Crypto Updates 🔔 retweetledi

منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ عاصم منیر کا سالا محسن نقوی اور شریف-زرداری-اسٹیبلشمنٹ کرپشن نیٹ ورک
تحریر پڑھنے سے پہلے مندرجہ ذیل ویڈیو اور تصاویر ملاحظہ فرمائیں۔
گزشتہ دنوں آپ کو بتایا تھا کہ آئی ایس آئی کے معتبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈی جی ایکس میجر جنرل شہباز تبسم نے ڈی جی آئی جنرل ندیم انجم کو اطلاع دی ہے کہ آرمی چیف کے رائٹ ہینڈ مین، سابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب اور موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان سے امریکہ 16 ارب روپے سے زائد کی رقم بھجوائی ہے۔ یہ رقم مبینہ طور پر ایک بلین ڈالر کی گندم کی درآمد سے کمیشن کے طور پر حاصل کی گئی۔ ڈی جی آئی نے یہ معلومات اپنے بہت سے قریبی دوستوں کے ساتھ شیئر کی تھیں لیکن عاصم منیر کو اپنی کرپشن چھپانے اور اپنی نوکری بچانے کے خدشات کے باعث مطلع کرنے سے کتراتا رہا۔ "کوئی بھی ایجنسی اس رپورٹ کی تحقیقات کر سکتی ہے۔ ثبوت موجود ہیں۔" ذرائع نے دعویٰ کیا۔
پی ایم ایل این کے سپریمو نواز شریف سے منسلک پاکستانی میڈیا بھی گندم سکینڈل کی رپورٹنگ کر رہا تھا۔ یہ گندم انوار الحق کاکڑ اور محسن نقوی وغیرہ کی پچھلی کٹھ پتلی حکومت میں درآمد کی گئی تھی جو موجودہ انتخابات میں دھاندلی سے پہلے فوجی جنتا نے لگائی تھی تاکہ عمران خان کو احتساب کے خوف سے اقتدار سے باہر رکھا جا سکے۔
یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس میگا کرپشن سکینڈل میں آرمی چیف عاصم منیر اور اسکا خاندان مکمل طور پر ملوث ہے۔ محسن نقوی بھی عاصم منیر کا سسرالی رشتہ دار ہے۔
نیچے دیکھی جاسکتی تصویر میں وحیدز کراچی پر بیٹھے محسن نقوی کے ساتھ دھاگا کباب انجوائے کرتے حکومت سندھ کا وزیر علی حسن زرداری بیٹھا ہے جو رپورٹس کیمطابق آصف زرداری کا سندھ میں فرنٹ مین ہے اور سندھ میں کرپشن کا سارا پیسہ اس کے پاس جمع ہوتا ہے۔
نیچے شامل ویڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ کیسے یہ پیسہ ڈالرز میں تبدیل ہوتا ہے، جسے کراچی بیٹھے ملک بوستان جیسے آئی ایس آئی ٹاوٹس منی چینجر ڈالرز میں تبدیل کرتے ہیں اور پھر جو پیسہ پہلے فشریز ڈیپارٹمنٹ کی لانچز میں دوبئی جاتا تھا اب وہی پیسہ جیٹ طیاروں میں بیرونی ممالک جاتا ہے کیونکہ اس کھیل میں اب طاقتور جرنیل اور ادارے بھی شامل ہیں۔
مگر ڈالرز دوبئی پہنچنے کے بعد پوری دنیا میں محفوظ طریقے سے چھپانے کے لئے محسن نقوی جیسے منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ کی ضرورت تو پیش آتی ہی ہوگی نا۔۔۔
پانامہ پیپرز میں شریفوں کی منی لانڈرنگ پکڑے جانے کے بعد اسپیشلسٹ انٹرنیشنل وارداتیوں کی مزید ضرورت پڑی جو منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ بھی ہوں اور مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں ان پر اعتبار بھی کرتی ہو تاکہ دہشتگردی کے قوانین کی زد میں نا آیا جاسکے۔ اس منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا فائدہ پاکستان میں حرام کمانے والے تمام سیاستدان، افسران اور ادارے تک کررہے ہیں!
شروع میں یہ کام غیر ملکیوں سے لیا گیا مگر ان کے ریٹ بے تحاشا ہیں اور نخرے الگ۔ اوپر سے وہ چھپائے گئے ڈالرز کے کنٹرول میں بھی ہوتے ہیں مگر ان پر پاکستانی حرامخوروں کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ ایسا کام کرنے کے لئے محسن نقوی جیسے پرزے سے موزوں بھلا کون ہوسکتا ہے؟
محسن نقوی کی دنیا کے منی لانڈرنگ کیپیٹل کمبوڈیا کے اعزازی سفیر لگنے سے اس رپورٹ کا براہ راست تعلق بتایا جاتا ہے۔
سوال اٹھتا ہے کہ محسن نقوی جسے زرداری اپنا بیٹا کہتا ہے، عاصم منیر اپنا سالا اور متعدد جرنیل اپنا دوست، کیا اقتدار تک منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ ہونے کی وجہ سے پہنچا؟
کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کو محسن نقوی, زرداری، عاصم منیر اینڈ کمپنی کے لیے منی لانڈرنگ کے ذریعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے؟
محسن نقوی اور ویٹیکن بینک کے درمیان کیا تعلق ہے؟
محسن نقوی نے آئرلینڈ میں کن فنانشل کمپنیوں سے ملاقات کی اور کیا ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ لگایا؟
محسن نقوی پرائیویٹ جیٹ میں کیوں سفر کرتا ہے، اور اس کے طیارے میں سفارتی سامان کے بڑے بڑے بکسوں میں کیا سامان ہوتا ہے؟
ان سوالات کی تحقیق اور جواب میں سارا کرپشن کا کاروبار چھپا ہوا ہے جو چوری کا پیسہ ہے اور بقول اردھشیر کاوسجی "چور چوری کے بعد رسید نہیں چھوڑتا" مگر کھرا تو چھوڑتا ہے نا!



اردو







