Sabitlenmiş Tweet

جنوں بن عشق کاہے کا؟
سکھی تم عشق والی جو عبارت پڑھ رہی تھی
اس عبارت میں ہمارا تذکرہ کب تھا۔
(وہ پگلی رونے والوں میں بہت پہچانی جاتی تھی
کہ جو یہ ہاں نہیں کی گتھیاں سلجھا نہیں پائی.
ہمارا شاہ کہتا ہے کہ نادانی بھی شاہی ہے.
سکھی منصور جیسی تھی
جنوں سے پھر بھی عاری تھی
سراپا نور تھی لیکن بہت بے نور ہو بیٹھی
غموں سے چور ہو بیٹھی
نفی کرنے چلی تھی آپ اپنی ذات کی لیکن بہت رنجور ہو بیٹھی)
بہت کچھ جان لینا بھی نہیں افسردگی بن کچھ
مگر سب جان لینا کیا؟؟؟
سکھی تم ہار جاتی ناں۔۔۔!!
بدن کا ساتھ مہنگا بھی نہیں اتنا کہ جتنا پڑ گیا مہنگا
کہو کیا عالمِ ارواح میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہوگا؟
نہیں؟ تو ہار جاتی ناں!!
مگر نادان ہی کب تھی
جنون آسان سمجھی تھی
تو پھر ایسا تو ہونا تھا
رہینِ بے کلی تھی اور سمجھتی تھی سکوں نے رنگ ڈالا ہے۔
سہیلی تم نے تھل دیکھے کہاں ہیں عشق والوں کے،
چلی کیسے؟
بغیر اس آبلہ پائی کے تم آخر چلی کیسے؟
تمہاری منزلوں نے راستوں کو کچھ نہیں بولا؟
تمہارے خواب نیندوں سے تو نیندیں رات سے اور رات بھی تم سے خفا کیوں ہو نہیں پائی؟
سلونی سانولی! دیوار پڑھنے کا ہنر آیا نہیں تم کو
درختوں کی کوئی خدمت بھی کی؟
ان سے دعا بھی لی؟
تمہاری سوچ کتنی بانجھ لگتی ہے۔۔
فقط لہجے میں ہی شیرینیاں بھرنے سے کب اسرار کھلتے ہیں۔۔
سہیلی تم نے بلھے شاہ کے گھنگھرو کی چھن چھن بھی اتاری روح میں؟
کیا پہن کر دیکھے؟
کبھی باہو کی ھو میں جذب ہو کر تم نے دیکھا ہے؟
سمجھ بیٹھی کہ تم بس ہیر ہو
اور ہیر وارث کی ؟
اگر منصور جیسی تھی
تو پھر دیوانگی سے خالی کیونکر تھی؟
تمہاری آگ بھی گلزار کیوں نہ ہو سکی؟
اور تن بدن کا ماس بھی اترا نہیں تو پھر جنوں کیسا؟
تمہیں تو بھوک کا صدمہ بہت ہے
پیاس ہی کی بدزبانی کھا گئی تم کو
بھلا یہ عشق جیسی شئے تمہیں کیا چھو کے گزرے گی
تمہاری عقل و دانش کھا گئی تم کو
مزاروں پر دیے آخر جلانے پڑ گئے ہیں نا!
سکھی ایسا نہیں ہوتا۔۔۔
خرد میں قید ہو کر بھی جنوں کیا ہاتھ آتا ہے؟
خرد کا کیا تعلق ہے جنوں سے اے سکھوں والی!
سو اب حیران کیسی ہو؟
سہیلی مان جاتی ناں!
مگر نادان ہی کب تھی
سبھی کچھ جان بیٹھی تھی
سو اب ویران کیسی ہو؟؟؟
زین شکیل
اردو






