
ایران اور بھارت آمنے سامنے آگئے ۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے 22 بھارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ۔ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے انڈیا اس کے 3 جہازوں کو واپس بھیجے جنہیں اس نے امریکہ کو خوش کرنے کیلئے ضبط کرلیا تھا ۔ ایران کے اس دلیرانہ فیصلے نے نئی دہلی کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے، جہاں اب بھارت کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تہران کی شرائط ماننے کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ بھارت نے فروری میں اس وقت ایران کے تین تیل بردار جہازوں کو ضبط کیا تھا جب وہ امریکہ کے ساتھ ایک بڑی تجارتی ڈیل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بھارت نے ان ٹینکرز پر "شناخت چھپانے" کا من گھڑت الزام لگا کر انہیں قید کیا تھا، لیکن اب تہران نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک ایران کے یہ تینوں ٹینکرز عزت کے ساتھ واپس نہیں بھیجے جاتے، آبنائے ہرمز بھارتی جہازوں کے لیے "نو گو ایریا" رہے گا۔ عالمی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق، اس وقت 22 بھارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز کے گرم پانیوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن پر 611 بھارتی شہری سوار ہیں۔ ان میں سے 6 جہاز مائع پیٹرولیم گیس (LPG) سے لدے ہوئے ہیں۔ بھارت اپنی ضرورت کی 90 فیصد ایل پی جی خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے، اور ایران کی اس پابندی کے باعث بھارت میں گھریلو گیس کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس نے مودی سرکار کو گھٹنوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔













