Israr Ullah Jee
883 posts

Israr Ullah Jee retweetledi
Israr Ullah Jee retweetledi

آج پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو کشمکش جاری ہے، اس کا پس منظر پچاس برس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ ان حالات کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے ان ابواب کو پڑھنا ضروری ہے جنہیں جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ چار نسلوں سے ہم چیخ چیخ کر اپنی ریاست کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے، مگر ہماری آواز کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
باچا خان نے برملا کہا تھا کہ یہ روس اور امریکہ کی جنگ ہے، یہ جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔ مگر نہ قوم نے اس بات پر توجہ دی اور نہ ہی مقتدر حلقوں نے۔ پھر ولی خان نے خبردار کیا کہ اگر آپ کسی کے گھر بارود بھیجیں گے تو بدلے میں آپ کو پھول نہیں ملیں گے، مگر انہیں "روسی ایجنٹ" قرار دے دیا گیا۔ اسفندیار ولی خان نے اسمبلی کے فلور پر ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میرے بچے کو کارتوس اور کلاشنکوف نہیں، قلم دیا جائے؛ اسے خودکش جیکٹ نہیں، اسکول بیگ دیا جائے۔ مگر انہیں "امریکی ایجنٹ" کہہ کر رد کر دیا گیا۔
لاکھوں خدائی خدمتگاروں، پختون قوم پرستوں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے باشعور لوگوں نے اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر ریاست کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ تشدد کا راستہ تباہی کی طرف لے جاتا ہے، مگر افسوس کہ آج تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
آج جو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں، یہ کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں۔ ہم نے جو بویا تھا، آج وہی کاٹ رہے ہیں۔ انتہاپسندی کے بیج بوئے گئے، نفرت کو ہوا دی گئی، اور پوری ایک نسل کو ذہنی طور پر جنگ اور تشدد کے بیانیے کے سپرد کر دیا گیا۔ اگر خدانخواستہ یہ آگ آج دوبارہ بھڑک اٹھی تو پھر یہ کسی سرحد، کسی قومیت اور کسی ریاست کی تمیز نہیں کرے گی۔
ہم آج بھی یہ مؤقف دہراتے ہیں کہ ہماری قوم بحیثیت مجموعی امن پسند ہے۔ جو جنگ لڑی جا رہی ہے، وہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کی جنگ نہیں بلکہ عالمی قوتوں کی جنگ ہے، اور اس کے لیے اس خطے کو برسوں سے میدان بنایا جاتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان میں قائم حکومت واقعی عوام کی مرضی کی نمائندہ ہے؟ کیا پاکستان اور خصوصاً پختونخوا میں بیٹھی حکومتیں حقیقی معنوں میں عوام کی رائے سے وجود میں آئی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ان حکومتوں کے قیام میں عوامی منشا سے زیادہ دیگر قوتوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔
میں آج بھی دونوں اطراف کے مقتدر حلقوں سے یہی گزارش کروں گا کہ جو بھی پالیسیاں بنائی جائیں، ان میں عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے۔ سرحد کے دونوں جانب کے عوام جنگ نہیں چاہتے، وہ امن، روزگار، تعلیم اور باعزت زندگی چاہتے ہیں۔
اگر آپ خود کو مسلمان کہتے ہیں تو اپنی مسلمانی کی خاطر امن کو ترجیح دیں۔ اگر آپ پختون ہیں تو پختونولی کی روایات کو یاد رکھیں، جن کی بنیاد عزت، رواداری اور جرگے کے ذریعے مسائل کے حل پر ہے۔ اگر آپ افغان ہیں تو افغانیت کا تقاضا بھی امن ہے، اور اگر آپ پاکستانی ہیں تو پاکستانیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اپنے ہی لوگوں کو جنگ کی آگ میں نہ جھونکا جائے۔ جنگ کبھی کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں بنی۔
میں اپنی قوم سے بھی یہی کہوں گا کہ اس وقت میرے بس میں جو ہے، میں وہ کر رہا ہوں۔ اگر اس سے بڑھ کر کچھ کر سکتا تو ضرور کرتا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہوش، صبر اور شعور کا دامن نہ چھوڑیں اور نفرت کے بیانیے کا حصہ نہ بنیں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
اردو

Whose actions most changed the course of human history.
1. Muhammad
2. Isaac Newton
3. Jesus
4. Gautama Buddha
5. Confucius
6. Paul the Apostle
7. Cai Lun
8. Johannes Gutenberg
9. Christopher Columbus
10. Albert Einstein
11. Louis Pasteur
12. Galileo Galilei
13. Aristotle
14. Euclid
15. Moses
16. Charles Darwin
17. Shih Huang Ti
18. Augustus Caesar
19. Nicolaus Copernicus
20. Antoine Laurent Lavoisier
21. Constantine the Great
22. James Watt
23. Michael Faraday
24. James Clerk Maxwell
25. Martin Luther
26. George Washington
27. Karl Marx
28. Orville Wright and Wilbur Wright
29. Genghis Khan
30. Adam Smith
31. Edward de Vere (better known as
"William Shakespeare")
32. John Dalton
33. Alexander the Great
34. Napoleon Bonaparte
35. Thomas Edison
36. Antony van Leeuwenhoek
37. William T. G. Morton
38. Guglielmo Marconi
39. Adolf Hitler
40. Plato
41. Oliver Cromwell
42. Alexander Graham Bell
43. Alexander Fleming
44. John Locke
45. LudWig van Beethoven
46. Werner Heisenberg
47. Louis Daguerre
48. Simon Bolivar
49. Rene Descartes
50. Michelangelo
51. Pope V rban II
52. 'Umar ibn al-Khattab
53. Asoka
54. St. Augustine
55. William Harvey
56. Ernest Rutherford
57. John Calvin
58. Gregor Mendel
59. Max Planck
60. Joseph Lister
61. Nikolaus August Otto
62. Francisco Pizarro
63. Hernando Cortes
64. Thomas Jefferson
65. Queen Isabella I
66. Joseph Stalin
67. Julius Caesar
68. William the Conqueror
69. Sigmund Freud
70. Edward Jenner
71. William Conrad Rontgen
72. Johann Sebastian Bach
73. Lao Tzu
74. Voltaire
75. Johannes Kepler
76. Enrico Fermi
77. Leonhard Euler
78. Jean-Jacques Rousseau
79. Niccolo Machiavelli
80. Thomas Malthus
81. John F. Kennedy
82. Gregory Pincus
83. Mani
84. Lenin
85. Sui Wen Ti
86. Vasco da Gama
87. Cyrus the Great
88. Peter the Great
89. Mao Zedong
90. Francis Bacon
91. Henry Ford
92. Mencius
93. Zoroaster
94. Queen Elizabeth I
95. Mikhail Gorbachev
96. Menes
97. Charlemagne
98. Homer
99. Justinian I
100. Mahavira
According to The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History (Book), the American author Michael H. Hart
Note: Hart was not attempting to rank on "greatness" as a criterion, but rather whose actions most changed the course of human history.
English

🚨🚨
مُحترم انصار عباسی صاحب، پہلی بات جسٹس بابر ستار نے موصوف شوکت صدیقی کی سُپریم جوڈیشل کونسل میں کاروائی کے دوران اُنکی معاونت کی تھی۔ دوسری بات جو بہرحال زیادہ اہم ہے کہ وقت نے ثابت کیا ججز نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کاُ ساتھ نہ دے کر بالکل درست اور دورس سوچ پر مُشتمل فیصلہ لیا کیونکہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کروڑوں روپے کی مراعات “بحالی” کے بعد جوڈیشل کمیشن میں اسٹیبلشمنٹ کے “امپورٹ شُدہ” جسٹس سرفراز ڈوگر کو چیف جسٹس بنانے کے لیے ووٹ دے کر اپنا اصل مکروہ چہرہ قوم کو دکھایا۔ تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اصل “گٹھ جوڑ” پانچ ججز کا تھا یا شوکت صدیقی کا؟ اب زرا ہاتھ اُٹھائیے اور ایک دُعا آپ اور تمام پڑھنے والے میرے ساتھ کریں۔
“اسٹیبلشمنٹ کے تمام ٹاؤٹ ججز، صحافیوں، سیاستدانوں، وُکلا، صنعتکاروں اور جاگیرداروں پر خُدا کی لعنت ہو۔” آمین
Ansar Abbasi@AnsarAAbbasi
جب آئینی طور پر عدلیہ کی آزادی تاریخی تھی تو اُس وقت جسٹس شوکت صدیقی کے ساتھ کیا کوئی ایک بھی جج کھڑا ہوا؟ کیا ججوں نے Estb کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اُس آئینی آزادی کی توہین نہیں کی؟ کاش اُس وقت شوکت صدیقی کا نام سن کر جج نہ چڑتے!! کیا آج کوئی ایک بھی جج قربانی دینے کو تیار ہے؟؟
اردو
Israr Ullah Jee retweetledi

اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ،
اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ،
أَشْهَدُ أَنْ لَّا إلٰهَ إلَّا اللّٰهُ،
أَشْهَدُ أَنْ لَّا إلٰهَ إلَّا اللّٰهُ،
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ،
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ،
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ،
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ،
اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ،
لَا إلٰهَ إلَّا اللّٰهُ.
العربية

مریم نواز کی پلاسٹک سرجری
چہرے کی جھریاں تھیں، سیاست کی لہریں
پلاسٹک کی چھری نے، شکل بدل دی ساری۔
اقتدار کی کرسی پر بیٹھی ہے اب وہ
بابے کی میراث، پلاسٹک سے سجائی۔
ٹویٹ کرتی ہے، تقریریں دیتی ہے
مگر اصل چہرہ، سرجری نے چھپایا۔
بھگوڑے کی بیٹی، پنجاب کی ملکہ
پلاسٹک کی مسکراہٹ، سچ کو دھوکہ دیتی۔
(طنزیہ غزل، افواہوں پر مبنی۔ ہنسی مذاق میں!)
اردو

ییلو گروک @grok بزدل بگھوڑے نواز شریف کا نعرہ تھا مجھے کیوں نکالا اس پر غزل لکھو عنوان مجھے کیوں نکالا
اردو
Israr Ullah Jee retweetledi

An Italian street artist is gaining international attention for a new mural painted overnight in Rome showing Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu kissing Nazi leader Adolf Hitler to highlight ethnic cleansing and genocide in Gaza #GazaGenocide #GazaHolocaust

English
Israr Ullah Jee retweetledi








