Muhammad Yousaf
19.3K posts

Muhammad Yousaf
@aabgina
Never ever give up.....#One #management #Investor #Business #industry #Commercial #Leadership #Marketing #Ecology #Environment #Entrepreneur #ClimateChange
Lahore Katılım Nisan 2010
4.5K Takip Edilen2.1K Takipçiler

🚀 Relaunch Sale – Round 2 is live!
Get a 6K Challenge for just $6 with code: 6K6USD
⏰ 48 hours only
👤 Limit 1 purchase per person
🎯 Limited to 300 accounts
Please note: if the same person attempts to purchase multiple accounts by using false or misleading information, those purchases will be deemed invalid during the payout verification process.
Don’t miss it🔥
🌐 superfunded.com

English
Muhammad Yousaf retweetledi

ہم کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔
ہم صرف اس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کی ضمانت آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت ہر فرد کو دی گئی ہے:
ایک آزاد، شفاف اور منصفانہ ٹرائل، جہاں انصاف صرف کیا ہی نہ جائے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے:ہمشیرہ ماہرنگ
#ReleaseMahrangBaloch #ReleaseBYCLeaders

اردو

ویسے تو بلوچ خواتین عرصہ دراز سے مزاحمت کررہی ہیں لیکن 2025 خاص طور پر ڈاکٹر مہرنگ بلوچ،بیبو بلوچ اور گل زادی بلوچ کے نام ہے اور انھوں نے بلوچ مزاحمتی تحریک میں بہادری اور مزاحمت کی بےمثال تاریخ رقم کردی ہے
#ReleaseBYCLeaders #ReleaseMahrangBaloch
اردو
Muhammad Yousaf retweetledi
Muhammad Yousaf retweetledi

ہم اپیل کرتے ہیں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ سمیت تمام زیرِ حراست بی وائی سی لیڈران کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ساتھ ہی ان کے خلاف قائم تمام جھوٹے اور سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے مقدمات کو ختم کرکے انہیں باعزت بری کیا جائے۔ #SaveBalochWomen #ReleaseBYCLeaders

اردو
Muhammad Yousaf retweetledi

یہاں زمین، وسائل یا سیاسی اقتدار کا سوال نہیں بلکہ انسانوں کی زندگیوں، ان کی شناخت، ان کے بنیادی حقوق اور ان کے مستقبل کا سوال ہے
#BalochFightForHumanRights #Balochistan
اردو

تفسیر سیریز: پوسٹ نمبر 144
عنوان: کائناتی فرمانبرداری اور اسلام: تخلیق کا ابدی قانون
آیات: سورہ آلِ عمران (83-85)
مختصر پس منظر:
پچھلی پوسٹ میں ہم نے عالمِ ارواح کے اس مہیب 'میثاقِ انبیاء' کا مطالعہ کیا تھا جہاں تمام پیغمبروں سے آخری رسول ﷺ کی تصدیق اور نصرت کا ابدی وعدہ لیا گیا تھا۔ اب ان آیات میں کائنات کا مالک اس کلامی اتمامِ حجت کو مادی کائنات کے طبیعیاتی قوانین (Laws of Nature) سے جوڑ کر ایک ایسا عالمگیر فیصلہ سنا رہا ہے جو انسان کی فکری آزادی اور سرکشی کی تمام حدود کا تعین کر دیتا ہے۔
قرآن کا گہرا تجزیہ (Deep Analysis):
کائناتی اسلام—طبیعیاتی قوانین کا الٰہی جھکاؤ:
’أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا‘ (کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین تلاش کر رہے ہیں، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ہر شے طوعاً و کرہاً اسی کے سامنے سرِ تسلیم خم کیے ہوئے ہے؟)۔ یہ آیت ہمیں یہ مابعد الطبیعی شعور دیتی ہے کہ کائنات کا پورا نظام 'مسلم' ہے۔ سورج کا وقت پر نکلنا، درختوں کا اگنا اور ایٹم کے ذرات کا گردش کرنا—یہ سب الٰہی قوانین کی وہ 'مجبورانہ فرمانبرداری' (کرہاً) ہے جس سے کوئی مادی شے باہر نہیں نکل سکتی۔ پس انسان جب کفر یا بغاوت کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو وہ دراصل پوری کائنات کے مادی توازن سے لڑ رہا ہوتا ہے۔
تفریقِ رسالت کا خاتمہ—فکری خودداری کا ابراہیمی معیار:
آیت 84 ہمیں ایک وسیع اور عالمگیر نظریاتی کینوس عطا کرتی ہے: "کہہ دیجیے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر، اور جو ہم پر نازل ہوا، اور جو ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ، موسیٰؑ اور عیسیٰؑ پر نازل ہوا..."۔ 'شعورِ دین' یہ ہے کہ مسلمان کسی خاص جغرافیے یا قبیلے کے اسیر نہیں ہیں۔ ہمارا رشتہ تاریخِ انسانی کے ہر اس مصلح اور نبی سے ہے جو توحید کا پیغام لے کر آیا۔ ہم انبیاء کے مابین تفریق (Segmentation) کے موروثی تعصب کو یکسر مسترد کرتے ہیں؛ حق جہاں بھی چمکا، وہ ہمارا ہی سرمایہ ہے۔
الاسلام—واحد قابلِ قبول کلامی ضابطہ:
’وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ‘ (اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا، تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا)۔ یہ جملہ کائنات کی آخری فکری عدالت کا فیصلہ ہے۔ جب حق اپنی تمام تر سائنسی اور وحیانی دلیلوں کے ساتھ واضح ہو جائے، تو اس کے بعد انسان کے خود ساختہ فلسفے، ازم (Isms) اور کاروباری مصلحتیں الٰہی ترازو میں ردی کے ٹکڑے بن جاتے ہیں۔ کائنات کے مالک کے ہاں سرخروئی کا واحد معیار اپنی انا کو مٹا کر الٰہی حاکمیت کو تسلیم کرنا ہے۔
آخرت کا حتمی خسارہ—نظریاتی دیوالیہ پن کا انجام:
آیت 85 کا اختتام اس جملے پر ہوتا ہے: ’وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ‘ (اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا)۔ یہ ہمیں یہ عملی شعور دیتا ہے کہ دنیا میں باطل نظریات کے سہارے عارضی کامیابیاں، عہدے اور واہ واہ تو حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن آخرت کی ابدی بساط پر جب مادی سمارٹ لیس (Smartness) ختم ہوگی، تو خدا کی حاکمیت سے منہ موڑنے والا انسان خود کو مکمل طور پر خالی ہاتھ پائے گا۔ وہاں اصل سرمایۂ نجات صرف بندگی کا اخلاص ہوگا۔
حاصلِ کلام (Takeaway):
جب کائنات کا ہر ستارہ، ہر شجر اور ہر ذرہ اپنے مادی قوانین کے ذریعے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے، تو ہماری عقل اور ہماری مرضی کو بھی اسی کائناتی دھارے (الاسلام) کا حصہ بن جانا چاہیے۔ دین موروثی لیبلوں یا گروہی تعصبات کا نام نہیں، بلکہ یہ کائنات کے سچے مصلحین اور انبیاء کے اسوے پر چلتے ہوئے اپنے خالق کے سامنے غیر مشروط سپردگی کا نام ہے۔ باطل کے عارضی فلسفوں سے مرعوب ہونے کے بجائے اپنے ایمان کو اس کائناتی توازن پر استوار کیجیے جہاں ابدی نفع صرف اللہ کی بندگی میں ہے۔
اگلی پوسٹ (145):
ان تمام کائناتی دلائل، تاریخی شواہد اور روشن معجزات کو آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد بھی جو لوگ دانستہ کفر اور ارتداد کا راستہ اختیار کرتے ہیں، کیا ان کی توبہ الٰہی عدالت میں کبھی قبول ہو سکتی ہے؟ اور ان پر برسنے والی کائناتی لعنت کی مہیب حقیقت کیا ہے؟ جاننے کے لیے اگلی لرزہ خیز پوسٹ کا انتظار کیجیے۔
اردو
Muhammad Yousaf retweetledi

فاشزم کے اس سیاہ دور میں عوام نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ بار بار طاقت کے نام نہاد علمبرداروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی مرضی اور اپنے مطالبات واضح کر رہے ہیں۔ جب ایک قوم اپنے حقوق کیلئے ڈٹ جائے تو سامنے کھڑی ہر دیوار ریت کی ثابت ہوتی ہے۔ ان شاء اللّٰہ فتح ہماری ہوگی، پاکستان کی ہوگی۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو

اردو

یہ حوصلوں کی اڑان اب نہ رکے گی نہ جھکے گی نہ تھمے گی نہ مٹے گی۔
#BalochFightForHumanRights #ReleaseBYCLeaders #ReleaseMahrangBaloch
اردو










