H.Cheema
21.6K posts

H.Cheema
@Muhamma08201489
A Patriot Hard Core Pakistani🇵🇰. Master pol Science. Travling , Hiking, Fitness, Music, Nature Loving & all of above Social Worker.🇵🇰
Pakistan Katılım Kasım 2021
2.8K Takip Edilen1.9K Takipçiler
H.Cheema retweetledi

حاجی صاحب مالش کرنے والے سے مالش کروا رہے تھے
اتنے میں اک آدمی آیا اور کہنے لگا:
" کیا حال ہے حاجی صاحب آپ نظر نہیں آتے آج کل؟ "
حاجی صاحب نے اس کی بات سنی ان سنی کردی
وہ بندہ کہنے لگا:
" حاجی صاحب میں آپ کی سائیکل لے کے جا رہا ہوں "
وہ سائیکل مالشی کی تھی
کافی دیر ہوگئی تو مالشی کہنے لگا:
" حاجی صاحب آپ کا دوست آیا نہیں ابھی تک واپس میری سائیکل لے کر ؟ "
حاجی صاحب بولے:
وہ میرا دوست نہیں تھا
مالشی بولا:
" مگر وہ تو آپ سے باتیں کر رہا تھا "
حاجی صاحب بولے:
" میں تو اس کو جانتا ہی نہیں ہوں میں تو سمجھا تھا کہ وہ تمہارا دوست ہے "
مالشی بولا:
" حاجی صاحب میں غریب آدمی ہوں میں تو لٹ گیا "
حاجی حاحب بولے:
" اچھا تو رو مت
میں تجھے نئی سائیکل لے دیتا ہوں
تم سائیکل والی دوکان پر جا کے پسند کر لو
مالشی نے اک سائیکل پسند کی
اور چکر لگا کے دیکھا
واپسی پر آکر کہنے لگا کہ حاجی صاب یہ سائیکل زرا ٹیڑھی چل رہی ہے
حاجی نے کہا:
" جا یار نئی سائیکل ہے. یہ ٹھیک ہے
دکھاو میں چیک کرتا ہوں "
حاجی صاحب سائیکل پر چکر لگانے گئے اور واپس آئے ہی نہیں
مالشی کو اس سائیکل کے پیسے بھی دینے پڑگئے
آج ایسا ہی حال پاکستانی قوم کے ساتھ ہو رہا ہے
ہر نیا آنے والا حکمران حاجی ہے اور عوام مالشی
اردو کلاسیک
اردو
H.Cheema retweetledi
H.Cheema retweetledi
H.Cheema retweetledi
H.Cheema retweetledi
H.Cheema retweetledi

بے غرض نیکی
ایک نیک عورت کہیں گاڑی میں سوار جا رہی تھی کہ اسے سڑک پر چھوٹی عمر کا ایک لڑکا نظر آیا، جو ننگے پاؤں چلا جا رہا تھا اور بہت تھکا ہوا معلوم ہوتا تھا یہ دیکھ کر نیک عورت نے کوچوان سے کہا ’’غریب لڑکے کو گاڑی میں بٹھا لو۔ اس کا کرایہ میں ادا کردوں گی۔‘‘
اس کے بیس سال بعد اسی سڑک پر ایک کپتان گاڑی پر سوار چلا جاتا تھا۔ اس کی نظراتفاقاً ایک بوڑھی عورت پر جا پڑی، جو تھکی ہوئی چال سے پیدل چل رہی تھی۔ یہ دیکھ کر کپتان نے کوچوان کو حکم دیا۔ گاڑی ٹھہرا کر اس بوڑھی عورت کو بھی بٹھالو۔ اس کا کرایہ میں ادا کردوں گا۔‘‘
Alfaz Ki Shararat
منزل پر سواریاں گاڑی سے اترنے لگیں تو بوڑھی عورت نے کپتان کا شکریہ ادا کر کے کہا۔ ’’اس وقت میرے پاس کرایہ ادا کرنے کے لیے دام نہیں‘‘
کپتان نے جواب دیا۔ ’’تم بالکل فکر نہ کرو۔ میں نے کرایہ دے دیا ہے۔ کیونکہ مجھے بوڑھی عورتوں کو پیدل چلتے دیکھ کر ہمیشہ سرس آ جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بیس سال ہوئے جب میں غریب لڑکا تھا۔ مجھے اسی جگہ کے آس پاس سڑک پر ننگے پاؤں پیدل چلتے دیکھ کر ایک رحم دل عورت نے گاڑی میں بٹھا لیا تھا۔‘‘
بوڑھی عورت نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔ ’’کپتان صاحب! وہ عورت یہی کمبخت بڑھیا ہے، جو تمہارے سامنے کھڑی ہے اور جس کی حالت اب اتنی بگڑ گئی ہے کہ وہ اپنا کرایہ بھی نہیں دے سکتی۔‘‘
’’کپتان نے کہا۔ نیک بخت اماں! اب آپ اس کا کوئی غم نہ کریں۔ میں نے بہت سا روپیہ کما لیا ہے اور زندگی کے باقی دن آرام سے کاٹنے کے لیے وطن آرہا ہوں۔ تم جب تک زندہ رہوگی میں بڑی خوشی سے تمہاری خدمت کروں ا۔‘‘
یہ سن کر بوڑھی عورت شکریہ ادا کرتی ہوئی رو پڑی اور کپتان کو دعائیں دینے لگی۔
کپتان تمام عمر اس کی مدد کرتا رہا۔
#MoralStory #realstory
#storytime #funnystory
#stories #urdustories

اردو
H.Cheema retweetledi
H.Cheema retweetledi
H.Cheema retweetledi

*"بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں"*
*اسلام آباد، سیکٹر G-9 | صبح 6 بجے*
دھند اور سردی میں *حِنا* نے اپنی ریڑھی کھولی۔ 18 سال عمر، سر پر دوپٹہ، ہاتھ میں چائے کی کیتلی۔
ابا کا ایکسیڈنٹ ہوئے 3 مہینے ہو گئے۔ بستر پر ہیں۔ ماں بیمار۔ 3 چھوٹے بہن بھائی۔ FSC میں 85% لینے والی حِنا نے کتابیں سائیڈ پر رکھیں اور *چائے کی ریڑھی* لگا لی۔
_"چاچا، چائے 30 کی۔ انڈا پراٹھا 80 کا۔"_
_"بیٹا، 20 کی لگا دو؟"_
حِنا مسکرائی: _"چاچا، 20 کی لگا دی تو ابا کی دوائی کیسے آئے گی؟ آپ بڑے ہیں، آپ سے بحث نہیں کر سکتی۔ اللہ برکت دے گا۔"_
چاچا شرمندہ ہو کر 50 کا نوٹ دے گیا۔ _"رکھ لو بیٹی۔ دعا کرنا۔"_
*شام 7 بجے*
ڈپٹی کمشنر صاحب گزرے۔ رکے۔ چائے پی۔ پوچھا:
_"بیٹا، پڑھتی کیوں نہیں؟"_
حِنا: _"سر، پڑھتی ہوں۔ رات کو۔ دن میں گھر چلاتی ہوں۔ خواب ہے ڈاکٹر بنوں۔"_
ڈپٹی کمشنر نے فوٹو کھینچا۔ لکھا:
*"یہ اسلام آباد کی بیٹی ہے۔ 18 سال کی عمر میں گھر کا بوجھ اٹھایا ہے۔*
*آئیں، اس کی مدد کریں۔ اس سے خریداری کریں۔*
*اور پلیز... اس کے ساتھ کوئی بھاؤ تاؤ نہ کریں۔*
*کیونکہ بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں۔ یہ ہم سب کی عزت ہے۔"*
پوسٹ وائرل ہو گئی۔ اگلے دن ریڑھی پر رش۔ مگر کوئی بھاؤ تاؤ نہیں۔ سب نے عزت سے خریدا، دعا دے کر گئے۔
*سبق:*
*ریڑھی چھوٹی سہی، مگر بیٹی کا حوصلہ اسلام آباد سے بڑا تھا۔*
*30 کی چائے میں اگر 5 روپے کم کرواؤ گے، تو شاید اس کی بہن کی کتاب نہ آئے۔*
*اس لیے خریدو، دعا دو، اور بھاؤ تاؤ مت کرو۔*
*کیونکہ جب بیٹی گھر چلاتی ہے، تو وہ صرف اپنے گھر کی نہیں... ہم سب کی بیٹی ہے۔

اردو
H.Cheema retweetledi
H.Cheema retweetledi

ایک لڑکے کو ڈاکٹر پسند آ گئی…
اب جناب کیا کرتے…؟
وہ اپنے بزرگ والد کو روز کسی نہ کسی بہانے ہسپتال لے جانے لگا۔
والد بیچارے سمجھتے رہے کہ بیٹا کتنا خیال رکھتا ہے…
اصل میں معاملہ کچھ اور ہی تھا!
جس ڈاکٹر کے پاس جاتے تھے وہ نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ انتہائی خوش اخلاق بھی تھی۔
ہر مریض سے پیار سے بات کرتی، خاص طور پر اس لڑکے کے والد کا بڑا خیال رکھتی تھی۔
ایک دن ڈاکٹر نے والد صاحب کو تھوڑا ڈانٹتے ہوئے کہا:
“آپ دوائیاں وقت پر نہیں لیتے، اپنا خیال نہیں رکھتے!”
یہ سن کر لڑکے کے دل میں لڈو پھوٹے…
اس نے آہستہ سے اپنے والد کے کان میں کہا:
“ابا… اگر یہ ڈاکٹر ہمارے گھر آ جائے نا… تو آپ کا کتنا خیال رکھے گی!”
والد صاحب نے ایک لمحہ سوچا… پھر بولے:
بیٹا بات تو تمہاری بالکل ٹھیک ہے…
ابھی میری عمر ہی کیا ہے، صرف 60 سال!
لیکن مسئلہ یہ ہے… تمہاری اماں نہیں مانے گی!!! 😅😂😉
Follow for More Stories 😉
#funnyurdustories #funny #urdustories

اردو
H.Cheema retweetledi
H.Cheema retweetledi
H.Cheema retweetledi
H.Cheema retweetledi










