طالبان اور ISKPکےدرمیان دشمنی کا تاثر ایک ایسا اسٹریٹجک پردہ فراہم کرتاہےجو دونوں گروہوں کواپنےاپنےدائرہ کار میں آزادانہ کارروائی کا موقع دیتاہےطالبان جہاں افغانستان پر اپنی گرفت مضبوط کررہے ہیں، وہیں ISKPعلاقائی عدم استحکام،خاص طور پر پاکستان میں بدامنی کو ہوا دینے پر مرکوز ہے
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ISKP کو طالبان کے زیر اثر علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں، جو کسی نہ کسی سطح پر چشم پوشی یا مفاہمت کی غمازی کرتی ہیں
طالبان اور داعش خراسان (ISKP): نظریاتی اشتراک، تزویراتی مفادات اور پاکستان مخالف اتحاد
طالبان اور داعش خراسان (ISKP) بظاہر ایک دوسرے کے مخالف گروہ کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں، مگر حقیقت میں دونوں کی جڑیں ایک ہی بنیاد پرست اسلام پسند نیٹ ورکس میں پیوست ہیں۔
یہ شہداء کے خون کا قانونی، نظریاتی اور شرعی انتقام ہے، یہ پاکستان کے آئینی اور ایمانی دفاع کا نام ہے۔
ہم امن کے داعی ہیں، لیکن فساد کے خلاف جنگجو، ہم اسلام کی سچائی کے محافظ ہیں، FAK کی تحریف کے دشمن، اور ہم پاکستان کے امن، وحدت اور ترقی کے لیے ہر میدان میں تیار ہیں۔
قرآن کہتا ہے: زمین میں فساد نہ پھیلاؤ —
۔FAK اسی فساد کا چہرہ ہے۔❞
⚔️ عزم استحکام: صرف فوجی نہیں، فکری معرکہ بھی
یہ صرف بندوق سے نہیں لڑا جا رہا — یہ عقیدے، نظریے اور اخلاقیات کا دفاع ہے۔
یہ خوارج کے فتنے کے خلاف اسلامی اصولوں کی فتح ہے
🛑 عزم استحکام: دہشت گردی نہیں، فتنے کے عقیدے کا خاتمہ 🛑
❖ ❝یہ مزاحمت نہیں — یہ فتنہ ہے❞
📍 پشاور: ننگرہار سے آئے خودکش بمبار اور اس کا FAK ہینڈلر ہلاک کر دیا گیا۔
یہ مذہبی نعرے نہیں، امپورٹڈ دہشت گردی تھی — جسے ہمارے بہادر سپاہیوں نے روکا
منظور پشتین طالبان کا اپنا آدمی؟
طالبان ترجمان کے انکشافات کے بعد PTM کی حب الوطنی کا دعویٰ بے معنی ہو گیا۔ اب فیصلہ قوم کو کرنا ہے: پاکستان یا گریٹر افغانستان؟
طالبان کا اعتراف = PTM کا بھانڈا پھوٹ گیا
کتاب The 15 Minutes نے PTM کے "قوم پرستی" کے جھوٹے نقاب کو اتار دیا۔ اب کوئی شک باقی نہیں کہ یہ تحریک ایک غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ ہے
PTM کی اصلیت بےنقاب!
افغان طالبان کے ترجمان خالد زدران نے اپنی کتاب The 15 Minutes میں اعتراف کیا کہ وہ منظور پشتین سے رابطے میں تھے اور اسے "گریٹر افغانستان" کے منصوبے میں تعاون فراہم کرتے رہے
علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ خوارج کے ان جرائم کے خلاف منبر و محراب سے آواز بلند کریں
حکومت و ادارے ایسے عناصر کو کچلنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائیں
عوام مساجد کی حفاظت میں کردار ادا کریں، اور مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوراً دیں
قرآن فرماتا ہے:
"اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے روکے اور اُن کی ویرانی کی کوشش کرے؟"
— (سورۃ البقرہ: 114)
خوارج کا مسجد پر حملہ صرف انسانیت کے خلاف جرم نہیں، بلکہ اللہ کے حکم کی کھلی نافرمانی ہے۔
فتنہ خوارج کے مسجدوں پر حملے: ایک گھناؤنا عمل۔۔۔
فتنہ خوارج کا اصل چہرہ اس وقت پوری طرح بے نقاب ہوتا ہے جب وہ اُن مقامات کو نشانہ بناتے ہیں جو امن، عبادت، اور روحانیت کی علامت سمجھے جاتے ہیں — یعنی مساجد
فتنہ خوارج بندوق کے ساتھ دین، اور دھمکی کے ساتھ شریعت نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ دین نہیں، فتنہ ہے! یہ مجاہد نہیں، دشمن کے پالے ہوئے آلہ کار ہیں!
ریاست کو سخت قانونی، انٹیلیجنس اور عسکری اقدامات کے ذریعے ان کا قلع قمع کرنا ہوگا
یہ گروہ پاکستان کی سالمیت کے دشمن ہیں، بھارت اور دیگر دشمن ایجنسیوں کے آلہ کار ہیں
اپنے علاقوں میں ریاست کے متبادل نظام قائم کر کے عوام کو غلام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں
فتنہ خوارج آج پاکستان کے خلاف دشمنوں کی وہ خطرناک اور مکار شکل ہےریاست اور اسلام کے نام پر دہشت گردی پھیلا رہی ہےیہ نام نہاد مذہبی گروہ درحقیقت بیرونی ایجنڈوں پر عمل پیرا ہیں اور دین کے مقدس نام کو استعمال کر کے ریاست پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی گھناؤنی سازش میں ملوث ہیں