🚨
ڈاکٹر تانیہ حاج حسن، جو بطور رضاکار غزہ گئیں، کہتی ہیں۔۔
"میں نے ایک بےجان بچے کو اپنی بانہوں میں تھاما وہاں اُسے بچانے کے لیے کوئی سہولت نہیں تھی۔ یہ جنگ نہیں، بلکہ معصومیت کا قتلِ عام ہے۔"
"ہم اپنے فوجی لغت میں فتح کا لفظ واپس لائیں گے"
نتین یاہو۔
یہ جملہ ہی کافی ہے اس بات کا پتہ دینے کے لیے کہ 7 اکتوبر سے آج تک حماس کے ہاتھوں قابض فوج کو کس قدر شکست کا سامنا ہوا ہے،
پانچ دہائیوں تک عرب فوجوں کے مجموعی خلاف زبردست فتح کے گمان میں رہنے کے بعد۔
🚨⚡
نتن یاہو:
"ہمارا تاریخی اور روحانی ہدف گریٹر اسرائیل ہے۔"
یعنی اس میں مکمل فلسطین، مکمل اردن، اور عراق، لبنان، شام، مصر، ترکی اور سعودی عرب کے کچھ حصے شامل ہیں۔
✍️
غزہ میں صرف نو ٹیکنیشن باقی ہیں جو مصنوعی اعضا یا پروستھیٹکس بنا سکتے ہیں، جبکہ تقریباً 4000 افراد، جن میں 10٪ بچے شامل ہیں، اپنی ٹانگیں کھو چکے ہیں۔ یہ کم تعداد اور شدید انسانی ضرورت اس خطے میں ایک انتہائی پریشان کن مسئلہ ہے۔
✍️
سوڈان ایک شدید ترین انسانی بحران کا شکار ہے طویل خانہ جنگی اور ریاستی انتشار نے 150,000 سے زائد جانیں لے لیں، 12 ملین سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے، اور 17 ملین بچے سکول سے محروم ہیں۔ ڈارفر میں قحط نے ِشدت اختیار کر رکھی ہے، اور عالمی امداد وہاں نہیں پہنچ رہی۔
🚨⚡
صدر احمد الشرع نے صوبہ ادلب کی سماجی شخصیات کے وفد کا استقبال کیا، جس میں کئی وزراء، اساتذہ، سیاستدان اور پیشہ ورانہ انجمنوں کے اراکین شامل تھے۔
اجلاس میں صدر نے شرکاء کی آراء اور تجاویز سنیں، جہاں ادلب کے کارکنان کے استحکام اور ترقی میں کردار پر بات ہوئی۔
"ہم کئی دہائیوں سے مجرم یہودیوں کے ظلم کے سائے تلے جی رہے ہیں، اور جب ہم نے دیکھا کہ ہمارے شامی بھائی آزادی اور عزت کے مطالبے کے لیے نکلے اور نہتے ہونے کے باوجود اسدی ظلم و جبر کی مشین نے ان کا خون بہایا، تو اس وقت ہمیں اپنے مظلوم بھائیوں کی نصرت اور ظالم طاغوت کے خلاف کھڑے ہونے
اسامہ النمس "شامل الغزّی" (ابو خطاب)
قائد و ہیرو، اور القسام کے آدمی، جو "ہیئۃ تحریر الشام" میں ابو خطاب الغزّاوی کے نام سے جانے جاتے ہیں، بہادری اور ثابت قدمی کے شہر "خان یونس" کے فرزند۔
وہ شامی انقلاب کے ابتدائی دنوں میں 2011 میں غزہ سے شام آئے، اپنے گھر اور مال و دولت کو
✍️
اپنے بچوں کا خود خیال رکھیں محافظی ادارے خود وحشت زدہ میں مبتلا ہوچکے ہیں۔
اگر خود خیال نہیں رکھ سکتے تو ایسے ماحول میں بچوں کو انپڑھ بننا وحشت کا نشانہ بننے سے زیادہ بہتر ہے۔
🚨⚡
"امارات کے زیرِ اثر کولمبین مسلح گروہ سوڈان کی شہر فاشر میں ایک مسجد کے قریب سوڈانی فوج سے لڑ رہے ہیں،
اور مقامی ملیشیاؤں کی ناکامی کے بعد، عیالِ زايد نے کولمبین کرائے کے قاتل بلوا کر مسلمانوں کو قتل کرانے کا منصوبہ بنایا۔
✍️
اگرصدیق اکبرؓ نہ ہوتے تو جنگِ ارتداد میں اسلام کی قوت ختم ہو جاتی،
اگرعمر فاروقؓ نہ ہوتے تو فارس و روم قابض ہو جاتے،
اگرعثمانؓ نہ ہوتے تو مسلمان قرآن میں منتشر ہو جاتے،
اگرمعاویہؓ نہ ہوتےتو سبئی بغاوتی فوج ریاست پر قابض ہو جاتی،
اگرعلیؓ نہ ہوتےتو روافض کی پہچان نہ کر پاتے
"سرایا القدس کے ایک میدانی کمانڈر:
نے بتایا کہ مشرقی غزہ کے علاقوں سے دشمن کے جزوی انخلا کے بعد ہم نے انہیں بارودی سرنگوں سے بچھا دیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 52 فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں۔