Reader
1K posts


@mujhemaardo @AmarahZahid do you think a woman is abaya is same as half naked woman ?
English
Reader retweetledi
Reader retweetledi
Reader retweetledi

اب پاکستان کہاں سے دو کبوتر لائے ؟
کل سے ایرانی فوجی قیادت اور یونیورسٹیز پروفیسر دھیرے دھیرے پاکستان کے حوالے سے سخت لہجہ اپنا رہے ہیں۔
ایرانی وزیرخارجہ کی اہمیت پاکستان دورے اور امریکن مزاکرات کے بعد کم ہو رہی ہے۔ان کے ہرموز کھولنے کے ٹوئٹ کو ان کی آرمی نے مسترد کر کے بند کر دیا ہے۔
اب سپیکر باقر صاحب ان ہارڈ لائن فورسز کے لیے اہم ہورہے ہیں جو امریکہ کے ساتھ معاہدے پر تیار نہیں جس کےبارے ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا بس اسلام آباد میں ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔
ایک ایرانی یونیورسٹی کے پروفیسر کو سن رہا تھا۔ان کا کہنا تھا ان حالات میں ایرانی وزیرخارجہ یا سپیکر پاکستان نہیں جائیں گے اور اگرگئے تو اپنا سیاسی مستقبل تباہ کر بیٹھیں گے اور وہ یہ رسک نہیں لیں گے۔
ایرانیوں کو لگتا ہے اسلام آباد میں ہونے والے مزاکرات میں شاید وہ کچھ زیادہ ہی دینے پر تیار ہوگئے تھے لہذا واپس جاتے ہی اپنی پوزیشن سخت کر لی جس پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکو تہران جانا پڑا۔
جنرل عاصم منیر کی وزٹ کو ایران سمجھتا ہے امریکہ کو bail out کرنے کے لیے ہے نہ کہ ایران کا مفاد دیکھا جارہا ہے۔ ایران کے ایک دانشور کو سنا تو انہوں نے جنرل عاصم کو سیدھا امریکہ کا بندہ کہہ کرکہہ دیا کہ زرا خیال رکھیں سب بات ان کی نہ مان لیں۔
ایک اور ایرانی ماہر علاقائی امو کا کہنا ہے اب ہم امارت اور قطر کی سرزمین اتنی گرم کر دیں گے کہ وہاں کوئی رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔
دوبئی اور قطر کو برباد کرنے کی دھمکیاں دینے کے ساتھ ہی انہوں نے کہا پلٹا کھایا اور کہاہاں اگر اس دوران پاکستان نے اپنی ٹوپی سے کوئی کبوتر نکال لیا تو پھر امن ہوسکتا ہے۔مطلب اگر پاکستان نے ہماری شرائط پر امریکہ سے ڈیل کرا دی ورنہ قطر دوبئی کی خیر نہیں۔
ادھر امریکہ بھی پاکستان پر بھروسہ کیے بیٹھا ہے وہ ایرانیوں کو سمجھا کر ہماری ڈیل کرائے گا جو ہوتے ہوتے رک گئی ہے۔امریکہ بھی پاکستان سے کہہ رہا ہے کہ تم کبوتر ڈھونڈ کر اپنی ٹوپی سے نکالو۔ معجزہ دکھائو۔ورنہ ایران کی خیر نہیں۔
شاید اس لیے تین چار ہفتے تک دنیا کا کوئی ملک ایران اور امریکہ کی صلح صفائی کے لیے درمیان میں آنے کو تیار نہیں ہو رہا تھا کہ دونوں پارٹیوں کا قومی فخر اور ملکی غرور اتنا بڑا ہےتیسرا ملک ان کی انا کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
اس لیے سڑک پر دو لوگوں میں لڑائی ہورہی تو لوگ انہیں چھڑانے کی بجائے موبائل کیمرہ نکال کر ویڈیو بنا کرسوشل میڈیا پرڈال دیتے ہیں۔کوئی ڈوب رہا ہو تو بھی ویڈیو بناتے ہیں۔بچانے کی کوشش نہیں کرتے۔
اکثردیکھا گیا ہےلڑنے وال ایک مرحلے پر تھک ہار کر لڑتے بھی جاتے ہیں اور راہگیروں کو بے بس نظروں سے دیکھتے ہیں بھائی چھڑا لو۔خود لڑائی بند نہیں کریں گے کیونکہ ان کی انا انہیں لڑاتی رہتی ہے۔
وہ چاہتے ہیں تیسرا بندہ آئے اور وہ اس کے کندھوں پر ڈال دیں اگر تم نہ چھڑاتے تو آج میں نے اس بندے کا حشر نشر کر دینا تھا۔جب چھڑایا جاتا ہے تو بھی دونوں ایک دوسرے کو گھوریاں ڈال کر دھمکیاں دے رہے ہوتے ہیں لیکن اندر سے نڈھال کھڑے ہوتے ہیں اور پانی مانگ رہے ہوتے ہیں۔
جو چھڑاتا ہے اس پر بوجھ پڑتا ہے اب ہمارا فیصلہ بھی تم کرائو۔ تم نے ہمیں چھڑایا ہی کیوں تھا اگر ہمارا فیصلہ نہیں کرنا تھا؟یوں وہ بندہ اخلاقی دبائو کا شکار ہو کر کوشش شروع کرتا ہے کہ ان کی صلح ہو جائے۔
دونوں جو سڑک لڑائی میں حاصل نہیں کرسکے تھے وہ اب چھڑانے والے سے چاہتے ہیں وہ انہیں مخالف سے لے کر دے۔دوبارہ لڑنے کی دھمکیاں بھی دیتے جاتے ہیں تاکہ چھڑانے والے پر دبائو بڑھایا جائے۔
لگتا ہے امریکہ اور ایران پاکستان کے ساتھ یہی کررہے ہیں ہمیں چھڑایا کیوں تھا۔اب ہماری مرضی کی ڈیل لے کر دو۔
امریکن بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ تم نے سیز فائر کرائی تھی تو اب اپنی ٹوپی سے کبوتر نکالو اور ایرانی کہہ رہے ہیں کہ ہم نے آپ کی بات ماننی بھی نہیں ہے لیکن آپ کبوتر ٹوپی سے نکال کر مسلہ حل کرائیں۔
امریکہ اور ایران دونوں دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور پاکستان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ بھی رہے ہیں یار جلدی کرو اکیس اپریل سے پہلے اپنی سفارتی ٹوپی سے کوئی کبوتر نکال کر دکھائو۔۔ہم خود لچک نہیں دکھائیں گے۔ہماری تو عزت دائو پر لگی ہوئی ہے۔تم ہی کوئی معجزہ دکھائو ۔۔
اب پاکستان کیا معجزہ دکھا سکتا ہے جب ایک ملک خود کو سپر پاور سمجھتا ہے جسے اپنی برتری اور طاقت کا زعم ہے تو دوسرا ملک اپنی ہزاروں سال کی تاریخ کا حوالہ دے کر خود کو بہادر قوم سمجھتا ہے کہ ایک قدم پیچھے ہٹے تو دنیا میں بدنامی ہوگی۔
اب پاکستان کہاں سے دو سفید کبوتر اپنی ٹوپی سے نکال کر امریکہ اور ایران کو ایک ایک پکڑا دے تاکہ ان کی قومی انا اور ملکی غرور قائم و دائم رہے ورنہ سارا قصور اس کا ہے جو انہیں سڑک پر چھڑانے آیا تھا۔
تحریر/رئوف کلاسرا
اردو
Reader retweetledi
Reader retweetledi
Reader retweetledi














