The News Den
205 posts


District Fire Officer Hyderabad, Sri T. Venkanna, visited Ganesh Pandals at Charminar, Gulzar Houz, and Kali Kaman to spread fire safety awareness. Drawing from his experience in major fire rescues, he advised organizers on safety norms, including extinguishers, clear exits, electrical checks, and emergency preparedness, ensuring safer Ganesh Chaturthi celebrations.
English

Commissioner of Police, Hyderabad City, Mr. C.V. Anand, after inspecting the route of the central Ganesh immersion procession on Wednesday along with the Inter-Departmental Coordination Committee officials, said that all departments had completed their preparations and expressed hope that the festival would conclude peacefully.
#hyderabadpolice #telangana
English

Following the demolition of the historic graveyard in Balapur, Congress Senior Leader Osman Mohammed Khan personally visited the site to assess the situation. The matter was considered with the cooperation and willingness of the people present. During his address, he appealed to the people of Telangana to collectively safeguard masjids, graveyards, and even ashur khanas, emphasizing the importance of preserving these sacred places as part of the community’s heritage and responsibility.
#osmanmohammedkhan #balapur #telangana
English

Tension prevails near Chai Chaska, Tolichowki,Shaikpet Road... According to the bypassers and the locals have said Some miscreants allegedly entered one tea hotel namely chai chaska and started attacking them and asked them to Chant 'JSR Slogans' when they refused they have put shutter down and called them outsiders,after dialing 100 police reached the spot. #Hyderabad #Tolichowki #Shaikpet #ChaiChaska #jsr
English

Hundreds of BRS party workers reached near the BRKR Bhavan, as BRS chief and former CM KCR appeared before the Justice PC Ghose Commission, probing.
#brs #TelanganaPolitics #KCR #hyderabad #BRKRBhavan
English

Two Minor Children Rescued by TG Fire Department 🚒👏
A big shoutout to the Telangana Fire Department team, especially Leading Fireman Mohammed Shabbir from Chandrayangutta Fire Station, for their swift and heroic response!
They successfully rescued two young children—Abdul Rahman (7) and Mohammed Azam (3)—who were accidentally locked inside a room. Despite efforts from their parents and neighbors, the door couldn’t be opened. Thankfully, the fire team arrived just in time and safely rescued the children.
Rescue Location:
House No: 18-1-356/52
Behind Nure Alai Masjid,
Talkunta, Chandrayangutta
#firerescue #hyderabad #Chandrayangutta #news #rescueteam
English

Huge loss in Fire Accident.
Dead Bodies kept in
Yashoda Malakpet-8
Apollo Hyderguda-5
Apollo DRDL -2
Osmania General Hospital-1
Care Nampally-1
Total -17
Needs further corroboration.
#FireAccident #charminar #hospital #hyderabad
English

لوک سبھا کے رکن اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم وجود گہرے تاریخی تعلقات کو پیشِ نظر رکھے۔آئی ایم) کے صدر جناب اسدالدین اویسی نے ہفتہ کے روز ترکی کی جانب سے پاکستان کی حمایت پر شدید تنقید کرتے ہوئے انقرہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے موقف پر نظرِثانی کرے کیونکہ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔
جناب اویسی نے ترکی کو خبردار کیا کہ وہ اندھا دھند پاکستان کی حمایت سے گریز کرے اور اس سے قبل کہ وہ کوئی فیصلہ کرے، بھارت اور ترکی کے درمیان م
#asaduddinowaisi #AIMIM #news #Hyderabad #loksabha
اردو

AIMIM Party President Asaduddin Owaisi and his Brother Burhanuddin Owaisi & other MLA’s Paid Floral Tribute At The Grave of Late Abdul Wahed Owaisi Sahab on 50th Death Anniversary today.
#asaduddinowaisi #aimim #newsden #hyderabad #telangana

English

پریس نوٹ
محمد عقیل احمد دانش کو اُردو میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری
ایڈشنل کنٹرولر آف ایگزامینشن، عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد کی اطلاع کے بموجب محمد عقیل احمد دانش کو اُردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کا مستحق قرار دیا گیاہے۔ انہوں نے اُردو میں اپنا تحقیقی مقالہ بعنوان الکٹرانک میڈیا میں اُردو زبان اور ادب کااستعمال، ڈاکٹر عسکری صفدر ،سابق پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن، حسینی علم،حیدرآباد کے زیر نگرانی داخل کیا۔ محمد عقیل احمد دانش کا تعلق ضلع ورنگل کےمحلہ شیرپورہ سےہے اور وہ مرحوم محمد غوث صاحب، محکمہ جنگلات اور محترمہ قمر سلطانہ مرحومہ مغفورہ کے فرزند ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ خیر العلوم اور اسلامیہ ہائی اسکول سے حاصل کی، انہوں نے اس تحقیقی کام میں پروفیسر فاطمہ بیگم پروین، سابق وائس پرنسپل آرٹس کالج، عثمانیہ یونیورسٹی کی رہنمائی سے بھی استفادہ حاصل کیا تھا۔ تحقیقی کام کے دوران تعاون کرنے والے اساتذہ اور اداروں بالخصوص تلنگانہ اسٹیٹ آرکائیوز اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذمہ داروں سے انہوں نے اظہار تشکر کیا ہے ۔
#news #Hyderabad #telangana

اردو

پولیس ہے تو پھر گاؤ رکھشکوں کی کیا ضرورت ہے ـ راستوں پر چوکسی لیکن جانوروں کی فروختگی کے مراکز پرقانون کی خاموشی کیوں ؟
عید سے قبل مویشیوں کے تاجرین پر حملے معمول ' ہرسال فرقہ پرستوں کو کھلی چھوٹ ـ پولیس کے رویہ پر مولانا جعفر پاشاہ کا شدید احتجاج
حیدرآباد 13- مئی ( پریس نوٹ) امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ وآندھراپردیش حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے عیدالاضحیٰ سے عین قبل پھر ایک باربڑے جانوروں کے تاجرین پر دہشت گردانہ وقاتلانہ حملوں کے واقعات پر گہری تشویش اور سخت احتجاج کیا ہے مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش سے لیکر ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد سے اب تک بی جے پی کو ان ریاستوں میں برسر اقتدار آنے اور حکومت کرنے کا موقع ہی نہیں ملا غیر بی جے پی حکومتوں کے اقتدار میں آنے کے باوجود متحد ہ آندھراپردیش ہو یا یھرعلیحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد سے اب تک اقلیتیں بالخصوص مسلمان زندگی کے مختلف شعبوں میں خود حکومتوں کے متعصبانہ رویہ اور پھر فرقہ پرستوں کے نشانہ پر ہیں مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ چاردن قبل ناراپلی روڈ( میڈی پلی اسٹیشن حدود )پر پولیس کی موجودگی میں نام نہاد گاؤرکھشکوں نے مویشیوں کے تاجرین پر رات دیر گئے حملہ کردیارچہ کنڈہ کمشنریٹ کے حدود میں آنے والے میڈی پلی پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آۓ اس بد بختانہ حملہ اور غنڈہ گردی کے واقعہ میں ملوث شرپسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف پولیس نے کیا کاروائی کی گئی ہے' کتنے شرپسندوں کو گرفتارکیا گیا ہے ' ابھی تک عوام کو یہ بات نہیں بتائی گئی ہے ہرسال بقر عیدسے قبل فرقہ پرستوں کو کُھلی چھوٹ دیتے ہوۓ پُرامن ماحول کو برباد کیا جارہا ہے جب پولیس کا محکمہ موجود ہےتو پھر گاؤرکھشک کے نام غنڈہ گردی کرنے والوں کو کیوں اور کس لئے برداشت کیا جارہاہے مولانا جعفر پاشاہ نے ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر سے جو وزارت داخلہ کا قلمدان بھی اپنے پاس رکھتے ہیں ' پوچھا کہ " نظم ونسق کی برقراری کے لئیے پولیس ہے تو پھر گاؤ رکھشکوں کی کیا ضرورت ہے? فرقہ پرستوں اور دہشت گردوں کے مختلف گروپس اپنے آپ کو گاؤرکھشک قرار دیکر امن کوغارت کرتے ہوۓ قریش برادری اور جانور خریدنے والے دیگر لوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے مولانا نے کہا کہ اب تک جتنے بھی جانور پکڑے گئے ہیں ان میں وہ جانور نہیں نکلے جن کی فروخت پر امتناع ہے مولانا نے کہا کہ یہ پولیس کی کس قدر مکاری اور شرمناک حرکت ہے کہ جانور جہاًں جانور فروخت کئیے جاتے ہیں اس میں کونسے جانور ہیں ان کی صحت کیسی ہے اس کی تو فروختگی کے مراکزپر جانچ نہیں کی جاتی نہ وہاں پولیس دھاواکرتی ہے اور نہ ہی یہ فرقہ پرست اور دہشت گردجانوروں کی فروختگی والے مقامات پر جاتے ہیں بلکہ جب لوگ جانور خرید کر لے جارہے ہوتے ہیں پولیس اور یہ دہشت گرد راستہ روک کر اعتراضات کرتے اور ڈاکٹر کا صداقتنامہ بتانے کو کہتے ہیں یہ کھلی جانبداری' بددیانتی اور بدمعاشی نہیں تو پھر اور کیا ہوسکتی یے مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ عین عید سے قبل یا اور دیگرمواقع پرجانوروں کو راستوں میں روکنے اور چیک کرنے کے نام پر حکومت کی جانب سے جگہ جگہ چیک پوسٹ بناۓ جارہے ہیں تو اس سلسلہ میں کہنا یہ ہے کہ جانوروں کی فروختگی کے مراکز پر ہی پولیس اپنی چیکنگ کا کام کیوں نہیں کرلیتی جانور فروخت کرنے والوں کو ہی پابند کردیا جاۓ کہ وہ متعلقہ محکمہ اور ڈاکٹرس کی تصدیق کےبعد ہی جانور فروخت کریں اور اگرایسا نہ کرنے والوں کو قانون کے مطابق سزاء کی وارننگ دی جائے لیکن جانور بیچنے والوں کیخلاف ایسا صحیح اور بروقت قدم اس لئے نہیں کیا جاتا کیونکہ شاید جانوربیچنے والوں کا زیادہ تر تعلق اکثریتی طبقہ سے ہوتا ہے مولانا نے بڑے جانوروں کی خریداری کرنےوالوں سے خواہش کی کہ وہ شہرسے دور جاکر خریداری کرنے کے بجاۓ بیوپاریوں سے کہیں کہ وہ جانوروں کو لاکر ہمیں ہمارے مقام پردیں عارضی طورپر یا صرف عید کے موقع سے ہی کاروبارکرنے والے ناتجربہ کار بیوپاریوں کی جلد بازی اور دور جاکر جانور خرید کر لانے کی وجہ سے بھی مستقل کاروبار کرنے والے تاجرین کو راستوں میں شدید تکالیف اٹھانی پڑرہی ہے " گاؤرکھشک " کے نام سے غنڈہ گردی کرنے والے عناصر پولیس کی مدد سے پولیس کی موجودگی میں تاجرین کو مارپیٹ کررہے ہیں' جانوروں کو لوٹ لیا جارہا ہے اور معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا جارہا ہے مولانا جعفر پاشاہ نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے حکومت بالخصوص چیف منسٹر سے کہا کہ وہ قانون پر اپنی گرفت کو مضبوط کریں صرف حکومتوں کی تبدیلی سے عوام خوش نہیں ہوسکتے بلکہ فرقہ پرستوں کا ساتھ دینے والے بعض پولیس عہدیداروں پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے مولانا نے کہا کہ معلوم ہواہے کہ پولیس نے فرقہ پرستوں کو چھوٹ دیتے ہوۓ انہیں " گاؤ رکھشک " نام سے شناختی کارڈ بھی جاری کئیے ہیں اگر یہ سچ ہے تو پولیس کے تمام اعلیٰ اوردیگر تمام عہدیداروں کو طلب کرتے ہوۓ یہ معلوم کیا جاۓ کہ اس طرح کے غیر ضروری وغیردستوری کارڈس جاری کرنے کا کس نے کس کو اختیار دیا ہے مولانا جعفر پاشاہ نے چیف منسٹر کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل پولیس ' تمام کمشنران واسسٹنٹ کمشنران پولیس سے خواہش کی کہ وہ ان تمام باتوں کا فوری نوٹ لیں اب چونکہ عیدالآضحیٰ کو تین ہفتے سے بھی کچھ کم وقت باقی رہ گیا ہے اس لئے کُھلے عام ہونے والی غنڈہ گردی اور دہشت پسندی کو روکنے اور جانورخرید کر اپنے اپنے مقامات کو جانے والے پُرامن شہریوں اور بیوپاریوں کاتحفظ بہت ضروری ہے
#news #urdu #hyderabad

اردو

"MISS WORLD 2025 CONTESTANTS TO BE WELCOMED WITH"HADRAMI MARFA" "NAUBAT" AT HYDERABAD'S "CHARMINAR" FOR HERITAGE WALK" TUESDAY EVENING
A 12 MEMBERS TROUPE WILL PLAY MARFA DRUMS AT CHARMINAR TO WELCOME THE DELEGATES WHEN THEY ARRIVE IN THE HYDERABAD'S HISTORICAL OLD CITY, NAUBAT WILL BEAT THE DRUMS AT JULLU KHANA ENTRANCE BOTH THE GROUPS WERE ROPED IN THE SHOWCASE THE RICH CULTURE OF HYDERABAD
THE HERITAGE WALK START AT 05:00PM LATER IN THE EVENING CULMINATE AT "CHOWMAHALLA PALACE" THE GUESTS WILL DINE IN THE ROYAL PALACE WHILE THE MENU WAS NOT RELEASED SO FAR IT IS LEARNT THEY WILL SERVED BIRYANI,MICHI KA SALAN,QUBANI KA MEETHA,DUM KA MURGH, KEBABS AMONG OTHER CUISINES !
English

حیدرآباد کے شمس آباد میں واقع کراچی بیکری کی ایک شاخ پر بی جے پی کارکنوں کا مبینہ حملہ!
پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے ایک دن بعد حیدرآباد کے شمس آباد علاقے میں واقع مشہور کراچی بیکری کی ایک شاخ پر مقامی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حامیوں نے حملہ کیا۔ حملہ آور ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگاتے ہوئے بیکری کے سائن بورڈ کو نقصان پہنچاتے نظر آئے۔ اس واقعے کے دوران کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
موصولہ ویڈیو مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی نوجوان جنہوں نے زعفرانی رنگ کے اسکارف پہن رکھے تھے اور بھارتی پرچم اٹھا رکھا تھا، ’کراچی‘ نامی بورڈ پر لاٹھیاں برساتے ہوئے ’پاکستان مردہ باد‘ اور ’جے جوان‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ ان نعروں کا تعلق اپریل 22 کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد بھارتی فوج کی کارروائی ’آپریشن سندور‘ سے جوڑا جا رہا ہے۔
راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انسپکٹر پولیس کے. بال راجو نے ’دی نیوز منٹ‘ کو بتایا کہ حملہ آور بی جے پی سے وابستہ تھے اور پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کو روکا۔ ان کے مطابق حملے کے خلاف بھارتیہ نیایہ سنہیتا (بی این ایس) کی دفعہ 126 (غلط طریقے سے روکنے) اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اس واقعے سے چند روز قبل کراچی بیکری کے مالکان راجیش رمنانی اور ہریش رمنانی نے چیف منسٹرمسٹر ریونت ریڈی اور ڈائریکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر جتیندر سے مدد اور رہنمائی کی اپیل کی تھی۔ واضح رہے کہ کراچی بیکری کو ماضی میں بھی اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔
ایک حالیہ بیان میں بیکری انتظامیہ نے انسٹاگرام پر لکھا ’’ہم فخر کے ساتھ بھارتی ہیں۔ ہمارا نام ہماری تاریخ کا حصہ ہے‘ شہریت کا نہیں‘‘
کراچی بیکری کو سندھ سے ہجرت کر کے آنےوالے ہندو تاجر کھنچند رمنانی نے 1953ء میں قائم کیا تھا جو راجیش اور ہریش کے دادا تھے۔ بیکری اپنے بسکٹ اور بیکری مصنوعات کے لیے ملک گیر شہرت رکھتی ہے۔
پہلگام حملے کے بعد حیدرآباد میں دائیں بازو کے گروہوں نے مختلف کراچی بیکری شاخوں کے بورڈز پر بھارتی پرچم لگانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ وشاکھاپٹنم میں بھی دائیں بازو کے ایک گروہ نے 6 مئی کو بیکری کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے ’کراچی‘ نام ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
#karachibakery #shamshabad #bjp #UrduNews
اردو

Chief Minister Sri A. Revanth Reddy participates in the National Solidarity Rally against Terrorism from Secretariat to Indira Gandhi Statue.
#Telangana #Congress #Secretariat #tankbundhyderabad
English

Grand Heritage Walk on Sunday evening at Charminar-Laad Bazaar. Over 120 Miss World delegates will participate.
#MissWorld #charminar #LadBazar #heritage #walk #hyderabad

English

Chief Minister Revanth Reddy affirmed that the 4 crore citizens of Telangana are united with the Union of India in the fight against terrorism, alongside the support of 100 nations for this endeavour. AIMIM President Barrister Asaduddin Owaisi participated in the large-scale protest at People's Plaza on Necklace Road.
#news #AsaduddinOwaisi #Telangana #RevanthReddy #hyderabad
English
