#Egoncoin Chain
0 posts

#Egoncoin Chain
@Muhamma50046800
#Eagle network community member🌎
Punjab, Pakistan Katılım Ocak 2024
22 Takip Edilen9 Takipçiler

2/2
صبح غلام حسین ڈیوٹی پر پہنچا۔ جلدی جلدی سے بیرک کے راونڈ پر گیا۔ قیدی کے سیل کے سامنے پہنچا۔ لیکن غلام حسین کی نظریں جو کھوج رہی تھیں وہاں ایسا کچھ نہ تھا۔ 804 کوئی کتاب پڑھ رہا تھا۔ 804 بالکل اطمینان سے بیٹھا ہوا تھا۔ جو تصویر لیکر غلام حسین آیا تھا وہاں ایسا کچھ بھی نہ تھا۔ غلام حسین جلدی جلدی آگے بڑھ گیا۔ وہاں رکنے کی بھی اجازت نہ تھی۔
غلام حسین روزانہ صبح ڈیوٹی پر آتا جب راونڈ کا حکم ملتا 804 کے سیل کے سامنے سے گزرتا جلدی جلدی سے نظر اٹھا کر دیکھتا۔ اسے امید ہوتی کہ آج یہ نشئی ٹوٹ چکا ہوگا۔ آج اسکی حالت سخت بری ہوگی۔ لیکن وہاں ایسا کچھ نہ ہوتا۔ غلام حسین کو یہ تو اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ شخص نشے کا عادی نہیں ہے۔ لیکن غلام حسین کی قیدی کیساتھ نفرت قائم تھی۔
ایک روز شام کو گھر آکر ٹی وی لگایا۔ سامنے ایک قوی الجثہ مولانا فرما رہے تھے قیدی یہودیوں کا ایجنٹ ہے۔ ان مولانا سے اسے بہت زیادہ عقیدت تھی۔ اس نے پہلے بھی بارہا ایسی باتیں سن رکھی تھیں۔ آج غلام حسین کے دماغ میں ایک بتی روشن ہوئی۔ قیدی روزانہ جو کتابیں پڑھ رہا ہوتا ہے یہ دور سے دیکھنے میں انگریزی کتابیں نظر آتی تھیں۔ یقینا یہ کتابیں یہودیوں کی کتابیں ہوں گی۔ غلام حسین کے اندر ایک تجسس نے جنم لے لیا۔ اس نے سوچ لیا کہ کسی طرح وہ کتابوں کو قریب سے دیکھے گا جو قیدی پڑھ رہا ہوتا ہے۔ دوران ڈیوٹی غلام حسین کو سیل کے سامنے رکنےیا گفتگو کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک دن غلام حسین کو موقع مل گیا۔ قیدی کی کتابیں سیل کی کھڑکی کے پاس پڑی تھیں۔
وہ تیزی سے چلتا ہوا گزرا کتابوں پر نظر پڑی۔ زرا سی دیر کو رکا سب سے اوپر پڑی کتاب کے ٹائٹل پر نظر پڑی۔ یہ قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ تھا۔ غلام حسین کے دماغ میں جو بتی روشن ہوئی تھی وہ بجھ گئی اور اسکی جگہ ایک نئی بتی جل گئی۔
جو کچھ غلام حسین نے سنا تھا وہ سب الٹ ثابت ہورہا تھا۔
اس کا دل اب دوکان پر جا کر بیٹھنے کو بھی نہیں کرتا تھا۔ اسے اپنا آپ جھوٹ محسوس ہوتا تھا۔ ایک شخص جس سے اس نے ہمیشہ نفرت کی تھی۔ اسے بدکردار سمجھا تھا۔ اسے کافروں کا ایجنٹ سمجھا تھا وہ شخص تو کچھ اور تھا۔ غلام حسین کا ماضی اور حال آپ میں ٹکرا گئے تھے۔ کبھی ماضی کے دلائل سبقت لے جاتے کبھی جو وہ روزانہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا وہ اسے سچ لگتا۔ بت گرانا آسان کام نہیں ہوتا۔ غلام حسین کے اندر کے بت مضبوط نکلے۔ اس نے کئی سیاسی قیدیوں کو دیکھا تھا کہ ان کے جیل میں آنے کے بعد کالی گاڑیوں والے لوگ آنا شروع ہوجاتے۔ پھر اس قیدی کو رہائی مل جاتی۔ غلام حسین نے بت کھڑا کرلیا اور انتظار کرنے لگا۔ کہ کب کالی گاڑیوں والے آنا شروع ہوں گے۔یہ قیدی ان کے سامنے جھک جائے گا۔ ان کی تمام شرائط مان لے گا۔
دن ہفتوں میں بدلے اور ہفتے مہینوں میں۔ پھر وہ دن آگیا۔ ایک دن لمبی چوڑی گاڑیوں والے آ پہنچے۔ جیلر بیرک میں آیا۔ اور قیدی کے سیل کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا۔ غلام حسین کو اندازہ ہوگیا کہ آج ہی وہ دن ہے۔ غلام حسین نے بھی ہمت پکڑی اور جیلر کے پیچھے پیچھے چلنا شروع ہوگیا۔ جیلر سیل کے سامنے رکا۔ قیدی کو دیکھا۔ قیدی جیلر کو دیکھ کر مسکرایا۔ جیلر نے کہا آپ کو ملنے “وہ “ آئے ہیں۔ قیدی نے ایک قہقہہ لگایا اور کوئی جواب نہ دیا۔ جیلر زرا سا کھسیانا ہوا۔ شاید اسے بھی اس رد عمل کی امید نہیں تھی۔ شاید وہ بھی غلام حسین ہی تھا۔ جیلر نے اپنی بات دوہرائی۔
“وہ” آئے ہیں۔ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ قیدی مسکراتا رہا۔ جیلر نے جواب طلب نظروں سے دیکھنا شروع کردیا۔ قیدی تھوڑی دیر جیلر کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے اپنی کتاب اٹھائی۔ کوئی صفحہ کھولا۔ دو لائنیں پڑھیں۔ کتاب بند کردی۔ پھر دوبارہ جیلر کو دیکھ کر مسکرایا۔ قیدی نے الٹا جیلر سے سوال پوچھ لیا۔
“ مجھے توڑنے والے اتنی جلدی ٹوٹ گئے؟”
“ جاو انہیں کہ دو میں ایسے لوگوں سے ایسے نہیں ملتا “
جیلر کے چہرے پر کئی رنگ آئے اور چلے گئے۔ وہ بوجھل قدموں سے پلٹ گیا۔ اس کے واپس بڑھتے قدم بوجھل ہوتے جا رہے تھے۔ جیلر کو سمجھ نہیں آرہی تھی “انہیں” کیسے جا کر بتائے گا کہ قیدی نے “انہیں “ انکار کردیا ہے۔ غلام حسین نے سیل کی طرف قدم بڑھائے۔ لیکن غلام حسین کے قدم وزنی نہیں تھے۔ اس کا تو بوجھ اتر چکا تھا۔ اس کے بت ٹوٹ چکے تھے۔ اس نے تیزی سے سیل کی سلاخ کو ہاتھ لگایا۔ اس ہاتھ کو عقیدت سے چوما اور تیزی سے اپنے راونڈ پر آگے بڑھ گیا۔ وہ جان گیا تھا یہ ہے غریبوں کا مسیحا۔
اردو

قیدی نمبر 804
غلام حسین وہاں پیدا ہوا جہاں غریب پیدا ہوتے ہیں۔ غریب ہمیشہ غریبوں کے ہاں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بھی عین اسی مقام پر پیدا ہوا۔ امیر بچہ پالتے ہیں غریب اپنی امید پالتے ہیں۔ غلام حسین کے باپ نے بھی اپنے بچے کو امید کر طرح پالا۔ وسائل نہ ہونے کے باجود میٹرک کروا دیا۔ اپنے علاقے کے ہر سیاستدان کی چاپلوسی کی۔ کسی الیکشن سے قبل ایک کی خوشامد کام آگئی اور غلام حسین کو جیل خانہ جات میں نوکری مل گئی۔
اب غلام حسین اپنی امیدوں کو پال رہا ہے۔ انسان غریب ہو اور اوپر سے ایمانداری کا کیڑا بھی ہو تو دوہری مصیبت۔ حالات ایسے شخص کو کبھی بھی سیدھا نہیں ہونے دیتے۔ اسے بھی ہر غریب کی طرح لگتا ہے کہ ایک دن کوئی ایسی حکومت آئے گی جو اس کا سوچے گی۔ وہ اخبار پڑھتا ہے۔ ٹی وی دیکھتا ہے۔ شام کو گلی کی نکر میں واقع دوکان کی سیاسی بیٹھک میں بھی بیٹھتا ہے۔ خاموش رہتا ہے سب کی سنتا رہتا ہے۔
چھ دن پہلے اس کی ڈیوٹی بیرک تبدیل ہوگئی۔ کوئی بہت بڑا شخص قیدی ہو کر جس بیرک میں آرہا تھا وہاں غلام حسین کی ڈیوٹی لگنا تھی۔ راولپنڈی کی اس جیل میں اکثر بڑے لوگ آتے رہتے تھے۔ جس سیاستدان کی جماعت زیر عتاب ہوتی وہ سیاستدان جیل میں آجاتا۔ کچھ عرصہ گزرتا رات کے اندھیروں میں کالی گاڑیوں میں کچھ لوگ آتے ۔ اس سیاستدان سے ملاقاتیں ہوتیں گفتگو ہوتی۔ کچھ ہی عرصے بعد وہ زیر عتاب شخص جیل سے چلا جاتا۔ اسکے مخالف آجاتے اور ملاقاتوں کا وہی سلسلہ پھر شروع ہوجاتا۔
غلام حسین کو لگا کہ شاید اب بھی معمول کی کاروائی ہوگی۔ ایک روز غلام حسین ڈیوٹی پر موجود تھا۔ سرکاری گاڑیاں چیختی چلاتی جیل میں داخل ہوئیں۔ ہر طرف تھرتھلی مچ گئی۔ کالی گاڑیوں والے بھی ایک بڑی تعدا میں آ پہنچے۔ رسمی کاروائی کے بعد “وہ “ بیرک میں داخل ہوا۔ یہ تو “ وہ “ تھا۔ بیرکوں میں زندہ باد کے نعرے لگنا شروع ہوگئے۔ غلام حسین نے اسے دیکھ کر زرا سی تیوریاں چڑھا لیں۔ کیونکہ غلام حسین کے خیال میں “وہ” تو ملک کے تمام مسائل کی جڑ تھا۔وہ تو بدکردار تھا۔
قیدی کو جو نمبر الاٹ ہوا وہ تو کچھ اور تھا۔ لیکن ہر کوئی اسے 804 پکار رہا تھا۔ جب سب معمول کے مطابق ہوا تو جیلر نے غلام حسین اور اس بیرک میں تعینات تمام اہلکاروں کو اپنے دفتر بلایا۔ جلاد صفت جیلر بھیگی بلی بنا بیٹھا تھا۔ کالی گاڑیوں والے لوگ دفتر کی تمام کرسیوں پر قبضہ جمائے ہوئے تھے۔ تمام اہلکاروں کو سختی سے مختصر احکامات دیے گئے۔ جو کہا جائے گا وہ بلکل اسی طرح ہونا چاہیے۔ تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے گھر میں بھی کسی ذکر نہیں کرے گا کہ جہاں تمہاری ڈیوٹی ہے وہاں 804 آیا ہوا ہے۔ کوئی بھی شخص 804 سے کسی قسم کی گفتگو نہیں کرے گا۔ تمہاری اور تمہارے گھر والوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ زرا سی بھی حکم عدولی ہوئی تو نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ غلام حسین شریف ضرور تھا لیکن یہ جانتا تھا کہ کالی گاڑیوں والے واقعی نشان عبرت بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ احکامات سننے کے بعد وہ واپس ڈیوٹی پر چلا گیا۔ 804 کے سیل کے سامنے سے گزرا۔وہ زمین پر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا۔ اسکے ہاتھ میں تسبیح تھی۔ غلام حسین کو ایک کمینی سی خوشی محسوس ہوئی کہ اس ملک کے تمام مسائل کا ذمہ دار بلآخر جیل میں ہے۔ شام سے زرا پہلے غلام حسین کی ڈیوٹی ختم ہوئی تو وہ گھر چلا گیا۔
آج غلام حسین خود کو اہم تصور کررہا تھا۔ آخر کو اسکی ڈیوٹی ملک کے سب سے خطرناک قیدی کے سیل کے باہر لگی تھی۔ وہ آج جلدی سیاسی بیٹھک پر جا پہنچا۔ آہستہ آہستہ تمام لوگ پہنچ گئے۔ آج ہر کوئی اسی قیدی کا ذکر کررہا تھا۔ غلام حسین سب کو چلا چلا کر بتانا چاہتا تھا کہ آج اس کی بات سنی جائے۔ وہ قیدی کس حال میں ہے کیسا ہے غلام حسین سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔ لیکن اسے یہ بھی معلوم تھا کہ کالی گاڑیوں والے لوگوں نے اگر خاموش رہنے کاکہا ہے تو اس کا مطلب خاموشی ہے ورنہ وہ ہمیشہ کےلیے خاموش کردیا جائے گا ۔
رفیق دوکاندار اس سیاسی بیٹھک کا سب سے اہم فرد تھا۔ کیونکہ دوکان، اسکے سامنے پڑی چارپائیاں اور کرسیاں ساتھ پڑا واٹر کولر، سب اسی کی ملکیت تھا۔اسکی گفتگو کسی بھی معاملے میں حرف آخر ہوتی تھی۔ وہ کہنے لگا
“قیدی نشئی ہے۔ ایک ہی رات میں دماغ درست ہوجائے گا۔
یہ ترلے منتیں کرے گا۔چیخے چلائے گا۔ منشیات کی طلب اسے دیوانہ بنا دے گی”
کچھ لوگوں نے تصدیق کی کچھ نے تکرار لیکن غلام حسین خاموش رہا۔ وہ بیتابی سے صبح کا انتظار کرنے لگا کہ جب صبح وہ ڈیوٹی پر جائے گا تو قیدی ادھ موا پڑا ہوگا۔ چیخ چلا رہا ہوگا۔ سلاخوں سے سر ٹکرا رہا ہوگا۔ منہ سے رالیں بہہ رہی ہوں گی۔ غلام حسین نے جیلوں میں منشیات کے عادی بے تحاشا قیدی دیکھے تھے۔ سب پرانی یادیں اسکے دماغ کے پردوں پر چل رہی تھیں۔
1/2
جاری ہے

اردو

@SatoshiBTCss #Egoncoin Blockchain
Public sell coming soon 💪💪💪
English

@EagleNetworkApp #Egoncoin mainnet already live
Now loading up for Cartik Audit completion 💪
English

@AZCoiner_Update Where to buy sidra coin any option available..??
English

#Sidrabank We are very close to Mainnet
What is Your Predict Price for 1 Sidra Coin at Launch?
A. 1 - 10 USD
B. 10 - 100 USD
C. 100 - 1000 USD
D. 1000 - 10000 USD

English

@EagleNetworkApp When public sell of #Egoncoin started..???
English

#Bitcoin - Anticipation for a spot #bitcoinETF .
What are your thoughts ?
#btc price could reach ____ ?
English


