Muhammad yaqoob bhanbhro
1.6K posts

Muhammad yaqoob bhanbhro
@Muhamma51219637
Mirpur Khas, Pakistan Katılım Ocak 2021
1.7K Takip Edilen163 Takipçiler

@JapanSolmeme HXvUWD59eyytCFo7vaQeas58vMCmo8i7Eh7oJVtjk6yu
Eesti
Muhammad yaqoob bhanbhro retweetledi

The InterLink Visa Card Will Officially Launch in the Coming Days
With Version 5.0 expected to be released in the near term, the InterLink Visa Card will be introduced in its initial phase as a virtual card, seamlessly integrated with the ITLX Super Wallet.
What the InterLink Visa Card enables:
-Payments using widely adopted digital assets such as USDT, USDC, and Ethereum
-Acceptance at more than 50 million Visa and Mastercard merchants worldwide
-Seamless usage across 170+ countries for real-world transactions, without concerns about currency exchange
This is only the beginning.
The primary objective is to progressively integrate $ITL and $ITLG into this payment infrastructure, enabling tens of millions of InterLink Visa Cards to transact directly using the ecosystem’s native tokens. This will position $ITL and $ITLG as widely adopted payment currencies within a global, real-world transaction ecosystem.
Digital assets are no longer confined to applications. They are becoming an integral part of the real-world economy.
💳 The InterLink Visa Card will be launching soon. Stay tuned.
#InterLink #ITLG #ITL

English
Muhammad yaqoob bhanbhro retweetledi

Start your crypto story with the @Binance Year in Review and share your highlights! #2025withBinance.
👉 Sign up with my link and get 100 USD rewards! binance.com/year-in-review…
English
Muhammad yaqoob bhanbhro retweetledi

ہندوستان نے پاکستان پر الزام میں لگایا اور سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کیا، یاد رکھیں سندھ طاس معاہدے میں عالمی بینک ثالث ہے اور کوئی ملک یک طرفہ طور پر معاہدے کی بنیاد پر یک طرفہ طور پر اس ٹریٹی کو ختم نہیں کر سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت یک طرفہ طور پر کوئی ملک اس معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا، تم نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی، تم نے عالمی معاہدات کو سبوتاژ کیا لیکن ہم نے تو معاہدے کے تحت تین دریا آپ کو دیئے تھے اور دو اپنے پاس رکھے تھے لیکن ان شاءاللہ اب پانچوں دریا آپ کے ہمارے حوالے ہوں گے اور تم ایک دریا کا پانی بھی نہیں روک سکو گے۔ یہ آبی جارحیت ہے اور ہم نے آپ کو آبی جارحیت کا بھی منہ توڑ جواب دینا ہے، ان شاءاللہ پاکستان آباد اور شاداب رہے گا اور ہندوستان کی کوششیں کہ پاکستان بنجر ہو جائے اس خواہش میں ہندوستان خود بنجر ہو جائے گا۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد پر دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تنازعات کو پرامن طور پر حل کیا جائے گا، تم نے پاکستان پر حملہ کر کے عالمی معاہدات کو سبوتاژ کیا ہے، معاہدات کے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان نے تو کبھی انکار نہیں کیا، آپ نے حملہ کر کے تنازعات کو جنگ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے، تم نے طاقت کے ذریعے پاکستان کو مجبور کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے ہندوستان اپنے اس نیت میں اور اپنے اس ارادے میں مکمل ناکام ہو چکا ہے۔
جنیوا انسانی حقوق کنونشن کی بنیاد پر ساری دنیا اس بات کی پابند ہے کہ وہ شہریوں پر بمبار نہیں کریں گے، شہریوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے، سکولوں کو ہسپتالوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے لیکن اسرائیل نے غزہ میں ہسپتالوں کو نشانہ بنایا، سکولوں کو نشانہ بنایا، پانی کے ذخائر کو نشانہ بنایا، کیمپوں کو نشانہ بنایا، بچوں کو نشانہ بنایا، عورتوں کو نشانہ بنایا، بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا اور ہندوستان نے بھی پاکستان پر حملہ کیا تو ہمارے مساجد اور ہمارے مدارس اور ہمارے ان گھروں میں جہاں پر معصوم بچے اور بچیاں اور ان کی مائیں اور بہنیں رہتی تھی ان کو نشانہ بنایا، ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک اور ہمارے عوام اس کا بدلہ لینا جانتے ہیں۔ ہندوستان نے ہمارے ائربیسز پر حملے کیے راکٹ برسائے ہمارے دفاعی قوت پر جگہ جگہ انہوں نے حملے کیے لیکن گزشتہ رات جب پاکستان نے اس کا جواب دیا اور جواب دے کر ان کے تمام اسلحے کے ذخائر کو تباہ و برباد کر دیا، ان کے ایئرپورٹوں کو تباہ کر دیا، ان کو جہازوں کو اڑنے کے قابل نہیں بنایا اور اسرائیل اور فرانس نے ان کو جو جہاز مہیا کیے تھے، راکٹ مہیا کیے تھے، اسلحہ کا سامان مہیا کیا تھا وہ دھویں کا ایک لہر بن گئی اور ڈھیر ہو گئی اور بے حس ہو گئی اور الحمدللہ پاکستان نے ان کی قوت کے غرور کو تباہ و برباد کر دیا، پاکستان کے ہوابازوں نے بیک وقت ہوا میں اڑ کر اپنے سرحدات کا بھی دفاع کیا، ان کے ٹھکانوں پہ جا کر حملے بھی کیے، کامیابی سے واپس آئے اور جن ممالک نے پاکستان کی مدد کی تھی میں سمجھتا ہوں ہمارے دوستوں نے دوستی کا حق ادا کر دیا ہے اور ان کی امداد اور تعاون نے ہندوستان کی دفاعی قوت کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ اس لئے جمعیت علماء اسلام نے ہر چند کہ ہمارے اختلافات بھی ہیں ہر چند کہ ہمارے تحفظات بھی ہیں ہر چند کہ ہماری ناراضگیاں بھی ہیں لیکن جب ملک کی بقاء کا سوال آئے گا تو سب سے پہلے جمعیت علماء نے آواز دی کہ پوری قوم ایک صف ہے اور آج ہم اپنی اختلافات کو بھول رہے ہیں۔
میں کوئی زیادہ لمبی باتیں نہیں کرنا چاہتا صورتحال آپ کے سامنے ہے لیکن میں اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ عالمی قانون کے تحت اور اقوام متحدہ کے قانون کے تحت پاکستان کو دفاع کا حق حاصل ہے، ہم نے دفاع کیا ہے تو عالمی قانون کے تناظر میں کیا ہے، ہم نے جارحیت نہیں کی تمہاری جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور آئندہ بھی ہمیں اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ ہم پرامن ذرائع سے تنازعات کا حل چاہتے ہیں لیکن اگر آپ طاقت استعمال کریں گے تو پاکستان کی طاقت کا اندازہ تم نے لگایا ہے، تم کل ایک راکٹ ماروگے ہم سو راکٹ ماریں گے اور تمہاری قوت کو برباد کریں گے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان مدظلہ
اردو










