Ali Bhatti
1.2K posts

Ali Bhatti
@aliasgharbhatt9
ALLAH is always with Uss..ARSH
Sindh, Pakistan Katılım Ekim 2015
93 Takip Edilen19 Takipçiler

@azan2857 apne watan bhi jatay yeh log .yaha yaha watan watan lgai hoti he ...waha ja ky ni razi
Indonesia

@MNS_N3 Qanoon ky mutabik jitni saza or jermana bnta hai itna milna chaiye
Indonesia

@Mughal3_1_3 7/8 sal se aik dua mang rha hu wo qabool ni hoi
Indonesia

@MazharA90515093 @aliimranabbasi dyan se dekho apne betay ko bol rha hai k wo goli dy ga idher ajao..agay se beta bol rha hai goli aysay he baj jati he???
हिन्दी

@aliimranabbasi قاتل کا باپ یا خنزیر جو مقتول سے بات کر رہا ہے اسکو قاتل سے پہلے انجام تک پہنچانا چاہیے۔۔تاکہ دونوں جہنم میں بھی ساتھ ہوں۔۔۔ہم پاکستانی جہالت کی ہر حد پار کر گئے ہیں
اردو

عید کے روز جائیداد تنازعے پر مدثر نامی نوجوان کو قتل کرنے والا قاتل ملک احسن اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا
جہلم میں ھونے والے پولیس مقابلے میں ملزم اپنے ھی ساتھی کی گولی کا نشانہ بن گیا۔
یاد رھے کی ملزم نے عید والے دن عید کی نماز کے فورا بعد مدثر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا جسکی ویڈیو سوشل میڈٰیا پر وائرل ھونے پر عوام کی طرف سے شدید غم وغصے کا اظہار کیا گیا۔
بالآخر وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہ کیس سی سی ڈی ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کئے تھے

اردو

@ia_rajpoot Samne wali party maf kr dy to bnda 2 sal me bhir a jata he is mulk me..
Indonesia

*تلہ گنگ میں حاملہ سکول ٹیچر کو خنجر کے وار سے قتل کرنے والے درندے کو دو بار سزائے موت سنادی گئی*
*پینتیس سالہ سکول ٹیچر کے پیٹ میں ساڑھے چار ماہ کا بچہ تھا جبکہ ایک چھ سال اور ایک چار سال کی بیٹی تھی*
*مجرم پچھلے سال 2 جون کی شب دیوار پھلانگ کر خاتون کے گھر گھسا اور خنجر دکھا کر خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی*
*اپنی عزت بچانے کے لیے خاتون نے مزاحمت کی تو وحشی درندے نے خاتون کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا*
*رپورٹ: نبیل انور ڈھکو*
*تھری اسٹارز میڈیا گروپ چکوال*
چکوال: ایڈیشنل سیشن جج تلہ گنگ راجہ محمد اجمل خان نے سنگوالہ کے ایک شخص کو حاملہ سکول ٹیچر کو زیادتی کی کوشش کے بعد خنجر کے وار سے قتل کرنے کے الزام میں دو بار سزائے موت سنادی ہے۔ آج 25 مارچ کو سنائے گئے فیصلے میں عمر قید اور سات لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ دس سال کی اضافی قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔
سنگوالہ گاؤں کی 35 سالہ خاتون گورنمنٹ پرائمری سکول ٹمن میں ٹیچر تھی۔ اس کی دو چھوٹی بیٹیاں تھیں، ایک 6 سال کی اور چھوٹی چار سال کی جبکہ اس کا شوہر پاک فوج میں سپاہی تھا۔ شوہر کی راولپنڈی میں تعنیاتی کی وجہ سے خاتون کے والد اپنی بیٹی کے گھر سوتے تھے۔
مجرم محمد شہزاد مقتولہ کا پڑوسی تھا جو اس کا پیچھا کرتا تھا۔ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) اور عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم خنجر سے مسلح گزشتہ سال 2 جون کو رات گئے دیوار پھلانگ کر مقتولہ کے گھر گھس گیا۔ دیوار سے چھلانگ لگنے کی آواز سے اپنی بیٹیوں کے ہمراہ صحن میں سوئی ہوئی خاتون جاگ گئی۔ مجرم نے خاتون کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی اور اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے مزاحمت کی تو وہ اسے جان سے مار دے گا۔ لیکن اپنی عزت بچانے کے لیے خاتون نے نہ صرف مزاحمت کی بلکہ مدد کے لیے پکارا۔ بیٹھک میں سوئے ہوئے اس کے والد بھی جاگ گئے اور وہ تیزی سے اپنی بیٹی کی طرف بڑھے جیسے ہی جنسی درندے نے خاتون کے باپ کو آتے دیکھا، اس نے خاتون کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا اور خود بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔ خاتون کو فوری طور پر مقامی ہسپتال لے جایا گیا جہاں سے اس کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث اسے راولپنڈی ریفر کر دیا گیا۔ اگلے دن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ مقتولہ کے پیٹ میں ساڑھے چار ماہ کا بچہ تھا۔
پولیس نے ملزم کے خلاف قتل، اسقاط حمل، عصمت دری کی کوشش اور گھر میں گھسنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا تھا۔
مقتولہ کے والد کی طرف سے مقدمہ کی پیروی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ملک ظہیر احمد صدقال نے کی جبکہ اس مقدمہ کی تفتیش سب انسپیکٹر زاہد اقبال نے کی۔
نو ماہ کی سماعت کے بعد عدالت نے مجرم کے خلاف تمام الزامات کو درست ثابت ہونے پر بدھ کے روز اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم کو خاتون اور اس کے پیٹ میں پلنے والے بچے کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت اور مقتولہ کے ورثا کو پانچ لاکھ روپیہ معاوضہ ادا کرنے کا حکم سنایا۔ عصمت دری کی کوشش کے الزام میں، جج نے مجرم کو دو لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ دس سال قید کی سزا سنائی جبکہ اسے گھر میں گھسنے کے الزام میں عمر قید کی سزا بھی سنائی۔ مقتول کے ورثاء کو جرمانہ اور معاوضہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرم کو مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہو گی۔
ایڈووکیٹ ملک ظہیر احمد صدقال نے تھری اسٹارز میڈیا گروپ چکوال سے گفتگو کرتے ہوئے فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سفاکانہ قتل تھا جس میں دو جانیں ضائع ہوئیں جبکہ دو چھوٹی بیٹیاں اپنی ماں سے محروم ہوگئیں۔
اس فیصلے پر اپنے ردِعمل عمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او چکوال نے مؤثر، میرٹ پر مبنی اور پیشہ ورانہ تفتیش پر ڈی ایس پی لیگل چکوال، پراسیکیوشن ٹیم اور تھانہ ٹمن کی پوری ٹیم کی محنت کو سراہا۔

اردو

لاہور میں ایسا واقعہ ہوا کہ سن کر آپ بھی ہنس پڑیں گے… اور حیران بھی رہ جائیں گے! 😳😂
مینٹل ہسپتال میں زیرِ علاج مریض ریحان الحق نے اچانک “ہیرو موڈ” آن کیا
اور سیدھا بلڈ بینک کی ایمبولینس اسٹارٹ کر کے نکل پڑا!
بھائی صاحب شادمان سے سیدھا شاہدرہ ہسپتال جا پہنچے
اور بڑے سکون سے جا کر بولے:
“میرا خون لے لیں!”
عملہ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگا پھر پوچھا:
“آپ آئے کس کے ساتھ ہیں؟”
اور جو جواب ملا وہ تو فلمی سین نکلا!
ریحان بولا:
“میں خود ہی ڈرائیو کر کے آیا ہوں شادمان مینٹل ہسپتال سے!”
بس پھر کیا تھا ہسپتال والوں کی حیرانی بھی فل، اور کہانی بھی فل وائرل!


اردو

@K4mi_i آخر کار پنجابی بھائیوں کو بھی سمجھ اگئ کے 70 اور 80 کی دہائ میں کراچی کے مہاجروں میں ان لوگوں کے لیے اتنی نفرت کیوں پیدا ہوگئ تھی۔۔۔کراچی میں تو بہت تہزیب یافتہ لوگ رہتے تھے اور جہاں خواتین بھی آزادی سے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی تھیں لیکن پھر ان جنگلیوں نے کراچی کا رخ کرلیا
اردو

@ukdon2023 @KhanMobeena bhai mafi do yar ap ky sath kisi ny balat kar kr dia ho ga pore Faisalabad ko keu keh rhy ho galat
Indonesia

@kofiwest_gh İ know a girl face liver cancer without parents from 6 years
English

@aliimranabbasi pata ni yeh Tiktok or kitnay logo ki jan lay gi..Gov ban keu ni krti Tiktok
Indonesia

@AthSal01 is chiber ky mu wale ko FİR kr ky Eid jail me krwani chiye
Eesti

رویت ہلال کمیٹی سے متعلق یہ ویڈیو آج پاکستانی سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی ہے۔
ویڈیو میں کچھ لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پندرہ مولویوں نے ٹیلی اسکوپ الٹا کرکے چاند دیکھنے کی کوشش کی اور پھر چلے گئے۔
اس ویڈیو کو لاکھوں افراد نے دیکھا، اور ہزاروں نے بغیر تحقیق کیے مولویوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، انہیں برا بھلا کہا۔
جہالت کا یہ عالم ہے کہ کسی نے حقیقت جاننے کی کوشش بھی نہیں کی۔
حقیقت یہ ہے کہ رویت ہلال کمیٹی چاند دیکھنے کے لیے مختلف آلات استعمال کرتی ہے، جن میں ایک ٹیلی اسکوپ بھی شامل ہے۔
جب روشنی ٹیلی اسکوپ کے لینز یا آئینوں سے گزرتی ہے تو وہ ایک اصول کے تحت مڑ جاتی ہے (Refraction)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ convex lens (ابھرا ہوا عدسہ) سے گزرتی ہوئی روشنی اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر چلی جاتی ہے، جس کی وجہ سے تصویر الٹی بن جاتی ہے۔
انسانی آنکھ بھی اصل میں تصویر الٹی دیکھتی ہے، اور ہمارا دماغ اسے سیدھا کر دیتا ہے۔
ٹیلی اسکوپ میں تصویر کو سیدھا کرنے کے لیے عموماً پرزم، ڈائیگنل یا مخصوص آئی پیس استعمال کیے جاتے ہیں۔
لیکن فلکیاتی مشاہدے (چاند اور ستارے) کے لیے تصویر کا الٹی ہونا کوئی مسئلہ نہیں، اسی لیے ماہرین اکثر تصویر سیدھی کرنے والی چیزیں استعمال نہیں کرتے، کیونکہ:
تصویر کی کوالٹی کم ہو سکتی ہے
روشنی کم ہو جاتی ہے
اکثر لوگوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ رویت ہلال کمیٹی میں صرف علماء ہی نہیں، بلکہ سپارکو، محکمہ موسمیات، وزارت سائنس، بحریہ کے ہائیڈروگرافک ماہرین اور فلکیات کے ماہرین بھی شامل ہوتے ہیں۔
ڈس انفارمیشن پھیلا کر قوم کو گمراہ کرنے والے ایسے نمونوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی ہونی چاہیے ۔
Copied
اردو
















