arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema
42.7K posts

arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema retweetledi

ایسا نہیں ہے کہ جس خاتون نے خواجہ سعد رفیق پہ الزام لگایا اسکے ساتھ جانے والے کوئی نہیں اس رونے کی اصل وجہ وہ ٹویٹ ہیں جو اس نے کئیے ہیں اور اسکو پتہ ہے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گئے؟ خواجہ سعد رفیق سے بات ہوئی وہ کہتے ہیں اب میں ان الزام لگانے والوں کے خلاف پنجاب میں بھی کیس کروں گا تاکہ ان کو پتہ چلے الزام لگانا کتنا آسان ہوتا ہے اور اسکو ثابت کرنا کتنا مشکل عمر چیمہ
اردو
arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema retweetledi

پہلے لاکھوں روپے لیکر اپنی بہن یا بیٹی کی افغان دہشتگردوں سے شادیاں کروا دیتے ہیں
پھر انہیں یعنی دہشتگرد دماد یا بہنوئی کو اپنے ہی گھر میں ایک کمرا یا الگ سے گھر ہزاروں ڈالرز کے عوض کراۓ پر دے دیا جاتا ہے
اسکے بعد ماہانہ اخراجات کے مد میں الگ سے ہزاروں ڈالرز وصول کیے جاتے ہے،
جب گھر بیٹھے بٹھائے اتنے ڈالرز آں رہیں ہو تو لازمی بات ہے انہوں نے دہشتگردوں کی سہولتکاری کرنی ہی ہے
لیکن یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے
اگر یہ دہشتگرد واقعی محروم ہیں تو ان کے پاس لاکھوں ڈالرز کہاں سے آ رہے ہیں ؟؟
تو بات بالکل واضح ہے یہ ڈالرز کے عوض بکنے والے خارجی اور کرائے کے قاتل ہیں
انہیں انڈیا اور اسرائیل پاکستان میں خون خرابے کے لیے فنڈنگ کر رہے ہیں ،،
اردو
arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema retweetledi

افغانی دہشتگردوں کو بائس بائس ہزار ڈالرز میں ایک ایک گھر کرائے پر دے رہے ہیں۔ جب اتنی دولت مل رہی ہو تو وہ دہشتگردوں کی سرپرستی ہر صورت جاری رکھیں گے۔ یہاں اہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر یہ لوگ محروم ہیں تو ان کے پاس یہ ہزاروں لاکھوں ڈالرز کہاں سے آرہے ہیں؟ سیدھی سی بات ہے یہ کرائے کے قاتل خارجی ہیں جو انڈیا اور اسرائیل سے ڈالرز لے کر پاکستانیوں کو مارتے ہیں
اردو
arshad mehmood cheema retweetledi

افغان شہری خارجی حافظ سیف اللہ عرف آصف، جو افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع موسیٰ خیل کے پولیس چیف قاری امیر عباس شرافت کا بھتیجا تھا، 15 مئی کو ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہوگیا۔
سیف اللہ عرف آصف، مرویس خان کا بیٹا تھا اور افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع باک کے گاؤں روغہ کا رہائشی تھا۔
وہ افغان طالبان کا رکن تھا۔ بعد ازاں فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد وہ دیگر ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ہمراہ افغان طالبان کی مدد سے غیر قانونی طور پر خوست سے ضلع کرم میں داخل ہوا۔ وہ کرم میں ٹی ٹی پی کے کاظم گروپ کا رکن تھا۔
آصف گزشتہ جمعہ کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے آپریشن میں دو دیگر ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ساتھ مارا گیا۔

اردو
arshad mehmood cheema retweetledi

ایتھے رکھ کل شاہ زیب خانزادہ بتا رہا تھا سعودیہ پہ پچاس فیصد حملے عراق سے کئے گے ابھی عاصمہ شیرازی بتا رہی ہیں عراق کے اندر اسرائیل کے دو خفیہ اڈوں کا انکشاف ہوا جسکو بکریاں چرانے والے نے دریافت کیا وہاں سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پہ حملے ہوتے تھے ایران درست کہتا تھا حملہ وہ نہیں کررہا بالکل اسرائیل عرب ممالک پہ عراق سے حملے کرکے ایران پہ الزام لگا رہا تھا تاکہ خلیجی ممالک آپس میں لڑے شکریہ پاکستان آپ نے سازش کامیاب نہیں ہونے دی
اردو
arshad mehmood cheema retweetledi
arshad mehmood cheema retweetledi








