Sabitlenmiş Tweet

دیوار سے اُٹھتی نمی کی بُو نے اُسے جگایا۔ کونے میں رکھا چراغ، جس کی لُو تھرتھرا رہی تھی، اُس کی دائیں آنکھ کی دھندلی روشنی میں ایک پیلا ہیولا سا ٹھہرا ہوا تھا۔ بائیں آنکھ سے دیکھتا تو دنیا اب بھی اپنی پرانی شکل میں دکھتی تھی: سیمنٹ کا فرش، ایک پلنگ، ایک گلاس، اور سرہانے رکھی وہ کتاب، جو مہینوں سے اُس تک نہیں پہنچی تھی۔ باہر گزرگاہ میں قدموں کی آواز اُٹھی، آہستہ، گنی ہوئی، جیسے کوئی گن کر چل رہا ہو۔
وہ اب اُن قدموں کے ہر سُر پہچان جاتا تھا، یہ وہ سپاہی نہیں تھا جو رات تین بجے آتا تھا، نہ ہی وہ جو فجر سے پہلے گزرتا تھا۔ اُسے یاد آیا، سلیمان اور قاسم چھوٹے تھے، لان میں ننگے پاؤں دوڑا کرتے تھے۔ ماں بار بار کہتی، "بچوں کو جوتا پہناؤ، فرش بہت ٹھنڈا ہے"، اور وہ ہنستے ہوئے کہا کرتا، "زمین سے رابطہ نہ ٹوٹنے دو۔" اب اُس کی زمین بس اِتنی سی تھی کہ کھڑے ہو کر دو قدم چلتا، تو دیوار آن لگتی تھی۔ زمین سے رابطہ پہلے سے کہیں گہرا تھا۔ مگر بچے دور تھے۔ ویزا۔ یہ لفظ آخری بار سُنا، تو اُسے ہنسی آ گئی تھی، اپنے بیٹوں کو۔ اپنے ہی ملک کا۔ پھر ہنسی اندر ہی اندر بیٹھ گئی، جیسے ان چاہا مہمان دروازے سے واپس موڑ دیا گیا ہو۔ عید کے دن، فون پر دونوں کی آوازیں سُنیں، تو دل میں آیا، کہ بڑے بیٹے کی آواز اب باپ سے ملتی جلتی ہے۔
- بابا، طبیعت کیسی ہے؟
- ٹھیک ہوں، تم بتاؤ۔
- گھر کب آئیں گے آپ؟
- وقت ٹھیک ہو، تو۔
اِس "ٹھیک ہوں" میں، جو کچھ نہ کہا گیا، ایک عمر چھپی تھی۔ سچ یہ تھا کہ گلاس کا پانی صاف نہ تھا، اور دائیں آنکھ سے دنیا ہر روز تھوڑی سی اور دور سرک رہی تھی۔ مگر جو "ٹھیک ہوں" بیٹوں کو کہنا چاہیے تھا، وہی کہا۔ پھر بہنوں کا قافلہ گیٹ تک پہنچا تھا، وہاں سے لوٹا دیا گیا۔ اُسے یہ رات بعد میں کسی سپاہی کی سرگوشی سے معلوم ہوئی، ایک سپاہی، جو نوکری کے باوجود انسان رہنا چاہتا تھا۔ "باجی گیٹ پر بیٹھ گئیں تھیں"، اُس نے سرگوشی میں کہا، "دھوپ میں۔" اُس نے سر ہلایا، اور کچھ نہ کہا۔ کیا کہتا؟ بہنوں کا دھوپ میں بیٹھنے کا غم کیا اُن پرچیوں سے بڑا تھا جو ہر دن ایک نئی بات لے کر آ رہی تھیں؟ ایسا ترازو اُس کے پاس تھا کہاں؟ ایک رات اُسے بتایا گیا، یا شاید وہ خبر نہیں، خواہش تھی، کہ اگر وہ ایک سطر لکھ دے، تو سب نرم ہو جائے گا۔ ایک سطر۔ قلم بھی پاس تھا، روشنائی بھی۔ اُس نے قلم اُٹھایا۔ دیر تک اُس کی نوک کو چراغ کی روشنی میں دیکھتا رہا، اور پھر رکھ دیا۔ درویش کی طرح، جو چادر اوڑھ کر پانی پار کرتا ہے، اُس نے خاموشی اوڑھ لی۔ باہر قدموں کی آواز ایک پل بھر کو رکی، پھر چل پڑی۔
اب اُس پر کھلا کہ خاموشی اُس اکیلے کی نہیں رہی۔ وہ اب اُن گمنام لوگوں کی تھی، جنہیں نام تک نہ ملا، اور کسی ماں کی، جس کے بیٹے کی خبر کبھی نہ آئی، اُس استاد کی جسے ایک نظم نے درسگاہ سے ہی باہر کر دیا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ یہ سب اُس کے ساتھ جس وردی کے حُکم سے ہو رہا تھا، اُس کے سامنے جھکنا آسان ہے۔ مگر سُنی سُنائی بات اور دیکھی ہوئی بات کے بیچ ایک ایسی دیوار تھی جسے وہ اپنی آنکھ سے نہیں چھو سکتا تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا، جھکنا آسان لگتا ہے۔ مگر جھکنے کے بعد جو باپ بیٹوں کو ملتا، وہ اُن سے پہلے اپنے آپ سے رخصت ہو چکا ہوتا۔ اُس نے کروٹ بدلی، چراغ کا رخ موڑ دیا۔ پھر بہت آہستہ سے، جیسے کوئی پرانے زخم کو چومنے سے پہلے سانس روک لیتا ہے، اُس نے سوچا: بچوں سے دور رہنے کی قیمت کیا ہے؟ اُس نے کسی کو بھی جواب نہ دیا، نہ اپنے دل کو۔ گزرگاہ میں قدموں کی آواز پھر اُٹھی، گنی ہوئی، ٹھہر ٹھہر کر۔ چراغ کی لُو ایک بار اور تھرتھرائی۔ پھر، جیسے کوئی بے زبان دعا بستی کے سکوت میں تحلیل ہو جاتی ہے، رات نے اپنی چادر اور بھی موٹی کر لی۔

اردو




















