Maina Khan retweetledi
Maina Khan
12.8K posts

Maina Khan retweetledi

”لوگوں کو بہت غصہ ہے اور جب غصہ بڑھ جائے تو بہت احتیاط کرنی پڑتی ہے۔ عوام پر پیٹرول بم گرایا، عمران خان کے ساتھ جو کر رہے ہیں اور جتنا ظلم کیا اس سب کا لوگوں کو بہت غصہ ہے اور اگر یہ پھٹ گئے تو کسی سے بھی سنبھالا نہیں جائے گا۔ بشریٰ بی بی کی ان کی بیٹی سے ملاقات اس لئے نہیں ہونے دی گئی کیونکہ انہوں نے عمران خان کی آنکھ کے بارے میں بتایا تھا۔ ان کو عمران خان کی صحت اور اس کے پیغامات آنے کا بھی ڈر ہے“
علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو
اردو
Maina Khan retweetledi
Maina Khan retweetledi
Maina Khan retweetledi
Maina Khan retweetledi
Maina Khan retweetledi

”عمران خان صرف ہمارا بھائی نہیں، پی ٹی آئی کا لیڈر بھی ہے، اسلیے ہم نے کہا کہ ہمیں آپ سب کی ضرورت ہے، یہاں آکر دباؤ بڑھائیں تاکہ عمران خان کا صحیح ہسپتال میں علاج ہوسکے۔ عمران خان نے 128 دن کا دھرنا دیا تھا، دن رات سڑک پر گزارے تھے، تھوڑی سی ہمت سب کو کرنی پڑیگی، یہ مشکل وقت ہے اور ہم جتنا کرسکتے ہیں، کر رہے ہیں۔“
علیمہ خان
#ImranKhanUnjustlyJailed
اردو
Maina Khan retweetledi

چیئرمین عمران خان سے ملاقات کا دِن، اڈیالہ جیل کے باہر بہنیوں کے ہمراہ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی، قیادت اور کارکُنان کی بڑی تعداد موجود
#ImranKhanUnjustlyJailed
اردو
Maina Khan retweetledi

Maina Khan retweetledi
Maina Khan retweetledi
Maina Khan retweetledi
Maina Khan retweetledi

ایک ہزار دن گزر گئے باقی 2653دن رہ گئے۔
میرے بیٹے بیرسٹر حسان خان نیازی کو دس سال قیدِ بامشقت کی جو سزا سنائی گئی ہے وہ مجموعی طور پر 3653 دن بنتی ہے، جو 13 اگست 2033 تک یا موجودہ مقتدرہ کی مدتِ اقتدار کے خاتمے تک، جو بھی تاریخ بھی پہلے آئے، پوری ہوگی۔ آج حسان کی قید کے ایک ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اگر ان ایک ہزار دنوں کو کل مدت سے منہا کیا جائے تو باقی 2653 دن کی قید ابھی باقی ہے۔ زندگی کے اس موڑ پر اور عمر کے اس حصے میں اگر میں زندہ رہا اور حسان اپنی قید مکمل کرتا رہا تو اس وقت تک میں عمر کے اس مرحلے تک پہنچ چکا ہوں گا جہاں وقت اپنی معنویت بدل چکا ہوگا اور یہ پورا سفر میرے لئیے میری آزمائش نہیں بلکہ آئین یا قانون یا عدالتی نظام بلکہ مملکت کی ایک طویل آزمائش کی صورت اختیار کر چکا ہوگا۔
اردو
Maina Khan retweetledi
Maina Khan retweetledi

شوکت خانم کے نام، جنہوں نے ایک افسانہ جنم دیا
وہ ایک سادہ گھریلو خاتون تھیں۔ کوئی خطاب نہیں، کوئی شہرت نہیں۔ مگر اس سادگی کے اندر ایک ایسا جذبہ تھا جو نسلوں تک زندہ رہے گا۔
انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو نبی کریم کی سیرت کی کہانیاں سنائیں۔ سچائی کا درس دیا۔ صبر کا راستہ دکھایا۔ اور ایک ایسی قوم پر یقین رکھنا سکھایا جو ابھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو رہی تھی۔
1985 میں، 63 سال کی عمر میں، وہ کینسر سے چلی گئیں۔ یہ درد صرف جدائی کا نہیں تھا۔ ان کا بیٹا جانتا تھا کہ یہ بیماری قابل علاج تھی، مگر غریب کے لیے علاج ناممکن تھا۔ اس تکلیف نے اسے توڑا نہیں، بلکہ ایک عزم بن گئی۔
وہ ہسپتال دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہیں۔ مگر 29 دسمبر 1994 کو جب لاہور میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے دروازے کھلے، تو ہر غریب مریض پر ان کی دعاؤں کا سایہ تھا۔ آج بھی ہزاروں بے سہارا لوگ اس ہسپتال میں مفت علاج پاتے ہیں۔ یہ ہسپتال انہی کی یادگار ہے، انہی کے نام کی امانت ہے۔
ایک ماں نے اپنے بیٹے کو جو تربیت دی، اس نے پوری قوم کو سنبھالا۔
آج جب وہ بیٹا قید کی تاریکی میں بھی سر نہیں جھکاتا، تو ہر پاکستانی جانتا ہے یہ ہمت انہی کی گود کا صدقہ ہے۔
شوکت خانم کو ماں کے دن پر سلام۔
#ماں_کا_دن

اردو
Maina Khan retweetledi
Maina Khan retweetledi
Maina Khan retweetledi
Maina Khan retweetledi
Maina Khan retweetledi

”وفا کے راستے کا ہر مسافر گواہی دے گا کہ تم کھڑے تھے!“
وائس چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف شاہ محمود قریشی کی ہمت، استقامت اور اپنے مُلک کی حقیقی آزادی کی جدوجہد میں اپنے قائد عمران خان سے وفا کو سلام!
#1000DaysOfResilience
اردو
















