
اردو
4
69
136
1.8K