Sabitlenmiş Tweet
Qadeer RiND
1.8K posts



اِن کالی صدیوں کے سر سے
جب رات کا آنچل ڈھلکے گا
جب دُکھ کے بادل پِگھلیں گے
جب سُکھ کا ساگر چھلکے گا
جب امبر جھوم کے ناچے گا
جب دھرتی نغمے گائے گی
وہ صبح کبھی تو آئے گی
#statekilledhidayatlohar
Sasui Lohar

اردو

ھلي آء ساٿي ته ھلون سن ڏي جتي
جيء جرڪن دليون ڌوپجن.......!!!!!!❤❤
17 جنوري هر وک سياسي قعبي سن طرف
#TributetoSainGMSyed
❤🔥✌

العربية

رياست جا دلالن سردارن ميرن وڏيرن تي لعنت بيشمار
Akhtar Mengal@sakhtarmengal
فلسطین میں ظلم ہونے پر احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتیں بلوچستان کے ساتھ ناانصافیوں پر کیوں خاموش ہیں؟!
SD
Qadeer RiND retweetledi


لاپتہ افراد حقیقت یا افسانہ۔۔!!!
جب بھی ریاست پاکستان امن و سلامتی کے فروغ کے لیے کوششیں کرتی ہیں تو ملک دشمن عناصر اور قوت فوری فعال ہو کر اپنا منفی کردار ادا کرنا شروع کر دیتی ہیں
آج کا دن ریاست پاکستان بالخصوص بلوچستان کی تاریخ میں امن کے حصول کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جب انتہائی مطلوب دہشت گرد سابق بی این اے کمانڈر سرفراز بنگل زئی نے 70 ساتھیوں کے ساتھ ریاست کے اگے ہتھیار ڈال دیے اور اس بات کا اقرار کیا کہ ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں کھیلنے والے لوگ پاکستان بالخصوص بلوچستان کے لیے امن و بقا کے لیے خطرہ ہے
اس کے ساتھ ساتھ سرفراز بنگل زئی نے مسنگ پرسن کے نام پر جھوٹا پروپگینڈا جو ملک دشمن عناصر کی طرف پھیلایا جا رہا ہے اس کو بھی اج کی پریس کانفرنس میں بے نقاب کیا
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ بلوچ یکجہتی کونسل کی طرف سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے
عالمی دہشتگردوں کی لسٹ میں بی ایل اے پانچویں نمبر پر اور بی ایل ایف سترویں نمبر پر ہے
بلوچ یکجہتی کونسل ان دونوں کے سیاسی چہرے کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، جو آج کل ایک ایسا احتجاج کر رہی ہے جس کا مقصد نہ صرف ملک کو کمزور کرنا ہے بلکہ بلوچ قوم کو بھی بدنام کرنا ہے.
بلوچ یکجہتی کونسل کریمہ بلوچ کی موت کے بعد وجود میں آئی تھی جب اس کی لاش ایک ندی کے کنارے کینیڈا میں ملی تھی اور کینیڈا پولیس کی رپورٹ کے مطابق وہ نشے میں تھی اور یورپی تنظیم ڈس انفو لیب نے کریمہ بلوچ کا تعلق انڈیا کے ساتھ ظاہر کیا تھا
بلوچ یکجہتی کونسل کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جو عبدل غفّار لانگو کی بیٹی ہیں، یہ وہ ہیں جو بی ایل اے کے ایک کمانڈر تھے اور ریاستی اداروں پر لاتعداد حملوں میں ملوث تھے. ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نہ صرف ریاستی وظیفہ پر تعلیم حاصل کرتی رہی ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد سے اب تک وہ سرکاری تنخواہ کے ساتھ ساتھ متعدد سہولتیں بھی لے رہی ہے.
ایک طرف سرکاری تنخواہ دوسری طرف دہشتگردوں کی حمایت کیوں.۔۔۔۔۔؟
بلکل ایسا ہی ایک کردار سمی دین بلوچ کا بھی ہے جس کے والد ڈاکٹردین محمد بلوچ کا تعلق بی ایل ایف سے ہے اور ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے ساتھ متعدد بار دیکھا بھی گیا ہے.
کیا اس طرح عورتوں کا استعمال بلوچ روایات کے خلاف نہیں۔۔۔۔۔۔؟
جب ہم احتجاج کا پس منظر دیکھتے ہیں تو یہ بات عیاں ہے مولا بخش بالاچ کی جب گرفتاری ہوئی تو سی ٹی ڈی نے اس کے خلاف نہ صرف ایف آئی آر درج کروائی بلکہ قانونی کروائی کا آغاز بھی کر دیا، ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہوئے بی ایل اے نے حملہ کر کے اس کو ہلاک کر دیا تا کہ وہ زبان نہ کھولے اور ساتھ ہی سیاسی تنظیم بلوچ یکجہتی کونسل نے احتجاج کی کال دے دی
تاکہ عوام کی حمایت اور ہمدردی حاصل کی جائے.
اس سب ڈرامے سے فائدہ بی ایل اے کا ہی ہو رہا ہے، ایک طرف وہ دہشتگرد بالاچ کے نام پر نئے لوگ بھرتی کریں گے اور دوسری طرف وہ ان لوگوں کو بھی روکیں گے کے اگر ریاست سے مزاکرات کیے تو مارے جاؤ گے.
یہاں سوال یہ آتا ہے کہ گمشدہ بلوچوں کی آواز تو ماما قدیر بنا رہا ہے پھر بلوچ یکجہتی کونسل کے وجود کی کیا ضرورت تھی۔۔۔؟
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ریاست نے وظیفہ دے کر ڈاکٹر بنایا اچھی نوکری دی، کیا یہ قصور ہے اس ریاست کا۔۔۔؟
مسنگ پرسنز کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو اس سلسلے میں گمشدہ افراد کے لیے تشکیل شدہ کمیشن یکم مارچ 2011 سے اپنا کام کر رہا ہے
اس کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 10014, فیصلہ شدہ کیسز کی تعداد 7749 اور بقایہ کیسز کی تعداد 2265 ہے جن کی گمشدگی ابھی ثابت ہی نہیں ہوئی
انکوائری کمیشن اپنا یکسوئی کے ساتھ کام کر رہا ہے اور اس کے پیشرفت حوصلہ افزا ہے تاہم بہت سارے مقدمات یا تو اس سے بھی پرانے یا ان کو ٹریس کرنے میں دشواری ا رہی ہے
لاپتہ افراد کی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کی سرحدی علاقوں افغانستان اور شام میں مارے گئے انداز
اب تک ہزار سے زائد دہشت گرد مختلف کالعدم تنظیموں کا حصہ بنے
دیکھیں احتجاج اور لانگ مارچ کا جواز ہمیں سمجھ نہیں آتا وہ بھی ایک ایسے شخص مولا بخش بالاج کے لیے جب اس نے ریاست پہ 11 حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا اس نے ان مزدوروں کے قتل کا اعتراف کیا جو تربت میں شہید ہو گئے تھے۔
یہ لانگ مارچ ایسے شخص کے لیے تو کیا جاتا ہےجو اتنے لوگوں کے قتل میں ملوث ہے ۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ ان مزدوروں کے لیے تو کوئی احتجاج نہیں کیا گیا جو نہتے تھے جو مزدوری کے لیے تربت آئے تھے ان کو شہید کیا گیا ان کے لیے کوئی سول مومنٹ نہیں چلائی گئی۔۔۔ 👇👇👇
اردو

بیٹا ریاستی عقوبت خانوں میں بوڑھاپے میں خود اسلام آباد کی قید میں
جرم ؟ بیٹے کی بازیابی کا مطالبہ #MarchAgainstBalochGenocide

اردو
Qadeer RiND retweetledi








