میؤ
14.6K posts


پاکستان "بورڈ آف پیس" میں اس جواز کے ساتھ گیا تھا کہ اسرائیلی حملے بند کروائیں گے۔ مگر لگاتار فلسطینیوں پر حملے اور نسل کشی جاری ہے۔
کیا پاکستان کو احتجاجاً "بورڈ آف پیس" سے الگ ہو جانا چاہیے؟
ہاں کے لیے (1)
نہیں کے لیے (2)
ٹائیپ کیجیے
نوٹ: صرف 1 یا 2 ٹائیپ کرکے جواب دیجیے تاکہ بروقت نتیجہ جاری کیا جا سکے
اردو
میؤ retweetledi
میؤ retweetledi
میؤ retweetledi

سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام:
“ملک میں اس وقت دہشتگردی اپنے قدم دوبارہ جما چکی ہے۔ ہمارے دور میں ملک دہشتگردی پر قابو پا کر سیاحت کے فروغ کی جانب گامزن ہو چکا تھا اور “گلوبل ٹیررازم انڈکس” میں پاکستان کی رینکنگ چار درجے بہتر ہوئی تھی- لیکن رجیم چینج نے اس سارے عمل کو بھی ریورس گئیر لگا دیا اور اب بدقسمتی سے ہم گلوبل ٹیررازم انڈکس میں دوبارہ دنیا کا دوسرا بدترین ملک بن گئے ہیں۔
اندرونی معاملات کی طرح اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی بدترین طریقے سے چلائی جا رہی ہے- افغانستان کے ساتھ ہماری سرحد بہت لمبی ہے ان کے ساتھ معاملات بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ جب تک ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار نہیں ہو گی ملک میں امن نہیں آ سکتا۔ فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے، اگر وہ پولیٹیکل انجنئیرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟ بلوچستان میں دہشتگردی پنپ رہی ہے اور وہاں کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکال رہا۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں جب تک عوامی اعتماد پر مشتمل حکومت نہیں لائی جائے گی، استحکام ممکن نہیں ہے-
ملک بھر میں گورننس کا برا حال ہے کیونکہ ہر جگہ عوام کے حقیقی نمائندگان کے بجائے فارم 47 والوں کا قبضہ ہے۔ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں عوامی حکومت موجود ہے اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کے باعث پختونخواہ کی کارکردگی تمام صوبوں سے بہتر ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بہترین ہے۔ علی امین گنڈاپور بطور وزیراعلٰی بہت اچھا کام کر رہے ہیں-
اڈیالہ جیل اس وقت قانون سے بالاتر ہے۔ جیل مینول کے برخلاف میری اپنی اہلیہ سے 90 دن میں 72 گھنٹے ملاقات نہیں کروائی جا رہی جو کہ میرا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود دو ہفتوں سے میرے بچوں سے بھی بات نہیں کروانے دی جا رہی۔ پچھلے چار ماہ میں صرف چار بار بات کروائی گئی- یہاں تک کہ میری کتابیں مجھ تک پہنچنے نہیں دی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ بنیادی انسانی حقوق ، قانون اور جیل مینول کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پاکستان میں اس وقت صرف جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ ہے۔“
اردو
میؤ retweetledi

“کامن ویلتھ کی 8 فروری کے الیکشن پر جو رپورٹ لیک ہوئی ہے اس نے بھی انتخابی دھاندلی کا پول کھول دیا ہے کہ کیسے بےشرمی اور ڈھٹائی سے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔
کامن ویلتھ کے مطابق یہ رپورٹ پہلے ہی سرکاری سطح پر حکومت پاکستان کو دے دی گئی تھی مگر یہاں سکندر سلطان راجہ جیسے بے ضمیر لوگ ہیں جنھوں نے انتخابی چوری کی سہولت کاری سمیت اس پر پردہ ڈالنے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا- پاکستان میں ووٹ چوری کا قانون سخت ہے اور ایسا کرنے پر آرٹیکل 6 کا نفاذ ہوتا ہے- لیکن ملک میں اس وقت عاصم لا کے سوا سب قانون ختم ہو چکے ہیں۔
یہاں پر لیاقت چٹھہ جیسے لوگ قابل تحسین ہیں جنہوں نے اپنے عہدے پر ضمیر کی آواز کو ترجیح دی۔ اس چوری کے بعد عوام کا قتل عام کیا گیا اور چھبیسویں آئینی ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کے خلاف بھی جن ججز نے آواز بلند کی وہ تعریف کے قابل ہیں۔
دھاندلی پر قائم حکومت کو قانونی طور پر قبول کرنے کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ اسی لیے سینیٹ اور پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفے دئیے گئے ہیں۔
اپنے ارکان پارلیمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ملک میں نافذ عاصم لاء سے بالکل نہ گھبرائیں نہ ہی جیل سے گھبرائیں۔ایک فرد واحد اپنے اقتدار کی ہوس کو پورا کرنے کی خاطر آپ کو دبانا چاہتا ہے۔ آپ جتنا ان سے ڈریں گے یہ اتنا ہی آپ کو دبائیں گے۔ آپ حق پر ہیں اور حق اور سچ انسان کو بہادر بناتا ہے، اور حق کی ہی فتح ہوتی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
1/3
اردو
میؤ retweetledi

“افغانوں اور قبائلی عوام کے ساتھ بھی نو مئی کی طرز پر ہی ایک فالس فلیگ رچایا جا رہا ہے۔ جب سے عاصم منیر کو چارج ملا ہے افغانستان کے ساتھ تعلقات جان بوجھ کر بگاڑے جا رہے ہیں اور انہیں مسلسل پاکستان سے جنگ شروع کرنے پر اکسایا جا رہا ہے، تاکہ موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابی کو خوش کیا جائے اور مغرب کے سامنے ایک “نجات دہندہ” بننے کی کوشش کی جائے-
سب سے پہلے افغان حکومت کو سنگین دھمکیاں دی گئیں، پھر مذہبی، اخلاقی اور پناہ گزینوں کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین نسلوں سے پاکستان میں مقیم افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے نکالا گیا، اس کے بعد افغانستان کی سرزمین پر حملے کیے گئے اور اب یہ کہہ کر کہ “دہشت گرد آ گئے ہیں” قبائلی علاقوں میں آپریشن لانچ کر دئیے گئے۔
ان پالیسیوں کی وجہ سے ہر جانب ہمارے ہی لوگ شہید ہو رہے ہیں- پولیس اہلکار، فوجی اور عام بے گناہ لوگ جو شہید ہو رہے ہیں سب ہمارے اپنے ہیں۔ اس طرز عمل سے کبھی امن قائم نہیں ہوتا، پائیدار امن ہمیشہ بات چیت سے قائم ہوتا ہے۔
اب افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے تین فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی عوام، دوسری افغان حکومت، اور تیسری افغانستان کی عوام- ان تین فریقین کی مدد کے بغیر کوئی کامیاب آپریشن یا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔
خیبر پختونخوا میں جو کچھ کرنے کی کوشش ہے وہ صرف تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنے کے لیے ہے۔ ملٹری آپریشن سے دہشتگردی مزید بڑہے گی اور جب پولیس اسی بڑھتی ہوئی دہشتگردی کو کنٹرول کرنے میں لگے گی تو گورننس اور امن و امان کا بیڑا غرق ہو جائے گا- ایسی ہی پالیسی اے این پی کی حکومت کے دور میں بھی اپنائی گئی تھی۔
خیبر پختونخوا کے تمام ایم پی ایز، ایم این ایز اور سینیٹرز وزیراعلی کے ساتھ بیٹھ کر وہاں کے مسائل کا جلد سے جلد حل نکالیں۔ خصوصی طور پر جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے وہاں امن قائم رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
ہمارے اتحادی محمود خان اچکزئی کی قیادت میں ایک امن وفد لے کر افغانستان جائیں اور وہاں بات چیت سے مسائل کا حل تلاش کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
2/3
اردو
میؤ retweetledi

“اڈیالہ میں میرا نام نہاد ٹرائل کوئی جج نہیں ایک ISI کا کرنل چلوا رہا ہے، جو آرمی چیف عاصم منیر سے ہدایات لیتا ہے۔ یہ سول نہیں ملٹری ٹرائل ہے۔
پاکستان میں اس وقت جو بھی ہو رہا ہے عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے اور مسلسل آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ مجھ پر تین سو سے زائد بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے جن کا میں سامنا کر رہا ہوں اور کوئی ڈیل کیے بغیر عدالتوں سے انصاف لے کر ہی باہر آؤں گا۔ ہماری جماعت پر ہر طرح کا ظلم ڈھایا گیا۔ اگر میرٹ پر فیصلہ کیا جائے تو میں اور میری اہلیہ آج ہی رہا ہو جائیں۔ میرے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کے تمام انسانی حقوق پامال ہیں۔ ہمیں عام قیدی والی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے، میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں آٹھ ماہ میں صرف ایک بار میری بچوں سے بات کروائی گئی۔ ججوں کی میرے مقدمات میں کوئی حیثیت نہیں نہ میرے مقدمات کا ٹرائل جج آزادانہ طور پر کر سکتے ہیں بلکہ ایک کرنل جو کہتا ہے وہی فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ کرنل عاصم منیر کے احکامات پر چلتا ہے۔
میں اپنی تمام پارٹی کو کہتا ہوں کہ آپ سب متحد رہیں ظلم کا نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا۔ آپ سب کے لیے لازم ہے کہ میری ٹویٹ کو ری ٹویٹ کریں تاکہ میرے پیغام پر اتحاد قائم رہے۔
خیبرپختونخوا میں ایک گرینڈ جلسے کا اعلان کیا جائے جس میں پورے ملک سے لوگ شریک ہوں اور اس سیاہ رات کے خلاف کھڑے ہوں-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
3/3
اردو
میؤ retweetledi
میؤ retweetledi
میؤ retweetledi
میؤ retweetledi

@SSEHBAI1 فرعون کی بیوی نے خود کو تب بدلا جب وہ خدائی کا دعویٰ کرنے والے کے محل میں تھی لیکن نوح علیہ السلام کے بیٹے نے اس وقت خود کو بدلنے سے انکار کر دیا جب وہ ایک نبی کے گھر میں تھا آپ کے بدلنے یا نہ بدلنے کا فیصلہ آپ کا اپنا ہے آپ اس کے لیے اپنے وقت و حالات کو قصوروار نہیں ٹھرا سکتے !!
اردو
میؤ retweetledi
میؤ retweetledi

“All means of removing me from the political landscape were used. There were two assassination attempts on my life.” @ImranKhanPTI writes from prison that his party is being unfairly muzzled, in a guest essay for The Economist econ.st/3vuJAYJ
English
میؤ retweetledi
میؤ retweetledi
میؤ retweetledi








