Sabitlenmiş Tweet
Shafaq
20K posts

Shafaq
@Shafk_
عکس فاطمہ ردائے شفق وفائے فاطمہ ادائے شفق BFF: @Fatii01_
Lahore, Pakistan Katılım Temmuz 2021
23 Takip Edilen2.1K Takipçiler
Shafaq retweetledi

صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم
اک لمحہ آ کے ہنس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
ان وادیوں میں برف کے چھینٹوں کے ساتھ ساتھ
ہر سو شرر برس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
راتیں ترائیوں کی تہوں میں لڑھک گئیں
دن دلدلوں میں دھنس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
راہیں دھوئیں سے بھر گئیں میں منتظر رہا
قرنوں کے رخ جھلس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
تم پھر نہ آ سکو گے بتانا تو تھا مجھے
تم دور جا کے بس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
#اردو_زبان
اردو

@UrduVirsa وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
اردو
Shafaq retweetledi

پروین شاکر کی غزل
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی
بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی
وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناؤں گی
اب اس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گنگناؤں گی
وہ ایک رشتۂ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی
بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود
وہ۔ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی
سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب کبھی تری آواز سن نہ پاؤں گی
جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ ۔کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی
پروین شاکر
اردو

پروین شاکر ¹⁹⁹⁴-¹⁹⁵²
مجموعۂ کلام خود کلامی سے غزل
اِک نہ اِک روز تو رُخصت کرتا
مُجھ سے کِتنی ہی مُحبّت کرتا
سب رُتیں آ کے چلی جاتیں ہیں
موسمِ غم بھی تو ہجرت کرتا
بھیڑیے مُجھ کو کہاں پا سکتے ؟
وُہ اگر میری حفاظت کرتا
میرے لہجے میں غرور آیا تھا
اُس کو حق تھا کہ شکایت کرتا
کُچھ تو تھی میری خطا ورنہ وُہ کیوں
اِس طرح ترکِ رفاقت کرتا
اور اُس سے نہ رہی کوئی طلب
بس ،،، مِرے پیار کی عزت کرتا

اردو

تیرے بدن کی حرارت ، وہ دھیمی دھیمی آنچ
بہا لے گئی ہمیں ، جب عشق میں سادگی آئی
تو صبح کا ستارہ ہے ، مری رات کا حاصل
ملے جو تو ، تو مقدر میں بندگی آئی۔
#قومی_زبان
#خواب_نگر

Shafaq@Shafk_
لفظ بنے زباں وحی گویائی میں اتر آئی رات یوں درد میں گھلتی رہی محبت نے لی انگڑائی دلنشیں فرصت لمحات ملے رند میں غرق ہوئی تنہائی دھیمی دھیمی آنچ بدن کی جنون عشق آتش درد رسوائی باندھ کر رخت سفر اوڑھ کر تیری ردا چلی آئی #قومی_زبان محبت صبح کا ستارہ 💌❤💙
Pakistan 🇵🇰 اردو


@UrduVirsa آنکھ کھلی تو نظر میں پہلی کتاب ہروین شاکر مرحومہ کی تھی
کوبکو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
اردو

@UrduVirsa پیار کا پہلا شہر
غار حرا میں ایک رات
خوبصورت دل کو چھونے والی تحاریر
اردو

وقت کی چند ساعتیں تارڑ
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو ۔۔! تب میری عمر بیس سال سے کم ہوگی ۔۔تارڑ صاحب کے تمام سفر نامے ، شمال کے سفر ، اندلس کے قصے ، پیار کا پہلا شہر کی پاسکل ، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے دیس ہوئے پردیس اور نہ جانے کیا کیا ۔۔۔
ایک دیوانگی تھی ، ایک عشق تھا ایک جنون تھا ۔۔۔
تارڑ صاحب کی تحریروں کے بعد راتوں کو خواب بھی انہی وادیوں کے آیا کرتے تھے ۔۔
2000 کے بعد والی نسل شاید اس بابے کو جانتی بھی نہ ہو ۔۔لیکن تصویر میں نظر انیوالا یہ بابا پاکستان نہیں بلکہ معلوم دنیا کے ایک بڑے حصے کا باباء سیاحت ہے ۔۔۔
لیکن اس بابے کی سیاحت میں نہ ٹک ٹاک تھی نہ فیس بک ، نہ انسٹا گرام اور نہ ہی یو ٹیوب ۔۔۔لیکن پھر بھی اس بابے کے چاہنے والے لاکھوں کی تعداد میں آج بھی موجود ہیں ۔۔
لائبریریوں کا دور ہوتا تھا ۔۔ہر گلی محلے میں لائیبریری اور لائیبریری میں تارڑ صاحب کا ریک ہونا لازم و ملزوم ہوا کرتے تھے ۔۔
بعض اوقات ایک ایک مہینہ تک ان کی کتاب کا انتظار کرنا پڑتا تھا ۔۔۔
چھ چھ کتب کا سیٹ آتا اور ایک بھی نہ ملتی ۔۔۔
مجھے آج بھی یاد ہے شاید 1986 یا 1987 میں ہندوستانی اداکار امیتابھ بچن کی شہنشاہ فلم آئ تھی جس کا کیسٹ اس وقت پچاس اور سو روپے کرایہ پر بھی نہ ملتا تھا ۔۔۔
لیکن ہمارا بابا اس سے پہلے ہی کھڑکی توڑ چلا آرہا تھا ۔۔۔
کاش بابے کو پتہ ہوتا کہ آنے والی دہائیوں میں سیاحت بربادی کا سبب بنے گی تو بابا کبھی اتنی بڑی تحریک کا موجب نہ بنتا ۔۔۔
روزانہ صبح سکول سے لیٹ ہوکر ماؤں کی گالیاں اور سکول جاکر استانیوں کے الٹے ہاتھ پر ڈنڈے ۔۔۔لیکن اسی کی دہائی کے بچے یہ گالیاں شوق سے سنتے اور ڈنڈے خوش دلی سے کھاتے ۔۔۔
وجہ صرف ایک تھی بابا جی کی محبت ۔۔۔
آج بیس سال بعد تارڑ صاحب کو دوبارہ سکردو کی فضاؤں میں دیکھ کر بے اختیار آنکھیں بھیک گئیں ۔۔
یہ آنسو دکھ کے بھی نہ تھے ۔۔۔
نہ ہی خوشی کے ۔۔۔
شاید ان آنسوؤں اور ان کیفیات کے لیے اردو زبان میں کوئ لفظ موجود نہ ہو ۔۔
شاید کسی زبان میں موجود نہ ہو ۔۔۔
فقط یہی ۔۔۔
وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو ۔۔۔!
نوید اشرف خان
واہ کینٹ

اردو

Shafaq retweetledi








