Sabitlenmiş Tweet
Waqar khan
26.4K posts

Waqar khan
@Waqarkhan
President PTI MD, USA
Maryland, USA Katılım Mayıs 2011
255 Takip Edilen160.2K Takipçiler

علی امین گنڈاپور شاید عمران خان اور PTI سے اپنی ناراضگی یا دشمنی نکالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے، شیر افضل مروت نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ علی امین کو عمران خان نے جیل سے ہٹایا، جبکہ عمران خان سزا یافتہ ہیں اور پارٹی چیئرمین بھی نہیں، اس لیے وہ علی امین کو ہٹانے کے اہل نہیں ، درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ سہیل آفریدی کو ہٹا کر علی امین کو دوبارہ وزیراعلیٰ بنایا جائے
دوسری طرف مین اسٹریم PTI رہنما خود ٹی وی پر کھل کر یہ کہہ رہے ہیں کہ پارٹی کے بڑے فیصلے عمران خان کے مشورے سے ہوتے ہیں، اور علی امین کو بھی عمران خان سے مشاورت کے بعد بیرسٹر گوہر نے عہدے سے ہٹایا ایسے وقت میں ایک واضح، دوٹوک اور غیر مبہم مؤقف درکار تھا
اگر علی امین واقعی عمران خان کی قیادت اور فیصلے کے ساتھ کھڑے تھے تو انہیں فوراً یہ اعلان کرنا چاہیے تھا کہ جو کچھ شیر افضل مروت کر رہا ہے، وہ اس کا ذاتی عمل ہے، میرا اس سے کوئی تعلق نہیں، اور اگر عمران خان کے فیصلے کے بعد مجھے ہٹایا گیا ہے تو میں کبھی بھی دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کے لیے کسی عدالتی یا سیاسی راستے کا حصہ نہیں بنوں گا
لیکن جو بیان آیا، وہ شیر افضل مروت کی پیٹیشن میں اختیار کیے گئے موقف کی تصدیق تھا کہ میرا اس پیٹیشن سے کوئی تعلق نہیں، میں نے اپنے قائد عمران خان کے حکم پر عہدہ چھوڑا
سوال مگر یہیں ختم نہیں ہوتااگر قائد کے حکم پر عہدہ چھوڑا تھا، تو پھر قائد کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے والی درخواست پر صرف لاتعلقی کافی ہے یا کھل کر مخالفت بھی ضروری تھی؟

اردو

قمر زمان قائرہ پاکستان کی سیاست کا وہ چہرہ ہے جو ہر دور میں ظلم، جبر اور طاقت کے ناجائز استعمال کے سامنے یا تو سر جھکاتا رہا یا پھر اس کا وکیل بن کر کھڑا ہوا۔ یہ شخص جتنی اپنی اوقات رکھتا ہے، اتنا ظلم کرتا ہے یا اس کا ساتھ دیتا ہے فرق صرف یہ ہے کہ اختیار کم ملا، ورنہ ذہنیت ہمیشہ فرعونوں والی ہی رہی
محترمہ کی شہادت کے بعد ہمدردی کی لہر میں پہلی بار 2008 میں اسمبلی پہنچنے والا قائرہ 2013 میں اپنی ضمانت ضبط کروا بیٹھا، 2018 میں بھی ذلت آمیز شکست اس کا مقدر بنی، اور 2024 میں PTI کے امیدوار سے ایک لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے ہار گیا، عوام نے بار بار اس شخص کو مسترد کیا، مگر اقتدار کے دروازوں پر حاضری لگانے کی عادت پھر بھی ختم نہ ہوئی
اس شخص کی ذہنی فرعونیت کا عالم دیکھیے کہ جب 26 نومبر کو اسلام آباد میں خون بہہ رہا تھا، والدین اپنے بچوں کے جسدِ خاکی ڈھونڈنے ہسپتالوں کے چکر لگا رہے تھے، تب یہ شخص ٹی وی پر بیٹھ کر جرنیلوں کے قتل عام کو جائز قرار دے رہا تھا کیونکہ بچوں کے ہاتھوں میں غلیلیں تھیں ،ایک ایسا شخص جس نے خود اپنا جوان بیٹے کو کھویا ہو، اگر دوسروں کے بچوں کی لاشوں پر ایسا بے رحم مؤقف اختیار کرے تو یہ صرف سیاسی پستی نہیں، بلکہ احساسِ انسانیت کے مر جانے کی علامت ہے
عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے پر بھی اسی فرعونیت کا مظاہرہ ہوا جب اس نے کہا کہ حکومت کا دل چاہے تو ملاقات کروائے، نہ چاہے تو نہ کروائے، گویا بنیادی انسانی، قانونی اور جمہوری حقوق بھی کسی جرنیل کی مرضی کے غلام ہوں
اور جب جمہوریت پر ڈاکہ ڈالنے کی بات آئی تو یہی شخص نوجوانوں کو لاشعورکہہ کر ووٹنگ کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے کے خیالات کا دفاع کرتا دکھائی دیا، یعنی اگر نوجوان ووٹ آپ کے حق میں نہ دیں تو حل یہ نہیں کہ خود کو بہتر کرو، بلکہ پوری نسل کو ہی جمہوری عمل سے باہر پھینک دو، یہ جمہوریت نہیں، شکست خوردہ ذہنیت اور عوامی رائے سے خوفزدہ سیاست کی نشانی ہے
حقیقت یہ ہے کہ قمر زمان قائرہ جتنا بااختیار ہوتا، شاید اتنا ہی زیادہ ظلم کا جواز تراشتا، یہ شخص صرف ظلم کا خاموش تماشائی نہیں رہا بلکہ اکثر اوقات اس کا وکیل، ترجمان اور اخلاقی جواز فراہم کرنے والا بنا رہا، عوام نے اسے بار بار ذلت سے مسترد کیا، مگر طاقت کے ایوانوں میں چاپلوسی کی سیاست نے اسے زندہ رکھا، کچھ سیاستدان اقتدار کھونے کے بعد سبق سیکھتے ہیں، قائرہ اُن لوگوں میں سے لگتا ہے جو ہر شکست کے بعد بھی عوام نہیں، صرف طاقتوروں کی خوشنودی کو ہی اپنی سیاست سمجھتے ہی

اردو

حقیقت تو یہ ہے علیمہ خان محسن نقوی سے ہونے والی ملاقات سے آگاہ تھی لیکن وہ اس ملاقات کا حصہ نہیں تھیں اپنے بھائی کے علاج کے لیے کوئی بھی رستہ نظر آۓ وہ اس جانب ضرور دیکھتی ہیں ملاقات سے پہلے علیمہ خان کو اعتماد میں لیا گیا تھا
علی امین گنڈاپور جب محسن نقوی سے ملے اور گرمجوشی سے گلے ملے تو یہ بات جب عمران خان تک پہنچی تو اگلی ملاقات میں عمران خان نے واضح ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ PTI کے قاتلوں سے اس انداز میں کیسے گلے مل سکتے ہیں؟ اگر ملاقات ناگزیر تھی تو کم از کم اس کا انداز ایسا والہانہ نہیں ہونا چاہیے تھا
اب حالات بدل چکے ہیں پچھلے کچھ عرصے میں عمران خان کی آنکھ کے مسئلے نے ایسی صورت اختیار کر لی ہے کہ علاج ناگزیر دکھائی دیتا ہے ایسے میں اگر حکومت کے رسمی دروازوں کی بجائے اصل فیصلہ ساز قوتوں تک رسائی مقصود ہو، تو بہت سے لوگوں کے نزدیک ان قوتوں کا عملی نمائندہ محسن نقوی ہی سمجھا جاتا ہے
کچھ لوگ اعتراض اٹھا رہے ہیں کہ محسن نقوی سے بند کمروں میں ملاقات کیوں ہوئی لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہی ملاقات کھلے عام ہوتی، تو کیا یہی لوگ یہ اعتراض نہ کرتے کہ قاتلوں سے سرِعام ملاقات کیوں کی جا رہی ہے؟
اگر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھ کے علاج کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کرنا پڑے تو وہ کیا جانا چاہیے
سیاست میں بعض اوقات مزاحمت اور مفاہمت دونوں کو حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے خاص طور پر جب معاملہ کسی کی صحت اور بنیادی انسانی ضرورت کا ہو

اردو