Sabitlenmiş Tweet
PTI Promotion only
17.3K posts

PTI Promotion only
@PTI_Promo6
Proud Pakistani🇵🇰 Leader Imran Khan ✌🏻
USA Katılım Haziran 2022
6.9K Takip Edilen56.2K Takipçiler
PTI Promotion only retweetledi

Former Prime Minister Imran Khan’s Important Conversation with Lawyers:
“The efforts of the party’s negotiation committee are commendable. To ensure that the negotiation process is meaningful, it is essential for me to engage with the negotiation team I have nominated to gain a clear understanding of the issues at hand. I have appointed Sahibzada Hamid Raza as the spokesperson for PTI’s negotiation process.
If the government wants productive negotiations, we have two demands:
1) The release of under-trial political prisoners.
2) Formation of a judicial commission, comprising the most senior judges, to investigate the events of May 9 and November 26.
If these demands are met, we will postpone our civil disobedience movement. However, I fear that the government will attempt to sideline our demand for investigations into the events of May 9 and November 26. We will not allow this to happen.
I reject the unconstitutional decisions of the military courts. These decisions are tarnishing Pakistan’s international reputation, and such inhumane actions could subject the country to economic sanctions. Such decisions are a slap in the face of the so-called ‘constitutional bench’.
Even the judiciary has now admitted that political engineering is taking place in the country. This clearly means that PTI is being crushed, which, in turn, has severely undermined democracy, judicial independence, and the rule of law.
No country can develop without external and internal investment, and investment cannot come without the rule of law. People are transferring their capital out of Pakistan because neither the judiciary is independent here nor is there any respect for the law. After the 26th constitutional amendment, the judiciary’s hands have been completely tied. The establishment of the constitutional bench and its decisions have undermined the dignity of the Supreme Court.”
English
PTI Promotion only retweetledi
PTI Promotion only retweetledi

عمران خان کا سول نافرمانی کی تحریک کے حوالے سے اہم ترین پیغام !!
میں نے حکومت سے دو مطالبات کیے تھے
1) انڈر ٹرائل سیاسی قیدیوں کی رہائی
2 ) 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام
یہ دونوں مطالبات جائز ہیں اور اگر حکومت ان پر اتوار کے روز تک کوئی عمل درآمد نہیں کرتی تو سول نافرمانی کی تحریک کے پہلے مرحلے "ترسیلات زر کے بائیکاٹ " کا آغاز کر دیا جائے گا ۔ ہم اس سلسلے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کریں گے کہ پاکستان کے حالات آپ کے سامنے ہیں، ملک میں جمہوریت ، عدلیہ اور میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے اور ہر طرف جبر و فسطائیت کا دور جاری ہے لہذا ترسیلات زر کے بائیکاٹ کا آغاز کریں ۔
26 نومبر اور 8 فروری کو جس طرح تحریک انصاف کے کارکنان نے ہمت و جوانمردی کے ساتھ جبر کا مقابلہ کیا اس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ 1971 میں عوامی لیگ کے بعد تحریک انصاف دوسری جماعت ہے جسے اس قسم کے ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن اسکے باوجود انتخابات میں تاریخی جیت حاصل کر کے اور 26 نومبر تک مسلسل جدوجہد جاری رکھ کر تحریک انصاف نے تاریخ رقم کی ہے-
26 نومبر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اس دن نہتے لوگوں پر سنائپرز کے ذریعے فائرنگ کی گئی ، جوان لوگوں کو زخمی اور شہید کیا گیا ، کئی افراد تین ہفتے سے غائب ہیں ۔ گمشدہ افراد کو ڈھونڈنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ حکومت جواب دے کہ اتنے افراد کہاں غائب ہیں؟ ہمارے لوگوں نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ میں بیرسٹر گوہر سمیت اپنی پارلیمانی پارٹی کو ہدایت دیتا ہوں کہ ان افراد کے لیے اسمبلی میں آواز بلند کریں یہ ممکن نہیں کہ ملک میں خون کی ہولی کھیلی جائے اور پارلیمان معمول کے مطابق چلتی رہے۔
جب تک میں زندہ ہوں ان افراد کے قتل عام کی تحقیقات کے لیے جدوجہد کروں گا اور ان کو انصاف دلوائے بغیر چین نہیں لوں گا ۔جو لوگ شہید ہوئے انکے لواحقین صدمے میں ہیں ۔ میں خود فائرنگ کی خبر سن کر شدید اذیت کا شکار رہا اور نیند کی گولی کھانے کے باوجود نہتی عوام پر تشدد کے کرب سے سو نہیں سکا۔ جن لوگوں نے ایک کھڑکی، پتہ تک نہیں توڑا ان پر سیدھے فائر مارے گئے۔۔۔ ہمارے لوگ بالکل پر امن تھے قومی ترانہ پڑھتے ، فوجیوں کو گلے لگانے والے لوگوں پر فائرنگ کی گئی اور انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا۔ ایسا یحیی خان نے 25 مارچ 1971 کو بنگالی عوام کے ساتھ کیا تھا اسکے علاوہ ملک میں کسی پارٹی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا ۔ میں جب تک زندہ ہوں 26 نومبر کو بھولنے نہیں دوں گا-
تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کرنے کی پیشکش کا مذاق اڑایا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ ہم نے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں ۔ مذاکرات کی پیشکش اور سول نافرمانی کی تحریک موخر کرنے کی بات ملک کے وسیع تر مفاد میں کی تھی۔ حکومت اگر اس میں دلچسپی نہیں رکھتی تو ہم نے بھی مذاکرات کے لیے حکومت کی کنپٹی پر بندوق نہیں رکھ۔ ہماری مذاکرات کی پیشکش کو ہماری کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے۔ اب بھی اگر حکومت چاہتی ہے کہ سول نافرمانی کی تحریک شروع نہ ہو تو ہمارے دونوں مطالبات پر ہم سے رابطہ کیا جائے یا ہمیں قائل کیا جائے کہ یہ مطالبات غیر آئینی ہیں اور ان پر بات ممکن نہیں۔
جیل میں ملاقات کے لیے مذاکراتی ٹیم کو دعوت دی ہے اور ان کے نام دئیے ہیں اب دیکھنا یہ بھی ہے کہ حکومت انکو ملاقات کی اجازت دیتی ہے یا نہیں۔
حکومت بار بار جو الزام لگاتی ہے کہ سول نافرمانی کی تحریک میں ملک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو یہ یاد رکھیں یہ ملک کو نہیں اس بوگس پارلیمنٹ، بوگس انتخابات کے نتیجے میں بنی اسمبلی اور سینٹ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ حکومت لوگوں کے ووٹوں سے نہیں بلکہ سازش سے بنی ہے۔ جنرل باجوہ نے ہماری منتخب حکومت کے خلاف سازش کی اور پاکستان کو بیالیس ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ اس حکومت نے آئی ٹی انڈسٹری اور دیگر شعبوں کو بے انتہا نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے عوام اس حکومت سے بد دل ہیں ۔ معیشت تباہ حال ہے اور کاروباری طبقہ اور سرمایہ دار اپنا پیسہ بیرون ملک ٹرانسفر کر رہے ہیں”
اردو
PTI Promotion only retweetledi

سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
“تحریک انصاف نے ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق جدوجہد کی ہے مگر ملک پر مسلط مافیا ہمیشہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے- 9 مئی اور 26 نومبر کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام اور انڈر ٹرائل اسیران کی رہائی ہمارے جائز مطالبات ہیں-
میں سول نافرمانی کی تحریک چند دنوں کے لیے مؤخر کر رہا ہوں، اس دوران تحریک کے خدوخال اور ٹائم لائن کا فیصلہ کروں گا-
سات ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہمارےلیے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا ضروری ہو چکا ہے:
۱۔ 2023 میں لندن پلان کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے الیکشن آئین کے برخلاف 90 دن کے اندر نہیں کرائے گئے۔ کیونکہ الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کو ختم کرنا مقصد تھا۔
۲- نو مئی سے پہلے ہی مجھ پر ایک سو چالیس سے ذائد مقدمات بنا دئیے گئے تھے۔ رینجرز نے مجھے اسلام آباد سے اغواء کیا جس کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا۔ نو مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کے تحت ہمارے لوگوں کو گرفتار کرنا مقصد تھا۔ دس ہزار افراد کو گرفتار کر کے جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ہمارے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں پہ تشدد کیا گیا ان کے گھروں کو توڑا گیا۔ ان کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا۔ ان کو عدالتوں سے ضمانت ملتے ہی کسی نئے جھوٹے پرچے میں گرفتار کر لیا جاتا۔ میرے اغوا سے لے کر کارکنان پہ تشدد، گرفتاریاں سب کچھ غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔
اس ظلم کے خلاف سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کی لیکن سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی ان بدترین خلاف ورزیوں کا نوٹس تک نہ لیا۔ قاضی فائز عیسیٰ حکومت کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ 1971 کے بعد کبھی کسی پارٹی پر اس طرح کا ریاستی جبر نہیں کیا گیا۔
۳- تمام غیر قانونی و غیر جمہوری حربوں کے بعد ان کو غلط فہمی تھی کہ 8 فروری کو تحریک انصاف الیکشنز نہیں جیت سکتی۔ سکندر سلطان راجہ اور قاضی فائز عیسیٰ نے مل کے پارٹی نشان چھینا جو پارٹی کو بین کرنے کے مترادف تھا۔ ہمارے امیدواروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تین تین امیدواروں کو زبردستی الیکشن سے دستبردار کرایا گیا۔
۴-ان کو انجینئرنگ کے ذریعے الیکشن جیتنے کا اس قدر یقین تھا کہ نواز شریف اپنی وکٹری سپیچ بھی کرنے کو تیار تھا لیکن تقریر سے پہلے ان کو پتہ چلا کہ تحریکِ انصاف الیکشن جیت گئی ہے۔ پھر انہوں نے فارم-47 کے زریعے الیکشن فراڈ کیا۔ کمشنر راولپنڈی نے اس فراڈ کو کنفرم کیا اور گواہی دی۔ لیکن اس پر بھی نظام انصاف خاموش رہا اور کوئی نوٹس نہ لیا گیا۔
۵۔ اس رجیم چینج کے بعد کے ڈھائی سالوں میں یوں تو انصاف کے نظام پر قبضے کے لیے ہر جابرانہ اور غیر اخلاقی حربہ استعمال کیا گیا لیکن چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کی آزادی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا گیا۔ اپنی مرضی کے جج لگانے کے لیے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ اس ترمیم کی منظوری کے لیے جو حربے استعمال کئے گئے وہ بھی ایک مضحکہ خیز داستان ہے، لیکن اس سارے معاملے پر بھی نہ عدلیہ نے کوئی نوٹس لیا نہ ریاست کا چوتھا ستون سمجھے جانے والے میڈیا میں اس کےخلاف آواز بلندکرنے کی اخلاقی جرات تھی۔
۶-سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے فیصلے کے باوجود تحریکِ انصاف کو آج تک مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں۔ یہ نہ صرف توہین عدالت ہے بلکہ عوامی فیصلے کی توہین اور جمہوریت پر شب خون بھی ہے۔
۷۔ 26 نومبر کو ہمارے پرامن اور نہتے سیاسی کارکنان پہ گولیاں برسائی گئیں۔ ہمارے کارکنان مکمل طور پہ پر امن تھے انہوں نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ ان کا مطالبہ آئین اور جمہوریت کی بحالی تھا- نہ تو لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال تھی نہ ہی کوئی اور پر تشدد کاروائی ہوئی لیکن اسکے باوجود ہمارے لوگ شہید کئے گئے۔ 12 لوگ مغرب سے پہلے شہید کئے گئے اور باقیوں کو رات بجلی بند کر کے گولیاں ماری گئیں۔
ان حالات میں جب پاکستانیوں سے تمام آئینی حقوق چھین لیے گئے ہیں، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے، پرامن احتجاج کا حق چھین لیا گیا ہے، قانون اور آئین کی بنیادیں ہلا دی گئی ہیں، اپنے ہی شہریوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں، اداروں کو عوام کے مقابلے میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا قوم کی مجبوری بن چکی ہے-
اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈران کو جیل میں ملاقات کے لئے ویلکم کرتا ہوں۔ پر مجھے اس حکومت سے امید نہیں ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈران کو مجھ سے ملاقات کی اجازت دیں گے۔ کیونکہ انہوں نے میری پارٹی کے لوگوں سے بھی تین مہینے سے میری ملاقات نہیں کروائی-“
اردو
PTI Promotion only retweetledi

زیر زمین کال کوٹھڑیاں اور اُن پر لگے کوڈز: دمشق میں ’انسانی مذبح خانہ‘ قرار دی گئی بدنامِ زمانہ صیدنایا جیل سے سامنے آنے والی کہانیاں
وہ مناظر کہ جب شامی شہری اپنے رشتہ داروں کی تلاش میں بدنام زمانہ صیدنایا جیل پہنچے
4 سال کا معصوم بچہ بھی جیل میں قید تھا
اگر اسد کی حکومت ختم نہ ہوتی تو ہم زندہ نہ ہوتے۔
یہاں دل دہلادینے والے حقائق ہیں 🧵


اردو
PTI Promotion only retweetledi

کرم ایجنسی کے گاؤں “بگن” سے ایسی دردناک ویڈیوز
موصول ہو رہی ہیں کہ کم از کم مجھ میں وہ اپلوڈ
کرنے کی ہمت نہیں ہے۔
زینبیون کے دہشگردوں نے اہلسنت کے ساتھ
وہی کچھ کیا ہے جو کفار مکہ نے احد میں
مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا
جی بالکل باقاعدہ لاشوں کا ”مثلہ“ کیا گیا ہے۔
ٹانگ ، ناک ، کان کاٹے گئے ہیں۔
بیان کرنا مشکل ہے۔
سوال وہی ہے کہ اتنی درندگی کا مظاہرہ ؟
یہ لوگ کون ہیں؟
انکے پیچھے کون ہے؟
انہیں کھلی چھوٹ کیوں ہے؟
ریاست کہاں ہے؟
سیکیورٹی ادارے کہاں ہیں؟
اردو

@SaifKhOfficial تیز آواز میں تقریر کرلیتا ہے۔
مختصراً گفتار کا غازی ہے۔
اردو
PTI Promotion only retweetledi

پاکستان میں اگر کسی پارٹی کے ساتھ اس وقت سب سے زیادہ مزاحمتی اور دلیری کیساتھ مقابلہ کرنے والے کارکن موجود ہے تو وہ صرف تحریک انصاف ہے۔
پچھلے دو سالوں میں تحریک انصاف کے کارکن نے جتنا جبر، ظلم فرعونیت و بربریت کا مظاہرہ عملی طور پراغوا، تشدد، شیلنگ، ڈنڈے اور چادر و چاردیواری کے تقدس کو پامال ہونے کی صورت میں دیکھا، اس کی نظیر پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
قوم اب کافی بے خوف ہوچکی ہے۔ یہ مقابلہ کرنا سیکھ گئے ہے اور یہ بھی سمجھ چکی ہے کہ دشمن اتنا کمزور ہوچکا ہے کہ ہم یہ مقابلہ بغیر کسی پرتشدد طریقے کے پرامن طریقے سے بھی جیت سکتے ہے۔
کمی ہے تو بس صرف دلیر لیڈرشپ کی!!!
اردو
PTI Promotion only retweetledi

کب نکلو گے؟
کب نکلو گے؟
اس جسم میں جاں تمھاری ہے
یہ قید تمھیں کیوں پیاری ہے؟
اس پنجر سے اس پنجرے سے کب نکلو گے؟
جب سارے پر کٹ جائیں گے تب نکلو گے؟
کب نکلو گے؟
مانا کہ رات اندھیری ہے
پر صبح تم ہی کو لانی ہے
سورج کو ہاتھ لگانا ہے
سورج میں آگ لگانی ہے
یہ رات تمھیں کھا جائے گی تب نکلو گے؟
کب نکلو گے؟
اردو
PTI Promotion only retweetledi
PTI Promotion only retweetledi

In the last few weeks there have been serious and concerning developments regarding my sons’ father, Imran Khan’s treatment in prison. The Pakistan authorities have stopped all visits to him by his family and his lawyers. They have also postponed all court hearings. In addition to cutting off in- person visits, and in defiance of a court order, his weekly calls to his sons, Sulaiman and Kasim Khan, who are British and who live in London, were stopped on 10th September. We have received reports that the authorities have now turned off the lights and electricity in his cell and he is no longer allowed to leave his cell at any time. The jail cook has been sent on leave. He is now completely isolated, in solitary confinement, literally in the dark, with no contact with the outside world. His lawyers are concerned about his safety and well-being.
These actions come in the context of ongoing targeting of Imran’s family, as well as his party (PTI) members and supporters in an attempt to silence them and all political opposition in Pakistan. Imran’s nephew, Hassan Niazi, a civilian, has been detained in military custody since August 2023. More recently, Imran Khan’s sisters, Uzma and Aleema Khan, who have continued to speak out on his behalf, have also been arrested as they made their way peacefully to a demonstration and they are currently being held in jail, despite there being no proper or lawful basis for their imprisonment.
In June this year the UN Working Group on Arbitrary Detention found that Imran is unlawfully and arbitrarily detained and called for his immediate release.
As a matter of urgency , we are calling for Imran Khan’s release, and for the release of his sisters and nephew as well as for his sons’ contact with their father to be re-established, so that they may have assurance first-hand that he is well and not being mistreated.
English
PTI Promotion only retweetledi

پٹواری کہتے ہیں عمران خان کی مقبولیت کم ہو گئی ہے نواز شریف کے آنے کے بعد تو بتا دیں انکو کہ پاکستانی اب بھی خان کو چاہتے ہیں۔
عمران خان
بشری بی بی
اس ٹویٹ کو آج ٹویٹر پر ٹاپ ٹویٹ بنانا ہے!
#AbsolutelyNotGuilty

اردو
PTI Promotion only retweetledi

🧵Part 1/n
“میرے پاکستانیو، احتجاج آپ کا جمہوری اور آئینی حق ہے!
آزادی کبھی بھی پلیٹ پر رکھ کر کوئی نہیں دیتا، آزادی کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے!”
- پاکستان کے کپتان عمران خان
#FreeImranKhan
#FreePoliticalPrisoners

اردو
PTI Promotion only retweetledi

اپنے ناجائز تسلط کو طوالت دینے کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ نفرت کے فروغ اور تقسیم کی سیاست کا سہارہ لیا ہے۔گذشتہ تین سال سے پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف جن ہتکھنڈوں اور جیسے طاقت کا بے دریغ استعمال ہورہا ہے اس کے بعد امن کے لیے بلائے جرگے کے خلاف اس طرز کی کاروائی کرکے ملک پر قابض مافیہ ہمیں جس دلدل میں دھکیل رہا ہے اس پر پورے ملک کی عوام کو متحد ہونا پڑے گا۔ امن جرگہ کسی ایک تنظیم کا جرگہ نہیں تھا جسے ایک تنظیم پر بلاجواز پابندی کی آڑ میں سبوتاژ کیا گیا یہ تمام پختونخواہ اور ملحقہ علاقوں کے عمائدین کا جرگہ تھا۔ وہاں موجود عوام پر بے دریغ گولیاں چلا کر کیا پیغام دینا مقصود تھا؟
مظلوم جب اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہا ہو تو حاکم پر اس کو سننا اور اس کا مداوا کرنا فرض ہے مگر اس کے لیے حاکم کا جائز ہونا بھی لازم ہے۔ ناجائز حکومتیں ہی ظلم کو اپنا ہتھیار بناتی ہیں۔ آج ہمیشہ سے زیادہ یہ بات واضح ہے کہ ہم جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، پاکستان کی بقا اب اس ناجائز تسلط کے خاتمے میں ہے۔ ورنہ کبھی بلوچ قوم کی محرومیوں کو ملک دشمنی قرار دینا تو کبھی بلوچستان میں مظلوم پنجابیوں کا قتل عام، کبھی پنجاب میں محنت مزدوری کرنے والے پختونوں کے خلاف نفرت کا پھیلاوا، کبھی فرقہ وارانہ فسادات اور ایسے گروہوں کی سرپرستی کرکے ہمیں تاعمر ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے پر ہی لگائے رکھا جائیگا۔ اس وقت سب سے خبرناک چال جو چلی جارہی ہے وہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے پختونخواہ پولیس کا استعمال ہے۔
نظریاتی اختلاف کے باوجود جہاں بات اپنی قوم کے امن کی ہو تو باوجود تحفظات کے اپنے کارکنان سے ہمیشہ اور مستقل یہی اپیل رہی ہے کہ امن کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کو آپ نے تقویت دینی ہے۔ یہی مؤقف میرے لیڈر عمران خان کا بھی رہا ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم مالاکنڈ میں امن قائم رکھنے میں اس لیے کامیاب ہوئے کیونکہ پوری قوم نے متحد ہوکر ہمارے لیے آواز اٹھائی۔ آج بھی ہمیں اسی اتحاد کے ساتھ اپنے لوگوں کے لیے بلاتفریق آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔
اردو
PTI Promotion only retweetledi

پولیس اختیارات کے حوالے سے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں ترامیم صوبائی کابینہ نے منظور کر دیں۔ صوبائی اسمبلی میں جلد پیش کیا جائے گا۔ عوامی مفاد میں صوبے میں مزید قانون سازی کر رہے ہیں۔
#KPPoliceReforms
Aftab Alam@AftabAlamPTI
خیبرپختونخوا کابینہ کا پولیس ایکٹ 2017 میں ترمیم کا فیصلہ۔ کابینہ سے آج منظوری کے بعد قانون صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ پولیس اختیارات کے حوالے سے صوبائی حکومت نے عوامی مفاد میں اہم فیصلے کیے ہیں۔ #KPPoliceReforms #KPPolice
اردو
PTI Promotion only retweetledi
PTI Promotion only retweetledi

سابق وزیراعظم عمران خان کا عوام کے نام پیغام
تمام تر فسطائیت اور حکومتی جبر، رکاوٹوں کے باوجود خوف کی زنجیریں توڑ کر باہر نکلنے پر میانوالی، فیصل آباد اور بہاولپور کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
میں چاہتا ہوں کہ آج (4 اکتوبر بروز جمعتہ المبارک) آپ سب پرامن احتجاج کیلئے ڈی چوک اسلام آباد پہنچیں اور لاہور اور اس کے گردو نواح کے اضلاع کے شہری 5 اکتوبر، بروز ہفتہ مینار پاکستان پر احتجاج کی تیاری کریں۔
یہ جنگ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں ہے اللہ کے فضل سے ہم اپنی حقیقی آزادی کی لڑائی جیت رہے ہیں۔ اقتدار پر قابض ظالم ہمیں خوف زدہ کر کے ہماری جیت کو شکست میں بدلنا چاہتے ہیں۔چنانچہ آپ بے خوف ہو کر نکلیں اور یاد رکھیں کہ اگر اب بھی آپ نے آگے بڑھ کر خود کو حقیقی طور پر آزاد کروانے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا تو یہ ظالم آپ کو چیونٹیوں کی طرح مسل کر رکھ دیں گے اور آپ کی آئندہ نسلوں کو بھی اپنا غلام بنا لیں گے جن پر ان کی اولادیں حکومت کریں گی۔
سپریم کورٹ میں ڈرامہ چل رہا ہے اور میں نے تاریخ میں اتنا بےشرم چیف جسٹس نہیں دیکھا جو اپنی ذاتی ایکسٹنشن (اپنی نوکری کی مدت میں توسیع) کی خاطر ہر وہ فیصلہ دے رہا ہے جس کی قانون اور آئین اجازت نہیں دیتے۔ قاضی “ایکسٹینشن گینگ آف تھری” کا حصہ ہوتے ہوئے پاکستانی قوم کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے ان کو ایکسٹینشن مافیا اور پی ڈی ایم کا غلام بنا رہا ہے۔ کسی بھی ملک میں عوام کے حقوق کا دفاع عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن یہاں چیف جسٹس خود ہی عوام کے حقوق کا خون کر رہا ہے۔ دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی جج عدالت میں بیٹھ کر اپنی ملازمت بچانے کیلئے آئین و قانون کو روند کر اپنے ہی حق میں فیصلے کرتا رہے۔ یہ کانفلیکٹ آف انٹرسٹ (مفادات کے تصادم) کی بدترین مثال ہے۔ اس نے جمہوریت اور اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ججز اخلاقی برتری کی بنیاد پر عدالتوں میں بیٹھتے اور فیصلے کرتے ہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ کی شکل میں بطور چیف جسٹس عوام کے حقوق کے سب سے بڑے محافظ نے عوام کے حقوق پر سب سے بڑا ڈاکہ ڈالاہے۔
جنرل جیلانی کی گود میں پلنے والے نے چپ کا روزہ توڑا ہے اور پاکستان کے باشعور عوام کو بھیڑ بکریاں قرار دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہمیشہ اقتدار میں آنے والے کی نظر میں جمہوریت کا مطلب ہمیشہ بوٹ کو عزت دینا ہی ہوتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ باشعور عوام اور ان کے ووٹ کا تقدس کیا ہے۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ تم 2 مرتبہ ڈیل کر کے بیرون ملک بھاگے اور جیل گئےت و وہاں رو رو کر تم نےجیل کے سارے ٹشو پیپرز ہی ختم کر ڈالے۔ عوام یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے جیسی جیل میں تو تم نے ایک دن بھی نہیں گزارا۔ یا تو بیماری کا بہانہ بنا کر ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے رہے یا فائیو سٹار سہولیات کے ساتھ کسی سرکاری مہمان خانے میں بیٹھ کر معافیاں اور این آر او کی بھیک مانگتے رہے۔ اب عوام باشعور ہوچکے ہیں اور تمہارا اصلی چہرہ ان پر بےنقاب چکا ہے۔
لندن پلان کے مطابق اس لیکشن میں تمھاری جماعت نے 20 سیٹیں تک نہیں جیتیں جبکہ لندن پلان کے مطابق تمہیں کپتان ہونا تھا لیکن تھرڈ ایمپائر تمہیں Deceive (دھوکہ دے کر) کر کے خود ہی کپتان بن گیا اور تمہیں بارہواں کھلاڑی بنا دیا۔
میں وفاقی حکومت کی جانب سے اپنے غلام آئی جی خیبر پختونخواہ کے ذریعے صوبائی حکومت کی مرضی اور اجازت کے بغیر امن جرگے پر حملے اور پرتشدد کاروائی کی شدید الفاظ میں مزمت کرتا ہوں۔ آئی جی کے ذریعے وفاقی حکومت کا یہ اقدام صوبائی امور میں کھلی مداخلت اور صوبائی خود مختاری پر کھلا حملہ ہے۔
1/2
اردو

علی امین گنڈاپور نے “مینوں نوٹ دکھا میرا موڈ بنے” کس صحافی کے بارے میں کہا، آج بتا دیا۔
@GFarooqi
اردو
PTI Promotion only retweetledi




