
Tahir
2.9K posts

Tahir
@Tahiresbe
'One day you're cock of the walk.. the next you're a feather duster'.. - Margot Barber



Another user has shared pictures of Jaecoo J7 from underneath Those cables and connectors need protection An incident like Taobat can happen in Karachi any day




@fourvoyagers آپ کی بات بالکل درست ہے. مگر یہاں ترقی یافتہ ممالک میں ایسی مشینیں موجود ہیں جہاں آپ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ہاتھوں سے چنے تازہ پھلوں کا خالص رس نکال کر پی سکتے ہیں. باقی میں تو خود پھلوں کو اصل قدرتی حالت میں کھانے کا عادی ہوں 😋



آج بھی کچھ گھروں میں صبح کی خاموش فضا کو اخبار کے دروازے سے ٹکرانے کی آواز مکمل کرتی ہے۔ایک خوبصورت روایت، جو آہستہ آہستہ وقت کی گرد میں کہیں کھوتی جا رہی ہے۔وہ زمانہ ہی اور تھا جب فجر کے بعد گلی میں ہاکر اخبار پھینک کر آگے بڑھ جاتا تھا۔ اخبار کے دروازے سے ٹکرانے کی وہ ہلکی سی آواز سنتے ہی گھر میں جیسے ایک دوڑ لگ جاتی تھی کہ کون پہلے اٹھا کر پڑھے گا۔ نوے میں پاکستان میں خاص طور پر جنگ گروپ اور ڈان میڈیا گروپ کے اخبارات کے ساتھ کئی رنگین میگزین اور سپلیمنٹس آیا کرتے تھے جن کا خواتین اور بچے بےصبری سے انتظار کرتے تھے اور جن میں فیشن، افسانے، انٹرویوز، تراکیب، شاعری اور بچوں کے صفحات ہوتے تھے۔ ہمارے گھر ڈان ، جنگ اور فرائڈے ٹائمز آیا کرتے تھے۔ ابا جان کو شوق ہوتا تھا کہ نوکر سب سے پہلے انہیں اخبار لا کر دے لیکن مزے کی بات ، ابا جان دیر سے جاگنے کے عادی تھے اور اماں جان فجر کے وقت پر، تو سب سے پہلے اخبار پڑھنے اور کھولنے کا شرف ابا کو شاز و نادر ہی نصیب ہوتا تھا۔ اماں جان سکون سے پڑھ کر اخبار کو ویسے ہی لپیٹ کر رکھ دیتیں اور جیسے ہی ابا جان اُٹھتے وہ انہیں اخبار کی سرخیوں کا بتا کر چڑاتی تھیں۔ لان میں بیٹھ کر اخبار کے صفحوں میں کھو جانا ، چائے کی بھاپ، صبح کی ٹھنڈی ہوا، اور ہاتھوں میں تازہ اخبار۔۔ ان لمحوں میں ایک عجیب سی زندگی ہوا کرتی تھی۔ پھر وقت بدلا، اسکرینیں آگئیں، خبریں لمحوں میں موبائل پر آنے لگیں۔ سب کچھ تیز، آسان اور فوری ہونا لگا۔آن لائن پڑھ لینے سے خبر تو مل جاتی ہے، مگر وہ خوشبو نہیں ملتی جو اخبار کے نئے صفحوں سے آتی تھی۔ وہ سکون نہیں ملتا جو اخبار کو ہاتھ میں تھام کر صفحے پلٹنے میں تھا۔ آج کی جنریشن شاید کبھی محسوس ہی نہ کر سکے کہ اپنے پسندیدہ کالم نویس آردیشر کاوسجی کے کالم کو کاٹ کر سنبھال لینے، یا کتاب میں پھول رکھ کر اسے خشک کرنے کے بعد دوبارہ کھولنے میں کتنی محبت چھپی ہوتی تھی۔کچھ چیزیں صرف پڑھی نہیں جاتیں وہ محسوس کی جاتی ہیں۔ اور اخبار اور کتاب انہی خوبصورت احساسات میں سے ایک تھے۔#Newspaper @dawn_com @jang_akhbar

— hazri at the resting place of the Singing Budha










یہ خاتون کون ہے؟ جسے سندھ پولیس اتنا پروٹوکول دے رہی ہے۔ ٹھاٹھ ہیں اس خاتون کے






The final boss of Indian street food







Pyar Kay liye chaar pal kam nahin thay ❣️


