Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

6.6K posts

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan banner
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

@TTAP_OFFICIAL

A united front of Pakistan’s political parties, committed to upholding and restoring the Constitution of Pakistan.

Islamabad, Pakistan Katılım Nisan 2025
32 Takip Edilen23.7K Takipçiler
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan retweetledi
Senator Allama Raja Nasir
Senator Allama Raja Nasir@AllamaRajaNasir·
عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنے ملکوں میں قائم سامراجی امریکی اڈوں پر ایران کے جوابی حملوں کی تو فوراً مذمت کر دی، لیکن عالمی دہشت گرد امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوری ایران کے بچوں، ہسپتالوں، سیاسی و مذہبی شخصیات اور بنیادی انفراسٹرکچر پر بین الاقوامی قوانین کو روندتے ہوئے کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں پر مکمل خاموشی اختیار کر لی۔ “اور یہود و نصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے کی پیروی نہ کرو۔ کہہ دو: بے شک اللہ ہی کی ہدایت اصل ہدایت ہے۔ اور اگر تم نے علم آ جانے کے بعد بھی ان کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ تمہارا کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔”( سورہ بقرہ آیت 120)
اردو
184
1.5K
3.9K
45.2K
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan retweetledi
PTI
PTI@PTIofficial·
عمران خان کی صحت کے حوالے سے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کو ہم مسترد کرتے ہیں۔ ​عمران خان کا ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کی موجودگی میں ٹریٹمنٹ کیا جائے۔ ​ہم حکومت کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہیں اور اپنے مطالبے پر قائم ہیں۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی #ShiftKhanToShifaInternational
اردو
5
316
904
11.1K
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
حالت ہماری یہ ہو چکی ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر ثمینہ نیازی (تین پرسنل فزیشنز ہیں عمران خان صاحب کے) جنہوں نے جیل کے اندر عمران خان صاحب کا چیک اپ کیا، عدالتی حکم پہ- اسلام آباد ہائی کورٹ کا 29 اکتوبر 2024ء کا جسٹس میاں گل حسن صاحب کا میڈیکل بورڈ کا حکم موجود ہے۔ اس کے علاوہ ٹرائل کورٹس نے متعدد بار، تمام عدالتوں نے اس کے اوپر یقینی بنایا- ایون لوئر کورٹس کی میں بات کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے اس کے اوپر یقینی بنوایا کہ عمران خان صاحب کا میڈیکل چیک اپ ان کے ذاتی معالجین سے کروایا جائے اور عدالتوں نے اس کے اوپر عمل درآمد بھی کروایا۔ ​ڈاکٹر عاصم یوسف نے عمران خان صاحب کو جیل کے اندر چیک اپ کیا، ڈاکٹر فیصل سلطان نے عمران خان صاحب کو جیل کے اندر چیک اپ کیا، ڈاکٹر ثمینہ نیازی نے عمران خان صاحب کو جیل کے اندر چیک اپ کیا، ان کا میڈیکل ٹریٹمنٹ کیا گیا اور یہ تھا لوئر کورٹ کے حکم پہ، سیشن کورٹ کے حکم پہ۔ ​لیکن جب اسلام آباد ہائی کورٹ کی باری آتی ہے، عدالتوں کے فیصلوں کے اوپر عمل درآمد ہی نہیں کیا جاتا۔ آج یہ حالت ہے کہ تین رکنی بینچ بیٹھتا ہے، فیصلہ دیتا ہے، اڈیالہ روڈ کے اوپر اس فیصلے کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں۔ آج ہماری ہائی کورٹس کا جو معیار ہے، جو وقار ہے وہ یہاں تک آ پہنچا ہے کہ تین ججز بیٹھ کے فیصلہ دے رہے ہیں، دو ججز بیٹھ کے فیصلہ دے رہے ہیں، وہاں ایک عام کوئی سرکاری اہلکار کھڑا ہو کر اس حکم کو ردی کی ٹوکری کے اندر پھینک دیتا ہے، صرف اس وجہ سے کہ 26ویں، 27ویں ترمیم کی گئی، ججز لا کے بٹھائے گئے جن کو نہ اپنے ادارے کا خیال ہے، نہ اپنی ذات کا خیال ہے، نہ اپنے عہدے کا خیال ہے، نہ اپنے وقار کا خیال ہے۔ ​جہاں تک بات عمران خان صاحب کی درخواستِ ضمانت کی سماعت ہو تو وہ ہمیشہ لٹکا دی جاتی ہے۔ اب میں یہاں پوائنٹ آؤٹ نہیں کرنا چاہوں گا کچھ مخصوص شخصیات کے کیسز، مخصوص وکلاء کے کیسز جن کو برق رفتاری سے لگایا گیا، جن کو جیٹ انجن کی رفتار سے ان کی سماعت مقرر کی گئی۔ تو اس کے ساتھ میں عدلیہ سے یہ کہنا چاہوں گا کہ آج ہماری عدلیہ ایک عدلیہ کے بجائے انتظامیہ کا ایک عدالتی ونگ کا تاثر بن چکا ہے عوام کے اندر۔ عدلیہ کو اپنا یہ تاثر جلد از جلد ختم کرنا ہوگا ورنہ پھر عدلیہ کا وجود میرے خیال سے عوام کی نظر میں اتنا ضروری نہیں رہے گا وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف خالد یوسف چوہدری
اردو
1
51
139
3.8K
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
"جنوری 2025 کے اندر القادر کیس کے اندر اپیل فائل کی۔ آج تک اس کے اوپر سماعت نہیں ہوئی۔ اوپن کورٹ کے اندر عدالت نے ایک لاکھ روپیہ نیب کو جرمانہ کیا۔ کہ نیب، عدالت کے اندر خود بڑا اوپنلی کہا گیا کہ نیب جو ہے یہ بار بار تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے۔ اور تاخیری حربوں پر اس کو ایک لاکھ کا جرمانہ کیا گیا، لیکن جب تحریری حکم آیا تو اس میں ایک لاکھ کا ذکر ہی نہیں آیا۔ اسی طرح توشہ خانہ کیس کے اندر صرف ایک نمبر لگوانے کے لیے کریمنل اپیل نمبر ڈیش ڈیش بٹا 2026 لگوانے کے لیے تین مہینے ایفرٹس کرنی پڑی ہے، جو صرف 15 منٹ کا کام ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ 15 منٹ کے اندر اپیل کے اوپر نمبر لگ جاتا ہے۔ عمران خان صاحب کو اپنی اپیل کے اوپر نمبر لگوانے کے لیے تین مہینے ایفرٹس کرنی پڑی ہے، ایک سابق وزیراعظم کو۔ اس حد تک ہماری عدلیہ کو مینیج کر لیا گیا ہے، اس حد تک ہماری جوڈیکری کو مینیج کر لیا گیا ہے وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف خالد یوسف چوہدری
اردو
0
6
22
389
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
ایک وقت تھا کہ ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر یا کسی بھی عدالت کے اندر جب ہم کوئی مقدمہ دائر کرتے تو تیسرے یا چوتھے دن اس کی سماعت مقرر کر دی جاتی تھی۔ اور وہ ججز مقرر کرتے تھے۔ کہیں تنقید ہوتی تھی تو اس تنقید کا وہ اثر لیا کرتے تھے۔ پھر ایسے ججز لا کے یہاں بٹھائے گئے کہ جنہوں نے نہ صرف اس چیز کو سر سے اتار دیا، ذہن سے ہی نکال دیا کہ وہ جج ہیں، ان کا کام انصاف کرنا ہے۔ وہ جج ہیں، ان کا کام کیس سننا ہے۔ وہ جج ہیں، ان کا کام کیس کو سماعت کے لئے مقرر کرنا ہے۔ مگر وہ کیس سننے کے بجائے سماعت ملتوی کرتے رہے وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف خالد یوسف چوہدری
اردو
0
49
126
1.3K
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
چھبیسویں آئینی ترمیم کے نام پر، ستائیسویں آئینی ترمیم کے نام پر، ڈیڑھ سو سال کے اندر اور خصوصاً پاکستان کے اندر، جو گزشتہ ستر سال سے ہمارا جو جوڈیکیچر کا نظام تھا، جو ہماری ہائی کورٹس کا نظام تھا، جو ہماری کرمنل کورٹس کی جو ریگولیٹنگ جو سسٹم تھا، جو پروسیجر تھا، 1898 سے ہمارا جو قانون چلا آ رہا ہے، بلکہ 1861 سے جو نظام یہاں چلا آ رہا تھا، وہ ڈیڑھ سو سالہ نظام صرف ایک عمران خان کے لیے توڑا گیا۔ رائٹ آف فیئر جو ٹرائل ہے، رائٹ آف فیئر جسٹس جو ہے، وہ صرف اس کے لیے، صرف اس سے عمران خان صاحب کو محروم رکھنے کے لیے، پورا عدالتی نظام نہ صرف مینج کیا گیا، ایک ہائی کورٹ کے اندر دوسری ہائی کورٹ سے لا کے ٹرانسفر کروائی گئی اور وہاں وہ ججز بٹھائے گئے وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف خالد یوسف چوہدری
اردو
1
30
85
850
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
قبائلی اضلاع (Ex-FATA) دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر رہے اور سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھایا لیکن افسوس کہ وفاقی حکومت کا رویہ اب بھی مایوس کن ہے۔ 37 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے ایک روپیہ بھی ریلیز نہ کرنا ان عوام کے ساتھ زیادتی ہے جو برسوں سے بدامنی کا شکار ہیں۔ جب تک وفاق اپنے وعدے پورے نہیں کرتا اور فنڈز جاری نہیں ہوتے، تب تک امن اور ترقی کے دعوے کھوکھلے رہیں گے۔ کیا یہی ان کی قربانیوں کا صلہ ہے؟ تیمور سلیم جھگڑا
اردو
1
5
23
501
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
پاکستان کی تاریخ کا کہیں یا ہماری اس دنیا کی تاریخ کا وہ واحد قیدی ہے کہ صرف اس ایک شخص (عمران خان) کے ساتھ ناانصافی کرنے کے لیے، اس کے مقدمات کو مینوپولیٹ کرنے کے لیے، اس کے مقدمات کے اندر من مرضی کے فیصلے ٹھونسنے کے لیے، اس کے مقدمات کے اندر اس کی فیملی کو گھسیٹنے کے لیے، ان کے مقدمات کے اندر ان کی جماعت کو گھسیٹنے کے لیے صرف عدلیہ نہیں دبائی گئی، عدلیہ کو مینیج نہیں کیا گیا بلکہ پورے کا پورا آئین ہی بلڈوز کردیا گیا۔ پورے کا پورا آئین ہی مینیج کردیا گیا۔ پورے کا پورا آئین ہی مینوپولیٹ کردیا گیا۔ وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف خالد یوسف چوہدری
اردو
0
3
24
354
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
اگر سرکاری جیٹ ویانا (Viena) صرف مرمت (Maintenance) کے لیے گیا تھا، تو اس کے اخراجات کی تفصیلات اور فلائٹ مینی فیسٹ (مسافروں کی فہرست) پبلک کی جائے۔ عوام کو مہنگائی کی قربانی کا درس دینے والی اشرافیہ خود 9 کروڑ کی گاڑیوں اور لامحدود مفت پیٹرول کے مزے کیوں لوٹ رہی ہے؟ جیٹ طیارے کے اخراجات اور میڈیا سنسرشپ پر خاموشی توڑنا ہوگی۔ عوام کا پیسہ عوام کو جوابدہی! تیمور سلیم جھگڑا
اردو
1
12
60
652
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
اتنی بڑی خریداری کو اصل بجٹ کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔ اسے بجٹ سے باہر رکھنا اس تاثر کو جنم دیتا ہے کہ حکومت کچھ چھپا رہی ہے۔ ​ کسی بھی بڑے سرکاری خرچ کے لیے ایک "سمری" (Summary) تیار کی جاتی ہے جسے کابینہ منظور کرتی ہے۔ وہ دستاویزی ثبوت (سمری) کہاں ہے؟ گلف اسٹریم ایک طویل فاصلے کا لگژری جیٹ ہے۔ کیا یہ لاہور سے بہاولپور جانے کے لیے لیا گیا ہے؟ ​ پاکستان میں سرکاری خریداری کے لیے Public Procurement Regulatory Authority کے قوانین پر عمل کرنا لازمی ہے۔کیا اس خریداری کے لیے اخبارات میں ٹینڈر دیا گیا؟ کیا بوئنگ یا ایئربس جیسی دیگر کمپنیوں سے ریٹس لیے گئے تاکہ بہترین قیمت کا تعین ہو سکے؟ ​ یہ پیسہ عوام کا ہے، لہٰذا حکومت کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ تیمور سلیم جھگڑا
اردو
2
96
277
9.7K
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
عمران خان کی صحت کے حوالے سے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کو ہم مسترد کرتے ہیں۔ ​عمران خان کا ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کی موجودگی میں ٹریٹمنٹ کیا جائے۔ ​ہم حکومت کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہیں اور اپنے مطالبے پر قائم ہیں۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
اردو
0
56
152
7.4K
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
ہم ایران کے حق دفاع کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ​ان کے پاس حق ہے کہ وہ بیرونی حملہ آوروں کے خلاف اپنا دفاع کریں۔ ​جنگ کے کچھ اصول ہوتے ہیں جب آپ اسکولوں پر حملہ کرتے ہیں جس میں بچے شہید ہوتے ہیں، ہسپتالوں پر حملہ کرتے ہیں، اور آئل انفرا اسٹرکچر پر حملہ کرتے ہیں۔ ​جب وہ جوابی کارروائی کرتے ہیں تو پھر سب کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ ​جنگ کے اصول صرف ایران پر لازم نہیں ہیں۔ ​عمران خان کی صحت کے حوالے سے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کو ہم مسترد کرتے ہیں۔ ​عمران خان کا ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کی موجودگی میں ٹریٹمنٹ کیا جائے۔ ​ہم حکومت کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہیں اور اپنے مطالبے پر قائم ہیں۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
اردو
1
19
42
608
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
سولر پینلز لگانے والے معیشت کے دشمن نہیں بلکہ پاکستان کے اصل محسن ہیں جن کی وجہ سے آج ملکی خزانہ بچ رہا ہے۔افسوس کہ جہاں 1.2 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہوں، وہاں عوام کو کفایت شعاری کا درس دینے والے خود شاہانہ گلف اسٹریم جیٹس کے مزے لے رہے ہیں۔ جب تک حکمران عوامی جوابدہی سے آزاد رہیں گے، ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ تیمور سلیم جھگڑا
اردو
0
9
22
256
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
کل ہمارے وزیرِ خارجہ صاحب، دفترِ خارجہ کی طرف سے ایک پیغام آتا ہے کہ او آئی سی (OIC) کی میٹنگ ہے اور اس کے لئے سعودی عرب چلے گئے ہیں۔ کوئی او آئی سی کی میٹنگ نہیں تھی، آٹھ نو ممالک کے ان سلیکٹڈ (Selected) وزرائے خارجہ کی میٹنگ تھی جو ٹرمپ کے ساتھ "Board of Peace" میں بیٹھے ہوئے لوگ ہیں۔ تو آپ اس کو او آئی سی کا نام تو نہ دیں، یہ تو ہمارے دفترِ خارجہ کا حال ہے۔ ​تو یہ کس لئے ہو رہیہے؟ کیا ہو رہا ہے اس خطے میں؟ پاکستان کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ نہ قوم کو پتہ ہے، نہ پارلیمان کو پتہ ہے، نہ سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ اور بس ایک سلسلہ ہے جو چل رہا ہے۔ تو اس پہ ہمیں شدید تشویش ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد
اردو
5
216
622
12.3K
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
اس پوری لڑائی میں پاکستان کی عوام، پاکستان تحریکِ انصاف اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان میں شامل تمام سیاسی جماعتیں ایران کی اپنے بھائیوں کی، اپنی ایرانی قوم کی پشت پناہی پہ ہم کھڑے ہیں۔ ہم ان کے جرات مندانہ اور جس طرح جرات، غیرت اور ایمانی جذبے سے مقابلہ کیا ہے وہ سب سو کالڈ (so-called) مسلمان ملکوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ سیکھنا اگر کوئی چاہے تو اس ایرانی قوم سے سیکھے جو یزیدیت کے مقابلے میں آج بھی حسینیت کا پرچار کر رہے اور اس کے اوپر عملاً کھڑے ہیں۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
اردو
1
31
105
1K
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
جو ایران کی صورتحال ہے، جنگ ابھی تیسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے۔ ایک ناجائز جنگ، وہ جنگ جس پر آج امریکہ کے کاؤنٹر ٹیررازم کا سربراہ خود استعفیٰ دیتا ہے اس بنیاد پر کہ کوئی خطرہ نہیں تھا ایران سے ہمیں، لیکن امریکہ کے اندر مضبوط اسرائیلی لابی نے ہمیں مجبور کیا ایران کے اوپر اٹیک کرنے کے لیے۔ کل بھی اس کانگریس کے ہیئرنگ میں، بار بار جب ان کے نیشنل انٹیلی جنس سے بار بار وہ پوچھ رہے تھے کانگریس مین کہ آپ بتائیں کہ کوئی ایمیجیئیٹ تھریٹ (Immediate Threat) تھا کہ نہیں؟ وہ جواب نہیں دے پائیں۔ اس سے اب پتہ ہو، اور وہ خود استعفیٰ بھی اس بنیاد پر دیتا ہے کاؤنٹر ٹیررازم والے، تو اب تو امریکہ کے اندر سے بھی اس جنگ کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں، اس کے پارلیمان کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں کہ یہ ایک غیر ضروری، ناجائز جنگ، ایران کے اوپر اس لیے مسلط کی گئی ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
اردو
0
17
56
713
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
مہنگائی مارچ نکالنے والے آج اقتدار کے ایوانوں میں ہیں . ​عوام کی قوتِ خرید 2015 کے مقابلے میں 12 فیصد کم ہو چکی ہے۔ آج کا 1 لاکھ روپے 2015 کے 40 ہزار کے برابر رہ گیا ہے۔ جب معیشت تباہ ہو رہی ہو تو حکمران تو 'گلف اسٹریم جیٹ' لے لیتے ہیں، لیکن 25 کروڑ عوام کہاں جائیں گے؟ وہ تو ایک جیٹ یا لینڈ کروزر میں فٹ نہیں ہو سکتے! ​آنے والا بحران مزید سنگین ہے: ترسیلاتِ زر (Remittances) خطرے میں ہیں۔ گیس، بجلی اور کھاد کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے پیٹرولیم کمپنیوں کو ونڈ فال پرافٹ اور عوام کو لمبی لائنیں مل رہی ہیں عالمی حالات (ایران گیس فیلڈز تنازعہ) پیٹرول کو مزید مہنگا کر سکتے ہیں۔​حکمران اپنے بیانات کا آئینہ دیکھیں کیا وہ اب بھی وہی پرانی پالیسیاں جاری رکھیں گے یا عوام کو ریلیف دیں گے؟ تیمور سلیم جھگڑا
اردو
0
4
17
235
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
یو ایس کانگریس میں جو کل بریفنگ رہی ان کی نیشنل انٹیلیجنس کی سربراہ تلسی کی ، اس میں جو وہ انکشافات کرتی ہے پاکستان کے متعلق تو یہ بھی ہمیں سوچنے کی بات ہے۔ ایک طرف آپ ان کو نوبل انعام کے لیے نامزد کر رہے ہیں، ان کے غذا وار بورڈ میں آپ شامل ہو رہے ہیں، پیس بورڈ تو ہے ہی نہیں، وار بورڈ ہے اور دوسری طرف وہ کہہ رہے ہیں کہ بھئی آپ ہم پاکستان ایسے خطرناک میزائل بنا رہا ہے جس کی رینج جو ہے نہ وہ امریکہ تک ہوگی۔ یعنی ان ڈائریکٹلی وہ آپ کو تھریٹ بھی کر رہے ہیں۔ تو ہمیں تو یہ دوستی سمجھ نہیں آ رہی۔ ہمیں نہیں یہ ملک کے مفاد سمجھ آ رہے تو اس کی وضاحت بھی ضروری ہے ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
اردو
0
38
136
8.8K
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
یہ آگ اور خون کے کھیل بند کرنا ہو گا ، ہمارا مقصد یہ ہے کہ یہاں امن آئے، روزگار کے مواقع ملیں، ہمیں افغانستان اور پاکستان اور ہمارا خطہ ایک ایسا ہے کہ وہاں پہ سنٹرل ایشین اسٹیٹس تک ہمیں رسائی مل سکتی ہے، یہاں پہ ساؤتھ ایشین مارکیٹ تک رسائی مل سکتی ہے، ہم تو بالکل بیچ میں پڑے ہیں۔ ٹھیک ہے۔ تو اب بجایئے اس کے کہ ہم اس خطے کو کاروبار کے لیے، زندگی کے لیے، امن کے لیے یوٹیلائز کریں ہمیں دیکھیں۔ اس پورے، آپ پھر الزام لگاتے ہیں کہ فتنۃ الحندوستان، آپ کا بیانیہ بھی یہی ہے فتنۃ الحندوستان، ہم بھی چلو مان لیتے ہیں۔ ٹھیک ہے۔ تو اگر ہندوستان یہ سب کچھ کر رہا ہے تو آپ پھر افغانستان کو جس طرح ٹریٹ کر رہے ہیں اس طرح ہندوستان کو ٹریٹ کر رہے ہیں؟ کیا ہم ہندوستان کے اوپر اس طرح حملہ آور ہو رہے ہیں؟ جس طرح افغانستان، تو یہ تضادات ختم کرنے ہوں گے اس ریاست نے۔ اس تضادات کے ساتھ ایک قومی بیانیہ تشکیل دینا ناممکن بات ہے۔ اس تضادات کے ساتھ اس جنگ کو جیتنا ناممکن بات ہے۔ جب تک ایک جنگ میں آپ کے ساتھ آپ کی قوم کھڑی نہیں ہوگی وہ جنگ آپ نہیں جیت سکتے۔ اور بدقسمتی سے آپ جا کر خیبر پختونخواہ کے لوگوں سے پوچھیں کہ وہ اس وقت کس طرف کھڑے ہیں۔ جنگوں سے تو تنگ آگئے ہیں لوگ ہمارے۔ ہمارا پورا معاشرہ تباہ ہو چکا ہے۔ ایک ایسا گھر نہیں ہے جہاں سے جنازہ نہ اٹھا ہو۔ تو یہ سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
اردو
0
6
17
442
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان صاحب نے مختلف مواقع کے اوپر اور جیل میں بھی یہی نقطہ نظر بھیجا اور وہ بڑا واضح ہے کہ اس جنگ میں اگر اس مسئلے کو حل کرنا ہے تو اس کے بنیادی سٹیک ہولڈرز کون ہیں؟ ان کو بٹھائے بغیر ان سے کنسلٹ کئے بغیر اپ اس مسئلے کا حل نہیں نکال سکتے، اگر آپ عمران خان سے آپ کی ایک الگ قسم کی محبت ہے کہ اس کی تو کسی بات کو آپ تسلیم نہیں کرتے۔ لیکن آپ نے جو خود یہ فیبریکیٹڈ قسم کی پارلیمنٹ بنائی ہے جو ہمارے سر کے اوپر آپ نے تھونپ دی ہے پاکستانی قوم کے اوپر، اس پارلیمنٹ کو کتنا پتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ یہ جنگ کیوں ہورہی ہے، کس لیے ہورہی ہے، ہمارے مقاصد کیا ہیں، ہم آگے کس طرح بڑھ رہے ہیں۔ اس پارلیمان کو کیا پتا ہے؟ کیا ایک گھنٹے کے لیے اس پارلیمان کے اندر اس کے اوپر ڈیبیٹ ہوئی ہے؟ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
اردو
0
4
13
388