°°°·.°·..·°¯°·._.· 𝔚𝔥𝔦𝔱𝔢𝔩𝔦𝔩𝔩𝔶 ·._.·°¯°·.
24.8K posts

°°°·.°·..·°¯°·._.· 𝔚𝔥𝔦𝔱𝔢𝔩𝔦𝔩𝔩𝔶 ·._.·°¯°·.
@The_Wordist
In the world of words, beneath the endless sky of thoughts, falls the silver rain of ink. Poet - writer RT's are not endorsements, Views Personal. No DM
Katılım Aralık 2019
860 Takip Edilen1.4K Takipçiler
°°°·.°·..·°¯°·._.· 𝔚𝔥𝔦𝔱𝔢𝔩𝔦𝔩𝔩𝔶 ·._.·°¯°·. retweetledi

موضوع - بادِ مخالف
عنوان: بادبان
قدیم سمندر کی پیٹھ پر رات نے اپنا کالا چوغہ ایسے پھیلا رکھا تھا جیسے کسی نادیدہ دیو نے آسمان کی چادر پھاڑ کر سیاہی کے بے شمار کنستر انڈیل دیے ہوں۔
اُس گھنے اندھیرے کے قلب میں کاغذ کی ناؤ کی طرح ڈولتی ہوئی رحمت میاں کی کشتی "نورِ سحر" ایک زخمی پرندے کی مانند کراہ رہی تھی۔ تیز ہوا اس کے کمزور جسم پر چابک چلا رہی تھی، اور لہریں… لہریں اسے اپنے دانتوں سے نوچنے کے لیے بےتاب تھیں۔
ستر برس کی عمر، چالیس برس کا سمندر سے گہرا رشتہ۔
رحمت میاں ہمیشہ کہتے تھے کہ سمندر ماں ہے، ماں اپنے بچوں کو نہیں نگلتی۔ مگر آج… آج وہی مہربان ماں ایک غضب ناک دیوی کا روپ دھار چکی تھی۔ لہریں آسمان چھوتی ہوئی دیواروں کی مانند اٹھ رہی تھیں، اور ہوا تو جیسے عزرائیل بن کر اُس کی سانسوں کا حساب مانگنے آئی تھی۔ جو ایک سفاک شکنجے کی طرح اُس کی سانسوں کو جکڑ کر نچوڑ رہی تھی، جیسے شہ رگ کسی نیزے کی اَنی کی زد میں ہو۔ بس ایک حرکت اور جسم کا سانسوں سے رشتہ ختم۔
یہ تیز ہوا صرف ہوا نہیں تھی۔ یہ زمانے کا وہ بے رحم ہاتھ تھا جو اسے پیچھے کی طرف کھینچ رہا تھا۔ یہ وقت کا وہ سود خور تھا جو اُس کی جوانی کا قرض واپس مانگ رہا تھا۔ یہ اُن سارے طعنوں کی کیلیں تھیں جو گاؤں والوں نے اُس کے دل میں ٹھوک دی تھیں جب اس نے اپنی زمین کا آخری ٹکڑا بیچ کر یہ کشتی خریدی تھی۔
"بوڑھا پاگل ہو گیا ہے، اب اِس عمر میں سمندر سے لڑنے چلا ہے؟"
بادبان پھٹ چکا تھا۔ وہ کپڑا نہیں، اُس کی پگڑی تھی جو ہوا نے سر سے نوچ لی تھی۔ رسیاں ایک ایک کر کے اُس کی بقیہ امیدوں کی طرح بکھر رہی تھیں۔ کشتی بندرگاہ کی طرف مڑنا چاہتی تھی، مگر طوفانی ہوا اسے کھلے سمندر کی گہری، اندھیری قبر کی طرف دھکیل رہی تھی۔
نیچے پتوار میں اُس کی پوتی سلمیٰ کی تصویر رکھی تھی۔ کاغذ کی نہیں، اُس کی دعاؤں کی تصویر۔ اگلے مہینے اُس کی شادی تھی۔ جہیز کا وعدہ کر کے نکلا تھا رحمت میاں۔ مچھلیوں سے بھرے ڈورے کا وعدہ نہیں، پوتی کی آنکھوں میں بسنے والے سہاگ کے چاند کا وعدہ۔
ایک لمحے کو اُس کے جھریوں سے بھرے بوڑھے ہاتھ پتوار کو تھامے کانپ اٹھے۔ جیسے مردہ گھروں میں جلنے والا پیلا بلب اپنی دھندھلی روشنی کو زندہ رکھنے کی آخری لڑائی لڑتا ہے۔
وہ ہاتھ نہیں، ستر برس کی جدوجہد لرز رہی تھی۔
عمر بھر کی کمائی، دستار کا واحد آخری ٹکڑا، پوتی کی آنکھوں میں چمکتی معصوم سی امید۔
بیک وقت سب اِس ایک رات میں غضب سے غرّاتی ہوئی ہوا کے منہ کا نوالہ بنتا نظر آیا۔
دل نے کہا، "رسی کاٹ دے، رحمت۔ بادبان گرا دے۔ ہوا کے ساتھ بہہ جا۔ کم از کم سانس تو بچ جائے گی۔ اگرچہ وہ سانس، شرم کا سانپ بن کر ساری عمر ڈسے گی۔"
وہ ابھی اس مخمصے کی اندھیری غار میں گم تھا کہ سمندر کے اتھاہ، بے رحم قہقہوں کے درمیان ایک تند لہر نے کشتی کے لگاتار بجتے تختوں پر اپنا پرتعیش سر یوں پٹخا، جیسے بادِ مخالف اسے تحدی کر رہی ہو کہ اب دیکھتے ہیں کتنا دم ہے تیرے اندر۔
اس دھواں دھار طوفان کے عین وسط میں لہر کی اچانک افتاد نے رحمت میاں کے رہے سہے ہوش بھی چھین لیے۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے پتوار کے نیچے سے سلمیٰ کی تصویر نکالی اور بینائی کے ماند پڑتے ستاروں کو ایک بار پھر سے آنکھوں کے آسمان پر مجتمع کر کے تصویر میں خط و خال تلاش کرنے کی بے سود کوشش کی۔ لیکن اُس ظلمت کی سیاہی اتنی طاقتور تھی کہ امید کا سورج شکست خوردہ ہو کر شرمساری سے اسی سمندر میں غرقاب ہو گیا۔
وہ کرب سے اپنی آنکھیں بھینچنے ہی لگا تھا کہ ایک گرجتی بجلی کی تیز چمک نے منظر صاف کر دیا اور تصویر کے پیلے پڑتے کاغذ پر سلمیٰ کا چہرہ ایک لمحے کو روشن ہو گیا۔ اُس کے ماتھے پر خوش بختی کا وہ چاند ابھی سے چمک رہا تھا جو کسی سہاگن کا سب سے پائیدار زیور ہوتا ہے، اور معصوم آنکھوں میں آنے والی مخصوص خوشیوں کی وہ چمک تھی جو کسی بھی باپ یا دادا کے دل کا ازلی ارمان ہوتی ہے۔
سینے میں ایک ناقابلِ بیان درد اٹھا جیسے کوئی پرانا زخم پھر سے کھل گیا ہو۔ اُس لمحے اُس کا کلیجہ منہ کو نہیں آیا، اُس کا کلیجہ پھٹ کر آنکھ کے راستے بہہ نکلا۔ ایک بوند ٹپکی اور سمندر نے بھی نمک کا ذائقہ چکھ لیا۔
اسی لمحے رحمت میاں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ لڑے گا — اپنی بقا کے لیے نہیں، بلکہ اپنے وعدے کی حرمت کے لیے۔
کیونکہ… وہ سمجھ چکا تھا۔ طوفان سے لڑنا ہی تو زندگی کا قلمہ ہے۔ جو ہوا کے ساتھ بہتا ہے، وہ پتا ہے جس کی کوئی قبر نہیں ہوتی۔ جو ہوا کا سینہ چیرتا ہے، وہ ناخدا ہے جس کا نام لہروں پر لکھا جاتا ہے۔
اور وہ… وہ گمنام پتا نہیں تھا۔ وہ ایک نام تھا — "دادا"۔
وہ ایک وعدہ تھا جسے توڑ کر مرنا گناہِ کبیرہ تھا۔
اس نے پھٹے ہوئے بادبان کو نظر انداز کر کے تیز ہوا کے رخ کو پرکھا۔ بزرگوں نے سکھایا تھا: جب کبھی بادِ مخالف سے سامنا ہو تو اس سے سیدھا مت لڑو۔ ٹیڑھی چال چنو۔ بے رحم ہوا کو دشمن نہیں، رقص کا ساتھی بنا لو۔ ایک بار دائیں، ایک بار بائیں۔ ہوا کو چکما دو، اس کا زور اسی پر پلٹ دو۔
کانپتی انگلیوں سے اس نے رسی میں گرہ لگائی، جیسے ٹوٹتی کمر کو پھر سے خم دے رہا ہو۔ بادبان کا بچا ہوا حصہ ترچھا کر دیا، جیسے ماہر رقاصہ ساز کے ہر زاویے پر مڑتی ہے۔
کشتی نے چیخ ماری اور دائیں مڑ گئی۔ طوفان نے طمانچہ مارا۔ رحمت میاں نے اپنا غرور بھینچ لیا۔
"مار۔ اور مار - ہر وار پر میں تجھے اپنا بنا رہا ہوں۔"
پھر بائیں۔ پھر دائیں۔ ہر موڑ پر کشتی ٹوٹنے کو ہوتی، ہر موڑ پر بوڑھی ہڈیاں چٹختیں، جیسے خشک لکڑی آگ میں جل رہی ہو۔ مگر اس آگ میں اس کے خوف کے بت چٹخ رہے تھے۔
یہ کشتی اور طوفان کی جنگ نہیں تھی۔ یہ ستر سالہ انسان کی اپنی بے بسی سے لڑائی تھی۔ ہر دائیں کروٹ پر وہ سلمیٰ کی ڈولی کا کہار بنتا، اس کی ہنسی سنتا۔ ہر بائیں کروٹ پر وہ اس کی سونی کلائی کی چوڑی بنتا۔ ہر موڑ پر وہ ایک سال جوان ہوتا، ہر موڑ پر ایک سال بوڑھا — جیسے طوفان خود اس کے ساتھ کھیل رہا ہو۔
آنکھوں کے سامنے زندگی ایک فلم بن کر گزری۔ سلمیٰ کی پیدائش، اس کا "دادا" کہنا، سفر سے پہلے جہیز کا وعدہ۔ سب کچھ اس طوفان میں لوٹ آیا، جیسے سمندر اسے اس کی کہانی واپس کر رہا ہو۔
سحری کا وقت قریب تھا جب دور کنارے پر مشعل کی مدھم، لرزتی روشنی دکھائی دی۔ تیز ہوا اب بھی شدید تھی۔ مگر "نورِ سحر" اب اُس کے سامنے نہیں، اُس کے باوجود آگے بڑھ رہی تھی _ جیسے ایک بوڑھا مسافر تیز دھوپ میں اپنے پیروں کے آبلوں کو نظر انداز کر کے اپنی ہی دھن میں گامزن ہو۔
بندرگاہ پر جب لوگوں نے آدھی ٹوٹی کشتی کو آتے دیکھا تو سب کی نظریں رحمت میاں کی آنکھوں پر ٹک گئیں۔ اُن آنکھوں میں تھکن نہیں تھی۔ اُن میں سمندر کا سکون تھا اور ایک ہاری ہوئی جنگ کی جیتی ہوئی تاریخ بھی۔
ایک باپ کی خاموش فتح تھی۔ ایک دادا کا اپنی پوتی سے کیے گئے وعدے کی تکمیل تھی۔
کنارے پہنچ کر اُس نے مچھلیوں سے بھرا ہوا ڈورا کشتی سے باہر نکالا اور گھر کی طرف چل دیا۔ طوفان سے لڑتے ہوئے بھی اُس نے جال نہیں چھوڑے تھے۔ "خالی ہاتھ کیسے لوٹتا؟ بچی سے کیا کہتا کہ تیرا دادا بادِ مخالف سے ہار گیا؟"
کنارے پر کھڑے لوگوں نے دیکھا، کشتی آدھی تھی، مگر اس کا بادبان سلامت تھا۔ پھٹا ہوا، ترچھا، مگر تنا ہوا۔
لوگ پوچھتے، "رحمت میاں، اتنے شدید طوفان میں واپس کیسے آ گئے؟"
جواباً وہ صرف مسکرا دیتا۔ اُس کی مسکراہٹ میں سمندر کی لا انتہا گہرائی تھی، اور ایک بوڑھے کی وہ حکمت تھی جو طوفان نے خود اُسے سکھائی تھی۔
سمندر آج بھی وہی ہے۔ ہوا آج بھی وہی ہے۔ طوفان وقتاً فوقتاً اٹھتے ہی رہتے ہیں _ کبھی سمندر میں، تو کبھی دل کے اندر، یا پھر حیات کے طلسماتی شہر میں۔
فرق صرف ٹیڑھی چال چلنے اور پختہ ارادے کا ہے۔
کوئی بادبان گرا دیتا ہے، اور کوئی اپنا کفن پھاڑ کر بادبان بنا لیتا ہے۔
جس کے ارادوں میں پختگی ہے اور جس نے حکمت عملی سے کام لیا، اُسی نے اِس جنگ کو سر کیا۔ جو اس بادِ مخالف کے سامنے سر جھکا دیتا ہے، وہ ہوا کے ساتھ یوں بہہ جاتا ہے جیسے کوئی بے وزن پتا
اور جو طوفان کا سینہ چیرتا ہوا آگے بڑھتا ہے، وہ تاریخ بناتا ہے۔
رحمت میاں نے بھی طوفان کو شکست دے کر تاریخ ہی تو درج کی تھی۔
بقلم: دی ورڈیسٹ
@The_Wordist
اردو
°°°·.°·..·°¯°·._.· 𝔚𝔥𝔦𝔱𝔢𝔩𝔦𝔩𝔩𝔶 ·._.·°¯°·. retweetledi

⚠️ اس پوری پوسٹ کو دھیان سے پڑھیں، خود کی زندگی پر غور کریں اور دوسروں کے ساتھ بھی ضرور شیئر کریں۔
Read, think and repost 😶
⚠️ Follow this channel for more reminders like this 👇🏻
whatsapp.com/channel/0029Vb…


When the lonely evening star rises over Corsica,
listen…
A voice is singing the seasons of Napoleon:
Revolution → Throne → Snow → Silence.
Beautiful, bittersweet, and unforgettable.
youtu.be/wC2zmwdcjTg?si…
#Napolean #FrenchHistory #worldhistory #lyricaltales #viral #fyp

YouTube
English

Come, gentle souls, to a tale softly spun.
Shah Jahan & Mumtaz, a love that defies death,
Eternal flame carved in the Taj’s sacred breath.
Join The Wordist Tales for this timeless romance!
👇
youtu.be/wr0JZUML50o?si…
#WordistTales #ShahJahanMumtaz #TajMahalLove #EpicRomance

YouTube
English

@narendramodi LPG nahi mil rahi. Wo dilwa dein bas.
Indonesia


Dear Prime Minister, As Indians, our basic needs are not Iran's responsibility, they are yours. It is your duty to arrange gas and fuel for us. Whether the Strait of Hormuz is open or closed, you must ensure our essential supplies, @narendramodi
English

@Iam_Mudasir1 I think cover and timeline
English

You'll tell me the favourite part of my Account 🌸✨️
Name
Profile
Cover
Bio
Everything
Posts
Nothing
Me
Let's go 🥰
#Hero
Adila Sehar Syed@adigillani96
You'll tell me the favourite part of my Account 🌸✨️ Name Profile Cover Bio Everything Posts Nothing Me Let's go 😄
English

The first raindrop, the first feeling and the first Love Letter. ❤️
My new original song is out now!
Don’t forget to skip a heartbeat.
👇
youtu.be/83RB7Qi01H0?si…
#TheFirstLoveLetter #OriginalSong #NewMusic #LoveSongs #Viralvideo #trendingsong #fypviral #SingerSongwriter

YouTube
English

The cards are dealt. The smile is painted.
Step into the fractured carnival of my mind, where laughter echoes like screams, and lyrics unravel the mask.
Dare you watch 'The Joker' ? The chaos awaits...
👇
youtu.be/40Qsy-GQTKk?si…
#Joker #Lyrics #JokerMovie #Batman #ExplorePage

YouTube
English

Eid Mubarak to everyone 🌙✨
May Allah fill your life with joy, peace, and happiness. May all your prayers be accepted, your hardships be eased, and your heart be blessed with contentment.
May this Eid bring you success, new opportunities, and countless blessings. Stay safe, happy, and blessed with your loved ones.
Eid Mubarak once again to you and your family 🤍
#EidMubarak
#Hero

English

@ariyoshihiroiki Keep leveling up. ❤️
English

"We're The Flames"
Lyrics direct from heart. An original english song written and composed by me.
youtube.com/shorts/DBtcKsm…
Tag to ur flame #WereTheFlames
#lovesong #romanticsong #newmusic #musicvideo #originalsong #indiemusic #love #romanticvibes #trending #viral #couplegoals

YouTube
English

@imahirkhan @windcertain Thank you Mahir. Please watch the complete video and share your feedback.
English






