Ruby Pti
799 posts


شکر الحمدللہ اج حیدر سے ملاقات ہوئی ھے اپ سب کو بہت بہت سلام اور پیار دے رہا تھا اج موبائل گھر میں رہ گیا تھا غلطی سے ابراہیم سے بھی ملاقات ہوئی ھے بہت خوش ہوا ھے کہتا ھے میں نے دعا کی کے اج اپ سے میری ملاقات ہوجاے میں نے اس کو اپ سب کا بتایا کے اب تمھیں بہت سے لوگ جانتے ھے اور تم سے پیار کرتے ھے تم ایک وفادار اور بہادر انسان ہو تو بہت خوش ہوا اپ سب کے پیار کا وہ بھی شکر ادا کررہا تھا اور سلام دے رہا تھا
ایک دفعہ پھر شکر الحمدللہ
اردو
Ruby Pti retweetledi
Ruby Pti retweetledi
Ruby Pti retweetledi
Ruby Pti retweetledi

ہر صورت ہر منگل کو اڈیالہ پہنچ کے بہنوں کے ساتھ کھڑے حیدر سعید کوظالم یزیدکی قید سے نکالنے کے کیے آواز اٹھانا بے حد ضروری ہے۔اب اسکورہا کیا جانا چاہیے۔
#ReleaseHaiderSaeed

اردو
Ruby Pti retweetledi
Ruby Pti retweetledi

لوگوں کے بچے بیرون ملک چلے جاتے ھے بعض اولاد والدین کو بھول جاتے ھے رابطہ نہیں رکھتے میں یہ سمجھوں گی کے حیدر بیرون ملک چلا گیا ھے اور مجھ سے رابطہ نہیں کر رہا میں کمزور نہیں پڑوں گی میں دل خفا بھی نہیں کروں گی مگر میں انصاف حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہوں گی اور انصاف رب کی طرف سے ھے بندے تو صرف وسلیے ھے
اردو

Ruby Pti retweetledi

حیدر ہمیشہ ہر کارکن کی آواز بنتا رہا ہے۔اب ہم سب کی باری ہے کہ ہم اسکی آواز بنیں۔
حیدر کو رہا کرو۔
#ReleaseHaiderSaeed

اردو
Ruby Pti retweetledi

#ComeToStreetsForKhan
اب نہیں تو کبھی نہیں
نکلو اپنے خان کے لیے
نکلو اپنی آ زادی کے لیے
اردو
Ruby Pti retweetledi

ہمیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام صرف ایک خطے میں ہی مبعوث ہوئے
آئیے جائزہ لیتے ہیں
انسانی شعور جب تاریخ کے دھندلکوں میں جھانکتا ہے اور دنیا کے نقشے پر پھیلی ہوئی قدیم تہذیبوں کا مطالعہ کرتا ہے، تو ایک سوال ہر ذی شعور، خاص طور پر دورِ حاضر کے ملحدین اور مستشرقین کی طرف سے بار بار اٹھایا جاتا ہے، اور وہ سوال یہ ہے کہ اگر کائنات کا خالق ایک ہے اور اس کی ہدایت تمام انسانوں کے لیے ہے، تو پھر ایسا کیوں لگتا ہے کہ نبوت کا سارا سلسلہ صرف ایک مخصوص جغرافیائی خطے, یعنی مشرقِ وسطیٰ (Middle East)، جزیرہ نما عرب، شام، فلسطین اور مصر, تک محدود رہا؟
کیا نعوذ باللہ خدا کا جغرافیہ محدود تھا؟
یا
کیا ہندوستان، چین، جنوبی امریکہ اور افریقہ کے کروڑوں انسان اللہ کی نظر میں (معاذ اللہ) اتنے اہم نہیں تھے کہ ان کی طرف کوئی ہادی بھیجا جاتا؟
یہ اعتراض بظاہر بہت وزنی لگتا ہے، خاص طور پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ آج دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ انہی علاقوں میں بستا ہے جن کا ذکر بظاہر قرآن میں نام لے کر نہیں کیا گیا۔
لیکن جب ہم جذباتیت کی عینک اتار کر قرآن کے ”آئینی متن“ (Constitutional Text)، حدیث کے ”شماریاتی ڈیٹا“ (Statistical Data) اور تقابلِ ادیان (Comparative Religion) کی جدید تحقیقات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیتے ہیں، تو حقیقت کچھ اور ہی آشکار ہوتی ہے۔
آج ہم اس عظیم الشان تاریخی اور الہیاتی معمے کو حل کرنے کی کوشش گے اور ثابت کریں گے کہ اللہ کا نظامِ ہدایت کسی خاص خطے کا پابند نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ”عالمی نیٹ ورک“ تھا جس کے آثار آج بھی قدیم مذاہب کے ملبے تلے دبے ہوئے توحید کے ذروں میں ملتے ہیں۔
بحث کا آغاز ہم قرآن مجید کے اس بنیادی اصول سے کرتے ہیں جو اللہ کے عدل کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
اللہ تعالیٰ سورہ فاطر میں فرماتا ہے:
”وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ“
(اور کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گزرا ہو)۔
اسی طرح سورہ النحل میں ارشاد ہوا:
”وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا“
(اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا)۔
یہ آیات اس بات کا ”کائناتی اعلان“ ہیں کہ اللہ نے ہدایت کو کسی جغرافیائی طول و عرض (Longitude/Latitude) میں قید نہیں کیا۔
الاسکا کی برفانی وادیوں سے لے کر افریقہ کے تپتے صحراؤں تک، اور ایمیزون کے جنگلات سے لے کر ہمالیہ کی چوٹیوں تک، جہاں جہاں ”انسان“ آباد ہوا، وہاں وہاں اللہ کی ”وحی“ پہنچی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہر جگہ نبی آئے تو ہمیں ان کے نام کیوں نہیں ملتے؟
قرآن میں تو صرف 25 یا 26 انبیاء کا ذکر ہے جو سب کے سب مشرقِ وسطیٰ (ابراہیمی بیلٹ) سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس کا جواب قرآن نے خود سورہ النساء (آیت 164) میں دے دیا:
”وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ“
(اور بہت سے رسول ایسے ہیں جن کے حالات ہم نے آپ سے پہلے بیان کر دیے، اور بہت سے رسول ایسے ہیں جن کے حالات ہم نے آپ سے بیان نہیں کیے)۔
یہ آیت ”معلومات کے دائرے“ کو وسیع کر دیتی ہے۔ یعنی قرآن میں جن انبیاء کا ذکر ہے، وہ ”سیمپل“ (Sample) ہیں، ”ٹوٹل“ (Total) نہیں ہیں۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی ملک کی تاریخ کی کتاب میں صرف ان لیڈرز کا ذکر ہو جو مرکزی دھارے میں تھے، حالانکہ ہر صوبے اور ہر گاؤں میں بھی رہنما موجود تھے۔
قرآن کا مقصد ”تاریخ“ لکھنا یا بیان کرنا نہیں، بلکہ ”ہدایت“ دینا تھا، اس لیے اللہ نے صرف ان انبیاء کا ذکر کیا جو اس علاقے (عرب) کے لوگوں کے لیے جانے پہچانے تھے یا جن کے واقعات میں کوئی خاص عبرت پوشیدہ تھی۔
اب ہم آتے ہیں اس ”شماریاتی حقیقت“ (Statistical Reality) کی طرف جس کا اشارہ مسند احمد کی ایک صحیح حدیث میں ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کل ایک لاکھ چوبیس ہزار (124,000) کم و بیش انبیاء مبعوث فرمائے۔
اب ذرا ریاضی کا اصول لگائیں۔ ہمارے پاس قرآن و حدیث و دیگر الہامی کتب و صحائف میں زیادہ سے زیادہ 30 یا 40 نام ملتے ہیں۔
باقی ایک لاکھ تئیس ہزار نو سو ساٹھ (123,960) انبیاء کہاں گئے؟
کیا یہ سب کے سب مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں آئے تھے؟
یہ ناممکن ہے۔
عقل اور منطق کہتی ہے کہ یہ انبیاء یقیناً ان خطوں میں مبعوث ہوئے ہوں گے جو آج ہمیں ”غیر مسلم“ یا ”مشرکانہ“ نظر آتے ہیں۔ یعنی ہندوستان، چین، جاپان، امریکہ اور یورپ۔
جب ہم اس زاویے سے تاریخِ مذاہب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ایک حیران کن اور سنسنی خیز انکشاف ہوتا ہے:
دنیا کے بڑے بڑے مذاہب اور فلسفے، جو آج بت پرستی یا دیو مالائی داستانوں کا مجموعہ نظر آتے ہیں، دراصل اپنی ”اصل“ (Origin) میں توحید پرست تھے،
👇

اردو
Ruby Pti retweetledi
Ruby Pti retweetledi










