خیال
19.5K posts

خیال
@Mobi0076
انسان کے اپنے اندر جو برائی ہوتی ہے وہ اسے سامنے والے میں نظر آتی ہے، یہیں سے نفرت جنم لیتی ہے، انسان انسان کا آئینہ ہے، #مرشد #محبت_مافیا #zikr_e_yaar
پنجاب, پاکستان Katılım Ekim 2020
1.7K Takip Edilen1.8K Takipçiler

مذہب جس علاقے میں پیدا ہوتا ہے وہاں کی ثقافت اس مذہب کا حصہ بن جاتی ہے اور وہ مذہب جب دوسرے علاقوں میں پہنچتا ہے تو یہی مذہب ان علاقوں کی ثقافت کو نگل کر خود وہاں کی ثقافت کی جگہ لے لیتا ہے . جیسے قصاص ، دیعت ,کثرت الازواجی ، ہاتھ اور گردن کاٹنے جیسی سزائیں ، فرسٹ کزن سے شادی, والد کی وفات کی صورت میں یتیم کو دادا کی وراثت میں حصہ نہ ملنا وغیرہ قبل از اسلام کے عرب معاشرے کے رہن سہن اور ثقافت کا حصہ تھیں۔ ان تمام مزکورہ باتیں من و عن یا کچھ ردو بدل کے ساتھ مذہب اسلام کا حصہ بن گئیں ۔
آصف جاوید
اردو

@HammadHassan30 یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اُس دور کے بہت سے مشاہدات آج کے معیار کے مطابق سائنسی یا غیرجانبدار نہیں سمجھے جاتے۔ خاص طور پر قوموں کے بارے میں عمومی فیصلے اکثر مبالغہ، محدود تجربے یا اُس زمانے کے تعصبات پر مبنی ہوتے تھے۔
اردو

@HammadHassan30 اصل میں انسان کی “خوراک” صرف پیٹ کی نہیں ہوتی؛
جو چیزیں ہم روز ذہن کو کھلاتے ہیں — جیسے خوف، نفرت، محبت، علم، موسیقی، سوشل میڈیا، ذکر، یا غصہ — وہ بھی خصلت بناتی ہیں۔
اردو

@soulat_pasha غالب کا یہ جملہ کہ "لاش کو شہر سے باہر کتوں کے آگے پھینک دیا جائے (بشرطیکہ وہ اس کو کھانے پر آمادہ ہوں)" بظاہر انتہائی سخت اور تلخ لگتا ہے، لیکن اگر اس کی روح میں جھانکا جائے تو یہ اپنے وجود کی نفی اور خدا کے سامنے سراپا عجز بن جانے کی انتہا ہے۔
اردو

یادگار غالب میں الطاف حسین حالی لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ غالب کو ایسے گمنام خط آنے لگے تھے جن میں ان کی شراب نوشی اور بدمذہبی کی وجہ سے ننگی گالیاں دی جاتی تھیں- میں اس زمانے میں صرف اپنے فرقے کے مسلمانوں کو جنت کا حق دار سمجھتا تھا اور اپنے پیاروں کو جنت میں لے جانے کے لیے فکرمند رہتا تھا- غالب سے بہت عقیدت تھی۔
غالب کی قوت سماعت بہت کمزور ہوچکی تھی۔ ان سے بات کرنے کے لیے کاغذ پر لکھ کر ان کو دی جاتی تھی۔میں نے مرزا کے بھلے کے لیے ایک لمبا سا تبلیغی نوٹ لکھا جس میں ان کو باقاعدگی سے نماز پڑھنے کی درخواست کی۔
غالب پہلے ہی اپنی بد عقیدگی کی وجہ سے خطوں میں موصول گالیوں کی وجہ سے بھرے بیٹھے تھے۔ انھوں نے فرمایا کہ میری ساری زندگی گناہ میں گزری ہے اب چار دن کی عبادت سے تو میری بخشش ہونے سے رہی۔ حق تو یہ ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرا منہ کالا کیا جائے اور میری لاش کو بازار سے گھسیٹ کر شہر سے باہر کتوں کے آگے پھینک دیا جائے (بشرطیکہ وہ اس کو کھانے پر آمادہ ہوں)-
حالی کہتے ہیں کہ میں ساری زندگی اپنی اس حرکت پر شرمندہ رہا-
یادگار غالب از الطاف حسین حالی صفحہ 52-53
اردو
خیال retweetledi
خیال retweetledi
خیال retweetledi

آرٹ گیلریوں میں عورت ننگے جسم کے ساتھ ملتی ہے، عورت خود بھی عورت کو اسی انداز میں پیش کررہی ہے۔
امرتا نے سوال کیا: آدمی کا عورت کے ساتھ تعلق اچھا یا پائیدار کیوں نہیں ہو رہا؟
میں نے جواب دیا آدمی نے ابھی تک عورت کے ساتھ صرف سو کر دیکھا ہے، اُس کے ساتھ جاگ کر کبھی نہیں دیکھا۔ اگر دیکھا ہوتا تو مرد اپنی زندگی حتیٰ کہ اپنی نسل ،سب کچھ بدل چکا ہوتا۔ ذہین عورت کے ساتھ آپ چائے تو پی سکتے ہیں باتیں بھی کر سکتے ہیں مگر اُسے جیون ساتھی بنانے کی ہمت نہیں کر سکتے کیوں کہ ذہین عورت کی موجودگی میں آپ کی سوچ کی چڑیا پر نہیں مار سکتی۔ میں نے اپنے سے کئی گنا ذہین عورت کے ساتھ رہنا شروع کیا اور پھر اس کی صحبت میں خود بھی میچور ہو گیا"
امریتا پریتم (شاعرہ) اور امروز اندرجیت سنگھ مصور/شاعر کا ایک مکالمہ
اردو
خیال retweetledi
خیال retweetledi

@soulat_pasha یہ تجربہ بول رہا ہے یعنی کوئی طریقہ نہیں ؟ اسی درد کو لے کے بہت سے لوگ اس دنیا سے جا چکے ۔ شائید مکھی کو سمجھ آ جائے
اردو
خیال retweetledi

@soulat_pasha ملائیت کسی بھی ملک کی تیار کردہ فصل ہوتی ہے ضرورت کے مطابق اس سے فیض لیا جاتا ہے
اردو
خیال retweetledi


