
شاید پاکستان کے چند بڑے شہروں میں مخلوط جم دو درجن سے بھی زیادہ نہ ہوں مگر ایک نان ایشو کو اس طرح قومی بحران بنا دیا گیا ہے کہ پچھلے دو تین دن سے ہر شخص خود کو اس پر تبصرہ کرنا اپنا مذہبی، اخلاقی اور سماجی فرض سمجھ رہا ہے، نہ میں عورتوں والے جم جاتی ہوں اور نہ ہی مخلوط جم لیکن میں نے مخلوط جم دیکھے ہیں وہ ویسے نہیں ہوتے جیسے لوگ بھارتی اداکاراؤں، ماڈلز یا کھلاڑیوں کی ورزش کرتی تصویریں دیکھ کر ذہن میں تصور قائم کر رہے ہیں، حقیقت میں وہاں لوگ اپنی صحت، فٹنس اور ذہنی توازن کے لیے جاتے ہیں نہ کہ کسی اخلاقی فساد یا رابطوں کے لیے . اصل مسئلہ صرف جم نہیں ہے بلکہ وہ ذہنیت ہے جو عورت اور مرد کے ہر مشترکہ سماجی، تعلیمی یا پیشہ ورانہ ماحول کو مشکوک سمجھتی ہے،آج اعتراض جم پر ہے، کل یونیورسٹیوں پر ہوگا، پرسوں دفاتر، پارکس، بسوں اور دوسرے عوامی مقامات پر،اگر ہر جگہ عورت اور مرد کی موجودگی کو فتنہ قرار دیا جاتا رہا تو پھر یہ سلسلہ کہیں جا کر نہیں رکے گا. ایک متوازن اور صحت مند معاشرہ عورت اور مرد دونوں کی مشترکہ موجودگی،احترام اور تعاون سے بنتا ہے،خدا نے انسان کو سماجی مخلوق بنایا ہے، روبوٹ نہیں.عورت کو ہر وقت مسئلہ، آزمائش یا خطرہ بنا کر پیش کرنا دراصل عورت کی توہین بھی ہے اور مرد کی شخصیت پر سوال بھی. اگر کسی کا ایمان، کردار یا ضبطِ نفس اتنا کمزور ہے کہ عورت کو دیکھتے ہی متزلزل ہو جاتا ہے تو پھر مسئلہ عورت کے وجود میں نہیں بلکہ ببھٹکنے والے کی تربیت،سوچ اور رویّے میں ہے،اپنی کمزوریوں کا بوجھ دوسروں کی آزادیوں پر ڈالنا نہ انصاف ہے اور نہ ہی اخلاقیات. اکیسویں صدی میں بھی اگر ہم عورت کی تعلیم، ملازمت، آزادیِ نقل و حرکت اور سماجی موجودگی کو ہی مسئلہ بنائے رکھیں گے تو پھر حیران نہیں ہونا چاہیے کہ نئی نسل اس گھٹن، تنگ نظری اور مسلسل اخلاقی پولیسنگ سے تنگ آ کر ملک چھوڑنے کا سوچتی ہے. ایک معاشرہ پابندیوں،خوف اور نگرانی سے نہیں بلکہ اعتماد، احترام، شعور اور بہتر تربیت سے مضبوط بنتا ہے.


