Sabitlenmiş Tweet
Sania
216.2K posts

Sania
@Sania18plus
Classy enough to stay quiet, strong enough to walk away. Under 30 & dogs aren’t allowed. https://t.co/3IUqQYSmEa
اپنے گھر Katılım Aralık 2015
13K Takip Edilen57.4K Takipçiler

لالچ کی سرزمین
ایک ریاست تھی جس کا بادشاہ اپنی عقل، تدبر اور انصاف کی وجہ سے پورے ملک میں مشہور تھا۔ اس کے دربار میں خوشامد اور چاپلوسی کی کوئی جگہ نہ تھی۔ بادشاہ کہا کرتا تھا کہ خوشامدی لوگ دیمک کی مانند ہوتے ہیں، جو اقتدار کے اردگرد جمع ہو کر سچ، ضمیر اور حقیقت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
اسی لیے اس کے قریب صرف وہی لوگ رہتے تھے جو سچ بولنے کی ہمت رکھتے تھے۔ اس کے دربار میں تعریف نہیں، دلیل کی قدر تھی۔
بادشاہ کا ایک اصول تھا:
جو شخص عقل، فہم اور ذمہ داری میں غیر معمولی سمجھا جاتا، وہ پہلے اس کا امتحان لیتا۔ اگر وہ اس آزمائش میں کامیاب ہو جاتا تو اسے ریاست کا اہم منصب دے دیا جاتا تاکہ اس کی صلاحیتیں عوام کے کام آ سکیں۔
ایک دن بادشاہ نے اپنے وزیروں سے پوچھا:
“کیا اس ریاست میں کوئی ایسا شخص ہے جو عقل اور ذمہ داری میں مجھ سے بھی بڑھ کر ہو؟”
تمام وزیروں نے ایک ہی شخص کا نام لیا۔ اس کی سمجھ داری اور ذمہ داری کے چرچے پورے ملک میں تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ ہر کام کی تیاری پہلے سے کر لیتا اور پھر ہر حال میں اسے مکمل کرتا تھا۔
بادشاہ نے فوراً اسے دربار میں طلب کر لیا۔
جب وہ شخص حاضر ہوا تو بادشاہ نے کہا:
“میں تمہیں ایک موقع دینا چاہتا ہوں۔
کل صبح سورج طلوع ہونے سے لے کر شام غروب ہونے تک، ریاست کے تمام خزانے تمہارے اختیار میں ہوں گے۔
جو چاہو لے لو، جو چاہو منتخب کر لو۔
لیکن ایک شرط ہے…
شام سے پہلے تمہیں واپس آ کر ان تمام چیزوں کی رسیدیں اور کاغذات مجھ سے لینے ہوں گے، اور جو کچھ تم حقیقت میں اپنے گھر تک لے جا سکو گے، وہ ہمیشہ کے لیے تمہارا ہو جائے گا۔ باقی سب ریاست کی ملکیت رہے گا۔”
یہ سن کر ملکہ پریشان ہو گئی اور بولی:
“آپ نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے!”
مگر بادشاہ صرف مسکرا دیا۔
اگلی صبح وہ شخص خزانے میں داخل ہوا۔
چاروں طرف سونے کے ڈھیر، چاندی کے صندوق، ہیرے، جواہرات اور بے شمار قیمتی اشیاء بکھری ہوئی تھیں۔
اس نے ایک چیز اٹھائی…
پھر نظر دوسری پر پڑی۔
دل نے کہا:
“یہ اس سے زیادہ قیمتی ہے۔”
پہلی چیز واپس رکھی اور دوسری اٹھا لی۔
پھر تیسری چیز دکھائی دی، وہ اس سے بھی زیادہ دلکش تھی۔
وہ خود سے کہنے لگا:
“اگر یہ نہ لی تو بہت نقصان ہو جائے گا۔”
وقت گزرتا گیا۔
دوپہر تک وہ چیزیں جمع کرنے کے بجائے صرف انہیں دیکھتا، پرکھتا اور فہرستیں بناتا رہا۔ لالچ آہستہ آہستہ اس کی عقل پر غالب آتا گیا۔
ہر نئی چیز پچھلی سے زیادہ ضروری محسوس ہونے لگی۔
وہ بار بار سوچتا:
“بس یہ آخری چیز لے لوں، پھر واپس چلا جاؤں گا…”
لیکن واپسی، شرط، رسیدیں اور وقت…
سب اس کی نظروں سے اوجھل ہو چکے تھے۔
اور پھر سورج غروب ہو گیا۔
وہ کبھی واپس نہ آیا۔
شام کو وزیروں نے حیرت سے کہا:
“بادشاہ سلامت! آپ خوش قسمت تھے کہ بچ گئے۔
وہ شخص تو کبھی ناکام نہیں ہوا تھا۔ اگر وہ تیاری کر لیتا تو آج نتیجہ مختلف ہوتا۔”
بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا:
“میں نے اسے اپنی سلطنت میں نہیں آزمایا تھا…
میں نے اسے لالچ کی سرزمین پر کھڑا کر دیا تھا۔
اور یاد رکھو…
لالچ وہ اندھی سرزمین ہے جہاں عقل کا وجود ختم ہو جاتا ہے،
جہاں انسان جنت کے بدلے جہنم کا سودا کر آتا ہے۔”
پھر بادشاہ نے کہا:
“جب انسان کی عقل پر خواہش غالب آ جائے تو وہ حقیقت کو چھوڑ کر فریب کے پیچھے چل پڑتا ہے۔
لالچ انسان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیتی ہے کہ وہ شرط، اصول اور انجام سب بھول جاتا ہے۔
وہ ساری رات تیاری کرنے کے بجائے خیالی منصوبوں میں کھویا رہا…
اور یوں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سب کچھ کھو بیٹھا۔”
پھر بادشاہ نے آخر میں ایک جملہ کہا:
“اصل دانائی یہ نہیں کہ انسان کتنا حاصل کر سکتا ہے،
بلکہ یہ ہے کہ کب رکنا ہے، کیا لینا ہے، اور کس قیمت پر۔”

اردو

سفید بالوں کی کمائی
ایک درد بھری حقیقت پر مبنی سبق آموز واقعہ)
ابھی فجر کی اذان بھی نہ ہوئی تھی کہ امت اللہ کی آنکھ کھل گئی۔
اس کی شادی کو پانچ سال ہو چکے تھے۔ اس کا شوہر اشتیاق سرگودھا میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرتا تھا اور اللہ کے فضل سے گھر میں کوئی تنگی نہیں تھی۔ آج اسے میانوالی جانا تھا، کیونکہ اس کے والد بیمار تھے اور پچھلے چار دن سے کھانسی نے انہیں گھیر رکھا تھا۔
اشتیاق نے کہا تھا کہ امی کو فون کر لو، میں پیسے بھجوا دیتا ہوں، تم خود نہ جاؤ آرام کرو۔
لیکن امت اللہ کے لیے یہ ممکن نہ تھا۔ وہ اس کے باپ تھے… وہی بوڑھے ہاتھ جنہوں نے اسے چلنا سکھایا تھا، وہی آنکھیں جن میں اس کی شادی کے دن آنسو تھے۔
وہ سرگودھا سے میانوالی کا سفر تھا، تقریباً سوا تین گھنٹے کا راستہ۔ امت اللہ نے نیلے رنگ کا سوٹ پہنا اور ہاتھ میں چمڑے کا بیگ لیا جس میں اشتیاق نے ڈھائی لاکھ روپے رکھوائے تھے۔ اس نے کہا تھا: ابا کو دے دینا، اپنا علاج کرائیں، اور تمباکو چھوڑ دیں۔
بس چل پڑی… کھیت، نہریں اور گرد آلود راستے گزرتے گئے مگر اس کا ذہن اپنے باپ کے گرد گھوم رہا تھا۔
رفیق احمد…
سارا شہر انہیں رفیق ماسٹر کے نام سے جانتا تھا۔ گورنمنٹ ہائی سکول میں تیس سال تک پڑھاتے رہے، ننگے پاؤں مسجد جاتے، کسی سے اونچی آواز میں بات نہ کرتے۔ بیوی کے انتقال کے بعد دونوں بیٹیوں کو اکیلے پالا تھا۔
امت اللہ انہی خیالوں میں گم تھی کہ اچانک بس نے بریک لگائی۔
"میاں وٹو، بس روک دو۔"
"ابھی شہر دور ہے۔"
"بس تھوڑا پانی لینا ہے۔"
بس میانوالی کے قریب پہنچی تو ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ امت اللہ نے سوچا کہ باپ کے لیے پان لے لے، جیسا وہ ہر بار لاتی تھی۔
ڈرائیور نے کہا کہ آگے چھوٹا اسٹینڈ ہے، وہاں رک سکتے ہیں۔ بس رکی تو امت اللہ کی نظر باہر پڑی…
تیز دھوپ، گرد، اور ایک ادھیڑ عمر شخص جو ایک پرانی گاڑی صاف کر رہا تھا۔ اس کی کمر جھکی ہوئی تھی، بال سفید تھے، کپڑوں پر پسینہ اور مٹی کے دھبے تھے۔
امت اللہ کا دل جیسے رک گیا۔
وہ اس کا باپ تھا… رفیق ماسٹر۔
وہ یقین نہ کر سکی، مگر وہی چہرہ، وہی آنکھیں، وہی سادگی۔
اس نے دیکھا کہ اس کے باپ نے جیب سے پانچ سو کا نوٹ نکالا، دیکھا اور دوبارہ جیب میں رکھ لیا۔ امت اللہ سمجھ گئی کہ یہ وہی رقم تھی جو اس نے دو ماہ پہلے بھیجی تھی۔
وہ شخص جس نے ساری زندگی عزت سے پڑھایا، آج دوسروں کی گاڑیاں صاف کر رہا تھا۔
امت اللہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس کا بیگ بھاری لگنے لگا… ڈھائی لاکھ روپے۔ مگر وہ نیچے نہ اتر سکی۔
آخر اس نے ڈرائیور سے کہا: "چلیں۔"
بس چل پڑی، مگر اس کی آنکھوں میں آنسو بہتے رہے۔
جب وہ گھر پہنچی تو رفیق ماسٹر دروازے پر مسکرا رہے تھے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
"آ گئی بیٹا؟ میں کھانا بنوانے کا سوچ رہا تھا۔"
امت اللہ نے خاموشی سے زمین پر بیٹھ کر ان کے پاؤں پکڑ لیے۔
"ابا… میں نے سب دیکھ لیا ہے۔"
رفیق ماسٹر کا چہرہ زرد پڑ گیا۔
امت اللہ نے بیگ کھولا اور ڈھائی لاکھ روپے ان کے ہاتھ میں رکھ دیے۔
"ابا، آپ بوجھ نہیں ہیں… آپ وہ درخت ہیں جس کے سائے میں ہم نے زندگی پائی ہے۔"
رفیق ماسٹر کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
"میں نہیں چاہتا تھا کہ تمہیں پتہ چلے… میں تم پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا۔"
شام کو جب اشتیاق کو سب بتایا گیا تو اس نے صرف اتنا کہا:
"ابا کو فون دو۔"
اور پھر کہا:
"اب سے وہ کہیں نہیں جائیں گے… ان کی عزت ہماری عزت ہے۔"
رفیق ماسٹر نے آہستہ سے کہا:
"اللہ تم دونوں کو خوش رکھے۔"
رات کو امت اللہ نے دیکھا کہ اس کے باپ نے وہ پرانی قمیض دھو کر رکھ دی تھی جس پر محنت اور دھوپ کی مٹی لگی ہوئی تھی۔
وہ قمیض صرف کپڑا نہیں تھی… وہ ایک باپ کی قربانیوں کی کہانی تھی۔
✦ خلاصہ ✦
باپ وہ درخت ہے جو خود جل کر بھی اولاد کو سایہ دیتا ہے، اور اولاد کی محبت وہ پانی ہے جو اس درخت کو دوبارہ ہرا کر دیتی ہے۔ اصل عزت دولت میں نہیں، کردار میں ہوتی ہے۔ 📷📷
✦ سوال ✦
کیا آپ کی زندگی میں بھی کبھی ایسا لمحہ آیا ہے جب آپ نے محسوس کیا ہو کہ آپ کے والدین نے آپ کے لیے اپنی خوشیاں قربان کیں؟

اردو

🌊🐋 جب سمندر خاموش تھا اور مچھلی کے پیٹ میں ایک نبی زندہ رکھا گیا 🐋🌊
حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ مجید میں ایک مکمل تاریخی حقیقت کے طور پر بیان ہوا ہے۔
یہ کوئی افسانہ، تمثیل یا داستان نہیں، بلکہ وہ سچا واقعہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی آسمانی کتاب میں محفوظ فرما دیا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو نینویٰ کی قوم کی طرف بھیجا۔
آپؑ نے انہیں توحید کی دعوت دی، اللہ کے عذاب سے ڈرایا، اور حق کا واضح پیغام پہنچایا۔
لیکن قوم مسلسل انکار، سرکشی اور تکذیب پر قائم رہی۔
اس مسلسل نافرمانی پر حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کو چھوڑ کر روانہ ہو گئے، حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ترکِ قوم کا حتمی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔
قرآنِ مجید اس مرحلے کو یوں بیان کرتا ہے کہ:
حضرت یونس علیہ السلام غصے کی حالت میں نکل گئے اور یہ گمان کیا کہ ان پر گرفت نہیں ہوگی۔
(سورۃ الانبیاء)
🌊 پھر وہ لمحہ آیا جب سمندر نے ایک عظیم معجزہ دیکھا…
حضرت یونس علیہ السلام ایک کشتی میں سوار ہوئے۔
جب کشتی سمندر کے بیچ پہنچی تو شدید طوفان آ گیا۔
کشتی بوجھ سے بھری ہوئی تھی اور ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تاکہ ایک شخص کو سمندر میں ڈال دیا جائے اور باقی لوگ بچ جائیں۔
قرعہ حضرت یونس علیہ السلام کے نام نکلا۔
قرآنِ مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ قرعہ انہی کے نام آیا اور پھر انہیں سمندر میں ڈال دیا گیا۔
(سورۃ الصافات)
🐋 جونہی حضرت یونس علیہ السلام سمندر میں گرے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک عظیم مچھلی نے انہیں نگل لیا۔
یہ قرآن کا واضح بیان ہے کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں زندہ تھے۔
نہ ان کے جسم کو نقصان پہنچا، نہ ان کی ہڈیاں ٹوٹیں۔
قرآن فرماتا ہے:
«“پس مچھلی نے انہیں نگل لیا اور وہ اپنے نفس پر ملامت کرنے والوں میں سے تھے۔”
(سورۃ الصافات)»
اندھیری رات…
سمندر کی گہرائی…
اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا…
ایسے میں حضرت یونس علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جسے قرآن نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا:
🤍
«“لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ”
“تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔”»
قرآنِ مجید فرماتا ہے کہ اگر حضرت یونس علیہ السلام اللہ کی تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔
(سورۃ الصافات)
📖 جہاں تک مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت کا تعلق ہے، قرآنِ مجید نے اس کی واضح تعداد بیان نہیں کی۔
البتہ مختلف اسلامی روایات میں تین دن، سات دن اور چالیس دن تک کے اقوال منقول ہیں۔
مفسرین نے ان اقوال کو روایت کے طور پر ذکر کیا ہے، جبکہ قرآن نے اصل معجزے پر زور دیا کہ ایک نبی اللہ کے حکم سے زندہ محفوظ رکھا گیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا اور اس نے حضرت یونس علیہ السلام کو ساحل پر اگل دیا۔
اس وقت آپؑ جسمانی طور پر بہت کمزور ہو چکے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک بیل دار درخت اگایا تاکہ انہیں سایہ اور آرام مل سکے۔
یہ تمام تفصیل قرآنِ مجید میں موجود ہے، بغیر کسی انسانی اضافہ کے۔
🌿 اس کے بعد حضرت یونس علیہ السلام دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس گئے۔
اس مرتبہ قوم ایمان لے آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر سے عذاب ٹال دیا۔
(سورۃ یونس)
یہ واقعہ قرآنِ مجید کی متعدد سورتوں میں بیان ہوا ہے:
📖 سورۃ الانبیاء
📖 سورۃ الصافات
📖 سورۃ القلم
📖 سورۃ یونس
یہ نہ کوئی افسانہ ہے، نہ شاعری، نہ فرضی حکایت…
بلکہ وہ سچی حقیقت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں محفوظ فرما دیا۔
یہی وہ واقعہ ہے جہاں:
ایک نبی سمندر میں ڈالا گیا…
مچھلی کے پیٹ میں زندہ رکھا گیا…
اور پھر اللہ کے حکم سے دوبارہ خشکی پر واپس لایا گیا۔
✨
جب دنیا کے سارے راستے بند ہو جائیں، تب بھی اللہ کی رحمت سمندر کی گہرائیوں میں راستہ بنا دیتی ہے۔
✨
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ہمارے والدین اور اولاد کو اپنے نیک صالحین اور برگزیدہ بندوں میں شمار فرمائے آمین یارب العالمین

اردو

ایک محدث اور ایک طفیلی کا دلچسپ واقعہ
مشہور محدث فرماتے ہیں کہ میرے پڑوس میں ایک طفیلی رہتا تھا۔ میں جہاں بھی کسی دعوتِ ولیمہ میں جاتا، وہ نہایت عمدہ لباس پہن کر میرے ساتھ ہو لیتا۔ لوگ اسے میرا قریبی آدمی سمجھ کر بڑی عزت و تکریم دیتے تھے۔
اتفاق سے ایک دن کے ہاں ختنہ کی تقریب میں میری دعوت تھی۔ جب گورنر کا قاصد مجھے بلانے آیا تو وہ طفیلی بھی شاندار لباس پہن کر میرے ساتھ چل پڑا۔ اس دن مجھے سخت غصہ آیا اور میں نے دل میں ارادہ کر لیا کہ آج اسے ضرور شرمندہ کروں تاکہ آئندہ میرا پیچھا چھوڑ دے۔
جب دسترخوان بچھ گیا اور علماء و مشائخ اور بصرہ کے معززین کھانے میں مصروف ہوئے تو میں نے اپنی سند کے ساتھ یہ حدیث پڑھنی شروع کر دی:
حدثني درسة بن زياد عن أبان بن طارق عن نافع عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
من دخل دار قوم بغير إذنهم فأكل طعامهم دخل سارقاً وخرج مغيراً۔
یعنی: “جو شخص بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخل ہو کر ان کا کھانا کھا لے، وہ چور بن کر داخل ہوتا ہے اور ڈاکو بن کر نکلتا ہے۔”
یہ حدیث سنتے ہی وہ طفیلی غصے سے بھڑک اٹھا اور کہنے لگا:
“اے ابو عمرو! خدا کی قسم، آپ نے یہ حدیث صرف مجھے رسوا کرنے کے لیے بیان کی ہے۔ اس کی سند میں درسة بن زیاد ضعیف ہے اور أبان بن طارق متروک راوی ہے۔ پھر یہ حدیث اجماعِ مسلمین کے بھی خلاف ہے، کیونکہ کسی امام کا یہ مذہب نہیں کہ بغیر دعوت کسی کے ساتھ کھانا کھا لینے والے کو چور یا ڈاکو قرار دیا جائے۔”
پھر اس نے فوراً یہ حدیث پڑھ دی:
حدثنا أبو عاصم عن ابن جريج عن الزبير عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
طعام الواحد يكفي الاثنين، وطعام الاثنين يكفي الأربعة، وطعام الأربعة يكفي الثمانية۔
یعنی:
“ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے، دو کا چار کے لیے، اور چار کا آٹھ آدمیوں کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔”
پھر وہ بڑے فخر سے بولا:
“اس حدیث کی سند اور متن دونوں بالکل صحیح ہیں!”
فرماتے ہیں کہ اس شخص کی حاضر جوابی اور علمِ حدیث نے مجھے حیران اور لاجواب کر دیا۔ البتہ کھانے کے بعد جب ہم گورنر کے محل سے واپس روانہ ہوئے تو وہ میرے پیچھے چلنے کے بجائے سڑک کی دوسری جانب چلتا رہا اور مجھے سنا سنا کر یہ شعر پڑھتا رہا:
وَمَنْ ظَنَّ مِمَّنْ يُلاقِي الْعُرُوبَ
بِأَنْ لَا يُصَابَ فَقَدْ ظَنَّ عَجْزاً
یعنی:
“جو شخص جنگ میں یہ سمجھ کر اترے کہ اسے کوئی چوٹ نہیں لگے گی، تو یہ اس کی بہت بڑی کم عقلی ہے۔”
(ثمرات الأوراق، ج 1، ص 155)
نتیجہ:
اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف میں علمِ حدیث کا کس قدر چرچا تھا۔ عام درجے کے مسلمان بھی بے شمار احادیث زبانی یاد رکھتے تھے، معانیِ حدیث پر عبور رکھتے تھے، اور ضرورت پڑنے پر برمحل احادیث سے استدلال بھی کیا کرتے تھے۔ ساتھ ہی راویوں کے جرح و تعدیل کا بھی گہرا علم رکھتے تھے۔

اردو
Sania retweetledi

Gordon lightfoot for sundown
Elton John for cold heart
Ellie Goulding for love me like you do
Paloma faith for only love can hurt like this
Naila Malik@5malii
@SunoAlayna Adele British singer she’s my All time favourite ❤️
English
Sania retweetledi

یہ میری باتیں خاص طور پر ان لڑکیوں کے لیے جو ابھی اپنی زندگی کے حسین سفر پر قدم رکھ رہی ہیں۔
کبھی سوچا ہے، تمہاری شادی کی زندگی میں محبت اور عزت کی اصل چابی کہاں ہے؟
کیا یہ صرف تمہارے شوہر کی خوشیوں پر منحصر ہے یا تمہاری اپنی سوچ، تمہارے عمل، اور تمہارے جذبوں میں چھپی ہوئی ہے؟
ہم سب جانتے ہیں کہ کچھ مرد اپنی شادی سے بےنیاز ہو کر دوسری عورتوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ کچھ کی یہ عادت بن جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ تم نے اپنے اندر کیا بدلا؟
کیا تم نے اپنی زبان کو ایسا بنایا جو شوہر کے دل کو چھو لے؟ یا تمہاری باتیں اس کے دل کو چبھتی ہیں؟
جب تم اپنے شوہر کے قریب ہو، کیا تم اسے محسوس کراتی ہو کہ وہ تمہاری دنیا ہے؟
وہ جہاں تمہارے دل کی دھڑکن سنائی دیتی ہے، تمہاری محبت کی گرمی چھلکتی ہے؟
یا تم خاموش، بےجان، اور تھکی ہوئی بیٹھتی ہو جیسے زندگی کے رنگ تم سے چھن گئے ہوں؟
یاد رکھو، زبان کا کڑوا پن، تلخ باتیں، اور بے حسی کے گھونٹ اس رشتے کو زہر بنا دیتے ہیں۔
اور جب تمہاری زبان نرم اور محبت بھری ہو تو وہ مرد کا دل گلزار ہو جاتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں تمہارے لباس، تمہارے حسن کی۔
کیا تم نے کبھی اپنے آپ کو اپنے شوہر کی نظر سے دیکھا؟
جب وہ گھر آتا ہے تو تمہاری خوشبو اسے تازگی کا احساس دے؟
تمہاری صورت اس کے لیے جنت کا منظر ہو؟
یا تم اس کی واپسی پر پیاز کی بُو میں لپٹی، تھکی ماندی نظر آتی ہو؟
پیارے بہن، محبت صرف گھر کا کام نہیں، یہ جذبہ ہے، یہ زندگی کا رنگ ہے۔
اپنے آپ کو سنوارنا، اپنی ذات کی قدر کرنا، اور اپنے رشتے میں نئی جان ڈالنا تمہاری ذمہ داری ہے۔
یہی محبت کا اصل کمال ہے جو تمہارے شوہر کے دل کو تمہارے ساتھ باندھتا ہے۔
اللہ نے فرمایا:
"اور وہ تم میں سے ایک دوسرے کے لیے لباس ہیں۔" (سورۃ البقرہ: 187)
یعنی تم دونوں ایک دوسرے کے لیے عزت، محبت، اور حفاظت ہو۔
اگر تم یہ سب کرو گی تو کوئی طاقت تمہارے رشتے کو توڑ نہیں سکتی۔
اور تمہاری زندگی خوشیوں سے بھر جائے گی، اور تم اللہ کی رضا بھی حاصل کرو گی۔
تو آؤ، آج سے اپنے رشتے کی حفاظت کرو۔
اپنی زبان کو مٹھاس دو، اپنی محبت کو جلا دو، اور اپنے آپ کو اس انداز میں پیش کرو جو تمہارے شوہر کے دل کو بھا جائے۔
کیونکہ تمہاری خوشی تمہارے ہاتھ میں ہے، اور تم ہی ہو جو اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہو۔
Maria Baloch@MariaBalochPK
اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے مرد دوسری عورتوں میں دلچسپی کیوں لیتا ہے ؟
اردو

آج رمضان کا پہلا روزہ تھا…
اور پہلی سحری بھی بہت سادہ سی تھی۔ چند کھجوریں، ایک کپ چائے اور پانی۔
گھر میں آٹا ختم تھا، چینی بھی نہیں تھی اور سبزی کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ دل ہی دل میں بس ایک دعا تھی:
“یا اللہ! اس بابرکت مہینے میں ہماری عزت رکھ لینا۔”
ہماری حالت کسی سے چھپی ہوئی نہیں تھی، خاص طور پر میری بھابھی سے۔ وہ جانتی تھی کہ میرا شوہر دن بھر رکشہ چلا کر جتنا کماتا ہے، اسی سے رات کا چولہا جلتا ہے۔
دوپہر کو اچانک اس کا فون آیا۔
“کل افطاری تمہارے گھر کریں گے… بچوں کا دل ہے تم لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کا۔”
اس کی آواز میں اپنائیت کم اور طنز زیادہ تھا۔
میں چند لمحے خاموش رہی، پھر بس اتنا کہا:
“جی بھابھی، جیسے آپ بہتر سمجھیں۔”
فون بند ہوا تو ہاتھ کانپ رہے تھے۔ شوہر کو بتایا تو وہ کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا، پھر مسکرا کر بولا:
“اللہ بڑا کارساز ہے، کوئی نہ کوئی راستہ بنا دے گا۔”
اگلی صبح وہ روزے کی حالت میں رکشہ لے کر نکل گیا۔ شدید گرمی تھی، مگر اس کے چہرے پر امید باقی تھی۔
میں سارا دن حساب لگاتی رہی کہ اگر پانچ سو روپے بھی آئے تو پندرہ مہمانوں کی افطاری کیسے ہوگی؟
شام ہوئی… دروازہ کھلا…
وہ تھکا ہارا اندر آیا اور خاموشی سے پانچ سو روپے میرے ہاتھ پر رکھ دیے۔
“بس اتنے ہی بن سکے آج…”
میری آنکھیں بھر آئیں۔
“پانچ سو میں اتنے لوگوں کی افطاری کیسے ہوگی؟”
وہ پھر مسکرایا:
“جتنی ہو سکے گی، کر لیں گے… باقی اللہ مالک ہے۔”
میں بازار گئی اور تھوڑا سا سامان لے آئی۔ چند آلو، تھوڑا بیسن، آدھا کلو چینی، کچھ کیلے اور چنے۔
دل میں مسلسل دعا تھی:
“یا اللہ! آج ہماری لاج رکھ لینا…”
افطاری سے کچھ دیر پہلے ایک بڑی گاڑی دروازے پر آ کر رکی۔
بھابھی بڑے اہتمام سے اندر آئی، چاروں طرف دیکھا اور طنزیہ انداز میں بولی:
“ارے… ابھی تک تیاری مکمل نہیں ہوئی؟ ہم تو سمجھے تھے آج خاص افطاری ہوگی!”
میں بس مسکرا دی اور کچن کی طرف چلی گئی تاکہ آنسو کوئی نہ دیکھ سکے۔
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔
دروازہ کھولا تو سامنے مسجد کے امام صاحب کھڑے تھے۔ ان کے ساتھ دو نوجوان اور کئی تھیلے تھے۔
“بیٹی! محلے کی طرف سے راشن تقسیم ہو رہا تھا۔ تمہارے شوہر کا نام بھی شامل تھا، ہم سوچے خود دے آئیں۔”
میں حیران رہ گئی…
تھیلوں میں آٹا، چاول، دالیں، تیل، چینی، کھجوریں، فروٹ، حتیٰ کہ سموسے اور پکوڑوں کے پیکٹ بھی موجود تھے۔
میرے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔
امام صاحب مسکرا کر بولے:
“یہ رمضان ہے بیٹی… اللہ اپنے بندوں کو رسوا نہیں کرتا۔”
میں نے فوراً تیاری شروع کر دی۔
دیکھتے ہی دیکھتے دسترخوان سج گیا۔ سموسے، پکوڑے، فروٹ چاٹ، شربت… سب کچھ۔
اذان ہوئی، ہم سب نے روزہ افطار کیا۔
میرے شوہر کی آنکھیں نم تھیں۔
اس نے آہستہ سے کہا:
“دیکھا… اللہ نے ہماری عزت رکھ لی۔”
افطاری کے بعد بھابھی میرے پاس آئی۔
اس کی آواز سے طنز غائب ہو چکا تھا۔
“مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم لوگ واقعی اتنی مشکل میں ہو…”
میں نے نرمی سے کہا:
“رمضان انسان کو بہت کچھ سکھا دیتا ہے بھابھی…”
وہ خاموش رہی، پھر اپنے بیگ سے ایک لفافہ نکال کر بولی:
“یہ بچوں کے لیے رکھ لو… اور اب راشن کی فکر مت کرنا۔”
اس رات مجھے ایک بات سمجھ آ گئی…
غربت عیب نہیں، آزمائش ہے۔
اور آزمائش میں جو اللہ پر بھروسہ رکھے، وہی اصل امیر ہوتا ہے۔
رمضان ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ
لوگوں کے سامنے نہیں… اللہ کے سامنے جھکنا چاہیے۔
کیونکہ جب دنیا کے سارے دروازے بند ہو جائیں، تب بھی اللہ رحمت کا ایک دروازہ ضرور کھول دیتا ہے۔
“یا اللہ! اگر آزمائش دینا تو صبر بھی دینا…
اور اگر رزق دینا تو عزت کے ساتھ دینا

اردو

عورت جب ایک سے زیادہ مرد کا جسم دیکھے تو؟
سب سے پہلے آپکو یہ بتا دینا ضروری ہے کے ہر انسان ایک کے ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا اور بلکل ایسے ہی سوچ بھی ہر انسان کی الگ ہوتی ہے ایسے ہی کچھ عورتیں غلطی یا نادانی میں ایک سے زیادہ مرد کے ساتھ زنا کر بیٹھتی ہیں۔ مگر وہ یہ بات نہیں جانتی کے آگے زندگی کتنی دشوار ہو سکتی ہے۔ کیوں کے جب کوئی عورت ایک سے زیادہ مرد کا جسم دیکھ لے تو عورت بے بے شرم تو ہو ہی جاتی ہے اسکے ساتھ ساتھ وہ بھی پھر ایک مرد سے خوش نہیں ہوتی کیوں کے عورت پھر آزاد خ پھر آزاد خیال ہو جاتی ہے۔ ایسی عورت کا پھر ایک مرد کے ساتھ گزارا نہیں ہوتا۔ وہ ایک مرد سے لڑتی ہے تو دوسرے کے پاس چلی جاتی ہے۔
اردو

اسے لگا حمل میں چکر آنا ایک عام سی کمزوری ہے
مگر حقیقت یہ تھی کہ جسم اندر ہی اندر خاموش خطرے کی طرف جا رہا تھا اور وہ اسے سمجھ نہیں پا رہی تھی… شروع کے دنوں میں ہلکی تھکن، بار بار نیند آنا اور کھڑے ہوتے ہی سر گھومنا اسے نارمل لگا کیونکہ ہر کوئی یہی کہہ رہا تھا کہ حمل میں ایسا ہوتا ہے
وقت گزرتا گیا اور علامات بڑھتی گئیں، اب صرف چکر ہی نہیں بلکہ دل کی دھڑکن تیز ہونا، سانس پھولنا اور چہرے کی رنگت کا پیلا پڑ جانا بھی شروع ہو گیا تھا مگر وہ پھر بھی یہی سوچتی رہی کہ شاید یہ حمل کی عام تبدیلیاں ہیں اور آرام کرنے سے سب ٹھیک ہو جائے گا
ایک دن ایسا آیا کہ وہ معمول کے مطابق گھر کے کام کرتے ہوئے اچانک زمین پر گرنے کے قریب ہو گئی، آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا اور جسم میں اتنی کمزوری محسوس ہوئی کہ وہ خود کو سنبھال بھی نہ سکی، اسی لمحے گھر والوں کو پہلی بار حقیقی فکر ہوئی
آخرکار اسے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا جہاں مکمل چیک اپ اور خون کے ٹیسٹ کیے گئے، جب رپورٹ آئی تو ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ عام کمزوری نہیں بلکہ شدید آئرن کی کمی یعنی Iron Deficiency Anemia ہے جو حمل میں ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے اگر اس کو نظر انداز کیا جائے
ڈاکٹر نے سمجھایا کہ آئرن جسم میں خون بنانے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے اور جب یہ کم ہو جائے تو جسم کو آکسیجن پوری نہیں ملتی جس کی وجہ سے چکر آنا، کمزوری، سانس پھولنا اور دل کی دھڑکن تیز ہونا شروع ہو جاتا ہے اور حمل میں یہ حالت مزید حساس ہو جاتی ہے
پھر ڈاکٹر نے علاج شروع کیا اور بتایا کہ آئرن کی کمی کو پورا کرنے کے لیے روزانہ آئرن سپلیمنٹس لینا ضروری ہے جو اکثر فولک ایسڈ کے ساتھ دیے جاتے ہیں، ساتھ ہی ایسی خوراک لازمی ہے جس میں آئرن زیادہ ہو جیسے پالک، گوشت، کلیجی، دالیں، چنے، کشمش اور انار
ڈاکٹر نے یہ بھی کہا کہ آئرن والی غذا کے ساتھ وٹامن سی والی چیزیں جیسے لیموں، مالٹا یا سنترا ضرور استعمال کیا جائے کیونکہ یہ آئرن کو جسم میں بہتر جذب کرنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ چائے اور کافی کھانے کے فوراً بعد نہیں لینی چاہیے کیونکہ یہ آئرن کو کم کر دیتے ہیں
کچھ دن علاج اور صحیح خوراک کے بعد اس کی حالت آہستہ آہستہ بہتر ہونا شروع ہو گئی، چکر کم ہونے لگے، جسم میں جان آنے لگی اور وہ دوبارہ معمول کے کام بہتر طریقے سے کرنے لگی مگر اسے یہ سبق مل چکا تھا کہ چھوٹی علامات کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے
ڈاکٹر نے آخر میں سختی سے سمجھایا کہ حمل میں معمولی چکر کو بھی ہلکا نہ لیا جائے، وقت پر خون کا ٹیسٹ کروانا اور آئرن کی کمی کو شروع میں ہی پورا کرنا ماں اور بچے دونوں کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ غفلت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے
اب وہ ہر دوسری حاملہ عورت کو یہی کہتی ہے کہ اگر چکر آئیں، کمزوری ہو یا رنگ پیلا پڑنے لگے تو فوراً ٹیسٹ کروائیں اور اپنی خوراک بہتر کریں کیونکہ بروقت توجہ ہی ایک صحت مند ماں اور صحت مند بچے کی ضمانت ہے

اردو

وہ کنواری لڑک تھی مگر ایک بچے کے لیے پوری دنیا سے لڑ گئی!
رات کے تقریباً گیارہ بج رہے تھے۔ سردی بہت زیادہ تھی اور ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی۔ سڑک تقریباً خالی تھی۔ ایک غیر شادی شدہ لڑکی اسپتال سے واپس آ رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر کچرے کے ڈبے کے قریب پڑی۔ پہلے اسے لگا شاید بلی کی آواز ہے، مگر جب وہ قریب گئی تو اس کے قدم رک گئے۔ ایک ننھا سا بچہ کپڑے میں لپٹا کانپ رہا تھا… اتنا چھوٹا کہ شاید ابھی دنیا میں آئے چند دن ہی ہوئے تھے۔ آس پاس کوئی نہیں تھا، نہ کوئی خط، نہ کوئی شناخت۔ صرف ایک بے بس بچہ… اور سرد رات۔ وہ چند لمحے خاموش کھڑی رہی، پھر اس نے بچے کو اپنی گود میں اٹھایا اور پہلی بار اس کے دل میں عجیب سا درد جاگا، جیسے قسمت نے اچانک اس کے ہاتھ میں کسی کی پوری زندگی رکھ دی ہو۔
اس نے بچے کو پولیس اسٹیشن اور پھر اسپتال پہنچایا۔ قانون کے مطابق کافی دن انتظار کیا گیا کہ شاید کوئی لینے آ جائے، مگر کوئی نہ آیا۔ سب لوگ ایک ہی بات کہہ رہے تھے، “اسے کسی یتیم خانے میں دے دو، تم اکیلی لڑکی ہو، یہ تمہاری ذمہ داری نہیں۔” مگر نجانے کیوں وہ روز اسپتال جا کر اس بچے کو دیکھتی۔ بچہ جب بھی روتا، وہی اسے چپ کرواتی۔ جب وہ ہنستا، اس کا دل عجیب سکون محسوس کرتا۔ ایک دن ڈاکٹر نے کہا، “اگر تم چاہو تو قانونی طریقے سے اسے گود لے سکتی ہو۔” سب نے اسے پاگل کہا… مگر اس نے خاموشی سے ایک فیصلہ کر لیا۔
کاغذی کارروائی آسان نہیں تھی۔ لوگوں کے سوال اس سے بھی زیادہ مشکل تھے۔ “غیر شادی شدہ ہو، اکیلی بچے کو کیسے سنبھالو گی؟” “کل شادی ہوئی تو شوہر مانے گا؟” “لوگ کیا کہیں گے؟” مگر وہ ہر سوال کے جواب میں صرف ایک بات کہتی، “جب اسے کسی نے نہیں اپنایا، تو میں کیوں چھوڑ دوں؟” کافی مہینوں کے بعد وہ بچہ قانونی طور پر اس کا ہو گیا۔ اس دن اس نے پہلی بار دل سے مسکرا کر کہا، “اب تم اکیلے نہیں ہو۔”
زندگی آسان نہیں تھی۔ وہ نوکری بھی کرتی، رات کو بچے کو سنبھالتی، بیمار ہوتا تو پوری رات جاگتی۔ کبھی پیسے کم پڑ جاتے، کبھی لوگ عجیب نظریں ڈالتے۔ محلے والی عورتیں سرگوشیاں کرتیں، “پتا نہیں بچہ کہاں سے لے آئی۔” کچھ لوگ کردار پر بھی سوال اٹھاتے۔ کئی بار وہ رات کو خاموشی سے روتی، مگر صبح پھر مسکرا کر بچے کو اسکول تیار کرتی۔ کیونکہ اب اس کی اپنی زندگی سے زیادہ اہم وہ بچہ تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ بچہ بڑا ہونے لگا۔ اسکول میں جب دوسرے بچوں کے ماں باپ آتے، وہ ہمیشہ ایک سوال کرتا، “میرے ابو کہاں ہیں؟” یہ سوال اسے اندر سے توڑ دیتا۔ ایک دن اس نے ہمت کر کے سچ بتا دیا، “میں نے تمہیں پیدا نہیں کیا… مگر میں نے تمہیں چھوڑا بھی نہیں۔ میں نے تمہیں چنا تھا۔” بچہ خاموش رہا، پھر اس کے گلے لگ کر بولا، “میرے لیے آپ ہی سب کچھ ہیں۔” اس دن پہلی بار اسے لگا شاید اس کی ساری قربانی کامیاب ہو گئی۔
کئی بار اس کے لیے رشتے آئے۔ کچھ لوگوں نے کہا، “بچے کو یتیم خانے بھیج دو، نئی زندگی شروع کرو۔” کچھ نے شرط رکھی، “شادی کرنی ہے تو بچے کو چھوڑنا ہوگا۔” مگر ہر بار وہ ایک ہی جواب دیتی، “جسے میں نے اپنی گود میں لے کر زندگی دی، اسے میں کسی شرط پر نہیں چھوڑ سکتی۔” وقت گزرتا گیا… اس کی عمر بڑھتی گئی… مگر اس نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ بدلنے نہیں دیا۔
بچہ اب جوان ہو چکا تھا۔ پڑھائی میں بہت اچھا تھا۔ وہ ہمیشہ کہتا، “ایک دن میں آپ پر فخر کرواؤں گا۔” اس نے محنت کی، اسکالرشپ لی اور ایک اچھی نوکری حاصل کر لی۔ جب پہلی تنخواہ ملی تو وہ سیدھا گھر آیا، ایک خوبصورت سا کیک لایا اور بولا، “آج میری کامیابی نہیں… آج اس عورت کی کامیابی ہے جس نے مجھے کچرے سے اٹھا کر زندگی دی۔” یہ سن کر اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
کچھ عرصے بعد ایک دن وہی محلے والے، جو کبھی باتیں کرتے تھے، اس کی مثال دینے لگے۔ لوگ کہتے، “ماں بننے کے لیے صرف جنم دینا ضروری نہیں، دل بھی بڑا ہونا چاہیے۔” مگر اسے کبھی لوگوں کی تعریف سے فرق نہیں پڑا۔ اس کے لیے سب سے بڑی خوشی یہ تھی کہ جس بچے کو دنیا نے چھوڑ دیا تھا، آج وہ عزت سے جینا سیکھ چکا تھا۔
ایک شام وہ خاموش بیٹھی پرانی تصویریں دیکھ رہی تھی۔ بچہ، جو اب بڑا آدمی بن چکا تھا، اس کے پاس بیٹھا اور بولا، “آپ نے میرے لیے اپنی پوری زندگی کیوں قربان کی؟” وہ ہلکا سا مسکرائی اور بولی، “کچھ رشتے خون سے نہیں بنتے… کچھ رشتے دل خود چن لیتا ہے۔ تم میرے نصیب میں شاید اسی رات لکھے گئے تھے۔” وہ لمحہ دونوں کی آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر گیا۔
دنیا میں بہت لوگ محبت کے دعوے کرتے ہیں… مگر کسی لاوارث بچے کو اپنا نام، وقت، محبت اور پوری زندگی دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ کبھی کبھی سب سے خوبصورت رشتے وہ ہوتے ہیں، جو قسمت اچانک ہمارے ہاتھ میں رکھ دیتی ہے۔ آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا اس لڑکی نے صحیح فیصلہ کیا کہ اس نے بچے کے لیے کبھی شادی نہیں کی؟

اردو

وہ بچہ چاہتی تھی مگر ہر بار امید کے ساتھ کچھ ٹوٹ جاتا تھا
شروع میں سب کہتے تھے کہ یہ عام سی بات ہے
کچھ وقت لگتا ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا
وہ بھی یقین کر لیتی
اور ہر بار نئی امید کے ساتھ انتظار شروع کر دیتی
ہر مہینے جب دن قریب آتے
دل دھڑکنے لگتا
شاید اس بار خوشخبری مل جائے
لیکن ہر بار خاموشی رہتی
اور امید آہستہ آہستہ ٹوٹ جاتی
کبھی ٹیسٹ نیگیٹو آتا
کبھی اچانک جسم کمزور ہو جاتا
کبھی کچھ بھی واضح نہیں ہوتا
وقت گزرتا گیا
اور خوشی کا انتظار ایک بوجھ بنتا گیا
گھر والے کچھ کہتے نہیں تھے
لیکن خاموشی سب کچھ کہہ دیتی تھی
وہ خود کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرتی
لیکن راتوں میں ٹوٹ جاتی
آئینے میں خود کو دیکھتی
اور سوچتی کیا مسئلہ صرف اس کے ساتھ ہے
ڈاکٹروں کے پاس جانا شروع کیا
پہلے کہا گیا سب ٹھیک ہے
بس ذہنی دباؤ کم کرو
وہ مزید الجھ گئی
کیونکہ مسئلہ ذہن میں نہیں تھا
مسئلہ جسم کے اندر چھپا ہوا تھا
دن گزرتے گئے
اور امید کمزور ہوتی گئی
پھر ایک دن ایک بڑے اسپیشلسٹ کے پاس گئی
جہاں تفصیلی ٹیسٹ کیے گئے
خون کے ٹیسٹ
ہارمونز کی جانچ
اور کچھ اسپیشل امیون ٹیسٹ
اور وہیں سے اصل حقیقت سامنے آئی
اس کے جسم میں ایک آٹو امیون بیماری تھی
جو حمل کو شروع ہوتے ہی قبول نہیں کرتی تھی
یعنی اس کا اپنا جسم ہی
ہر نئی زندگی کو روک رہا تھا
یہ سن کر وہ بالکل خاموش ہو گئی
کیونکہ اتنے سالوں کی تکلیف کا جواب اب ملا تھا
یہ غصہ نہیں تھا
یہ صرف ایک عجیب سا سکون تھا
کہ کم از کم وجہ تو پتہ چل گئی
علاج شروع ہوا
اس میں دوائیاں تھیں
لائف اسٹائل چینج تھا
اور سب سے زیادہ صبر تھا
ہر مہینہ چیک اپ ہوتا
ہر رپورٹ دیکھی جاتی
اور آہستہ آہستہ بہتری آنے لگی
اس بار امید احتیاط کے ساتھ تھی
کوئی جلد بازی نہیں تھی
بس ایک خاموش سا یقین تھا
اور پھر ایک دن
زندگی نے دوبارہ دروازہ کھٹکھٹایا
اس بار ٹیسٹ مثبت آیا
لیکن اب خوف بھی ساتھ تھا
ڈاکٹرز نے مسلسل نگرانی شروع کی
ہر قدم احتیاط سے لیا گیا
دن گزرتے گئے
اور یہ بار زندگی رکنے کے بجائے آگے بڑھ رہی تھی
وہ ہر دن شکر کرتی
کیونکہ اب اسے احساس تھا
کہ سب سے بڑی جنگ جسم کے اندر تھی
مہینے پورے ہوئے
اور آخر وہ لمحہ آیا
جس کا انتظار سالوں سے تھا
ایک صحت مند بچے کی پیدائش ہوئی
وہ روتی رہی
لیکن یہ آنسو اس بار خوشی کے تھے
کیونکہ جس چیز کو وہ ناممکن سمجھ چکی تھی
وہ حقیقت بن چکی تھی
اور بعد میں ڈاکٹر کی مسلسل ٹریٹمنٹ کے بعد وہ دوبارہ کنسیو ہو گئی
آخر میں وہی عورت
جس سے امیدیں بار بار ٹوٹتی تھیں
اب دو بچوں کی ماں تھی
آپ کے خیال میں کیا ایسے کیسز میں اصل مسئلہ دیر سے تشخیص ہوتا ہے یا معاشرتی دباؤ؟

اردو

ماں نے صرف ایک غلطی کی اور بیٹی نے 10 سال بات نہیں کی!
رات کے سناٹے میں بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں کھڑکی سے ٹکرا رہی تھیں۔ ایک عورت اکیلی کمرے میں بیٹھی تھی۔ سامنے میز پر ایک پرانی سی تصویر رکھی تھی… ایک چھوٹی بچی کی۔ تصویر کے پیچھے لکھا تھا: “امی میں آپ سے پیار کرتی ہوں…
عورت بار بار وہی تصویر دیکھ کر رو رہی تھی۔
“میں نے صرف ایک بار غصہ کیا تھا… بس ایک بار…
اور وہی ایک بار اس کی پوری زندگی بن گیا…
دس سال پہلے…
یہ گھر کبھی ہنسی خوشی سے بھرا ہوتا تھا۔ ایک چھوٹی سی بیٹی اپنی ماں کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہتی تھی۔ وہ ہر وقت ماں کے ساتھ رہتی، سوتے ہوئے بھی اس کا ہاتھ پکڑ کر سوتی۔
مگر وقت بدل رہا تھا۔ گھر کے حالات خراب تھے۔ باپ کی نوکری چلی گئی تھی، قرض بڑھ رہا تھا، اور ماں ہر وقت ذہنی دباؤ میں رہتی تھی۔
ایک دن سب کچھ ٹوٹ گیا۔
گھر میں شدید جھگڑا ہوا، باپ غصے میں گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ ماں اندر سے مکمل ٹوٹ چکی تھی۔
اسی رات بیٹی نے ڈرتے ڈرتے پوچھا:
“امی… ابو واپس آ جائیں گے نا؟”
ماں پہلے ہی پریشانی اور غصے میں بھری ہوئی تھی۔ اچانک وہ پھٹ پڑی۔
“بس کرو! ہر وقت ایک ہی سوال!”
بیٹی خاموش ہو گئی… مگر ماں رک نہ سکی۔
“تمہیں اندازہ بھی ہے میری زندگی کتنی مشکل ہو گئی ہے؟”
“اگر تم نہ ہوتیں نا… شاید میری زندگی اتنی خراب نہ ہوتی!”
“مجھے سکون چاہیے… ہر وقت تمہاری ذمہ داری اٹھا اٹھا کر تھک گئی ہوں!”
“جاؤ یہاں سے… ابھی مجھے تمہارا چہرہ بھی نہیں دیکھنا!”
یہ الفاظ غصے میں کہے گئے تھے…
مگر ایک چھوٹی سی بچی کے دل میں یہ الفاظ جیسے کیل بن کر اتر گئے۔
وہ آہستہ سے بولی:
“امی… کیا میں واقعی آپ کے لیے بوجھ ہوں؟
ماں نے کچھ نہ کہا…
اور یہی خاموشی سب سے بڑا جواب بن گئی۔
اگلے دن حالات کے دباؤ میں رشتے داروں نے مشورہ دیا کہ بچی کو کچھ دن خالہ کے گھر بھیج دیا جائے۔ ماں نے دل پر پتھر رکھ کر ہاں کر دی۔
جاتے وقت بچی خاموش تھی… نہ شور، نہ ضد، بس خالی خالی آنکھیں۔
ماں اسے بار بار گلے لگا رہی تھی:
“جلدی واپس آ جانا…”
مگر بچی نے صرف اتنا کہا:
“آپ تو کہتی ہیں میں آپ کی زندگی خراب کرتی ہوں…”
یہ جملہ ماں کے دل کو چیر گیا… مگر وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
پھر دن ہفتوں میں بدل گئے… ہفتے مہینوں میں… اور مہینے سالوں میں۔
پہلے فون آتے رہے، پھر کم ہو گئے، پھر بند ہو گئے۔
ماں ہر عید پر کال کرتی… ہر سالگرہ پر تحفہ خریدتی… مگر جواب کبھی نہیں آتا تھا۔
1 سال… 3 سال… 5 سال… اور پھر 10 سال گزر گئے۔
لوگ کہتے:
“چھوڑ دو… اب وہ تمہیں یاد بھی نہیں کرتی۔”
مگر ماں ہر رات اسی کمرے میں بیٹھ کر روتی۔
“میں نے صرف غصہ کیا تھا… مگر میں نے اسے کبھی چھوڑا نہیں تھا…”
پھر ایک دن اچانک فون آیا۔
اسکرین پر وہی نام تھا…
ماں کے ہاتھ کانپ گئے۔
“ہیلو…؟”
دوسری طرف خاموشی تھی… پھر ایک ٹھنڈی آواز آئی:
“میں صرف ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں…”
ماں کی دھڑکن رکنے لگی۔
“کیا آپ نے کبھی مجھ سے محبت کی تھی؟”
ماں روتے ہوئے بولی:
“میں نے تم سے اپنی جان سے زیادہ محبت کی ہے!”
مگر فون بند ہو چکا تھا…
اس رات ماں پوری رات روتی رہی۔
“میں نے ایک جملہ کہا… اور میری پوری دنیا مجھ سے چھن گئی…”
اگلے دن دروازے کی گھنٹی بجی۔
ماں نے جیسے ہی دروازہ کھولا…
سامنے وہی بیٹی کھڑی تھی… بڑی ہو چکی تھی، مگر آنکھوں میں وہی پرانا درد تھا۔
“امی…”
یہ لفظ سنتے ہی ماں زمین پر بیٹھ گئی اور رونے لگی۔
دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر بہت دیر تک روتی رہیں۔
بیٹی نے آہستہ سے کہا:
“میں آپ سے ناراض تھی… مگر اصل وجہ صرف وہ ایک جملہ نہیں تھا…”
ماں حیران تھی۔
بیٹی نے بتایا:
“خالہ کے گھر سب مجھے یہی کہتے رہے کہ آپ نے مجھے بوجھ سمجھ کر بھیجا ہے… میں آہستہ آہستہ یقین کرنے لگی کہ شاید آپ کو میری ضرورت نہیں…”
ماں کے آنسو نہیں رک رہے تھے۔
بیٹی نے بیگ سے ایک پرانی ڈائری نکالی۔
“میں ہر سال آپ کو خط لکھتی رہی… مگر بھیجنے کی ہمت نہیں ہوئی…”
ماں نے وہ ڈائری سینے سے لگا لی۔
دس سال کا درد… ایک پل میں بہہ گیا۔
اس دن دونوں نے سمجھا…
کبھی کبھی ایک غلط جملہ پوری زندگی بدل دیتا ہے…
اور کبھی کبھی محبت اتنی گہری ہوتی ہے کہ وہ سالوں کی خاموشی کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔

اردو

وہ ہر روز ایک اجنبی بچے کے لیے دعا کرتی تھی
وجہ جان کر دل بھر آئے گا
وہ ہر روز فجر کے وقت ایک چھوٹی سی پرچی ہاتھ میں لیے خاموشی سے دعا کرتی تھی، لوگ اسے پاگل سمجھتے تھے مگر وہ کسی کی پرواہ نہیں کرتی تھی، اس کی آنکھوں میں ایک ایسا درد تھا جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا تھا، وہ بار بار ایک ہی دعا دہراتی تھی کہ “یا اللہ اس بچے کو محفوظ رکھنا جسے میں نے کبھی دیکھا بھی نہیں” اور یہی جملہ سن کر محلے والے حیران رہ جاتے تھے کہ آخر یہ کون سا بچہ ہے جس کے لیے وہ اتنی بےچینی سے دعا کرتی ہے
ایک دن ایک نوجوان نے ہمت کر کے اس سے پوچھ لیا کہ آخر یہ بچہ کون ہے، تو اس کی آنکھیں بھر آئیں اور اس نے بتایا کہ کچھ سال پہلے ایک سرد رات میں اس نے ایک نومولود بچے کو ہسپتال کے باہر چھوڑا ہوا دیکھا تھا، وہ اس وقت بہت غریب تھی، خود اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہی تھی، اس نے خوف اور مجبوری میں اس بچے کو کسی اور کے حوالے کر دیا تھا، مگر اس دن کے بعد اس کی نیندیں ہمیشہ کے لیے چھن گئیں
وہ بتاتی رہی کہ اس نے بعد میں بہت تلاش کیا مگر بچہ کہیں نہیں ملا، نہ کوئی ریکارڈ تھا نہ کوئی خبر، بس ایک خاموشی تھی جو اس کے دل میں چیخیں بن کر گونجتی رہی، اس نے شادی بھی نہیں کی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ وہ کسی اور بچے کی ماں بننے کے قابل ہی نہیں رہی، ہر رات وہ اسی سوچ میں ڈوب جاتی کہ شاید وہ بچہ زندہ ہے یا نہیں اور اسی امید نے اسے زندہ رکھا ہوا تھا
وقت گزرتا گیا مگر اس کی دعا کم نہ ہوئی، لوگ اس کا مذاق اڑاتے رہے مگر وہ ہر روز اسی اجنبی بچے کے لیے اللہ سے رحمت مانگتی رہی، اس کا گھر سادہ تھا مگر ایک دیوار پر اس نے چھوٹے بچوں کی تصویریں لگا رکھی تھیں تاکہ اسے لگے کہ وہ بچہ بھی کہیں انہی چہروں میں سے ایک ہے، اس کی زندگی ایک ایسے انتظار میں بدل چکی تھی جس کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا تھا
پھر ایک دن اچانک محلے میں ایک نئی فیملی آئی جس کے ساتھ ایک کم عمر لڑکا تھا جو اکثر بیمار رہتا تھا، اس کی آنکھیں، اس کی خاموشی اور اس کا انداز کسی کو بھی عجیب سا محسوس ہوتا تھا، وہ عورت جب اسے دیکھتی تو اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا تھا مگر وہ خود کو سمجھاتی کہ یہ صرف ایک اتفاق ہے، لیکن دعا کا سلسلہ پھر بھی پہلے کی طرح جاری رہا
ایک دن وہ لڑکا راستے میں گر گیا اور اسے فوراً ہسپتال لے جایا گیا، وہاں ڈاکٹر نے جب اس کی پرانی رپورٹس دیکھیں تو ایک پرانا ریکارڈ سامنے آیا جس میں اس کا بچپن ایک لاوارث بچے کے طور پر درج تھا، وہ عورت جیسے ہی وہاں پہنچی اور اس فائل پر نظر پڑی تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے، اس کا دل کہہ رہا تھا کہ یہ وہی بچہ ہے جس کے لیے وہ سالوں سے دعا کر رہی تھی مگر وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی
جب اس لڑکے کو ہوش آیا تو اس نے دھیرے سے پوچھا کہ کیا کوئی ہے جو اسے جانتا ہو، وہ عورت خاموش کھڑی تھی مگر اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اس نے خود کو روکنے کی کوشش کی مگر پھر اس نے پہلی بار اسے اپنے دل کی بات بتائی کہ وہی ایک اجنبی بچہ ہے جسے اس نے برسوں پہلے چھوڑا تھا، وہ لمحہ دونوں کے لیے خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا
لڑکے نے کچھ دیر بعد کہا کہ اسے صرف یہ احساس چاہیے تھا کہ کوئی اس کے لیے دعا کرتا رہا ہے، اسے ماں کی تلاش نہیں تھی بلکہ محبت کی کمی تھی، اور وہ محبت اسے ان دعاؤں نے دے دی تھی جو ہر روز اس کے نام کی بغیر کی جاتی رہیں، اس عورت کو پہلی بار لگا کہ شاید اللہ نے اسے معاف کر دیا ہے کیونکہ اس کی دعا کسی نہ کسی صورت میں قبول ہو چکی تھی
آخر میں وہ عورت ہر روز اس لڑکے کو دور سے دیکھتی تھی مگر اب اس کے دل میں درد نہیں تھا بلکہ سکون تھا، وہ سمجھ چکی تھی کہ بعض رشتے خون سے نہیں بلکہ دعا سے جڑتے ہیں، اور بعض غلطیاں صرف دعا سے ہی دھل سکتی ہیں

اردو

وہ عورت اپنی آخری سانس تک ایک راز چھپاتی رہی … اور جب سچ سامنے آیا تو پورا گھر نہیں، بلکہ پورا خاندان خاموش ہو گیا
وہ ایک عام سی عورت تھی، خاموش مزاج، کم بولنے والی اور ہمیشہ دوسروں کا خیال رکھنے والی۔ سب اسے ایک مضبوط ماں اور وفادار بیوی سمجھتے تھے۔ وہ کبھی اپنی تکلیف ظاہر نہیں کرتی تھی، جیسے اس نے درد کو جینے کا طریقہ سیکھ لیا ہو۔
سالوں تک اس نے گھر کو سنبھالا، بچوں کو پالا، اور ہر مشکل کو خاموشی سے برداشت کیا۔ کبھی کسی نے اس کی آنکھوں میں چھپی تھکن نہیں دیکھی، نہ ہی کسی نے اس کے اندر چلنے والی جنگ کو سمجھا۔
مگر ایک چیز تھی جو وہ کبھی کسی سے شیئر نہیں کرتی تھی… ایک ایسا راز جو اس کی زندگی کے ہر فیصلے کے پیچھے چھپا ہوا تھا
وقت گزرتا گیا اور وہ عورت آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگی۔ بیماری نے اسے گھیر لیا، مگر پھر بھی وہ خاموش رہی۔ ڈاکٹر بار بار پوچھتے کہ اصل مسئلہ کیا ہے، مگر وہ ہر بار بات بدل دیتی، جیسے سچ بولنے سے ڈر رہی ہو۔
گھر والے سمجھتے تھے کہ شاید وہ صرف عام بیماری ہے، مگر اس کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی تھی۔ وہ اکثر رات کو جاگتی، چھت کو دیکھتی اور پھر خاموشی سے آنکھیں بند کر لیتی، جیسے کسی یاد سے بھاگ رہی ہو۔
ایک دن اس کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا، اور وہاں ڈاکٹرز نے صاف کہہ دیا کہ اب وقت کم ہے
یہ سن کر گھر والے ٹوٹ گئے، مگر وہ عورت پھر بھی خاموش رہی۔ اس کے چہرے پر نہ خوف تھا، نہ پچھتاوا… صرف ایک عجیب سی تسلی تھی، جیسے وہ کسی بات کا انتظار کر رہی ہو۔
آخری دن جب سب اس کے پاس جمع تھے، اس نے پہلی بار کچھ بولنے کی کوشش کی۔ سب قریب ہو گئے کیونکہ سب سمجھ رہے تھے کہ شاید یہ اس کی آخری بات ہوگی۔
کمزور آواز میں اس نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے سب کو ہلا دیا
اس نے بتایا کہ وہ جس بچے کو سب اپنا سمجھتے ہیں… وہ اصل میں کسی اور حقیقت کا حصہ ہے۔ وہ بچہ اس کی اپنی اولاد نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا بچہ تھا جسے اس نے ایک حادثے کے بعد بچایا تھا اور پھر اپنی اولاد کی طرح پالا تھا۔
اس نے یہ راز سالوں تک اس لیے چھپایا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی اس بچے کو “غیر” سمجھے۔ اس نے اپنی پوری زندگی اس بچے کو وہ محبت دینے میں لگا دی جو شاید اس کا حق نہیں تھا مگر اس نے اسے اپنا فرض بنا لیا تھا
یہ سن کر کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ سب لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، آنکھوں میں حیرت اور آنسو دونوں تھے۔ جس بچے کو وہ سب اپنا خون سمجھتے تھے، وہ حقیقت میں ایک ایسی محبت کا نتیجہ تھا جو رشتوں سے نہیں، دل سے بنی تھی۔
وہ عورت آہستہ آہستہ مسکرائی، جیسے اس کا بوجھ اتر گیا ہو۔ اس نے کہا کہ اسے کبھی اس بات کا افسوس نہیں ہوا، کیونکہ اس نے ایک معصوم زندگی کو بچایا اور اسے ماں کا پیار دیا۔
اسی رات وہ عورت اس دنیا سے چلی گئی مگر اپنے پیچھے ایک ایسا راز چھوڑ گئی جس نے سب کو انسانیت، محبت اور قربانی کا اصل مطلب سمجھا دیا۔
بعد میں وہی بچہ جب بڑا ہوا تو اسے یہ سچ بتایا گیا۔ وہ خاموش ہو گیا… پھر رونے لگا… اور پھر اس نے صرف اتنا کہا کہ “ماں صرف وہ نہیں جو جنم دے، ماں وہ ہے جو زندگی دے”
اور یہی اس کہانی کا سب سے بڑا سچ تھا۔
آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا رشتے ہمیشہ خون سے بنتے ہیں یا کچھ رشتے صرف محبت سے بھی جنم لیتے ہیں؟
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ بعض اوقات سب سے بڑے راز جھوٹ نہیں ہوتے، بلکہ سب سے بڑی قربانیاں ہوتی ہیں جو خاموشی میں دی جاتی ہیں۔

اردو

وہ لڑکا روز قبرستان جاتا تھا
… ہمیشہ ایک ہی وقت پر، خاموشی سے، بغیر کسی سے بات کیے، اور ایک ہی قبر کے سامنے بیٹھ جاتا تھا… لوگ اسے پاگل سمجھتے تھے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ دردناک تھی
شروع میں کسی نے زیادہ توجہ نہیں دی۔ ایک نوجوان لڑکا، سادہ کپڑوں میں، ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پھول لیے، ہر روز قبرستان کے پرانے حصے میں آ کر بیٹھ جاتا۔ نہ دعا کے الفاظ، نہ کوئی رونا، بس خاموشی… ایسی خاموشی جو دل کو اندر تک ہلا دے۔
قبرستان کے ملازمین بھی اسے جاننے لگے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ لڑکا ہمیشہ سورج نکلنے کے بعد آتا ہے اور شام سے پہلے واپس چلا جاتا ہے۔ کبھی بارش ہو یا سخت گرمی، اس کا معمول کبھی نہیں بدلتا تھا۔
وقت کے ساتھ لوگوں کے ذہن میں سوال بڑھنے لگا کہ آخر یہ کون سی قبر ہے جس پر یہ اتنا وقت گزارتا ہے؟ آخر ایک دن ایک شخص نے ہمت کی اور دور سے اسے دیکھنے لگا۔
وہ لڑکا ایک سادہ سی قبر کے سامنے بیٹھا تھا۔ نہ کوئی بڑا کتبہ، نہ کوئی خاص نشان… بس ایک پرانی سی قبر جس پر وقت کی دھول جمی ہوئی تھی۔ وہ لڑکا اس قبر کو صاف کرتا، اس پر ہاتھ پھیرتا اور پھر کچھ دیر آنکھیں بند کر لیتا۔
ایک دن ایک بزرگ نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی۔ پہلے تو وہ خاموش رہا، مگر پھر آہستہ سے صرف اتنا کہا: “یہ میری ماں کی قبر ہے…” اور پھر دوبارہ خاموش ہو گیا۔
یہ سن کر سب کو لگا کہ بات سمجھ آ گئی، مگر اصل کہانی ابھی شروع نہیں ہوئی تھی
اس نے بتایا کہ اس کی ماں کئی سال پہلے ایک بیماری کے باعث اس دنیا سے چلی گئی تھی۔ اس وقت وہ بہت چھوٹا تھا، اور حالات ایسے تھے کہ اسے اپنی ماں کو آخری بار دیکھنے بھی نہیں دیا گیا تھا۔ بس ایک دن اسے بتایا گیا کہ وہ اب نہیں رہی۔
اس دن کے بعد اس کی زندگی بدل گئی۔ گھر میں وہی لوگ تھے مگر سب کچھ اجنبی لگنے لگا۔ وہ اکثر اپنی ماں کو آواز دیتا، راتوں کو اٹھ کر روتا، اور ہر اس جگہ جاتا جہاں اسے لگتا کہ شاید وہ وہاں مل جائے گی۔
وقت گزرتا گیا مگر درد کم نہ ہوا۔ پھر ایک دن اسے پتا چلا کہ اس کی ماں کی قبر شہر کے ایک پرانے قبرستان میں ہے۔ بس یہی وہ لمحہ تھا جب اس کی زندگی کا نیا باب شروع ہوا۔
اب وہ روز وہاں جانے لگا۔ شروع میں صرف چند منٹ کے لیے، پھر گھنٹوں کے لیے، اور پھر یہ اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا۔ وہ وہاں آ کر اپنے دن کی ساری باتیں اس قبر کو سناتا جیسے اس کی ماں اب بھی سن رہی ہو۔
وہ بتاتا کہ آج اس نے کیا دیکھا، کون سا خواب دیکھا، کس بات پر خوش ہوا اور کس بات پر ٹوٹ گیا۔ کبھی وہ ہنستا، کبھی خاموش ہو جاتا، اور کبھی آنکھوں سے آنسو خود بہنے لگتے۔
لوگ اسے پاگل سمجھتے رہے، مگر کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ لڑکا اصل میں ایک ایسے رشتے سے جڑا ہوا تھا جو موت بھی نہیں توڑ سکی تھی۔
ایک دن کچھ ایسا ہوا جس نے سب کو ہلا دیا
شدید بارش ہو رہی تھی، قبرستان خالی تھا، مگر وہ لڑکا پھر بھی وہاں موجود تھا۔ لوگ کہتے رہے کہ آج نہ جائے، مگر وہ نہیں مانا۔ جب لوگ وہاں پہنچے تو وہ لڑکا قبر کے پاس بے ہوش پڑا تھا، اور اس کے ہاتھ میں ایک خط تھا۔
اس خط میں اس نے لکھا تھا کہ وہ اپنی ماں کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہو سکا۔ اس نے لکھا کہ دنیا اسے آگے بڑھنے کو کہتی ہے، مگر اس کا دل آج بھی اسی جگہ رکا ہوا ہے جہاں اس کی ماں آخری بار لیٹی تھی۔
مگر اصل shock یہ تھا کہ اس خط کے آخر میں اس نے لکھا کہ وہ مرنا نہیں چاہتا تھا… وہ بس یہ چاہتا تھا کہ کوئی اسے سمجھ لے، کوئی یہ جان لے کہ بعض لوگ زندہ رہ کر بھی اندر سے روز مرتے ہیں
جب یہ بات سب کے سامنے آئی تو پورا علاقہ خاموش ہو گیا۔ وہ لوگ جو اسے پاگل کہتے تھے، اب اس کی خاموش محبت کو سمجھنے لگے تھے۔
قبرستان میں وہ قبر آج بھی ہے… مگر اب وہاں صرف ایک لڑکا نہیں جاتا۔ اب لوگ بھی وہاں جاتے ہیں، کچھ پھول رکھتے ہیں، اور کچھ دیر خاموش رہ کر واپس آتے ہیں۔
کیونکہ اب انہیں سمجھ آ گیا تھا کہ بعض لوگ قبرستان مرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے ٹوٹے ہوئے رشتے کو زندہ رکھنے کے لیے جاتے ہیں
آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا محبت صرف زندہ لوگوں تک محدود ہوتی ہے یا کچھ رشتے موت کے بعد بھی اتنے ہی حقیقی رہتے ہیں؟
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خاموشی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی، بعض اوقات یہ سب سے گہرا درد ہوتا ہے جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔

اردو

جب امیتابھ بچن نے صاف صاف کہہ دیا
تھا کہ No means No ….. ہونڑ ہور کجھ نہئ
تو ایک چدھڑ کو یہ بات سمجھ جانی چاہیے تھی۔۔
رہی بات تحفے تحائف کی تو محبت میں کیے جانے والے خرچے اگر گننے لگ جائیں تو پھر ہو گئی محبت !!!!
لیکن ساتھ ہی ایک اور بات جو اہم ہے کہ مرد کے تحائف کبھی بھی بے مقصد نہیں ہوتے۔ ۔۔
لہذا ایک ”مومنہ “ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ایسے ہر تحفے کو نرمی سے منع کر دینا چاہیے
جو کسی چدھڑ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ وہ ” مومنہ“ اب خریدی جا چکی ہے

اردو
Sania retweetledi

مومنہ اقبال کی یکم جون کو نہیں ہوگی شادی !پولسں کوحمزہُ کی تلاش ماں نے کہا معاف کردو!
لاہور: اداکارہ مومنہ اقبال اور ان کے سابقہ معشوق ثاقب چدھڑ کے درمیان تنازعے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں تحقیقاتی ادارے کی کارروائی اور سامنے آنے والے مبینہ شواہد نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ایجنسی نے مومنہ اقبال کو موبائل فون فرانزک کے لیے جمع کرانے کی ہدایت دی تھی، تاہم ان کی جانب سے فون جمع نہیں کرایا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ فون جمع کرانے کے مسئلہ پر شدید تناؤ کاُشکار ہیں -
دوسری جانب ثاقب چدھڑ نے اپنا موبائل فون اور دیگر ریکارڈ ایجنسی کے حوالے کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختلف دستاویزی شواہد بھی تحقیقاتی حکام کے سامنے پیش کیے، جن میں بعض نجی معاملات سے متعلق مواد بھی شامل ہے۔
حیران کن اطلاعات کے مطابق مومنہ اقبال کی والدہ نے بھی ثاقب چدھڑ سے اپنی بیٹی کے رویے پر معذرت کی، جبکہ ثاقب چدھڑ نے اس حوالے سے مبینہ شواہد بھی تحقیقاتی ادارے کو فراہم کر دیے ہیں۔
ادھر مومنہ اقبال کی یکم جون کو متوقع شادی بھی اب غیر یقینی صورتحال سے دوچار دکھائی دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ثاقب چدھڑ کو مبینہ دھمکیاں دینے کے مقدمے کے بعد مومنہ کے متوقع شوہر حمزہ منظرعام سے غائب ہیں، اور پولیس ان کی تلاش میں سرگرم ہے -
ثاقب چدھڑ نے تحقیقاتی ایجنسی کے سامنے فارچونر گاڑی اور بیرون ملک سیروتفریح سے متعلق بعض دستاویزی ثبوت بھی پیش کیے ، جنہیں کیس میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے-
مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس معاملے میں مزید اہم انکشافات اور قانونی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے
مبصرین کے مطابق آنے والے دن مومنہ اقبال کے لیے مزید مشکلات اور قانونی پیچیدگیاں لا سکتے ہیں


اردو
Sania retweetledi

اماں… اس بار جب رشتے والے آئیں نا، تو اپنی وہ پرانی جہیز والی پیالیاں مت نکالنا…
میں نے کچھ پیسے جمع کیے ہیں، بازار سے ایک اچھا سا ٹی سیٹ لے آنا…”
ماں نے حیرت سے بیٹی کو دیکھا اور دھیمی آواز میں بولی:
“ارے پگلی… اس سب سے کیا فرق پڑتا ہے؟
وہ لوگ تجھے دیکھنے آ رہے ہیں، پیالیوں کو تھوڑی پسند کریں گے۔”
بیٹی کی آنکھیں بجھ سی گئیں۔
“اماں… تجھے نہیں پتا، آج کل لوگ لڑکی سے پہلے گھر دیکھتے ہیں۔
سامنے والی آمنہ کہتی ہے ہمارا گھر اچھا نہیں، اسی لیے کوئی رشتہ پکا نہیں ہوتا…”
وہ رکی، پھر بھرائی ہوئی آواز میں بولی:
“اماں… ہم کوئی اچھا سا کرائے کا گھر لے لیتے ہیں نا…
جہاں فرش پر ٹائلیں ہوں… لکڑی کے دروازے ہوں…
میں دو دو نوکریاں کر لوں گی… بس تو مان جا…”
ماں خاموش کھڑی اسے دیکھتی رہی۔
بیٹی کی آنکھوں میں برسوں کی تھکن تھی۔
“دیکھ نا اماں…
اتنی خوبصورت ہونے کے باوجود بھی کوئی مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتا…
سب کو لگتا ہے ہم اچھا جہیز نہیں دے سکیں گے…
یا شاید ہمارا گھر چھوٹا ہے، اس لیے مجھے رہن سہن کے طریقے بھی نہیں آتے ہوں گے…”
یہ کہتے کہتے اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
یہ صرف ایک لڑکی کے الفاظ نہیں…
یہ ہمارے معاشرے کا وہ سچ ہے جو خاموشی سے کئی بیٹیوں کو اندر ہی اندر توڑ دیتا ہے۔
جہاں کردار سے زیادہ فرش کی ٹائلیں دیکھی جاتی ہیں…
جہاں اخلاق سے پہلے جہیز کا وزن تولا جاتا ہے…
اور جہاں ایک بیٹی خود کو کمتر سمجھنے لگتی ہے صرف اس لیے کہ اس کے باپ کی جیب بھاری نہیں ہوتی۔
یاد رکھیں…
غریب ہونا عیب نہیں، مگر کسی کی غربت کو اس کی بے عزتی بنا دینا ضرور عیب ہے۔

اردو