Rohail Dar

20.6K posts

Rohail Dar

Rohail Dar

@RohailDar

Construction Management professional; NYU alumnus practicing facilities Design, Development & Construction in New York.

New York Katılım Mayıs 2012
329 Takip Edilen1.3K Takipçiler
Rohail Dar retweetledi
Think Tank
Think Tank@RRazzaqPMLN·
اس میں کوئی شک نہیں کہ محترم اسحاق ڈار صاحب پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین وزیرخارجہ ہیں۔ پہلے انہوں نے وزیرخزانہ کے طور پہ اپنی محنت سے پاکستان کو معاشی بحران سے نکال کر ترقی کے راستہ پر چڑھایا اور اب ابھی انتھک محنت سے پاکستان کو سفارتی تنہائی سے نکال کر ملک کو ایک گلوبل پاور بنا دیا ماشااللّہ
Think Tank tweet media
اردو
4
18
73
496
Rohail Dar
Rohail Dar@RohailDar·
جب اپوزیشن جنرل باجواہ پر تنقید کرتی تھی تو اس وقت تو آپکو شدید تکلیف ہوتی تھی۔ ویسے اطلاع کیلئے عرض ہے کہ جنرل عاصم منیر ڈکٹیٹر نہیں ہے۔ یہ ملک کا پہلا سی ڈی ایف ہے۔
Sabir Shakir@ARYSabirShakir

اردو
0
0
0
38
Rohail Dar
Rohail Dar@RohailDar·
اچھی بات ہے۔ اسی مثبت سوچ کے ساتھ اپنی بقیہ زندگی جیل میں سکون سے کاٹیں۔
Jimmy Virk - Imranian 🇵🇰@JimmyVirkk

خان کا ایمان۔۔۔ بھٹو کو جب پکڑ کر جیل میں ڈالا تو اسے یقین تھا کہ اسے زندہ نہيں چھوڑیں گے۔ وہ سگریٹ کے کش لگاتا اور ہر کسی سے کہتا تھا جنرل ضیاء اسے پھانسی لگائے گا۔ اس نے تو سگریٹ کی ڈبیاں جمع کرکے ان پر چھوٹی سی کتاب بھی لکھ دی کہ "اگر مجھے قتل کر دیا گیا۔" عمران خان کا ایمان ہے کہ وہ جیل سے رہا ہوگا۔ وزیراعظم بنے گا اور پاکستان کی سربلندی کا وہ سفر شروع ہوگا جس کے خواب آنکھوں میں سجائے ہمارے اجداد نے یہ ملک بنایا تھا۔ اسیری کی سختیاں کپتان کے ایمان کو متزلزل نہیں کر پائیں۔ جب بھی جنرل کوئی نئی آفر بیجھتا ہے تو وہ مسکراتا ہے۔ اور اسی یقین کے ساتھ خان صاحب عبادت کررہے ہیں، قرآن شریف اور دوسری کتب کا بغور مطالعہ کررہے ہیں۔ نوٹ بنا رہے ہیں۔ اور مستقبل کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ مثبت سوچ سے بڑی کوئی طاقت نہيں ہے۔ کامیابی کے سب سوتے اسی سے پھوٹتے ہیں۔ کوئی طاقت ایسے ایمان والے شخص کو شکست نہيں دے سکتی۔ جو کوشش کرے گا ذلیل ہوگا۔

اردو
0
0
0
27
Rohail Dar
Rohail Dar@RohailDar·
کاشف عباسی کا انتہائی گندہ اور منافقت سے بھرا کردار رہا ہے۔ یہ مکافات عمل ہے۔
Mudassar Saeed@mudsays

کاشف عباسی کی یہ گفتگو سنی تو میرا ذہن ماضی میں چلا گیا۔ جولائی 2018 میں جب آج ٹی وی کی انتظامیہ نے عاصمہ شیرازی کو فون کر کے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز لندن سے گرفتاری دینے پاکستان آ رہے ہیں آپ کا ویزا لگا ہوا ہے کسی اور کے پاس نہیں آپ فوری لندن چلی جائیں کیونکہ سارا میڈیا اسی جہاز پر واپس آ رہا ہے، عاصمہ شیرازی نے لندن پہنچ کر نواز شریف اور مریم نواز کے انٹرویوز کیے جو چینل کے لیے ایکسکلوسیو تھے، چینل پر پروموشن چلتے ہی جنرل فیض نے مالکان کو فون کر کے کہا یہ انٹرویوز چلے تو اس کے بعد چینل نہیں چلے گا۔ انٹرویوز روک دیے گئے۔ ساری فلائیٹ اینکرز اور صحافیوںں سے فُل تھی مگر جب عاصمہ شیرازی واپس پہنچیں تو ان کے لینڈ کرنے سے پہلے "صرف ان کے" خلاف سوشل میڈیا پر کمپین کا طوفان آ چکا تھا، جیسے باقی میڈیا صحافتی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ٹھیک کر رہا تھا صرف عاصمہ شیرازی نے غلط کیا تھا۔ واپسی کے چند روز بعد عاصمہ شیرازی کو رابطہ کر کے بتایا گیا کہ آپ کے نام پر ادارے نے کراس لگا دیا ہے۔ اب آپ نہیں بچیں گی۔ الیکشن کے بعد عمران خان صاحب کی حکومت آئی تو بنک سے کال آئی کہ آپ کے بنک اکاؤنٹ اسٹیٹمنس نکلوائی گئی ہیں۔ عاصمہ شیرازی کا مکمل ٹیکس آڈٹ ہوا، ان کی والدہ، بہن بھائیوں کے اکاؤنٹس کے آڈٹ ہوئے۔ عاصمہ شیرازی کے ایک قریبی دوست کے دوست ایسٹ ریکوری یونٹ میں تھے، انہوں نے بتایا کہ ہم نے احکامات کے مطابق عاصمہ شیرازی کے خلاف پورا یورپ، یوکے، امریکا چھان مارا مگر ہمیں کچھ نہیں ملا۔ اسی دوران عاصمہ شیرازی کے گھر میں دو بار نامعلوم افراد گھسے، ایک شخص کی ساتھ والے گھر سے ریکی کرنے کی نشاندہی ہوئی، پولیس نے عاصمہ شیرازی اور محلے کے معتبر لوگوں کو جمع کیا اور کہا آپ کو معلوم ہے یہ کون لوگ تھے، ہم ان کا کچھ نہیں کر سکتے۔ سوشل میڈیا پر آئے روز کمپین کے بعد ایک کالم کو بے بنیاد بنیاد بنا کر نیشنل براڈ کاسٹ پر عاصمہ شیرازی کے خلاف پریس کانفرنسیں کی گئیں، پروگرام ہوئے، سوشل میڈیا پر حجاب میں لپٹی طوائف سات روز تک ٹرینڈ کرتا رہا۔ ایک وفاقی حکومت کی پوری وفاقی کابینہ نے عاصمہ شیرازی کی کردار کشی مہم میں فخریہ حصہ لیا۔ اس سے پہلے غداری کا ٹرینڈ حامد اور عاصمہ شیرازی کے خلاف چلا۔ اسد طور معاملے پر پریس کلب کے باہر تقریر کرنے پر عاصمہ شیرازی اور حامد میر کے خلاف بغاوت کے مقدمات۔ تضحیک، تذلیل، گالم گلوچ اور پتا نہیں کیا کیا اس دوران ہوا۔ یہاں تک کے بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ مگر تب سب ٹھیک تھا، کئی صحافی دوستوں کے گھر پی ٹی آئی کے راہنما بیٹھ کر پلاننگ کرتے تھے عاصمہ شیرازی کی کردار کشی کیسے کرنی ہے، الزام کیا لگانا ہے، ٹرینڈ کیا ہونا چاہیے۔ اسی دوران کئی صحافی دوستوں نے پی ٹی آئی کی قربت میں عاصمہ شیرازی کا سوشل بائیکاٹ شروع کر دیا۔ بات سمیٹتے ہوئے: جو آج غلط ہے تب بھی غلط تھا۔ مگر تب کئی دوستوں کی دوستیاں ان کی اخلاقیات کی راہ میں رکاوٹ تھیں، سب اچھا لگ رہا تھا، آج سب برا لگ رہا ہے مگر ہے تو وہی صورتحال۔ موجودہ صورتحال میں میری ہمدردیاں اور دعائیں کاشف عباسی اور ان کے فیملی کے ساتھ ہیں۔ ان پر پابندی اور سختیوں کا کوئی جواز نہیں۔

اردو
0
0
0
27