مــــᷝــⷨــᷦــᷧــᷜـــن مِـــــــٹی
2.3K posts

مــــᷝــⷨــᷦــᷧــᷜـــن مِـــــــٹی
@KazmiSyeda14
Lahore, Pakistan Katılım Ekim 2021
301 Takip Edilen368 Takipçiler

یہ فاصلے
یہ محض راستوں کا بچھڑنا نہیں ہوتے
یہ روح کے کسی گوشے میں
ہلکی سی دراڑ چھوڑ جاتے ہیں
ہم ہنس بھی لیں تو
آواز میں ایک ادھورا پن رہتا ہے
اور رات کے سناٹے میں
یادوں کی چاپ سنائی دیتی ہے
مگر عجیب بات ہے—
تقدیر جتنا بھی زور لگا لے
یہ اختیار اس کے پاس نہیں
کہ دل سے کسی کو مٹا سکے
کچھ لوگ
وقت کے صفحوں سے تو اُتر جاتے ہیں
مگر دل کی کتاب میں
ہمیشہ کے لیے رقم ہو جاتے ہیں

اردو

موجِ ادراک میں ڈھلتا ہوا پانی ہوں میں
ایک کردار نہیں ،پوری کہانی ہوں میں
ڈھونڈنا مجھ کو کبھی دل کی نگاہیں لے کر
خشک پیڑوں پہ لکھی کوئی نشانی ہوں میں
تیری تکمیل کی بنیاد ہے میرے دم سے
تُو اگر شعر ہے تو مصرعہ ء ثانی ہوں میں
Abbas Khan🖤☕️@AbbasKhan251
ہمیں تھے جو تمہاری ان کہی باتوں کا بھی ادراک رکھتے تھے یہ ہم تھے جو تمہارے لفظ کی حُرمت کو دل کی رحل میں رکھ کر دعائے نیم شب کے ساتھ پڑھتے تھے مگر شاید ہماری سب مناجاتیں تمہارے دل کی بے روزن سماعت تک نہیں پہنچیں
اردو

اے زندگی
ایک بار مجھے پکار
کہ میں پھر سے کھڑا ہو سکوں
بکھرے ہوئے ارادوں کو
اپنی مٹھی میں بھر سکوں
جو خواب راستوں میں گر گئے ہیں
انہیں پھر کندھوں پر اٹھا سکوں
اگر ہوا چل پڑے
تو میں بھی سفر شروع کر دوں
اگر روشنی مل جائے
تو اپنے اندھیروں کو شکست دے دوں
اے زندگی
صرف اتنا کر
مجھے آواز دے
اور میں پھر جینا سیکھ لوں
اردو
مــــᷝــⷨــᷦــᷧــᷜـــن مِـــــــٹی retweetledi

بستر مرگ پر پڑا قلم دان !
دماغ سوچوں کا سمندر ہے اور دل اس سمندر میں موجود قطروں کے احساس کا بھیگا پن ہے ۔۔۔ یا پھر کسی اپنے کی لگائی آگ کا سوتیلا پن ۔۔ جذبوں کی حرارت پر پکی ادھ کچی محبت کا لمس ۔۔وہ لمس جو کوئی لکھاری اپنی تحریر میں سما دیتا ہے ۔۔
گر لکھاری مر جائے تو کیا ہوتا ہے ؟
سوچتا ہوں جون ایلیاء نے مرنے سے پہلے کتنے ہی مصرعے سوچوں میں جوڑ رکھے ہونگے کتنے ہی احساس لکھنے کو باقی ہونگے کتنے ہی دکھ سجا کر اسٹیج پر بٹھانے ہونگے لیکن وہ اس سے پہلے ہی دم توڑ گئے اور وہ سب غزلیں جو سوچ میں محفوظ تھی وہ پیدا ہونے سے پہلے ہی مر گئی ان غزلوں کا نقصان کون بھرے گا ان احساسات کو کون لکھے گا جو لکھاری کی سوچ میں رہ گئے اور انکا زمانہ ختم ہوا سوچ کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ ایک لکھاری کے مرنے سے کتنے احساسات دم توڑ جاتے ہیں اور ایک ایسا دور جس میں احساس نایاب ہوتا جا رہا ہے شاید پچاس سال بعد میوزیم میں سجانے کو ہم کو احساس کی لاش بھی نہ ملے شاید اسے کوئی انسان نما درندے چٹ کر جائیں ۔۔
میں زمین پر نیم مردہ پڑا کھڑکی کی طرف دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ شاید یہ حالت بستر مرگ کی ہے اور میرا قلم خودکشی کرنے والا ہے آخر میرا قلم کیوں خودکشی کرنا چاہتا ہے شاید اس لیے کیونکہ اسکا لکھاری اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے اور قلم کو یہ گوارا نہیں کہ وہ یتیم ہوجائے کیا کسی کا قلم اتنا خوددار ہوگا جو لوگوں کی پاؤں کی مٹی بننے سے اچھا مرجانا سمجھے اور وہ قلم جسے میں نے اپنے دل کا تاج دیا ایک ایسا تاج جس کی روشنی ہر سو پھیلی ۔۔ میں نیم وا پڑا رات کے دوسرے پہر آسمان پر چمکتا چاند کھڑکی سے دیکھ رہا ہوں یقیناً صبح کوئی چاند سپرد خاک ہوگا اپنی سوچوں سمیت ۔۔۔لیکن میرے وارث یہ دکھ خوشی سکون قلم تنہائی محبت لاوارث ہوجائیں گے یہ سب یتیم ہوجائیں گے اور یہ سب اب میرے اردگرد بیٹھے آنسو بہا رہے ہیں میں نے احساس کو لال غلاف میں چھپا کر رکھا کیا آج رات کے بعد احساس کو وہ اہمیت ملے گی کیا احساس کو ویسا محسوس کیا جائے گا جیسے میں نے اسکو محسوس کیا میرے پاس احساس کی روح ہے کیا کسی کے پاس احساس کی روح ہے ؟کیا کوئی احساس کی روح رکھ پائے گا ایسی روح جو آپ کو بھی بےسکون کردے یقیناً قلم دان کے اختتام کے بعد احساس کا یہ پہلو بھی اس کے ساتھ مر جائے گا درحقیقت احساس یتیم ہوجائے گا ان تمام یتیموں کو کون چھت دے گا کون اپنے دل سے لگائے گا بھلا کون اپنی راتیں تلخ بنائے گا وہ تلخی جو میرے لفظوں سے جھلکتی ہے محبت کی بےحرمتی پر ابھرنے والی تلخی احساس کو پیروں تلے روندھ کر جانے والوں کیلئے تلخی سکون جو کہ ایک لاحاصل شے ہے اس کے پیچھے بھاگ کر بےسکون ہوجانے والوں کی زندگی کی تلخی !
میرے الفاظ بین کر رہیں ہیں مجھے ڈر ہے کہ قلم دان کے گزر جانےکے بعد ان الفاظوں میں قیامت برپا نہ ہوجائے حقیقت تو یہ ہے کہ میرے الفاظ بھی میرے ساتھ مر جائیں گے یا پھر انسانوں کے ڈر سے میرے ساتھ زندہ دفن ہوجائیں گے میرا قلم سرخ رنگ کے الفاظ پیدا کر رہا ہے یقیناً یہ اس کے اندر کی توڑ پھوڑ ہے اب اس قلم کو کون پکڑے گا اور کون لکھے گا ویسا جیسا میں لکھتا ہوں اس قلم سے میں نے محبت کا کاروبار کیا ہے جس میں میرے الفاظوں نے دوسروں کو محبت دی اور بدلے میں میں نے ہر طرح کی نفرت خود میں سما لی وہ نفرت جو اب زہر بن گئی اور میری ہڈیوں میں سرائیت کر گئی ۔۔ میرا نظریہ کون زندہ رکھے گا فقط ایک قلم دان کی موت نہیں یہ اس نظریہ کی موت ہے جو ابھی تک پہلی سیڑھی نہیں چڑھا اور نہ جانے کتنے نظریے ایسے ہی زمین بوس ہوگئے اور ہر اس زمین ہر ایک ایسا پیڑ اگا جس نے بےبسی کو سایہ دیا ۔۔ کیا اس قلم دان کی زمین پر بھی پیڑ اگے گا ؟اور وہ سایہ کن کو دے گا ؟ شاید انکو جنہیں زندگی میں محبت نہ ملی شاید انکو جو اپنی احساس کی سولی سے لٹک کر زندہ لاش بن گئے یا دکھ میں ڈوبے آبگینوں کو جن کی شفافت کبھی کوئی محسوس نہیں کر پایا ابھی تو اتنا کچھ الجھا ہے جسے سلجھانا ہے ابھی تو سوالوں کو الفاظوں میں رقص کرنا ہے لیکن ۔۔۔۔۔ یہ نظریہ تو یوں ہی ختم ہوجائے گا ایک ایسا نظریہ جسے کوئی قبول نہ کر پایا اسے دھرتی ماں قبول کرے گی اور میرے اردگرد بیٹھے یہ یتیم خودکشی کے طریقے سوچ رہے ہیں کیونکہ یہ میرے الفاظوں کی طرح خوددار ہیں کسی اور کے دل کا تاج بننے سے اچھا ہے خاک ہوجائیں ۔۔آنکھ سے آنسو کی لیکر دھائی ہے ان تمام تحریروں کی جنہیں اب تک لکھا نہیں گیا جو پیدا ہونے سے پہلے مر جائیں گی۔۔!
اردو

I'm incredibly proud to be celebrating my four-years .
Its been an amazing journey .
#MyXAnniversary

English

درد سہنے میں کمال رکھتی تھی
سوائے خود کے وہ سب کا خیال رکھتی تھی
ہاں وہ نازوں سے پلی بابا کی لاڈلی گڑیا
جانے کیسے حوصلہ بے مثال رکھتی تھی
لب پہ لاتی نہ تھی کبھی حرفِ شکایت
وہ ویراں آنکھوں میں ہاں لاکھوں سوال رکھتی تھی
آنکھ نم تھی لبوں پہ تھا تبسم اس کے
جانے کیسے وہ اتنا ضبط و کمال رکھتی تھی
دل میں درد کا ایک سمندر لے کر
جانے آنسو کہاں سنبھال رکھتی تھی
بے چین شہر کی پرسکون لڑکی
رسمِ دنیا کا کتنا خیال رکھتی تھی
،،،،،🖤
اردو











