Khalid Mahmood Alvi
12.9K posts

Khalid Mahmood Alvi
@KhalidAlvi68
Punjab, Pakistan Katılım Haziran 2014
225 Takip Edilen115 Takipçiler

@KamranA42766683 @AmirHQureshi بہت تیز سپیڈ سے کام "ھو رھا ھے"
اردو
Khalid Mahmood Alvi retweetledi

احمد وڑائچ صاحب،
اختلافِ رائے ہر کسی کا حق ہے، مگر بات پوری context کے ساتھ ہونی چاہیے - اور یہ آپ کو بھی اچھی طرح پتا ہے۔ آدھا کلپ اٹھا کر کسی کی بات کا مطلب بدل دینا صحافت نہیں، بلکہ ادھوری اور گمراہ کن رپورٹنگ ہے۔
میری بات بالکل واضح تھی:
پیٹرول کی قیمت پر سب سے زیادہ شور وہ طبقہ مچا رہا ہے جو نسبتاً مراعات یافتہ (elite) ہے، جبکہ حکومت کی توجہ اُن vulnerable طبقات پر ہے جو واقعی اس بوجھ سے متاثر ہوتے ہیں — جیسے بائیک استعمال کرنے والے، پبلک ٹرانسپورٹ، ریلوے، زرعی اور مال بردار ٹرانسپورٹ وغیرہ۔
میرا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ موٹرسائیکل استعمال کرنے والے اہم نہیں یا اُن پر فرق نہیں پڑتا۔ بات صرف یہ تھی کہ اصل بحث میں یہ دیکھنا چاہیے کہ ریلیف کس کو زیادہ درکار ہے اور ریاست کی ترجیح کن طبقات کو سہارا دینا ہونی چاہیے۔
افسوس یہ ہے کہ آپ نے پورا مؤقف دکھانے کے بجائے ایک چھوٹا سا حصہ اٹھا کر ایسا تاثر دیا جیسے کوئی غریب یا متوسط طبقے کی مشکلات کو نظرانداز کر رہا ہو، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
تنقید ضرور کریں، مگر مکمل بات اور اصل سیاق و سباق کے ساتھ۔ یہی ذمہ دار اور دیانت دار صحافت کا تقاضا ہے۔
Ahmad Warraich@ahmadwaraichh
پیٹرول کی قیمت کا فرق مجھے اور آپ، ایلیٹ کلاس کو پڑتا ہے، گاڑی اور کار والے کو فرق پڑتا ہے، موٹرسائیکل والے کو نہیں۔ خرم شہزاد، مشیر خزانہ نوٹ: وہ فرانس والی ملکہ یاد آ گئی، روٹی نہیں تو پیسٹری کھاو
اردو
Khalid Mahmood Alvi retweetledi

@imwasim19 اس نے کوئی تازہ تازہ کھانچا مارا ھو گا تو اب اپنی طرف سے مذھبی ٹچ دے رھا ھے ۔ اور روز قیامت الله تعالئ کی بجائے حضرت علی رضی الله تعالئ سے امید لگائی ھوئی جس دن پیغمبر بھی نفسی نفسی کر رھے ھوں گے اور صرف خاتم النبین ھی امت کے لیے دعا گو ھوں گے
اردو

@muzamil_45 بیوروکریسی دن میں 6 گھنٹے اپنے ذاتی کام کرتے ھیں سرکاری گاڑی اور ڈرائیور کو بیگم صاحبہ اور بچوں کے لیے مینیج کرتے ھیں تو جو ٹائم باقی بچ جاتا ھے اس میں ڈنگ ٹپاتے ھیں
مجھے تو ایسا لگتا ھے آپ کو کیسا لگتا ھے @faheemgohar1
اردو

میں نے کہا تھا دنیا میں سب سے زیادہ نااہل بیوروکریٹ پاکستان میں پائے جاتے ہیں
پہلے سولر پالیسی بنوائی جب عوام نے دھڑا دھڑ سولر لگوا لیے تو ریٹ کم دینے کا فیصلہ کر لیا اس پر رولا پڑا تو اب دن کے ٹائم پانچ سے 7 روپے بجلی سستی کرنے کا پلان ھے تاکہ لوگ سولر نا لگوائیں اندازہ کریں دنیا تعریف کر رہی کہ پاکستان ایران امریکہ جنگ میں سولر کی وجہ سے بچ گیا اور کومت یہ پلان کر رہی کہ لوگ سولر لگوانا چھوڑ دیں جبکہ پاکستان میں سب سے زیادہ مہینے سورج رہتا ھے خالی چھتوں پر سولر لگانے کی پالیسی دینے کی بجائے یہ پالیسی دے رہے کہ لوگ سولر نا لگوائیں
اردو

@HammadHassan30 @MIshaqDar50 پاکستان میں ایسا اعتراض بنتا نہی
اردو

اگر ملک کے وزیر خارجہ @MIshaqDar50 ہیں تو پھر سفارتی معاملات سے محسن نقوی کا کیا تعلق؟ کہ وہ روز روز ایران جا رہیے ہیں
اگر تفتان بارڈر یا دہشت گردی کا مسئلہ ہوتا تو پھر جانے پر اعتراض نہ ہوتا لیکن یہ تو ایک سفارتی معاملہ ہے اور یہ کا وزیر خارجہ ہی کا ہوتا ھے وزیر داخلہ کانہیں!
اردو

@realrazidada @faisalnaveed634 اس کیس کی اپ ڈیٹ کہا۔ سے ملے گی؟
اردو
Khalid Mahmood Alvi retweetledi

ہماری بجلی کی کل ضرورت تقریباً 25 گیگا واٹ فی گھنٹہ ہے، اور 25 گیگا واٹ میں سے 6 گیگا واٹ سے زیادہ ہماری ہائیڈرو پاور ڈیموں کے ذریعے، 6 گیگا واٹ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے، اور 10 گیگا واٹ سے زیادہ آف نیٹ روف ٹاپ سولر سسٹم کے ذریعے پیدا کی جا رہی ہے اور باقی 3 گیگا واٹ کی ضرورت باقی چاہئے۔
اس میں ایٹمی پاور پلانٹ بھی شامل کر لی۔۔۔۔
اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آئی پی پیز کی کتنی ضرورت ہے؟
جب اشرافیہ کو فایدہ ہی اسی بات میں ھو تو اسے حل کیوں کریں گے؟
جو حل انکے لئے بہتر ھے وہ ھے پورے نظام کو اپنے ہاتھ میں لینا لہذا وہ لینے جا رھے ہیں
اردو

@FarhanKVirk اس کے بعد آپ کی اصل رقم آپ کو کیسے واپس ملتی ھے یہ آپ کی قسمت پر ھے
اردو

@FarhanKVirk والد کے سوا کوئی کسی کو کما کر نہی کھلاتا۔
اگر کوئی آپ کو اپنے ساتھ پیسہ لگانے کی ترغیب دیتا ھے یا تو فراڈ کرنا چاھتا ھے یا اس وقت اس کو پیسوں کی ضرورت ھے اور اسے کہیں سے قرضہ نہی مل رھا تو اتنی دیر آپ کو منافع دے گا جتنی دیر اس کا مقصد پورا نہ ھو جائے+
اردو

بھائیوں خدا کا واسطہ ہے،
"اپنی زندگی بھر کی کمائی کو فراڈ سے بچائیں!"
ہر دوسرے دن ہمارے پاس کیس آتے ہیں کہ فلاں ہماری جمع پونجی لوٹ کر لے گیا، ہزاروں پاکستانی ہر سال اربوں گنواتے ہیں اور پھر اگلے سال یہی کام ہوتا ہے۔
میں کچھ قیمتی ٹپس بتانے لگا ہوں، فالو کریں گے تو بچت ہوجائے گی ورنہ بعد میں آپ بھی متاثرین میں شامل ہوجائیں گے۔
سٹیٹ بینک کا انٹرسٹ ریٹ "سالانہ" ساڑھے گیارہ فیصد ہے۔
بطور مسلمان ہم ویسے بھی سود سے نفرت کرتے ہیں لیکن کوئی بھی بندا اگر آپ کو سالانہ ساڑھے گیارہ فیصد سے زیادہ پیسے کسی انویسٹمنٹ میں آفر کرے تو سمجھ لیں کہ 99 فیصد آپ کے ساتھ فراڈ ہو رہا ہے۔ ساڑھے گیارہ فیصد سالانہ سے جتنا وہ اوپر جائے گا، اتنا زیادہ بڑا چانس ہے کہ آپ سے فراڈ ہو رہا ہے۔
یعنی کہ آپ اگر ایک لاکھ انویسٹ کرتے ہیں تو ساڑھے گیارہ ہزار "پورے سال" میں آئے گا یعنی ہر ماہ تقریبا 1 ہزار آئے گا۔ چاہے وہ رئیل اسٹیٹ ہو، یا کسی کا کاروبار ہو۔ اس سے زیادہ پیسے آفر کرنے والا آپ سے 99 فیصد فراڈ کر رہا ہے۔
میں یہ کیسز سن سن کر تنگ آ گیا ہوں کہ ایک لاکھ انویسٹ کریں اور ہر ماہ دس ہزار لیں یا ایک کروڑ دیں اور ہر ماہ 3 لاکھ لیں، یہ سب scam اور ڈبل شاہ سکیم ہوتی ہیں۔ یہ بھی جوا ہے۔ اگر آپ سکیم کے شروع میں داخل ہوگئے تو شاید آپ کو فائدہ ہو لیکن آخر میں آئے تو سو فیصد بیڑا غرق کروائیں گے۔
یہ اصول پلے باندھ لیں۔ ساڑھے گیارہ فیصد سالابہ سے زیادہ منافع صرف آپ کو اپنے ذاتی کاروبار میں ہوسکتا ہے یا کوئی پراپرٹی خود خریدنے پر (فائل نہیں) یا شاید پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں ہوجائے لیکن ذاتی کاروبار صرف وہ ہے، جس میں آپ خود کام کرتے ہیں۔ یہ کوئی کاروبار نہیں کہ آپ کسی کو کاروبار کے پیسے دیں اور وہ آپ کو بڑا بڑا منافع دے۔ شاید کوئی بہت ہی اللہ والا نیک بندا ہو جو واقعی میں کاروبار کرے اور اصل میں آپ کو فائدہ دے لیکن چونکہ 99 فیصد لوگ ایسے نہیں ہوتے لہزا آپ کے ساتھ فراڈ کے چانس بھی 99 فیصد ہی ہیں۔
یاد رکھیں، فراڈ ہمیشہ اسی کے ساتھ ہوتا ہے جو سمجھتا ہے کہ اسکے ساتھ کبھی فراڈ نہیں ہوسکتا۔ کوئی بھی مرضی سے جمع پونجی نہیں لٹواتا۔
فراڈ سے بچیں۔ کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ یہ بہت قیمتی باتیں ہم آپ کو بتاتے ہیں تاکہ کل کو آپ ہمارے پاس شکایت لیکر نا آئیں۔ ایسے کیس سن کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ باقی آپ کی زندگی بھر کی کمائی ہے، فیصلہ آپ کا ہے۔ ہم روکنے والے نہیں لیکن بچ سکتے ہیں تو بچ جائیں۔
ابھی بھی گولڈ باکس والا ایک تازہ سکینڈل کھلا ہے جس کے ہزاروں متاثرین ہیں۔ سب ایک سونے کے ڈبے کے لالچ میں پیسے لٹاتے رہے۔
ساڑھے گیارہ فیصد والا سٹیٹ بینک کے انٹرسٹ ریٹ والا سنہری اصول ہمیشہ اپنائیں، اس کے علاوہ آپ اپنا نقصان کروائیں گے۔ اگر ایسی کسی جگہ پیسے لگا بیٹھے ہیں تو کوشش کریں کہ پیار محبت سے باہر نکل آئیں۔
یہ باتیں کوئی نہیں بتاتا۔ ان پر عمل کریں گے تو آپ کا ہی سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ ایسے فراڈ کا سب سے زیادہ نشانہ ہمارے یوتھی بھائی بنتے ہیں کیونکہ وہ سادے ہوتے ہیں۔ یوتھی بھائیوں، بھلے ہمیں دشمن مانو کیونکہ ہم فتنہ عمران نیازی کے مخالف ہیں لیکن اپنی زندگی بھر کی کمائی کا خیال رکھا کرو۔
اللہ پاک آپ سب کو سلامت رکھیں
آمین

اردو

@MusrratRukhsana @RanaSikandarH sir if this is fake propaganda then pls act like Kh. Saad Rafique .. thanks
English

@_Pola_Record اس کا پینٹر مخالف ھو گا تو اس نے یہاں کاروائی ڈال دی
اردو

@ShabnamHusnain1 @Imtiaz_Shaikh03 ابھی نہی ۔۔ ابھی بہت کام باقی ھے ۔
انمول، کینسر کئیر یا شوکت خانم
اردو

@ArifAlvi سائفر میں امریکہ کو الزام دے کر قاسم سوری امریکہ میں پناہ گزین ھو گیا۔ باقی امریکی سینیٹرز سے بیان دلواتے رھے
قاسم اور سلمان بھی امریکہ سے مدد مانگتے رھے اور ٹرمپ کی جیت پر تو باقاعدہ نیشنل میڈیا پر رقص کیا گیا
اردو

سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰


اردو

@ammarmasood3 سن کر کچھ تسلی ھوئی چلو وہ بھی ھماری طرح کھرب پتی نہی۔
خواجہ صاحب کانسٹی ٹیوشن ون پر اب قانون کے ساتھ ھو جائی جیسا کہ سید پور اور شاہ پور پر قانون لوگو ھوا
اردو

سعد رفیق نے ساری زندگی بڑی شرافت کے ساتھ گزاری ہے۔ ان کے بھائی کرائے کے گھر میں رہتے ہیں، سعد رفیق بھی کوئی کھرب پتی نہیں ہیں۔ انہوں نے ساری زندگی سیاست کی ہے لیکن سیاست کو تجارت نہیں بلکہ خدمت بنایا۔ ان پر اس طرح کا الزام لگانا شرمناک ہے ، ان کے خلاف سوشل میڈیا پر گھٹیا کمپین چلائی گئی۔ خواجہ سعد رفیق نے اب ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جس کے بعد ان لوگوں کا رونا دھونا شروع ہو گیا ہے اور فلٹر لگا کر ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں، مگر اب اس کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا
@KhSaad_Rafique
اردو














