
PTM ZHOB
4.2K posts





147 دن گزر گئے، پی ٹی ایم وفد تاحال لاپتہ — ایک سنگین انسانی و آئینی بحران خیبرپختونخوا میں امن کے نام پر تشکیل دیے گئے پی ٹی آئی صوبائی حکومت کے دعوت پر شرکت کرنے والے پی ٹی ایم وفد 147 دن گزر جانے کے باوجود تاحال لاپتہ ہے، جس نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ سماجی و سیاسی حلقوں میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ 147 دن کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود نہ ان کی رہائی عمل میں آئی ہے، نہ ہی کسی عدالت میں پیشی، اور نہ ہی ان کی حراست کے بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت سامنے آئی ہے۔ پس منظر صوبائی حکومت کی جانب سے تشکیل دیا گیا جرگہ بظاہر امن و استحکام کے قیام کے لیے تھا، جس میں مختلف قبائلی عمائدین، سماجی کارکنان اور سیاسی نمائندوں کو شامل کیا گیا تھا۔ پی ٹی ایم کے وفد کی شرکت بھی اسی تناظر میں ہوئی، مگر اس کے فوراً بعد ان کی گمشدگی نے پورے عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ آئینی و قانونی سوالات پاکستان کا آئین ہر شہری کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، جن میں: غیر قانونی حراست سے تحفظ شفاف عدالتی کارروائی آزادی و سلامتی کا حق شامل ہیں۔ ایسے میں، کسی بھی فرد کو بغیر قانونی کارروائی کے لاپتہ کرنا آئین اور قانون دونوں کی صریح خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کا پہلو انسانی حقوق کے کارکنان اس معاملے کو جبری گمشدگی قرار دے رہے ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق بھی ایک سنگین جرم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ: اگر کسی پر الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے خفیہ حراست اور لاپتہ کرنا ناقابلِ قبول ہے متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے میڈیا اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری 147 دن گزرنے کے باوجود اس معاملے پر قومی سطح پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔ سوشل میڈیا شخصیات، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بار بار اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اس معاملے کو اجاگر کریں اور ذمہ دار اداروں پر دباؤ ڈالیں۔ عوامی مطالبات مختلف سماجی و عوامی حلقوں کی جانب سے واضح مطالبات سامنے آئے ہیں: 1. پی ٹی ایم کے لاپتہ وفد کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے 2. ان کی گمشدگی کی آزاد اور شفاف تحقیقات کی جائیں 3. ذمہ دار افراد یا اداروں کا تعین کر کے قانونی کارروائی کی جائے 4. جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں نتیجہ 147 دن گزر چکے ہیں، مگر پی ٹی ایم کا وفد آج بھی لاپتہ ہے۔ یہ معاملہ محض چند افراد کی گمشدگی نہیں بلکہ یہ ایک بڑے آئینی، قانونی اور انسانی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو متاثر کرے گا بلکہ قانون کی حکمرانی پر بھی گہرے سوالات اٹھائے گا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ خاموشی توڑی جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ #WhereIsHanifAndNoorullah #WhereIsPTMDelegation






















