Investigation Police Lahore
4.8K posts

Investigation Police Lahore
@InvPoliceLahore
Official Twitter Account of Investigation Wing of Lahore Police.
Abbot Road, Lahore. Katılım Mart 2019
96 Takip Edilen37.7K Takipçiler

@aliimranabbasi متاثرہ خاتون سیدہ نمرہ بخاری کی مدعیت میں تھانہ ستوکتلہ میں مقدمہ درج ہو چکا ہے،
ملزم عادل حسین 30مارچ تک عبوری ضمانت پر ہے،
جلد ملزم کی ضمانت منسوخ کروا کر ملزم کو گرفتار کر لیا جائے گا
اردو

🚨وزیراعلی پنجاب کی ریڈلائن کےساتھ ایساسلوک؟🚨
سوشل میڈیا پر ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک خاتون اپنی ٹانگ پر تشدد کے نشانات دکھاتے ہوئے انصاف کی اپیل کر رہی ہیں۔ متاثرہ خاتون کا نام سیدہ نمرہ بتایا جا رہا ہے۔
نمرہ کے مطابق ان کی شادی کے تیسرے دن سے ہی ان کے شوہر کی جانب سے تشدد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو گزشتہ بارہ برس سے جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ان کے شوہر شراب نوشی کے بعد تشدد کرتے تھے، تاہم گزشتہ تین سال سے انہوں نے آئس (منشیات) کا استعمال شروع کر دیا جس کے بعد ان کی ذہنی حالت مزید خراب ہوتی گئی اور تشدد کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔
نمرہ کے مطابق انہوں نے اپنے شوہر کو علاج کی غرض سے ایک نجی اسپتال میں بھی داخل کروایا تھا، مگر ڈیڑھ ماہ بعد وہ دوبارہ آئس کے نشے میں مبتلا ہو گئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ حالیہ واقعے میں ان کے شوہر نے پستول کے بٹ سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی ٹانگ تک توڑنے کی کوشش کی۔
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنا مقدمہ درج کروانے کے لیے تھانہ ستو کتلہ پہنچیں تو انہیں مبینہ طور پر یہ کہہ کر واپس کر دیا گیا کہ “دس پندرہ دن انتظار کر لیں، بات چیت سے مسئلہ حل ہو جائے گا، لڑائی جھگڑے گھروں میں ہو جاتے ہیں۔” نمرہ سوال اٹھاتی ہیں کہ جو شخص بارہ سال سے نہیں سدھرا اور انہیں اور ان کی بیٹیوں کو تشدد کا نشانہ بناتا رہا ہے، وہ اب کیسے بدل جائے گا؟
انہوں نے مزید بتایا کہ اسپتال میں بھی ابتدا میں عملے نے ان کے زخموں کا معائنہ ضروری نہیں سمجھا اور کہا کہ “ایسے جھگڑے گھروں میں ہوتے رہتے ہیں”، جس کے بعد انہیں اپنی شلوار اوپر کر کے ٹانگ پر موجود شدید تشدد کے نشانات دکھانے پڑے۔
نمرہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کے شوہر کو ایک بااثر سیاسی شخصیت کی حمایت حاصل ہے جس کے باعث انہیں مسلسل دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے اکلوتے بھائی اور بچوں کی جان کے بارے میں بھی شدید خدشات ہیں۔
متاثرہ خاتون نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے کر انہیں انصاف فراہم کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک خاتون ہونے کے ناطے وہ امید رکھتی ہیں کہ صوبے کی سربراہ ان کے درد کو سمجھیں گی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ گھریلو تشدد کے متاثرین کو بروقت تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کے لیے ہمارے نظام میں کس حد تک سنجیدگی موجود ہے۔
اردو

@ADMalik87 @MaryamNSharif @OfficialDPRPP @GovtofPakistan مقدمہ ہذا میں مدعی اور ملزم کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں، ان کی صلح ہو گئی ہے اور اس حوالے سے مدعی نے کورٹ میں 164 کے بیان قلم بند کروا دیے ہیں
اردو

ڈسمس کانسٹیبل وعادی مجرم سنیل مسیح کوپروٹوکول دیناانویسٹیگیشن پولیس شالیمارکےگلےپڑتےپڑتےرہ گیاپولیس ذرائع کےمطابق زیرحراست ملزم سنیل آج موقع پاکرتھکڑی سمیت تھانہ شالیمارکی بلڈنگ سےمبینہ طورپرباہرنکلنےمیں کامیاب ہوگیا
@MaryamNSharif @OfficialDPRPP @InvPoliceLahore @GovtofPakistan


اردو
Investigation Police Lahore retweetledi
Investigation Police Lahore retweetledi

السلام علیکم! صبح بخیر
پنجاب پولیس سے متعلقہ معلومات اب صرف ایک واٹس ایپ پیغام کی دوری پر۔۔۔
صارفین سے گزارش ہے کہ یہ ایک واٹس ایپ میسج سروس ہے، اس پر کالز کرنے، تصاویر اور ویڈیوز بھیجنے سے گریز کریں۔ ایمرجنسی سروس کے لیے 15 پر رابطہ کریں۔
#PunjabPolice #WhatsApp #BuildingForBetter

اردو

سی ایم پنجاب کی کلیئر انسٹرکشنز ہیں شہریوں کو عزت و احترام کے ساتھ سر،میڈم،جناب کہہ کر مخاطب کیا کریں، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن
#PunjabPolice #Police #ccpo #igpunjab #CMpunjab #MaryamNawaz #DIGInvestigation
اردو

@RShahzaddk مقدمہ ہذا میں خاتون مسنگ ہے جس کا کال ڈیٹا لیا گیا تو مغویہ خاتون کا رابطہ طیبہ بی بی کے ساتھ پایا گیا۔ رابطے پر اس نے اپنی ضمانت کروا لی اور شامل تفتیش ہوئی۔ 5فروری 2026 کو تفتیش میں اسے بے گناہ کر دیا گیا۔ خاتون نے کسی دیگر وجہ سے خود کشی کی ہے۔ پولیس پر الزام بے بنیاد ہے۔
اردو

پولیس نے بھاری رشوت مانگی اور پھر میاں بیوی نے مجبور ہو کر خودکشی کر لی
آئے روز پولیس کی زیادتی کے کیس سامنے آتے رہتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس میں ابھی تک سٹرکچرل ریفارم کامیاب نہی ہوئی ہیں پولیس اور صحت کا محکمہ ایسا جہاں تبدیلی لانا ناممکن لگتا ہے ہسپتالوں سے بھی ڈاکٹروں کی غفلت کے واقعات آتے رہتے ہیں آخر یہ سب کیسے بدلے گا کہ قانون کے محافظ قانون کے دائرے میں رہنا سیکھ لیں ؟

اردو

@Aadiiroy2 مقدمہ ہذا میں خاتون مسنگ ہے جس کا کال ڈیٹا لیا گیا تو مغویہ خاتون کا رابطہ طیبہ بی بی کے ساتھ پایا گیا۔ رابطے پر اس نے اپنی ضمانت کروا لی اور شامل تفتیش ہوئی۔ 5فروری 2026 کو تفتیش میں اسے بے گناہ کر دیا گیا۔ خاتون نے کسی دیگر وجہ سے خود کشی کی ہے۔ پولیس پر الزام بے بنیاد ہے۔
اردو
Investigation Police Lahore retweetledi

سنٹرل پولیس آفس میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی زیرصدارت اجلاس، سال 2026ء میں فورس کی صحت اور علاج معالجے کیلئے جدید سہولیات میں اضافے کا فیصلہ۔
آئی جی پنجاب کی ہدایت پر تمام بڑے شہروں کے گنجان آباد علاقوں میں کئیر ویل پولیس ویلفیئر ہسپتال گوجرانوالہ کی طرز پر جدید سہولیات سے آراستہ پولیس ویلفیئر ہسپتال قائم کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ پولیس ملازمین مستفید ہو سکیں۔ پولیس ویلفیئر ہسپتالوں میں پولیس ملازمین اور ان کے اہلخانہ کو جدید، معیاری اور مفت طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ عام شہریوں کو بھی نسبتاً ارزاں نرخوں پر علاج معالجے کی سہولت میسر ہوگی۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے سابق سی پی او گوجرانوالہ رانا محمد ایاز سلیم کی زیر نگرانی قائم کئیر ویل پولیس ویلفیئر ہسپتال کو شاندار اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیتے ہوئے اسے فورس کی ہیلتھ ویلفیئر کے لیے دیگر ریجنز اور اضلاع کے لیے رول ماڈل قرار دیا۔ کئیر ویل پولیس ویلفیئر ہسپتال گوجرانوالہ میں 12 مختلف شعبوں میں معروف کنسلٹنٹس، جدید لیب اور جدید ترین مشینری کے ذریعے تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اجلاس میں ڈی آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس، اے آئی جی ڈویلپمنٹ، اے آئی جی لاجسٹکس نے شرکت کی جبکہ تمام آر پی اوز نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔
#PunjabPolice #IGPunjab #PoliceWelfare #CareWellHospital #PoliceWelfareHospital #HealthFacilities #PoliceFamily #ModernHealthcare




اردو

@shsaeedafzal1 @MaryamNSharif @OfficialDPRPP @digopslahore @ccpolahore مقدمہ 8187/25 بجرم 440 ت پ میںملزم نعیم ولد نذیر نامزد تتیمہ بیان ہے جسکو پکڑنے کے لئیے تفتیشی آفیسر asi اکرم تھانہ رئیونڈ نے ریڈ کیا ہے۔ملزم اپنی چھت پر موجود تھا جو پولیس پارٹی کو دیکھ کر چھت سے بھاگا ۔جسکو پاؤں پر چوٹ آئی ہے پولیس پارٹی نے کوئی فائر نہ کیا اور نہ تشدد کیا ہے۔
اردو

@MaryamNSharif
@OfficialDPRPP
@digopslahore
@ccpolahore
@InvPoliceLahore
ضمانت منظور ھونے کے باوجود پولیس کا صحافی کے بیٹے پر تشدد اور فائرنگ ۔ کیا عدالت کے فیصلے رائے ونڈ پولیس کو قابل قبول نہیں ؟
اردو

@ia_rajpoot سوشل میڈیا پر بیان دینے والی لڑکی اقصی کی والدہ جمیلہ بی بی پیشہ ور منشیات فروش اور منشیات کے پانچ مقدمات سمیت 302 کے مقدمہ میں نامزد اور ملزم اشتہاری ہے۔ لڑکی کیس پر اثر انداز ہونے کے لیے پولیس کو حراساں کرنے اور ان کی کردار کشی کے لیے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا رہی ہے۔
اردو

سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو میں بیان دینے والی لڑکی اقصی کی والدہ جمیلہ بی بی زوجہ افضل پیشہ ور منشیات فروش ہے اور منشیات کے پانچ مقدمات میں ملوث ہے اور 302 کے مقدمہ میں نامزد ہے اور اس میں ملزم اشتہاری ہے۔
بیان دینے والی لڑکی اقصیٰ کیس پر اثر انداز ہونے کے لیے پولیس کو حراساں کرنے اور ان کی کردار کشی کے لیے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا رہی ہے۔


اردو

اب یہ کیا ہے؟
اگر یہ سچ ہے تو @digopslahore ایکشن لیں اور اگر جھوٹ ہے تو اس سوشل میڈیا پیج خلاف ایکشن کیا جائے
تھانہ ہنجروال کا سب انسیکپٹر عابد ۔اقصیٰ نامی لڑکی کی جوانی پر فدا ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھانہ ہنجروال کا سب انسیکپٹر۔اقصیٰ نامی لڑکی
کو دس روز تک اپنے تھانے میں بغیر کیسی ایف آئی آر کے ناجائز حراست میں رکھتا ہے۔نا صرف اقصیٰ کو تھانے میں ناجائز حراست میں رکھا جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ اس کی بھابھی کو بھی غیر قانونی حراست میں رکھا جاتا ہے۔۔۔
دس روز تک SI عابد اقصیٰ سے راتیں رنگین کرنے کی ڈیمانڈ کرتا رہا۔۔بات نا ماننے پر اقصیٰ کے بھائی اور ماں پر قتل کا پرچہ دینے کی دھمکی دیتا رہا۔۔
یہ ساری کہانی کیا ہے ؟ دس روز تک تھانے میں اقصیٰ سے کیا کیا ہوتا ہے رہا ؟
متاثرہ لڑکی اقصیٰ سامنے آ گئی۔۔اقصیٰ کا مکمل انٹرویو دیکھیں کل شام سات بجے۔۔۔۔۔۔۔
#PunjabPolice #trending #CrimeNews #storytelling #news #mnpoint #interview #Duckybhaicase




اردو

@RebelByThought سڑک کراس پر جو مقدمہ درج ہوا تھا وہ جرم ناقابل دست اندازی ہےمقدمہ ڈسچارج ہو چکا ہے تفتیش میرٹ پر ہوئی...
اردو







