Sabitlenmiş Tweet

آبنائے ہرمز اور آبنائے رافضیت:
ایک طرف ایران چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے ذریعے عرب ممالک کی زمین میں رکھے ہوئے انسانیت کے نفع کے خزانے دنیا تک نہ پہنچ سکیں دوسری طرف چاہتاہے کہ حضرت محمد ﷺ پر نازل ہونے والے دین کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذریعے تمام بنی نوع اِنسان تکہ اشاعت کا راستہ بھی "آبنائے رافضیت " کی مدد سے روک لیا جائے۔
جبکہ رب کریم کی عطا کردہ روحانی اور مادی نعمتیں دونوں ہی انسانیت کی ہدایت اور بقاء کے لئے انتہائی ضروری ہیں
یہاں نبی ﷺ کی بعثت کا مقصد ، صحابہ کرام کی شان اور اللہ تعالیٰ کی دوسری دنیاوی نعمتوں کی اہمیت اور یاد دہانی بھی ضروری ہے:
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۟﴿١٢٩﴾ ترجمہ:
اے ہمارے رب! اور ان میں سے انہی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیات پڑھے، انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے۔ بے شک تو ہی غالب اور حکمت والا ہے۔ تفصیل:
سورۃ آل عمران (3:164)
عربی متن:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ۟﴿١٦٤﴾ ترجمہ:
اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا جب ان میں سے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیات پڑھتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب کردہ وہ مقدس جماعت تھی جس نے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والے قرآن مجید اور آپ ﷺ کی احادیث و سنت کو بعد کی نسلوں تک دیانت، امانت اور صدق کے ساتھ پہنچایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قرآن میں مدح و ثنا سے نوازا اور نبی ﷺ نے ان کی تعریف کی اور انہیں دین کی تبلیغ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
قرآن مجید کی آیات جو صحابہ کی ذمہ داری اور تبلیغ کی طرف اشارہ کرتی ہیں سورۃ آل عمران (3:110)
عربی متن:
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ ۚ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ ۟﴿١١٠﴾ ترجمہ:
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہو، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ (یہ آیت صحابہ کرام پر نازل ہوئی اور انہیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری سونپی گئی، جو دین کی تبلیغ کا بنیادی حصہ ہے۔)
سورۃ التوبہ (9:100)
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۟﴿١٠٠﴾ ترجمہ:
اور سب سے پہلے مہاجرین اور انصار اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ نیکی سے چلے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، اور اللہ نے ان کے لیے جنتیں تیار کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ (یہ آیت صحابہ کی فضیلت بیان کرتی ہے کہ وہ دین کی حفاظت اور تبلیغ میں سب سے آگے تھے۔)
سورۃ الفتح (48:29)
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا ۟﴿٢٩﴾ ترجمہ:
محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں... اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے مغفرت اور بڑا اجر۔ (یہ آیت صحابہ کی تبلیغ اور جہاد کی شان بیان کرتی ہے۔)
اللہ تعالیٰ کی بنی نوع اِنسان کو عطا مادی نعمتیں :
وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا ۟﴿٣٠﴾
أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا ۟ۙ﴿٣١﴾
وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا ۟ۙ﴿٣٢﴾
مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ ۟﴿٣٣﴾
"اور زمین کو اس کے بعد بچھایا۔ اس میں سے اس کا پانی اور اس کی چراگاہ نکالی۔ اور پہاڑ اس میں ٹھونس دیئے۔ تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے۔"
اَللَّهُ الَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ۟
"اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کر دیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں جہاز (کشتیاں) چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل (رزق) سے تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔"
جبکہ ایران چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرب ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات وغیرہ کی شکل میں جو مادی خزانے رکھے ہیں انکی اخراج کے ذرائع میزائلوں سے تباہ کر دئیے جائیں ، اگر کچھ بچ جاتا ہے تو اسکی ترسیل کو آبنائے ہرمز کی بندش کرکے ، سمندر میں تیرتے کارگو بحری جہازوں کو تباہ کرکے روک دیا۔
جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی دریافت ، اخراج اور انکی پوری دنیا میں ترسیل انسانیت کی بہت بڑی ضرورت ہے
پیٹرولیم مصنوعات کی ریفائنریوں کو تباہ کرکے ، انکی یا دوسرے سامان زیست کی ترسیل کو روک کر ایران فساد کا مرتکب ہو رہا ہے اور دنیا میں بسنے والے ان اربوں انسانوں کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے جن کا امریکہ ، اسرائیل کے ایران پر حملوں سے کوئی تعلق نہیں ۔
ایران کی موجودہ حالت ان آیات کی روشنی میں سمجھی جاسکتی ہے:
" اور لوگوں میں سے (بعض ایسے) ہیں جن کی بات (یا گفتگو) دنیا کی زندگی میں تمہیں اچھی لگتی ہے، اور وہ اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہے، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو (یا سب سے بڑا مخالف اور ٹیڑھا) ہے۔"
آیت 205: اور جب وہ (آپ سے) پلٹ جاتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے اور کھیتیوں (حرث/فصلوں) اور نسل (جانوروں یا انسانی اولاد) کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے، اور اللہ فساد کو بالکل پسند نہیں کرتا۔
ایران ان اسلامی جنگی قوانین کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب یزید بن ابی سفیان کو شام کی طرف لشکر بھیجا تو وصیت کی:
"لا تقتلوا شيخًا فانيًا ولا طفلاً ولا امرأة ولا تقطعوا نخلاً ولا تحرقوه ولا تقطعوا شجرة مثمرة ولا تهدموا بنيانًا"
(بوڑھے، بچے، عورت کو قتل نہ کرو، کھجور کا درخت نہ کاٹو نہ جلاؤ، پھل دار درخت نہ کاٹو، عمارتیں نہ گرانا)
— مؤطا امام مالک، کتاب الجہادیہ وصیت نبی ﷺ کی احادیث پر مبنی تھی اور خلفائے راشدین نے اسے جاری رکھا۔
اردو



























