
PTI Sindh Official
46.6K posts

PTI Sindh Official
@PTISindhOffice
The only Official Twitter account of PTI Sindh. انصاف, انسانیت, خودداری













ایک بار عمران خان سے ملنے زمان پارک جانا ہوا وہاں عمران خان کے پاس لان میں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اسکے سامنے چھوٹے سے ٹیبل پر خلاف توقع چائے کا ایک کپ موجود تھا اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ شخص خان صاحب کا کافی قریبی تھا وہ شخص کسی بات پر عمران خان کو مجبور کررہا تھا کہ وہ کسی کو ایک فون کریں مگر عمران خان بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ میرے فون کرنے سے کچھ نہیں ہوگا اگر کام ہونا ہوا تو ویسے ہی ہوجائے گا تم وہاں جاکر کوشش تو کرو تو وہ شخص کہنےلگا کہ میں وہاں گیا تھا مگر انہوں نے انکار کردیا اسی لیے آپکے پاس آیا ہوں کہ آپ ایک فون کردیں گے تو میرا کام ہوجائے گا بالاآخر عمران خان نے مجبور ہوتے ہوئے کسی کو فون ملایا اور فون کا لاؤڈ اسپیکر آن کردیا، دوسری جانب سے کال اٹینڈ ہونے پر عمران خان نے کہا کہ فیصل میرے ایک جاننے والے کا عزیز کینسر میں مبتلا ہے اور وہ مریض کو لیکر شوکت خانم بھی لے کر آئے تھے مگر اسکی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد تم نے اس مریض کو داخل کرنے سے انکار کردیا دوسری جانب سے شوکت خانم ہسپتال کے سی ای او فیصل سلطان نے کہا کہ خان صاب اگر رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد مریض کو ایڈمٹ نہیں کیاگیا تو اسکا مطلب ہے کہ کینسر کا یہ مریض بیماری کی اس اسٹیج پر ہوگا جہاں اب اسکا علاج شوکت خانم سمیت کہیں بھی ممکن نہیں ہوگا اس پر عمران خان نے کہا کہ جن کا یہ مریض ہے وہ میرے پاس بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ شوکت خانم کے ریگولر ڈونر ( چندہ دینے والے) ہیں اور ہر سال ڈونیشن دیتے ہیں کیا ہم انکے لیے کچھ کرسکتے ہیں سی ای او فیصل سلطان نے کہا کہ خان صاب یہ پالیسی آپ ہی کی بنائی ہوئی ہے کہ ہم نے کسی کے کپڑے یا رنگ دیکھ کر علاج نہیں کرنا بلکہ ہر اس شخص کی جانی بچانی ہے جسکا علاج ممکن ہو تو اس لیے میں تو اب معذرت ہی کروں گا البتہ آپ چاہیں تو یہ پالیسی تبدیل کرکے انکے مریض کو داخل کرسکتے ہیں اور مزید جتنے ڈونرز ہیں انکے لیے بھی کوٹا رکھ دیتے ہیں تاکہ انکے مریض بھی فائدہ اٹھائیں، یہ باتیں سن کرعمران خان کچھ مضطرب ہوئے اور اس سے پہلے کہ کچھ کہتے کہ اچانک وہ شخص اپنی جگہ سے اُٹھ کر خان صاب کی جانب آیا اور کہا خان صاب فون بند کردیں، عمران خان نے فون بند کردیا تو اس شخص کے چہرے پر انکار سننے کے باوجود ایک جوش تھا اسکی آنکھوں میں ہلکی سی نمی محسوس ہورہی تھی مگر وہ جب بولا تو وہاں موجود ہر شخص حیران رہ گیا، اس نے کہا کہ خان صاب جب میں آپکے پاس آرہا تھا کہ میرے دل ایک یقین تھا کہ آپ میری بات نہیں ٹال پائیں گے کیونکہ آپ مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں اور میں شوکت خانم ہسپتال کو باقاعدگی سے عطیہ بھی دیتا ہوں اسکے علاوہ میں کبھی کبھی سوچا کرتا تھا کہ شوکت خانم کو جو پیسے دیتا ہوں کیا وہ اسی طرح خرچ ہوتے ہوں گے جیسے بتایا جاتا ہے آج آپکے اور شوکت خانم ہسپتال کے منتظم کے درمیان ہونی والی گفتگو سن کر میرا دل اطمینان سے بھر گیا ہے کہ کس قدر شفافیت کے ساتھ شوکت خانم ہسپتال کا نظام چلایا جارہا ہے جہاں کسی کی سفارش کی بجائے صرف مریض کی بیماری دیکھی جاتی ہے اس نے یہ بھی کہا کہ خان صاب مجھے شرمندگی بھی محسوس ہورہی ہے کہ میں آپ کے پاس اس کام کے لیے سفارش کرنے کیوں آگیا اور آپکو میرٹ سے ہٹ کر کام کرنے پر مجبور کیا







