
بظاہر مہذب نظر آنے والی ہماری یہ دنیا نقاب پوشوں سے بھری ہوئی ہے؛ جہاں آپ کی ملاقات ہوتی ہے؛ بہادر سورماؤں سے، راہبوں سے، فوجیوں سے، علم کے طالبعلموں سے، عدلیہ کے وکیلوں سے ، پادریوں سے ، فلسفیوں سے… یہ تمام لوگ ویسے ہرگز نہیں ہیں جیسا کہ وہ دکھائی دیتے ہیں؛ یہ خوشنما نظر آنے والے نقاب ہوتے ہیں جو انہوں نے پہن رکھے ہوتے ہیں، ان نقابوں کے پیچھے آپ کو پیسہ بنانے والے لوگ ہی ملیں گے - ایک آدمی، میں سمجھتا ہوں، جس نے قانون کا نقاب اوڑھا ہوتا ہے، جو اس نے اپنے مقصد کی پایہ تکمیل کے لئے قانون سے ادھار لیا ہوتا ہے ، تاکہ اس طاقت کے ذریعے وہ دوسرے آدمی کو مار پیٹ کر شکست دے سکے ؛ ایک دوسرے آدمی نے وطن سے محبت(حب الوطنی، وطنیت) کا نقاب ، عوام کی فلاح کرنے کا نقاب بھی اسی مقصد کے تحت پہنا ہوتا ہے؛ تیسرے شخص نے مذہب یا پاکیزگی کے مقدس نظریے کا نقاب پہنا ہوتا ہے - اس طرح کے ذاتی تمام مقاصد حاصل کرنے کے لیے آدمی بعض اوقات فلسفے کا نقاب بھی اوڑھتا ہے، حتیٰ کہ انسان دوستی کا نقاب بھی وہ پہنے ہوئے ہوتا ہے -
خواتین کی بات کی جائے تو ان کے پاس محدود انتخاب ہوتے ہیں، وہ اصولی طور پر اخلاقیات کا نقاب پہنتی ہیں، شرم و حیا کا نقاب اوڑھتی ہیں ، گھریلو نظر آنے اور ہمدرد دکھائی دینے کا نقاب اوڑھتی ہیں -
پھر یہاں کچھ عام نقابیں بھی ہیں، جو کسی خاص کردار پیشے کو ظاہر نہیں کرتیں، اس میں ان لوگوں کی آنکھیں دکھائی دیتی ہیں لیکن چہرہ چھپا رہتا ہے - یہ نقاب ہر دوسرا شخص عام طور پر پہنے ہوئے ہوتا ہے؛ یہ نقاب ہے خالص سچا دکھائی دینے کا ، خوش اخلاقی کا ، خالصتاً ہمدرد دکھائی دینے کا، پر خلوص دوستی کا نقاب .. اپنی اصلیت چھپا کر ایسی ظاہری اور خوشنما صورتوں میں لوگ دوسروں کے سامنے اپنا آپ پیش کرتے ہیں -
یہ تمام قسم کی نقابیں اصولی طور پر ، جیسا کہ میں نے پہلے کہا، لوگوں نے اپنی تجارت، صنعت کو فروغ دینے اور اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے، محض بھیس بدل کر پہنی ہوتی ہیں -
جرمن فلسفی
آرتھر شوپنہاؤر
اردو







