”پروردگار، اپنے رسولوں کی زبان سے جو وعدے تو نے ہم سے کیے ہیں، وہ ہمارے لیے پورے کر دے اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کر۔ بے شک، تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔“ (آل عمران 3: 194)
]ترجمہ: البیان از جاوید احمد غامدی[
TG
”اُس دن، جب کہ ہم آسمان کو لپیٹ دیں گے، جس طرح طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں۔ ہم نے جس طرح پہلی خلقت کی ابتدا کی تھی، اُسی طرح ہم اُس کا اعادہ کردیں گے۔ یہ ہمارے ذمے ایک حتمی وعدہ ہے، ہم اِس کو ضرور کرکے رہیں گے۔“ (الانبیاء 21: 104)
* ترجمہ: جاوید احمد غامدی، القرآن الکریم، طبع دوم: فروری 2021ء
TG
”پروردگار، تو ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلوں پر ڈالا تھا۔ اور پروردگار، کوئی ایسا بوجھ جس کو ہم اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے، تو ہم سے نہ اٹھوا اور ہم سے درگذر کر اور ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔“ (البقرہ 2: 286)
ترجمہ: جاوید احمد غامدی، القرآن الکریم، طبع دوم: فروری 2021ء
TG
”پھر جس کا نامۂ اعمال اُس کے دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: لو پڑھو، میرا نامۂ اعمال،مجھے یہ خیال رہا کہ (ایک دن) مجھے اپنے اِس حساب سے دوچار ہونا ہے۔چنانچہ وہ ایک دل پسند عیش میں ہو گا،بہشت بریں میں،جس کے میوے جھک رہے ہوں گے اب کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں۔“ (الحاقہ 69: 19- 24)
ترجمہ: البیان از جاوید احمد غامدی، اشاعت: طبع دوم: جنوری2014ء
TG
”اسلام کی عبادات میں اہم ترین عبادت نما زہے۔ دین کی حقیقت، اگر غور کیجیے تو معبود کی معرفت اور اُس کے حضور میں خوف و محبت کے جذبات کے ساتھ خضوع و تذلل ہی ہے۔ اِس حقیقت کا سب سے نمایاں ظہور پرستش ہے۔ تسبیح و تحمید، دعا و مناجات اور رکوع و سجود اِس پرستش کی عملی صورتیں ہیں۔ نماز یہی ہے اور اِن سب کو غایت درجہ حسن توازن کے ساتھ اپنے اندر جمع کر لیتی ہے۔“
]جاوید احمد غامدی، میزان [267
]اشاعت: طبع یاز دہم: جنوری2018ء[
TG
”عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان نہ دوسروں کو لعن طعن کر نے والا ہوتا ہے، نہ بد خلق اور نہ فحش گوئی کرنے والا۔“(مسند احمد، رقم 3948)
]ماہنامہ اشراق، جولائی 2016، جاوید احمد غامدی، ص [20
TG
”ایمان والو، اِن فقیہوں اور راہبوں میں بہتیرے ایسے ہیں جو لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتے اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔سو اُن لوگوں کو دردناک عذاب کی خوش خبری دو جو (اِن میں سے) سونا اور چاندی ڈھیر کر رہے ہیں اور اُسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔“(التوبہ 9: 34)
ترجمہ: البیان از جاوید احمد غامدی، اشاعت: طبع دوم: جنوری2014ء
TG
”...ایمان کی دولت سے محروم لوگوں کے اعمال کی مثال کسی چٹیل صحرا کے سراب سے دی گئی ہے جس کی حقیقت فریب نظر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ پیاسا پانی سمجھ کر اُس کی طرف لپکتا ہے، مگر جب اُس کے قریب پہنچتا ہے تو راز کھلتا ہے کہ جس چیز کو وہ لہریں لیتا ہوا دریا سمجھ رہا تھا، وہ در حقیقت چمکتی ہوئی ریت تھی۔“
]جاوید احمد غامدی، میزان [89
]اشاعت: طبع یاز دہم: جنوری2018ء[
TG
”ایمان والو، یہ شراب اور جوا اور تھان اور قسمت کے تیر، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، سو اِن سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تمھیں شراب اور جوے میں لگا کر تمھارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمھیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا (اِن چیزوں سے) باز آتے ہو؟ (اِن سے باز آ جاؤ) اور اللہ کی اطاعت کرو اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور (نافرمانی سے) بچتے رہو۔“ (المائدہ 5: 90-92)
* ترجمہ: جاوید احمد غامدی، البیان طبع دوم: جنوری 2014ء
TG