Sumera Mushtaq
44.4K posts

Sumera Mushtaq
@Sumeramushtaq19
Lahore, Pakistan Katılım Mayıs 2018
35.8K Takip Edilen130.8K Takipçiler
Sumera Mushtaq retweetledi

Sumera Mushtaq retweetledi

⚠️
میں اپنے اس اکاؤنٹ سے اکثر کسی نا کسی سوشل ایشو پر بات کرتا رہتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ اصلاح کا پہلو پروان چڑھ سکے۔
آج بھی ایک ایسے ہی مدعا پر بات کرنا چاہوں گا کہ جس نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر رکھا ہے۔ اور وہ مدعا ہے ہندی ایکٹریس پرینکا چوپڑا کا ایک بیان کہ جس میں وہ محترمہ کہتی ہیں کہ،
" مرد عورت میں کنوارہ پن ڈھونڈتے ہیں جو اک رات میں ختم ہو جاتا ہے،
جبکہ انہیں اس میں اچھا کردار دیکھنا چاہیے جو تمام عمر ساتھ رہتا ہے "
استغفرُللہ العظیم
اس بیان کے حق میں نا صرف بے تحاشہ لبرل، آزاد خیال اور بیغعرت مرد و زن آواز بلند کر رہے بلکہ وہ نئی نسل کو خوب گمراہ بھی کرنے میں مکمل مصروفِ عمل ہیں۔
میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ، پریانکا چوپڑا کے اس بیان اور اس کے حمایتیوں کے نقطہ نظر کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے، ہمیں اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں وضاحت کرنی چاہیے کہ یہ نظریہ نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ یہ فحاشی اور بے حیائی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔
اسلام نے عورت اور مرد دونوں کے لیے عفت و پاکدامنی کو لازم قرار دیا ہے اور زنا کو سختی سے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
"وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا"
(سورة الإسراء: 32)
ترجمہ: "اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بے شک یہ بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی زنا کو ایک بڑا گناہ قرار دیا۔ آپؐ نے فرمایا:
"جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ ایمان کی حالت میں نہیں ہوتا۔
(صحیح بخاری: 6810)
"کوئی گناہ زنا سے زیادہ عظیم نہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔
(مسند احمد: 14001)
جب ایک بندہ زنا کرتا ہے، تو ایمان اس کے دل سے نکل جاتا ہے، اور ایک سایہ کی طرح اس کے اوپر لٹک جاتا ہے۔ پھر جب وہ زنا سے رک جاتا ہے، تو ایمان واپس آجاتا ہے۔
(سنن ابو داؤد: 4690)
جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔
(صحیح بخاری: 6474)
سات لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سایے میں جگہ دے گا، جس دن کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ ان میں سے ایک وہ شخص ہے جسے کسی خوبصورت عورت نے زنا کی دعوت دی ہو اور اس نے کہا: میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔
(صحیح بخاری: 660)
جب کسی قوم میں زنا اور سود عام ہو جائے، تو وہ لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہو جاتے ہیں۔
(مسند احمد: 22246)
اسلام کردار کو اہمیت دیتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں
کہ عفت و پاکدامنی کو نظر انداز کیا جائے۔ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ عورت اور مرد دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اخلاق اور عفت کو محفوظ رکھیں تاکہ معاشرے میں پاکیزگی اور خیر و برکت قائم رہے۔
پرینکا چوپڑا اس بیان میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کنوارہ پن ایک معمولی یا وقتی چیز ہے اور کردار زیادہ اہم ہے۔ یہ فلسفہ سراسر غلط ہے کیونکہ اسلام میں کنوارہ پن اور پاکدامنی کا تعلق کردار ہی سے جڑا ہوا ہے۔ جو شخص اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں اچھے کردار کا مالک ہو سکتا ہے۔
ایسے نظریات کی حمایت کرنے والوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اسلام نے انسان کو اعلیٰ اخلاق اور شرم و حیا کا درس دیا ہے۔ زنا اور بے حیائی نہ صرف انفرادی طور پر انسان کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ پورے معاشرے کو تباہ کر دیتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حیا ایمان کا حصہ ہے اور بے حیائی گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
(صحیح مسلم: 57)
"جب تم میں حیا نہ رہے، تو جو چاہے کرو۔
(صحیح بخاری: 3483)
لہذا جن کے دلوں میں ایمان کی کچھ رمک باقی ہے ان کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے فحش نظریات سے دور رہیں اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق گزاریں۔ اس طرح کے بیانات کی مذمت کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے تاکہ معاشرے میں اسلامی اقدار کو فروغ دیا جا سکے۔
جزاکم اللہ خیرا کثیرا
#خداۓ_سخن

اردو







