Ayaz Amir

218 posts

Ayaz Amir banner
Ayaz Amir

Ayaz Amir

@ayazamir

This is the only official account I have. Retweets are not endorsements.

Pakistan Katılım Mayıs 2010
28 Takip Edilen39.1K Takipçiler
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
پیغام رسانی کافی نہیں اب تک جو پاکستان نے کیا حالات کے مطابق وہی مناسب تھا لیکن اس لمحے سے آگے پاکستان کو پیغام رسانی سے کچھ آگے جانا چاہیے۔ اِس وقت امریکہ کو صاف بتانے کی ضرورت ہے کہ جو زور زبردستی والا رویہ اُس نے اپنایا ہوا ہے اُس سے کام نہیں چلے گا۔ امریکہ عقل کی بات تو کر نہیں رہا‘ وہ ایران کو بے عزت کرنا چاہتا ہے جس کے لیے ایران تیار نہیں۔ رویے یہی رہے تو کوئی بتائے مذاکرات کیسے آگے چل سکتے ہیں‘ کجا اس کے کہ کوئی قابلِ عمل معاہدہ ہو جائے؟ پاکستان کی مشہوری ہو گئی‘ قیادت کی بلّے بلّے ہو گئی‘ جیسا کہ کہا جا رہا ہے پاکستان کا پروفائل بڑھ گیا۔ سب باتیں درست ہیں لیکن امریکی ہٹ دھرمی کی وجہ سے حالات بگڑ گئے تو اس پروفائل کو ہم کیا کریں گے؟ بازار میں کتنے دام یہ پروفائل بِکے گا؟ کچھ پیسے سعودیہ سے ملے ہیں جس سے بمشکل وہ خسارہ پورا ہو گا جو یو اے ای کے پیسے واپس کرنے سے پیدا ہوا تھا۔ باقی ہمارے حالات وہی رہیں گے جو پہلے تھے‘ وہی مانگے پر گزارا‘ ادھر اُدھر سے ادھار لینا تاکہ پچھلے ادھار کی ادائیگیاں پوری ہو سکیں۔ جہاں تک ٹرمپ کی تعریف ہے وہ ہمارے کس کام کی۔ وقتی طور پر دل خوش ہو گئے‘ اپنے آپ کو ہم نے تھپکی دے دی لیکن اس سے زیادہ کیا؟ بات تو تب ہے کہ دیرپا معاہدہ طے پائے لیکن اُس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ امریکہ اپنی اکڑ‘ اپنی ہٹ دھرمی کچھ کم کرے۔ ایران نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بے عزتی کے لیے تیار نہیں۔ جارحیت اور زور آزمائی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہوتے تو اب تک کر دیے ہوتے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایران نے نقصان برداشت کیا لیکن جھکنے سے انکار کیا۔ اس صورتحال میں پاکستان کو امریکہ کے سامنے کچھ کھل کے کہنا چاہیے کہ ثالثی کے ضمن میں پاکستان جو کرسکتا تھا اُس نے کیا لیکن اب امریکی ایڈمنسٹریشن کچھ عقل اور شعور کا مظاہرہ کرے‘ نہیں تو معاہدہ نہیں ہوگا اور جنگ کے شعلے پھر سے بھڑک سکتے ہیں۔ امریکہ کے عجیب مطالبات ہیں کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کر دے‘ آبنائے ہرمز کھول دے‘ صدر ٹرمپ جشنِ فتح منائے اور اس کے بدلے ایران کو اپنے ضبط شدہ اثاثے ملیں‘ دھیرے دھیرے اور قسطوں میں اور جہاں تک پابندیوں کا تعلق ہے وہ بھی ہٹیں تو آہستہ آہستہ۔ ایران گھٹنوں کے بل ہاتھ جوڑ کر بیٹھا ہوتا پھر تو ایسے مطالبات درست تھے کیونکہ فاتح پھر اپنی مرضی کرتا ہے لیکن امریکی اور اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایسا نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ بھلے کہتے رہیں کہ ہم نے ایران کی ایئر فورس نیست ونابود کر دی‘ اُن کی نیوی تباہ ہو گئی لیکن اس جنگ میں ایران کو شکست نہیں ہوئی۔ نقصانات کے باوجود قیادت اور نظام قائم دائم ہیں‘ ایرانی قوم کی ہمت بدستور دکھائی دے رہی ہے اور گو ایران جنگ نہیں چاہتا‘ اُس پر پھر سے حملے ہوئے تو جواب دینے کی صلاحیت اُس کے پاس موجود رہے گی۔ ایسے میں امریکی مطالبات بے وقوفی کا مظہر لگتے ہیں۔ پاکستان جو کر سکتا ہے کر رہا ہے، سکیورٹی کے لیے پورا اسلام آباد بند پڑا ہے۔ لیکن مذاکرات کی بات کرنا اور ساتھ ہی صبح شام ایران کو دھمکیاں دینا اور خلیج عمان میں ایرانی بحری جہاز پر قابض ہونا یہ کوئی ماحول نہیں ہے جس میں مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ صرف پاکستان ہی نہیں اب وقت آن پہنچا ہے کہ سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ بھی بہ آوازِ بلند کہیں کہ امریکہ کے ان رویوں سے کوئی بہتری نہیں ہو سکتی۔ ان سارے ممالک نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا لیکن صحیح بات کرنے کا بوجھ صرف پاکستان کے کندھوں پر نہ پڑے۔ مل کر پاکستان اور باقی تین ممالک کو واشنگٹن کو بتانا چاہیے کہ ایسے کام نہیں چلے گا‘ امریکہ کو کچھ عقل کی بات کرنا ہو گی۔ جب ایران اس بات پر راضی ہو گیا ہے کہ اُس کے پاس افزودہ یورینیم کمزور کر دیا جائے اور وہ اگلے پانچ سال تک افزدوگی کی طرف نہیں جائے گا تو امریکہ کو اور کیا چاہیے؟ اس ایرانی پوزیشن کو امریکہ جھٹ سے پکڑے اور امن معاہدے کی بنیاد بنائے۔ حالات کے بگاڑ کی وجہ سے خود صدر ٹرمپ کی سیاسی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ امریکی عوام کی بھاری اکثریت اس جنگ کی حمایت میں نہیں ہے۔ آنکھیں بند کر کے صدر ٹرمپ نے یہ آتش تیار کیا لیکن اب موقع ہے کہ ان انگارو ں کو ٹھنڈا کیا جائے۔ نہ کہ ہر روز ایک نئی اشتعال کی صورت پیدا کی جائے۔ لہٰذا وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان ذرا کھل کر امریکہ سے بات کرے۔ اور ساتھ ہی باقی تینوں ممالک بھی امریکہ کو کچھ سمجھائیں۔ شعلے پھر بھڑک اُٹھے تو اس میں نقصان سب کا ہے۔ معاشی اثرات امریکہ تک پہنچ رہے ہیں اور اگر حالات خراب ہوئے ان اثرات کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ گلف کے عرب ممالک کا بھاری نقصان ہوا ہے‘ ایران کا کتنا ہوا ہے۔ فائدے میں ہے تو صرف اسرائیل کیونکہ اُس کی پرانی خواہش ہے کہ سارے اسلامی ممالک تباہ ہوں۔ پہلے راؤنڈ کی میزبانی پاکستان نے خوب کی اور اس کی ساری دنیا معترف ہے لیکن یہ بھی کیا ہوا کہ ایک بار پھر ہمارے لڑاکا جہاز اڑان بھریں مہمانوں کے استقبال کیلئے‘ مذاکرات کے عوامل پورے ہوں اور سب کچھ کرنے کے بعد خاطر خواہ نتیجہ کچھ نہ نکلے۔ اس بار بار کی بے سود میزبانی کے متحمل ہم نہیں ہو سکتے۔ ویسے بھی امریکہ کو اس خطے سے نکلنے کی تیاری کرنی چاہیے۔ گلف ممالک نے امریکی تحفظ کے مزے چکھ لیے۔ امریکی اپنے اڈوں کا تحفظ نہ کر سکے‘ اُنہوں نے عربوں کا کیا تحفظ کرنا تھا۔ کیا کمال کے جنگی مقاصد امریکہ نے حاصل کئے ہیں کہ جس آبنائے ہرمز سے آمدورفت اس جنگ سے پہلے جاری و ساری تھی جنگ کے نتیجے میں یہ آمدورفت بند ہو گئی ہے۔ بے شعور پن کی کچھ حد ہونی چاہیے‘ لیکن صدر ٹرمپ کی صدارت میں لگتا ہے امریکہ تمام ایسی حدیں پھلانگ رہا ہے۔ اور نقصان صرف امریکہ کا نہیں ساری دنیا کا ہو رہا ہے۔ مسلم ممالک نے اور کسی سے کچھ سیکھنا ہے یا نہیں کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو سے ہی کچھ سیکھ لیں۔ اس جنگ کا نام نہیں لیا لیکن جنگوں کے خلاف کھل کے بول رہے ہیں۔ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے کچھ لوگ جو ایران جنگ کو عیسائیت کے لبادے میں ڈھانپ رہے تھے اُن کے خلاف پوپ نے تنبیہ کی ہے۔ مسلم ممالک بھی اپنا حجاب ذرا پرے کریں اور امریکہ سے کھل کر بات کریں۔ شاہ فیصل بھی ہوا کرتے تھے۔ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی تو مغربی ممالک کے حوالے سے تیل کی بندش کا اعلان کر دیا۔ راتوں رات تیل کی قیمتیں تین چار گنا بڑھ گئیں۔ اب بھی ایسے ہی کسی عمل کی ضرورت ہے‘ لیکن شاہ فیصل کہاں سے آئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو تھے پاکستانی پائلٹ شام کی مدد کیلئے بھیجے ۔ آج کے سربراہانِ اُمہ احتیاط کے کچھ زیادہ ہی شیدائی نظر آتے ہیں۔ لیکن سمجھنا چاہیے کہ ایران کا نقصان اُمہ کا نقصان ہو گا۔ پچھلے بیس سالوں میں کتنے مسلم ممالک تباہ ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ کہیں تو رکے۔ ایرانی قوم کی ہمت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا سامنا کیا۔ لیکن یہ موقع ہے کہ اور کچھ نہیں تو سفارت کاری میں رعنائی آئے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ دھمکیاں ایرانی تہذیب کو مٹانے کی ہوں اور اُمہ پر سناٹا چھایا رہے۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
9
14
54
2.4K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
فی الحال اسی پر گزارا کریں مذاکرات کے حوالے سے پوری دنیا میں پاکستان کا ڈنکا خوب بجا ہے اور فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی پذیرائی ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ تو اچھے لفظوں میں ذکر کرتے ہی ہیں‘ اوروں نے بھی کیا ہے۔ یہ ہمارے لیے باعث ِفخر ہے اور پاکستان کی سفارتی کارکردگی دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔ باقی مسائل اپنی جگہ ہیں اور رہیں گے۔ بجلی کی کمی ستائے گی‘ مہنگائی کا بوجھ اٹھانا پڑے گا‘ نالائقیاں جو ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ ہیں وہ جاری رہیں گی کیونکہ ہم نے اصلاحِ احوال تو کرنی نہیں۔ لیکن فی الحال پاکستان کا نام جو عالمی اعتبار سے لیا جا رہا ہے اُسی پر خوش ہونا چاہیے۔ جیسے عرض کیا جو مسائل ہیں وہ تو رہیں گے۔ اور یاد آیا ہمارا کشکول نہیں ٹوٹے گا‘ وہ اجتماعی زندگی کا اٹوٹ اَنگ بن چکا ہے۔ ایران امریکہ جنگ کے تناظر میں ایک بات بڑی شدت سے سمجھ آتی ہے کہ مضبوط فوج اور مضبوط دفاعی اداروں کے بغیر آج کل کی دنیا میں جینا مشکل ہے۔ خاص کر کے اس خطے میں جہاں ہمارا وجود ہے۔ ہم جیسے کئی سمجھتے تھے کہ گو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا اچھی بات ہے لیکن ایٹمی دھماکے نہیں کرنے چاہیے تھے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ رائے غلط تھی‘ اور اُس وقت دھماکے کرنا ہی مناسب تھا۔ ہم جیسے یہ رائے بھی رکھتے تھے کہ دفاعی امور پر زیادہ خرچہ نہیں ہونا چاہیے لیکن حالات بتاتے ہیں کہ پاکستان جیسا ملک جس میں اور بہت کمزوریاں ہیں اس کیلئے مضبوط دفاعی نظام ناگزیر ضرورت ہے۔ دورِ جدید کی جنگوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ بغیر طاقتور ایئر فورس کے پاکستان جیسے ملکوں کا جینا محال ہے۔ شکر ہے کہ ہمارے پاس ایک مضبوط ایئر فورس ہے اور ہمارے پائلٹ اپنی صلاحیتوں کے حوالے سے کسی ایئر فورس سے کم نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ جب دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط رکھنا ہو اور ایٹمی صلاحیت پر بھی قادر ہونا ضروری سمجھا جائے تو جس ملک کے مالی وسائل محدود ہوں اسے دیگر اللے تللوں سے پرہیز کرنی چاہیے۔ دیگر عیاشیوں پر کنٹرول کرنا چاہیے۔ لیکن پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ دفاعی صلاحیت پر تو ہم نے پیسے خرچنے ہیں کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں‘ لیکن ساتھ ہی ہم نے دیگر اللے تللے بھی جاری رکھنے ہیں۔ امورِ ریاست میں جو کفایت شعاری کا تصور ہونا چاہیے وہ ہماری سمجھ اور پہنچ سے باہر لگتا ہے۔ انڈسٹریل صلاحیت ہماری ویسے ہی بہت محدود ہے‘ زراعت ہماری پیچھے ہے‘ اتنی آبادی ہونے کے باوجود ہماری معیشت کی وہ پروڈکٹو کیپسٹی نہیں جو کہ ہونی چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ امورِ ریاست میں فضول خرچی ضرور کرنی ہے اور ریاست کی فضول عیاشیوں میں کوئی کمی نہیں لانی۔ یہ بھی تہیہ ہمارا لگتا ہے کہ صحتِ عامہ اور تعلیمِ عامہ کو ملکی امور میں ترجیح نہیں دینی۔ ایران کی مثال لے لیں‘ ان کا تعلیمی نظام اور اس نظام کی بدولت ان کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہم سے کہیں آگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سالہا سال امریکی پابندیوں کے باوجود وہ اتنا مؤثر میزائل اور ڈرون نظام قائم کر سکے۔ ان کے سارے میزائل سسٹم اپنے ہیں۔ کہاں پہاڑوں کے نیچے انہوں نے میزائل اور ڈرون تنصیبات قائم کیں‘ اتنے مضبوط اور گہرے کہ وحشیانہ اسرائیلی اور امریکی بمباری وہاں تک اثر نہ دکھا سکی۔ ایران کی تباہی بہت ہوئی ہے اس سے تو کوئی انکار نہیں لیکن کھڑے تو ہیں‘ جیسے اسرائیلی اور امریکی توقع رکھ رہے تھے ٹوٹے تو نہیں۔ اور جو مذاکرات ہو رہے ہیں وہ برابری کی سطح پر کر رہے ہیں اور کوشش ان کی یہی ہے کہ ان مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔ ہم نے ایٹم بم بنا لیا اور گزرے وقتوں سے زیادہ اب سمجھ آتی ہے کہ یہ کوئی چھوٹا کارنامہ نہ تھا۔ ایئر فورس اور فوج بھی ہماری مضبوط ہے۔ لیکن ہر کوئی مانے گا کہ ملکی ترقی کے حوالے سے جو ہماری ترجیحات ہونی چاہئیں اور جو زور ہمیں تعلیم اور صحت عامہ پر لگانا چاہیے‘ ایسا ہم نہیں کر سکے۔ ہماری اجتماعی زندگی میں رشوت‘ بددیانتی اور اقربا پروری جیسی لعنتیں ہیں ان پر جو توجہ دینی چاہیے کبھی نہ دی اور نہ دیں گے۔ بہرحال ایسی باتیں ہوتی رہیں گی‘ ابھی تو دعا کرنی چاہیے کہ ہماری کوششیں رنگ لائیں اور اس کمبخت بے مقصد جنگ کا کوئی دیرپا حل نکل آئے۔ حالات وہاں خراب رہے تو ہماری معیشت کا کام پورا ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے ماری جھک ہے اور باقی دنیا کو تو چھوڑیے ہم جو باہر کے تیل اور باہر کی گیس پر گزارا کرتے ہیں ہمیں بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ جنگ کے ڈھول ابھی پِٹنے ہی شروع ہوئے تھے کہ سمجھ آ گئی کہ تیل اور گیس کی قلت کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ شدت سے شروع ہو جائے گی۔ جلدی سے گاؤں کے بنگلے پر سولر لگوا لیے اور پھر چکوال میں بھی ایسا ہی کیا۔ ہمارا دوست جو یہ کام کرتا ہے‘ اس نے بل تو کچھ لمبا ہی دے دیا لیکن سوچا کہ جہاں ساری ریاست قرض کی مے کے فلسفے پر چل رہی ہے ہم بھی اسی فلسفے کو سامنے رکھیں۔ کچھ ادائیگی کر دی ہے اور کچھ کو جیسا کہ ہم سعودی پیسوں سے کرتے ہیں‘ رول اوور کیا ہے۔ ادائیگی ظاہر ہے ہو جائے گی لیکن اتنے میں لوڈ شیڈنگ سے مکمل نجات پا چکے ہیں۔ اب آس پاس پوچھنا پڑتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کتنی ہو رہی ہے اور تب سمجھ آتی ہے کہ ایران پر جھک کا اثر ہم پر کتنا پڑ رہا ہے۔ بجلی کی قلت کا جہاں بندوبست ہو گیا ہے باقی کی اشیائے ضروریہ کا بندوبست ہمارے پاس رہتا ہی ہے۔ اس ضمن میں ہمارے گلاسکو اور لندن کے دوست شاد رہیں‘ ہم فقیروں کا خیال رکھ لیتے ہیں۔ چکوال میں بھلا ہو نزدیک چھپڑ بازار میں مدینہ ہوٹل کا‘ بڑی عمدہ دال اور سبزی پکتی ہے۔ غریب خانے میں کچھ پکا نہ ہو تو وہاں سے معقول داموں کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔ عیاشی کا موڈ آئے تو ناشتہ نثار ہوٹل سے آ جاتا ہے۔ نئے ہوٹل بھی یہاں بن گئے لیکن ہمارا تکیہ انہی دو جگہوں پر ہوتا ہے۔ رزق کا وعدہ تو ویسے بھی اوپر والے کا ہے اور رزق کے علاوہ جیسے عرض کیا ادھر اُدھر سے کام ہو جاتا ہے اور یہ بھی ہے کہ کبھی ہمت کرکے خود بھی خرچہ کر لیتے ہیں تاکہ سپلائی اور ڈیمانڈ کے تقاضے پورے رہیں۔ روزمرہ کے استعمال میں ہمارے پاس ہنڈا سٹی ہے جو کہ دیکھا جائے تو چھوٹی گاڑیوں میں شمار ہوتی ہے۔ کئی خیرخواہ پوچھتے ہیں کہ بڑی گاڑی کیوں نہیں رکھتے‘ آپ کو زیادہ جچے گی۔ ان سے کہتے تو کچھ نہیں پر دل میں جواب اٹھتا ہے کہ بڑی گاڑی تمہارے دادا ہمیں لے کر دیں گے؟ پٹرول کی مہنگائی کے ان دنوں میں چھوٹی گاڑی ہی فٹ رہتی ہے۔ کچھ اور دھندا جیسا کہ رئیل اسٹیٹ یا ٹھیکیداری کرتے اور ان کاموں کا کچھ ہنر ہوتا تو اللے تللوں میں ہم بھی بڑی شان سے پڑتے۔ لیکن دال ساگ مل جائے اور شبِ غم کا علاج بھی ہو جائے تو اوپر والے سے اور کیا مانگنا۔ سچ پوچھیے تو ریاست بھی ہماری جیسی سادگی کے اصولوں پر اپنے آپ کو استوار کرے تو جسے ہم مملکتِ خداداد کہتے ہیں اس کے حالات زیادہ نہیں تو کچھ سنور جائیں۔ اور یہ جو کشکول پر کام چلانے کیلئے انحصار کرنا پڑتا ہے اس سے چھٹکارا حاصل ہو جائے۔ لیکن صحیح عیاشی کیلئے کچھ ذوق بھی چاہیے ہوتا ہے۔ جس بلا کا یہ نام ہے وہ کہاں سے میسر ہو گی؟
Ayaz Amir tweet media
اردو
11
19
69
6.6K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
فینٹا کا حشر جو خود امریکہ میں ہو رہا ہے جان سٹیورٹ امریکہ میں مشہور ٹی وی اینکر ہے۔ لیٹ نائٹ شو اس کا ہوتا ہے اور تمسخر اڑاتے ہوئے بڑی سنجیدہ باتیں کہہ جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو وہ شاید بالوں کی نسبت سے اورنج فینٹا کہتا ہے۔ صرف جان سٹیورٹ ہی نہیں کتنے ہی پوڈ کاسٹ ہیں جو ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ اور اُن کی حرکتوں کا باریک بینی سے تجزیہ کر رہے ہیں اور تمسخر بھی اڑا رہے ہیں۔ تقریباً سارے ایسے پوڈ کاسٹ اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ٹرمپ کوئی نارمل انسان نہیں ہیں ۔ اور وہ مثالیں دیتے ہیں‘ وہ جو ایسٹر کی صبح گالی نکال کر اُنہوں نے ایرانیوں سے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کھولو نہیں تو پتا نہیں تمہارا حشر کیا ہو جائے گا۔ اس جیسی باتوں کا ذکر کرکے کتنے ہی سوشل میڈیا پر لوگ ہیں جو پوچھ رہے ہیں کہ کوئی ہوش وحواس میں ہو تو ایسی گفتگو کر سکتا ہے؟ ہم جیسے ملکوں میں شاید ٹرمپ کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہو لیکن امریکہ اور یورپ میں یہ رائے اُبھر رہی ہے کہ یہ صاحب سنجیدگی کے قابل نہیں اور ان سے کوئی سنجیدگی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ اور بات ہے کہ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر اور کمانڈر اِن چیف ہیں‘ ان کے اشارے یا حکم سے ہوائی اور بحری بیڑے حرکت میں آ جاتے ہیں اور جیسا کہ ہم نے ایران کے حوالے سے دیکھا ان کے حکم سے ایک فضول لیکن تباہ کن جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ دماغ سے ہلا ہوا انسان بھی ہو لیکن اُس کے ہاتھ میں بندوق ہو تو اُسے سنجیدگی سے لینا پڑتا ہے اور ایسے آدمی سے ویسے بھی ڈر زیادہ لگتا ہے کہ پاگل پن میں پتا نہیں کیا کچھ کر دے۔ اب یہ جو دو دن پہلے کیتھولک چرچ کے پوپ لیو سے انہوں نے الجھنا شروع کیا اور اُنہیں برا بھلا کہنے لگے‘ صرف اس لیے کہ پوپ لیو نے امن اور شانتی کی بات کی اور یہ کہا کہ ہتھیاروں کے استعمال میں خدا کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ کوئی بھی دوسرا ہوتا تو پوپ لیو کے ان جملوں پر چپ رہتا لیکن امریکیوں نے بندہ ہی ایسا چنا ہے جسے نہ اپنی زبان نہ جذبات نہ حرکات پر کوئی کنٹرول ہے۔ اور اب تو واضح ہو رہا ہے کہ ٹرمپ کا سب سے بڑا دشمن وہ خود ہیں کیونکہ امریکہ اور دنیا کو تو چھوڑیے اپنے لیے وہ مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کی نفسیاتی کیفیت اور نفسیاتی شخصیت کا سب سے بہترین تجزیہ کہاں ہو رہا ہے؟ ٹرمپ کی سگی بھتیجی میری ٹرمپ ایک کلینکل سائیکلوجسٹ ہے جو نیویارک سے ایک پوڈ کاسٹ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مہمان کے طور پر بھی بہت جگہوں پر بلائی جاتی ہے۔ وہ کوئی کامیڈی نہیں سنجیدہ بات کرتی ہے اور اپنے چچا کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہ سُن کے پھر کچھ سمجھ آنے لگتی ہے کہ ٹرمپ کی گفتگو اور جذبات میں کئے گئے اقدامات کے پیچھے کون سی ذہنی کیفیت ہے۔ میری ٹرمپ کہتی ہے کہ میرے چچا کی پرسنیلٹی نارمل نہیں۔ یہ بھی کہتی ہے کہ اپنی ماں کے ساتھ ان کے تعلقات کبھی زیادہ اچھے نہ تھے۔ باپ کی طرف سے بھی انہیں کوئی زیادہ پیار نہیں ملا۔ ٹرمپ کی نرگسیت پر بھی بہت کچھ کہتی ہے کہ ہر صورتحال میں توجہ کا مرکز وہ رہے اور اُن پر روشنی ڈلتی رہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ڈیمینشیا (dementia) ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان اپنی ہوش اور سمجھ اور یادداشت سے محروم ہوتا جاتا ہے۔ جو انسان اس کا شکار ہو اُس پر یہ بیماری آہستہ آہستہ طاری ہوتی ہے۔ یعنی دھیرے دھیرے یادداشت جا رہی ہوتی ہے۔ میری ٹرمپ کہتی ہے کہ ہمارے دادا اسی ڈیمینشیا کے شکار ہوئے اور 80 سال کی عمر میں جو اُن کی کیفیت ہو گئی اُس کے آثار اب ڈونلڈ ٹرمپ میں نظر آتے جا رہے ہیں۔ میری ٹرمپ کہتی ہے کہ ٹرمپ صدارت کا عہدہ رکھنے کے قابل نہیں رہے۔ یہ بات امریکہ میں اور بھی بہت لوگ کہنا شروع ہو گئے ہیں۔ واویلیاں مارنا کبھی کچھ کہنا کبھی کچھ اور یہ سب اس ذہنی کیفیت کی نشانیاں ہیں۔ ایران پر حملہ بذاتِ خود ایک بغیر سوچا سمجھا قدم تھا‘ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جو خود ایک عجیب نفسیاتی کیفیت میں گرفتار ہے‘ آتا ہے اور ٹرمپ اور اُن کی کابینہ کو آمادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہی وقت ہے ایران پر حملہ کرنے کا۔ یعنی ایک قسم کی ورغلانے کی کوشش اُس کی ہوتی ہے اور کمال نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ٹرمپ ورغلایا جاتا ہے اور ایران پر حملے کا خیال اُس کے ذہن میں بیٹھ جاتا ہے اور پھر تقریباً دو ہفتے بعد حملہ ہو جاتا ہے۔ مغربی دنیا کے دہرے معیار تو دیکھے جائیں امریکی اور اسرائیلی کس سادگی سے کہتے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ وہ ایک غیر ذمہ دار ملک ہے اور اُس کے حکمران کٹر اور پاگل قسم کے لوگ ہیں۔ اسرائیل جس کے ہاتھ بے شمار جنگوں اور نہتے لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں وہ بڑا ذمہ دار ملک ہے‘ امریکہ جس کا صدر ذہنی طور پر ہلا ہوا انسان ہے وہ ذمہ دار ملک ہے۔ اور جس ملک کی قیادت نے دہائیوں پہلے فتویٰ جاری کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا وہ غیرذمہ دار ملک ہے۔ دہرے معیار ہوں تو ایسے ہوں۔ جس طرح کے ٹویٹ ٹرمپ صاحب کرتے ہیں کسی اور ملک کا سربراہ کرے تو دنیا اُس کا حقہ پانی بند کر دے۔ لیکن یہ امریکہ ہے اور امریکہ کا صدر جو منہ میں آتا ہے کہہ رہا ہے اور دنیا کو یہ باتیں سننی پڑ رہی ہیں۔ لیکن ایک بات ماننی پڑے گی کہ سارے پاگل پن کا علاج ایران نے خوب کیا ہے۔ نقصان برداشت کیا ہے‘ تباہی برداشت کی ہے لیکن یہ اُس کی چنی ہوئی تباہی نہیں تھی‘ ایران پر یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل نے مسلط کی۔ لیکن ایرانی قوم ٹوٹی نہیں‘ گھٹنے اُس نے نہیں ٹیکے جیسا کہ امریکی اور اسرائیلی توقع کر رہے تھے‘ ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جوابی حملے ایسے کیے کہ امریکہ کی بے بسی کا عالم سامنے آ گیا۔ امریکہ کو اتنا تو سوچنا چاہیے کہ بات جب پاکستانی ثالثی تک پہنچ جائے تو پتا نہیں چلتا کہ کس لاچاری کی کیفیت میں امریکہ اپنے آپ کو لے آیا ہے؟ ایرانیوں کو اپنے تحفظ کی خاطر ایٹم بم بنا لینا چاہیے۔ امریکیوں اور اسرائیلیوں کا یہی ایک علاج ہے۔ جاننے والے لوگ کہتے ہیں کہ جتنا تیار یورینیم ایران کے پاس ہے وہ آٹھ نو بموں کے لیے کافی ہے۔ تیار کر لیں تاکہ اسرائیل کا بخار تھوڑا کم ہو۔ مغربی دنیا کے یہ دہرے معیار بھی ملاحظہ ہوں کہ اسرائیل کے پاس جو تقریباً 150‘ 200 ایٹمی ہتھیار ہیں وہ بات بالکل جائز ہے لیکن ایران کو یورینیم افزودگی کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ ایران ایٹمی صلاحیت حاصل کر لیتا تو یہ دہرے معیار بھی ٹھنڈے پڑ جاتے۔ اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہم نے اورنج فینٹا کی نفسیاتی کیفیت کو خوب سمجھا اور ایسا مکھن لگایا کہ وہ موم ہوا ۔ اب سمجھ آتی ہے کہ نوبیل امن انعام کیلئے نامزد کیا تھا وہ تیر بھی بالکل نشانے پر لگا۔ یہ پاکستان کا اعزاز ہے کہ مذاکرات میں ثالث بھی رہا اورسعودی عرب کا دفاعی معاون بھی ثابت ہو رہا ہے۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
9
18
69
5.5K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
امریکہ کہاں آن پہنچا ہے امریکی خوشی سے اسلام آباد آکر ایرانیوں سے بات نہیں کر رہے۔ مجبوری سے آئے ہیں کیونکہ اور کوئی راستہ نہ رہا تھا۔ جنگ کے شروع کے دنوں میں صدر ٹرمپ نے کیا کہا تھا کہ ایک ہی ڈیمانڈ ہے کہ ایران غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالے (Unconditional surrender)۔ وہ غیر مشروط حالت جو کسی مشتبہ یا ملزم کی تھانیدار کے سامنے بیٹھے تھانے میں ہوتی ہے۔ ہاتھ جوڑے ہوئے اور زمین پر گھٹنے لگائے۔ امریکی یہ چاہتے تھے۔ اور ایران پر حملہ اسی توقع کی بنیاد پر کیا گیا تھاکہ دو تین روز کی بمباری کے بعد اسلامی حکومت ختم ہو جائے گی اور اُس کے خلاف ایران کے عوام اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ دنیا کی تاریخ کے سخت ترین حملے تھے اور ہفتوں جاری رہے۔ ایران کا بھاری نقصان ہوا‘ اس میں کوئی شک نہیں‘ تباہی ہوئی۔ لوگ مارے گئے‘ میناب ایلیمنٹری سکول کی تقریباً 165‘170 بچیاں ماری گئیں۔ لیکن گھٹنے کوئی نہ ٹکے‘ ایران کی طرف سے ترلے کوئی نہ کیے گئے۔ یہ تو امریکہ بہادر تھا جو آخر میں ہاتھ پیر مارنے لگا کہ کوئی نکلنے کا راستہ ملے۔ وہ جو انگریزی کا لفظ آج کل بہت استعمال ہوتا ہے‘ آف ریمپ (off ramp)ملے۔ آخر آف ریمپ پاکستان نے مہیا کیا۔ اور مولا کے رنگ دیکھئے کہ امریکہ کے نائب صدر کو پھر اسلام آباد آنا پڑا۔ ان مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے دیکھنا پڑے گا۔ حتمی معاہدہ تو نہیں نکلے گا لیکن جنگ بندی پکی ہو جائے تو دو دن کے مذاکراتی عمل کا اتنا نتیجہ بھی خوش آئند سمجھا جائے گا۔ لیکن دیرپا معاہدے کے بغیر بھی کئی چیزیں واضح ہو گئی ہیں۔ سب سے بڑی بات تو یہ کہ خلیج فارس اور گلف کوآپریشن کونسل یعنی جی سی سی کے ممالک میں امریکی تھانیداری اور چودھراہٹ کو شدید دھچکا لگا ہے۔ جی سی سی کے بردار ممالک ‘ ہمارے تو سب برادر ہیں‘ سوچتے تو ہوں گے کہ کیسے امریکی اڈوں پر انحصار کر رہے تھے جو ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے اپنے آپ کو نہ بچا سکے‘ ہمارا دفاع انہوں نے خاک کرنا تھا۔ اس جنگ سے پہلے تو ان ملکوں کی یہ سوچ تھی کہ امریکی دفاعی معاہدوں اور اڈوں کے ہوتے ہوئے ان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو گیا ہے اور ان کے میزائل شکن نظام کے ہوتے ہوئے کوئی چڑیا بھی ان کی طرف نہ آ سکے گی۔ لیکن اس جنگ میں ثابت ہو گیا کہ گلف ممالک کا تصورِ تحفظ شیشے کے قلعے کی مانند ہے۔ تیل تنصیبات پر حملوں نے ثابت کر دیا کہ گلف ممالک کا تمام تیل اور گیس انفراسٹرکچر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں ہے۔ امریکہ بھی ایسا دوست ثابت ہوا کہ حملے سے پہلے عرب اتحادیوں سے کسی قسم کے صلاح مشورے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ دوسری بات یہ ثابت ہو گئی کہ ایران جب چاہے آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔ کیا کیا یبلیاں صدر ٹرمپ نے نہ ماریں کہ ہمارے بحری جہاز آئل ٹینکروں کی حفاظت کریں گے۔ نیٹو اتحادیوں سے کہا کہ اس پانی کے راستے کو کھولنے میں مدد کریں۔ اور تو اور چین کی طرف اشارے کیے گئے کہ اس کے مفاد میں ہے کہ اس پانی کی گزرگاہ کو کھولا جائے۔ لیکن ایران نے کر دکھایا کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی بحری جہاز یہاں سے گزر نہیں سکتا۔ یعنی امریکہ کی دھمکیاں بڑھکیں ہی رہیں۔اور اب جو مذاکرات ہو رہے ہیں اس وقت بھی اکا دُکا جہاز ہی وہاں سے گزر رہا ہے‘ مکمل طور پر یہ اہم گزرگاہ ابھی تک نہیں کھلی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا چھوڑیے امریکہ میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ اس جنگ کی جھَک صدر ٹرمپ نے کیوں ماری۔ مقصد کیا تھا؟ کون سے سٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے تھے؟ نیویارک ٹائمز میں آنکھیں کھول دینے والی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ فروری کی 11تاریخ کو وائٹ ہاؤس کے سچوایشن روم میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں اسرائیلی وزیراعظم نے پریزینٹیشن دی کہ یہ موقع ہے ایران پر حملے کرنے کا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ کوئی معصوم بچا تھا جسے کھینچ اور دھکیل کے اس جنگ کی طرف لایا گیا۔ 1979ء کے انقلابِ ایران سے لے کر آج تک ایران کو ہر امریکی حکومت اپنا بڑا دشمن ہی سمجھتی رہی ہے۔ لیکن کسی امریکی صدر نے اس قسم کے حملے کا نہیں سوچا۔ یہ ٹرمپ کا کارنامہ ہے کہ ایسے حملے کی طرف ذہنی طور پر مائل تھا اور پھر نیتن یاہو نے یوں سمجھیے صدر ٹرمپ کا ذہن پکا کیا۔مفروضہ البتہ یہی تھا اور بنیادی نکتہ نیتن یاہو نے یہی اُٹھایا کہ جنگ دیرپا نہیں ہوگی‘ دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا اور ایرانی رجیم ختم ہو جائے گی۔ ٹرمپ کے ذہن میں یہ نقشہ اُبھرا کہ ایرانی رجیم کو ختم کرنے کی ہر کوئی بات کرتا آیا ہے لیکن صحیح معنوں میں اسے ختم کرنے کا اعزاز اس کے سر ہوگا۔ آرڈر پھر ہو گیا کہ جنگ شروع کی جائے۔ نتیجہ جو نکلا ہمارے سامنے ہے اور آج امریکی حکومت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی قبول کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ ویتنام کی جنگ میں امریکی سُبکی کو مکمل ہونے میں دس سال لگے۔ افغانستان میں امریکہ سولہ سال پھنسا رہا اور پھر جا کے کابل ایئرپورٹ سے افراتفری میں نکلنے کے مناظر ساری دنیا نے دیکھے۔ لیکن یہاں سُبکی کا جھومر چند ہفتوں میں ہی امریکہ کے ماتھے پر سج گیا ہے۔ سمجھ رہے تھے کہ ونیزویلا کا حشر ایران کاہوگا اور سامانِ عبرت اپنا تیار ہو گیا۔ بہرحال مسلمان ممالک کی حالت تو دیکھی جائے۔ غزہ پر ظلم و بربریت کے پہاڑ گرتے رہے اور اُمہ میں سے ایک ملک بھی نہ تھا جو غزہ کے باسیوں کے دفاع میں انگلی بھی اٹھاتا۔ حزب اللہ نے اپنی تباہی کے امکان مول لیے لیکن جو کچھ کر سکتے تھے غزہ کے باشندوں کے دفاع میں کیا۔ عمل بے سود تھا ‘ غزہ میں قتل عام کا سلسلہ نہ رکا لیکن حزب اللہ نے ہمت تو دکھائی۔ یمن کے حوثیوں نے ہمت دکھائی اور جو کر سکتے تھے غزہ کے دفاع میں کیا۔ امریکی بمباری کا نشانہ بنے۔ امریکی بمباری کرتے ایک ماہ بعد تھک گئے‘ حوثیوں نے ہاتھ نہ جوڑے۔ رونا آتا ہے یہ منظر دیکھ کے کہ اتنے تیل کے ذخائر‘ اتنی دولت اور ساتھ ہی انتہا کی بے بسی۔ دفاعِ غزہ تو دور کی بات رہی کتنے ہی مسلم ممالک تھے جو اسرائیل سے رشتے استوار کر رہے تھے۔ غزہ پر قتل و غارت کے درمیان ہی پچھلے سال جون میں اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا اور بارہ روزہ جنگ کے آخری روز صدر ٹرمپ نے B2 بمبار بھیج کر ایران کی جوہری تنصیبات پر بھاری بم گرائے۔ لیکن ایران نے ہاتھ روکے رکھے اور میزائلوں سے جواب دیا لیکن محتاط انداز سے کیونکہ جنگ کی طرف ایران جانا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن اب ایران پر جنگ مسلط کی گئی اور اُسے مجبوراً اپنے وجود کی خاطر بھرپور جواب دینا پڑا۔ یہ آزمائش ایسے بنی کہ ایران تو ڈٹا رہا اور امریکی طاقت بے نقاب ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج امریکی نائب صدر اسلام آباد میں تشریف فرما ہیں۔ ایران کی طرف سے غیر مشروط ہتھیار ڈلتے تو یہاں کسی نے آنا تھا؟ آرڈر واشنگٹن سے جاری ہوتے اور ونیزویلا کی طرح ایران امریکہ کے سامنے بے بس ہوتا۔ سچ تویہ ہے کہ سنی شیعہ تمیزسے بے نیازایرانی قوم کی استقامت کی وجہ سے مردہ جسموں میں بھی ایک نئی جان آ گئی ہے۔ مرے ہوئے دلوں میں ایک نئی دھڑکن محسوس ہو رہی ہے۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
5
24
83
5.8K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
سارا مسئلہ سارا فساد اسرائیل کا ہے یہ نکتہ نہ سمجھیں تو اس جنگ کو سمجھنا محال ہو جاتا ہے۔ اسرائیل نے تو حملہ کیا لیکن امریکہ کو اس حملے میں شامل کرنا یہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کمال ہے۔ ایک لحاظ سے یہ حملہ اس نے بیچا کہ حملہ ہوا اور قیادت کا صفایا ہو گیا تو اسلامی ریاست ختم ہو جائے گی۔ اب ٹرمپ کیا امریکہ اس جنگ میں پھنسا ہوا ہے اور نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں۔ ٹرمپ جنگ بندی چاہتا ہے لیکن اپنی شرائط پر اور وہ شرائط ایسی ہیں کہ ایران مانے تو اس کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے۔ سمجھوتا تو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوتا ہے اور امریکہ جو ایران سے مانگ رہا ہے وہ گھٹنے ٹیکنا‘ ناک رگڑنا اور رسوا ہونا ہے۔ آبنائے ہرمز کھول دو‘ تیل بردار جہازوں کو گزرنے دو اور 45دن بعد دیکھیں گے کہ اگلا مرحلہ کیا ہونا ہے۔ آبنائے ہرمز کھل جائے تو ایران کے ہاتھ رہ کیا جاتا ہے۔ اور جہاں تک اگلے مرحلے کی بات ہے امریکہ اور اسرائیل نے دنیا کو ثا بت کر دیا ہے کہ ان کی طرف سے کی گئی کوئی بھی بات قابلِ یقین اور قابلِ اعتبار نہیں۔ لیکن امریکہ مُصر ہے کہ انہی شرائط پر جنگ بندی کرو نہیں تو تمہارا حشر کر دیا جائے گا۔ اس فارمولے کے پیچھے ساری سوچ اسرائیل اور امریکہ میں موجود صہیونی لابی کی ہے۔ اسرائیل جنگ بندی نہیں چاہتا‘ وہ ایران کی مکمل تباہی چاہتا ہے۔ اس کی تیل کے تنصیبات‘ اس کا انڈسٹریل بیس‘ اس کی یونیورسٹیاں اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ اس کے ہسپتال تمام کے تمام تباہ ہو جائیں تاکہ ایران 70‘ 80 سال پیچھے چلا جائے اور ایک ناکام ریاست بن جائے۔ اور جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں ایک طرف جنگ بندی کی بھونڈی باتیں اور دوسری طرف ایرانی انفراسٹرکچر پر اسرائیلی بمباری۔ ایسے میں ایران جنگ بندی کی تجویز کیسے مان سکتا ہے‘ کیونکہ اس جنگ بندی کا مقصد صرف ایک ہے کہ آبنائے ہرمز کھل جائے اور ایران کے ہاتھ میں جو سب سے بڑا لیور ہے اس سے وہ محروم ہو جائے۔ ایک دفعہ ایسا ہوتا ہے تو اسرائیل نے پھر ایران کے ساتھ وہی کرنا ہے جو غزہ اور لبنان میں کر رہا ہے۔ اسرائیل کے سامنے معاہدوں اور یقین دہانیوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ ہم دیکھ چکے ہیں‘ غزہ میں جنگ بندی ہوتی ہے اور منٹوں بعد جارحیت اور بمباری شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سب کچھ سہہ کے تمام حملے برداشت کرکے ایران آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہو جائے گا؟ سفارتی کوششیں اپنی جگہ لیکن ایران ایسا کبھی نہیں کرے گا۔ اس کیلئے ایسا کرنا ناممکن ہے کیونکہ ایرانی قیادت سے بہتر کون جانتا ہے کہ صہیونی اور امریکی وعدوں پر کتنا بھروسہ کیا جائے۔ اس عمل کو جنگ بندی کا نام دینا ہی غلط ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے مسئلے پر ایران کے ہاتھ بندھ جائیں تو یہ جنگ بندی نہیں یکطرفہ سرنڈر کے مترادف ہو گا۔ کیا پھر یہ عقل کا کوئی تقاضا بنتا ہے کہ اس صورتحال میں ایران ایک سطحی قسم کی جنگ بندی پر آمادہ ہو جائے؟ نہیں‘ جنگ بندی ہو نہیں سکتی کیونکہ جو شرائط اسرائیل کے ایما پر امریکہ پیش کر رہا ہے وہ ایران کو نہتا اور بے بس کر دیں گی۔ ایرانی جانتے ہیں۔ جو مار اور تباہی وہ برداشت کر رہے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ اب امریکہ کے سامنے ہاتھ کھڑے کر دیں اور اسرائیل کو موقع دیں کہ اس جنگ کی اگلی قسط کی تیاری شرو ع کر دے۔ لہٰذا ٹرمپ جتنے بھی اپنے دانت پیستے رہیں ان کی دی گئی ڈیڈلائن گزر جائے گی اور آبنائے ہرمز غیر دوست ممالک کیلئے نہیں کھلے گا۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ایسی صورت میں ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ ایران کی تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر تو پہلے ہی اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں۔ ان میں تیزی آ جائے گی‘ مزید تباہی پھیلے گی اور ایسا ہوا تو کوئی اس بھول میں نہ پڑے کہ ایران کی طرف سے ردِعمل نہیں آئے گا۔ ضرور آئے گا اور اس ردِعمل کی زد میں خلیج فارس کے دوسری طرف برادر ملکوں کی تنصیبات اور انفراسٹرکچر نشانہ بنیں گے۔ اب تک تو آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بند ہے‘ پروڈکشن کی تمام تنصیبات تو قائم ہیں۔ ان تنصیبات پر تباہی کے آثار آنے لگیں تو تیل کی قیمت کہاں پہنچ جائے گی اور اس کا اثر گلوبل معیشت پر کیا ہو گا۔ امریکہ کو ضرب لگے گی‘ اس کی معیشت پر گہرے اثرات پڑیں گے اور صدر ٹرمپ کو سیاسی نقصانات اٹھانے پڑیں گے لیکن اسرائیل کو ان سارے ممکنہ نتائج کی کوئی فکر نہیں۔ اسرائیل ایک تو چاہتا ہے کہ ایران تباہ ہو اور ساتھ ہی اسے کوئی غم نہ ہو گا‘ اگر جی سی سی ممالک میں تباہی پھیل جائے۔ صہیونی خواب ہے کیا؟ کہ اس سارے خطے میں سبقت اسرائیل کی ہو اور اسی کی بات چلے۔ عرب ممالک نے اسرائیل کا مقابلہ کرنا کب سے ترک کر دیا تھا۔ کچھ عرب ممالک تباہ ہو گئے باقی ماندہ نے حالات سے سمجھوتا کر لیا۔ ایک ایران اور اس کی حمایتی تنظیمیں جیسا کہ حزب اللہ‘ حماس اور حوثی ہی تھے جو اسرائیل کے خلاف کھڑے تھے‘ جن میں مزاحمت کی خُو باقی تھی۔ اسی لیے ایران کو تباہ کرنا پرانا صہیونی خواب تھا۔ نیتن یاہو نے کتنے امریکی صدور کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ایران پر حملہ ہو۔ مختلف طریقوں سے امریکہ نے ایران کا ناطقہ بند کرنے کی تدبیریں جاری رکھیں لیکن باقاعدہ حملہ جس طرح کہ اب ہو رہا ہے‘ یہ ٹرمپ ہی نے کیا۔ کچھ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کا ذہنی ماحول کیا ہے۔ ان لوگوں پر صہیونی اثر بہت ہے۔ یہ دو اشخاص جو ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے چنے گئے جیرڈ کُشنر اور سٹیو وِٹکاف‘ دونوں نہ صرف یہودی ہیں بلکہ اسرائیل کے اثاثے لگتے ہیں۔ کُشنر کے تو بھاری کاروباری تعلقات اسرائیل سے ہیں اور سٹیو وِٹکاف بھی کچھ کم نہیں۔ ٹرمپ خود اور سیکرٹری جنگ پیٹ ہیگستھ بڑی عجیب اور کٹر قسم کی عیسائیت کے پیروکار ہیں۔ یہاں ہوتے تو طالبان کہلاتے‘ ہندوستان میں ہوتے تو ہندوتوا کے پیروکار سمجھے جاتے۔ جیسے ہم مسلمانوں میں بنیاد پرستی ہے یہ وہاں کے بنیاد پرست ہیں اور ان کی باتیں ویسے ہی جاہلانہ ہیں۔ امریکہ کی ایک مشہور خاتون پادری پولا وائٹ ہے۔ یوٹیوب پر اس کے کرتب دیکھیں۔ پچھلے ہفتے ایسٹر (Easter) کی تقریبات کے سلسلے میں وائٹ ہاؤس گئی ہوئی تھیں۔ وہاں ایک اور مشہور پادری فرینکلن گریہم نے ٹرمپ کیلئے دعا کی اور پھر میڈم پولا وائٹ مائیک پر آئیں اور انہوں نے صدر ٹرمپ کی ذات میں حضرت عیسیٰ جیسی خصوصیات ڈھونڈنا شروع کر ڈالیں۔ یوٹیوب پر ضرور جائیں اور یہ منظر دیکھیں‘ تب سمجھ آئے گی کہ وہ کون سا ذہن (Mindset) ہے جس کے تابع ایران پر یہ حملہ ہوا ہے۔ یہ عجیب سے جنونی قسم کے لوگ ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے زیرکمان دنیا کی طاقتور ترین ملٹری ہے اور ان کے ہاتھوں میں دنیا کے مہلک ترین ہتھیار ہیں۔ دنیا ان کے غضب سے نہیں ان کے جنونی پن سے ڈرے۔ دنیا اب تیار رہے اس جنگ کے خطرناک ترین لمحے کے لیے۔ ایران نے گھٹنے ٹیکنے نہیں اور فرسٹریشن میں امریکہ جنگ کی شدت میں اضافہ کرتا جائے گا۔ لیکن گو امریکہ بڑھتی ہوئی فرسٹریشن کا شکار ہے‘ پیچھے سے اسرائیل چونگیں مارتا رہے گا کہ ایران کو ختم کرنا حکم الٰہی کے مطابق ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جس دعا کا ذکر کیا ہے اس میں ایک پرانی کتاب سے ایسی ہی باتیں سنائی گئیں۔ یہ ہیں صہیونی عزائم اور مسلمان دنیا پتا نہیں کن بھول بھلیوں میں ہے۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
3
21
62
2.2K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
ایران کے ہاتھوں امریکہ کا جو ہو رہا ہے ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے‘ ہارا ہوا وہ نہیں ہوتا جس کا نقصان ہو۔ ہارا ہوا وہ ہوتا ہے جو شکست تسلیم کر لے۔ تاریخ میں ایسا بھی ہوا ہے کہ نقصان ہوئے بغیر دل اور حوصلے بیٹھ گئے جیسا کہ فرانس کے ساتھ 1940ء میں ہوا۔ پیرس پر ایک بم بھی نہیں گرا تھا اور فرانس گھٹنے ٹیکنے کیلئے تیار ہو گیا۔ 1971ء کی مثال بھی دی جا سکتی ہے لیکن رہنے دیجیے‘ بہتوں کو برا لگے گا۔ صہیونی ریاست اور امریکہ کی بمباری سے ایران کا نقصان بہت ہوا ہے لیکن جھاگ ایران کے منہ سے نہیں ٹپک رہی۔ پریشانی کا عالم امریکہ کا ہے کہ ایرانی ریاست ہاتھ کیوں نہیں جوڑ رہی۔ ایران پر حملے جاری ہیں اور امریکی میڈیا اب کہنے پر مجبور ہو رہا ہے کہ ٹرمپ اس جنگ میں پھنس گیا ہے اور نکلنے کا اُسے کوئی راستہ نہیں مل رہا۔ اسی لیے طرح طرح کی لایعنی باتیں امریکی صدر کے منہ سے نکل رہی ہیں۔ جیسا کہ یہ بے تکی پھبتی کہ ایران مذاکرات کیلئے تیار نہ ہوا تو اُسے زمانۂ قدیم میں پہنچا دیا جائے گا۔ یعنی پریشانی یہ کہ جو ہم کر سکتے تھے انتہا کا کر دیا اور ایرانی ریاست پر کچھ اثر نہیں پڑا۔ یہ جنگ ابھی جاری ہے لیکن اس کے نتیجے میں بہت ہی گہرے اثرات ابھی سے نمودار ہو رہے ہیں۔ سب سے اہم بات تو یہ کہ وہ سارا تحفظ کا ڈھانچہ جو امریکہ نے تیل پیدا کرنے والی عرب بادشاہتوں کے ساتھ تعمیر کیا تھا‘ برباد ہو گیا ہے۔ عرب بادشاہتیں دیکھ رہی ہیں کہ ایرانی حملوں کے سامنے امریکی فوجی اڈے محفوظ ہیں نہ تیل اور گیس کی تنصیبات۔ اس سارے خطے میں تیل اور گیس کی پروڈکشن بند ہو گئی ہے اور تمام تیرہ کے تیرہ امریکی فوجی اڈے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ تحفظ کا ڈھانچہ تو اس مفروضے پر تعمیر تھا کہ تحفظ امریکہ فراہم کرے گا اور تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنا تیل ڈالروں میں بیچیں گے۔ اب تک تیل کی عالمی قیمت کا تعین ڈالروں میں ہوتا ہے۔ لیکن اس جنگ کی وجہ سے وہ سارے تصورات جن کی بنیاد پر وہ ڈھانچہ تعمیر ہوا تھا‘ گھائل ہو گئے ہیں۔ امریکی فوجی اڈے اور تیل کے مقام تو ایک طرف رہے‘ اس خطے کا سارا تیل اور ساری گیس کا ذریعۂ ترسیل ایک پانی کا ٹکڑا ہے جسے آبنائے ہرمز کہتے ہیں۔ مفروضہ تو یہ بھی تھا کہ آبنائے ہرمز بند نہ ہو گی اور اگر کچھ ہوتا ہے تو امریکی فوجی اور نیول طاقت اسے کھلا رکھے گی۔ یہ مفروضہ بھی ہوا میں اُڑ گیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا تسلط قائم کر لیا ہے اور آمدورفت کا سلسلہ اُس کے حکم کے تابع ہے۔ عرب بادشاہتیں دیکھ رہی ہیں کہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے امریکہ ایک چھوٹی انگلی بھی نہیں اٹھا سکا۔ پہلے یہ دھمکی کہ امریکی بحری جہاز آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزاریں گے۔ یہ دھمکی ہی رہی۔ پھر اتحادیوں سے کہنا کہ کیونکہ اُن کا انحصار خلیج فارس کے تیل پر ہے اُنہیں اپنے زور سے آبنائے ہرمز کھلوانی چاہیے۔ اس سے کھل کر معذوری اور لاچاری کا اعتراف کیا ہو سکتا ہے؟ کہاں اس سارے خطے کے تحفظ کا ٹھیکیدار اور کہاں ایسی بے بسی۔ اس تبدیلی کی وجہ یہ نہیں کہ امریکی اور صہیونی جنگی طاقت میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ اسرائیل کی ایئرفورس اب بھی خطے میں اپنا غلبہ رکھتی ہے۔ ایف 35طیارے اتنے ہی مؤثر ہیں جتنا کہ پہلے تھے۔ امریکہ کی بحری اور فضائی طاقت کی تباہی پھیلانے کی صلاحیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ نئی چیز اور نیا فیکٹر ریاستِ ایران کی ہمت اور استقامت ہے۔ دنیا کی تاریخ کی سخت ترین بمباری کے باوجود ایران ڈٹ کے کھڑا ہے۔ صدر ٹرمپ اور اُن کے وزارتی ہرکارے اسی لیے پریشان ہیں کہ پانچ ہفتے کی یہ بمباری ایران نہ صرف برداشت کر رہا ہے بلکہ اُس کے جوابی حملوں کی زد میں اسرائیل کا ہر شہر اور ہر فوجی ٹھکانہ آیا ہے۔ مزید براں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بند ہونے سے پوری دنیا پر گہرے معاشی اثرات پڑ رہے ہیں۔ ان نتائج کا امریکیوں نے سوچا تھا نہ صہیونیوں نے۔ ان کا خیال تو یہ تھا کہ دو تین روز کے حملوں میں جب ایرانی قیادت کا صفایا ہو گیا ہو گا‘ ایرانی ریاست پر سکتہ طاری ہو جائے گا اور ایران کے عوام بغاوت میں اُٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے میں اسلامی ریاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ان کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے قتل اور ایران پر مسلسل بمباری کے بعد اسلامی ریاست نہ صرف کھڑی رہے گی بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہو گی۔ یہ انقلاب کے کندن میں پک جانے والی قوم کا کردار ہے کہ امریکہ کو ایسے نتائج بھگتنے پڑ رہے ہیں جو پہلے کسی کے تصور میں نہ تھے۔ ہاں اتنا ضرور کہنا چاہیے کہ جنگ کی تیاریاں ہو رہی تھیں اور جنگ کا بگل ابھی بجا نہیں تھا کہ امریکہ میں ایسی آوازیں اُٹھ رہی تھیں کہ ایران پر کسی قسم کا حملہ بے وقوفانہ عمل ہو گا۔ اور اس سے ایسے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں جن سے نمٹنا آسان نہ ہو گا۔ یہ چند آوازیں تھیں اور امریکہ میں موڈ ایسا تھا کہ ان پر کس نے کان دھرنا تھا۔ ویسے بھی ونیزویلا کے ایڈونچر کے بعد جس میں ونیز ویلا کے صدر کو اغوا کرکے امریکہ کی ایک جیل میں ڈال دیا گیا امریکی صدر ایک عجیب گھمنڈ کے عالم میں گرفتار تھے۔ غالب کیفیت وائٹ ہاؤس میں یہی تھی کہ امریکی صدر جو چاہے کر سکتا ہے۔ ایرانی پُرخلوص طریقے سے مذاکرات کے عمل میں شریک تھے اور جیسا کہ عمان کے وزیر خارجہ بدر البو سعیدی دنیا کو بتا چکے ہیں‘ ایرانی مذاکرات میں انتہا کی لچک دکھا رہے تھے اور بات چیت معاہدے کے قریب پہنچ چکی تھی۔ اسی اثنا میں امریکیوں اور صہیونیوں نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کیا صدر ٹرمپ اور کیا نیم جاہل وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ‘ آئے روز کہتے ہیں ہم نے ایران کی ایئر فورس تباہ کردی‘ نیوی تباہ کر دی‘ میزائل صلاحیت ختم کر دی۔ کوئی پوچھے کہ پھر یہ ڈرون اور میزائل جو اسرائیل پر روزانہ کی بنیاد پر گِر رہے ہیں کہاں سے آ رہے ہیں؟ یہ بھی پوچھا جائے کہ اس جنگ میں آپ اتنے ہی حاکم ثابت ہوئے ہیں تو تلملاہٹ پھر کاہے کی۔ فوجیں بھیجیں اور جزیرۂ خارگ پر قبضہ کر لیں اور وہ نہیں تو کم از کم آبنائے ہرمز پر امریکی فوجیں جائیں دونوں اطراف قبضہ کریں تاکہ سینکڑوں کی تعداد میں تیل سے لدے آئل ٹینکر وہاں سے گزر سکیں اور راتوں رات عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں نیچے آ جائیں۔ لیکن اس جنگ میں ایران کا کردار سامنے رکھتے ہوئے امریکیوں کو پتا ہے کہ ایسا کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ اب تو ناممکن۔ امریکی فوجی ادھر اُدھر اکٹھے ہو رہے ہیں لیکن ایران کا ایک ہی جواب ہے کہ ہم انتظار میں ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے عرب بھائیوں کو اب کچھ سوچنا چاہیے۔ امریکہ کی دفاعی ضمانتوں کو دیکھ چکے۔ امریکی اڈوں کو خطے سے نکالنے کا وقت شاید آن پہنچا ہے۔ ایک نیا دفاعی نظام بننا چاہیے جس میں ایران اور تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک برابر کے شریک ہوں۔ تمام مسلم ممالک کیلئے کتنے شرم کا مقام ہے کہ صہیونی اور امریکی ایک مسلم ملک پر بے جا کی جنگ مسلط کریں اور ان کے لبوں سے مذمت کا ایک لفظ بھی نہ نکل سکے۔ حزب اللہ اور حوثیوں سے ہی کچھ سیکھ لیں۔ حیثیت دونوں کی زیادہ نہیں ہمتِ مرداں تو ہے۔ مصلحت کا درس اُمہ نے بہت پڑھ لیا‘ ایران کو دیکھتے کچھ ہمت کا درس بھی پڑھ لیا جائے۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
10
60
184
7.6K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
حماقت کے سودے جنگِ ویتنام کا عذر امریکیوں نے کچھ نہ کچھ اپنے ذہنوں میں گھڑا ہوا تھا کہ ویتنام گیا تو سارا جنوب وسطی ایشیا کمیونسٹ تسلط کے نیچے آ جائے گا۔ عذر غلط تھا لیکن تھا۔ ایران کے معاملے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو اپنے آپ کو پھنسا لیا ہے اس کا جواز نہ تھا‘ نہ امریکی ایڈمنسٹریشن سے کوئی جواز بن رہا ہے۔ آئے روز ایک نئی وجہ ایک نیا عذر بیان کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ایران نے وہ سب کچھ کیا جو ہو سکتا تھا امریکی حملے کو ٹالنے کیلئے۔ اب تو واضح ہو چکا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اسرائیلی خفیہ تنظیم موساد نے قائل کیا کہ ایران پر حملہ ہو گا تو وہاں کا اسلامی نظام دھڑام سے گر پڑے گا اور نیتن یاہو نے یہ کہانی ٹرمپ کو سنائی اور ٹرمپ قائل ہو گیا کہ یہی وقت ہے ایران پر حملہ کرنے کیلئے۔ حملہ کر بیٹھے ہیں لیکن ایران سے ایک بہت بڑی غلطی ہو رہی ہے۔ اس نے گھٹنے نہیں ٹیکے نہ ہاتھ جوڑے ہیں کہ حملے بس کر دو اور جو منوانا ہے ہم سے منوا لو۔ گھٹنے ٹیکنے کے بجائے ایران سے دوسرا بڑا گناہ یہ سرزد ہو رہا ہے کہ اس نے جوابی حملے ایسے کیے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے ہوش ٹھکانے آ گئے ہیں اور جو خطے میں امریکہ کے حمایتی ہیں ان کی بھی ایسی تیسی ہو رہی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی ذہنوں میں جو کچھ بھی تھا یہ تو نہیں تھا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بند ہو جائے گی۔ لیکن دشمن جہازوں کیلئے ایران نے وہ پانی بند کر دیے اور تیل کی عالمی قیمتیں اوپر جا پہنچی ہیں جس سے امریکی حماقت کا اثر پوری دنیا پر پڑ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کو خود بھی امریکہ میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور اس کی مقبولیت 36 فیصد یعنی خاصی نیچے جا پہنچی ہے۔ ٹرمپ کے اپنے سیاسی بیس جسے میگا موومنٹ کہتے ہیں‘ میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور اس موومنٹ کے بڑے بڑے نام جیسا کہ ٹَکر کارلسن روزانہ کی بنیاد پر ٹرمپ کو تنقید اور تنقید سے زیادہ تمسخر کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم کے حوالے سے بڑا عہدیدار جوکینٹ استعفیٰ دے کر پوڈ کاسٹوں میں بتا رہا ہے کہ امریکہ کیلئے ایران کوئی خطرہ نہ تھا اور یہ جنگ اسرائیل کی خاطر لڑی جا رہی ہے۔ اور ٹرمپ کی حالت یہ ہے کہ لایعنی باتیں کیے جا رہا ہے۔ ہر روز ایک نیا شوشا لیکن جنگ کی بنیادی حقیقت تبدیل نہیں ہو رہی کہ امریکہ پھنسا ہوا ہے اور نکلنے کا راستہ اسے نہیں مل رہا۔ انسان ہو یا کوئی ملک‘ کہیں پھنس جائے تو ہاتھ پیر مارے جاتے ہیں۔ امریکہ بھی اب یہی کر رہا ہے۔ ٹرمپ ایک طرف دھمکیاں دے رہا ہے کہ جزیرہ خارگ تباہ کر دوں گا‘ ایران کا سارا بجلی اور انرجی کا نظام تباہ ہو جائے گا اگر ایران معاہدے کیلئے تیار نہ ہوا۔ دوسری طرف ادھر اُدھر سے امریکی فوجی بلائے جا رہے ہیں‘ کس مقصد کیلئے اب تک واضح نہیں۔ انٹرنیٹ پر جائیں اچھے اچھے تجزیہ کار حیران پریشان ہیں کہ امریکہ کر کیا رہا ہے اور تین چار ہزار فوجیوں سے ایران کے خلاف کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ یاد ہو گا کہ افغانستان میں امریکہ کی فوج ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی اور پھر بھی کچھ حاصل نہ ہوا۔ ویتنام میں امریکی فوج پانچ لاکھ تک پہنچی تھی اور رسوائی جو امریکہ کو اس جنگ میں اٹھانی پڑی دنیا کے سامنے ہے۔ معاہدہ بھی ایران کیا کرے۔ جو پندرہ نکاتی مطالبے بذریعہ پاکستان ایران کو دیے گئے ہیں وہ کسی مذاق سے کم نہیں۔ میدانِ جنگ میں جو اہداف امریکہ حاصل نہیں کر سکا وہ مذاکرات سے پہلے ایران سے منوانا چاہتا ہے۔ ایران کے اسلامی نظامِ حکومت کو تباہ کرنے چلے تھے اور امریکی آبنائے ہرمز بند کرا بیٹھے ہیں۔ اور اب ترلے کر رہے ہیں کہ کسی صورت آبنائے ہرمز کھل جائے تاکہ دو تین ہزار ٹینکر جو پھنسے ہوئے ہیں وہ وہاں سے گزر سکیں اور تیل کی عالمی قیمتیں نیچے آ سکیں۔ یعنی امریکی تیر مارنے نکلے تھے اور خود تیر کھا بیٹھے ہیں۔ پھر بھی اکڑ کم نہیں ہو رہی۔ مارکو روبیو کا الجزیرہ پر انٹرویو سنیے‘ ایسا لہجہ کہ جیسے ایران کی گردن پر امریکیوں نے پیر رکھا ہو‘ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور امریکہ کی سبکی ہو رہی ہے۔ بہرحال اس جھمیلے سے نکلنے کا کیا راستہ ہے؟ پاکستان‘ ترکیہ اور مصر پیغام رسانی کا کام انجام دے رہے ہیں لیکن امریکی پندرہ نکات سامنے رکھے جائیں تو معاہدے کی بات کہاں نظر آتی ہے۔ ان نکات کا مطلب ہے کہ ایران گھٹنوں پر گِر پڑے اور امریکی رحم کی بھیک مانگے۔ ایران نے ایسا کرنا ہے؟ ایران نے بہت تباہی برداشت کی ہے لیکن جواباً حملے کیے جا رہا ہے۔ امریکیوں کو جنگی سبقت اتنی ہی مل رہی ہوتی تو آبنائے ہرمز اب تک ٹینکروں کی آمدورفت کیلئے کھل نہ جاتا؟ ٹرمپ سے لے کر باقی مشیروں تک یہی منترا پڑھا جا رہا ہے کہ ہم نے ایران کی نیوی‘ ایئر فورس اور میزائلوں کے کارخانے تباہ کر دیے ہیں۔ واقعی تباہ کر لیے ہیں تو جائیں آبنائے ہرمز پر قبضہ جمائیں۔ امریکی نیوی دنیا کی طاقتور ترین نیوی ہے‘ اتنا بھی نہیں کر سکتی کہ آبنائے ہرمز میں سے آمدورفت ممکن بنا سکے؟ کچھ سمجھدار تجزیہ کار ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں کہ جہاں ایران اکیسویں صدی کی جنگ لڑ رہا ہے‘ امریکہ بیسویں صدی کے جنگی تصورات میں پھنسا ہوا ہے۔ کون سا امریکی ٹارگٹ ہے جو اس جنگ میں ایرانی حملوں سے بچا ہے؟ خطے میں جو تیرہ امریکی اڈے ہیں تمام کے تمام بہت حد تک استعمال کے قابل نہیں رہے اور ان اڈوں کے بجائے امریکی فوجی ہوٹلوں میں رہنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ لیکن امریکی بات ایسے کر رہے ہیں جیسے ایران کو لتاڑ کے رکھ دیا ہے۔ امریکی غصہ اس بات پر ہے کہ ایران وینزویلا ثابت نہیں ہوا۔ وینزویلا میں تو امریکیوں کو کچھ زیادہ کرنا ہی نہیں پڑا تھا۔ تھوڑی سی بمباری کے بعد رات کے اندھیرے میں امریکی کمانڈو گئے اور صدارتی ٹھکانے سے وینزویلا کے صدر کو یرغمال بنا کر اٹھا لائے۔ یقینا یہی سمجھ رہے تھے کہ ایران کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا۔ اسرائیلیوں نے امریکیوں کو یہی پڑھایا تھا کہ ایرانی قیادت کا صفایا ہو گیا تو نظام تباہ ہو جائے گا۔ اسی مفروضے پر اس سارے آپریشن کی پلاننگ ہوئی۔ پہلا حملہ نہایت ہی سنگین تھا اور کتنے ہی اہم عہدیدار اس کا نشانہ بنے۔ لیکن نظام اور حکومتی سٹرکچر قائم رہا اور فوراً ہی ایران کے جوابی حملے شروع ہو گئے اور جیسے جیسے عرب ممالک اور اسرائیل میں تباہی پھیلی حملہ آور حیران ہونے لگے۔ اب تک حیران ہی ہو رہے ہیں۔ ایسے میں بتائیے جنگ ختم کرنے کیلئے کون سا معاہدہ ہو سکتا ہے؟ اب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایرانی سوچ رہے ہیں کہ جو ٹینکر ہرمز سے گزریں وہ ٹول ٹیکس ادا کریں۔ ایران کا کنٹرول آبنائے ہرمز پر رہے تو اس نکتے پر غور کرنا ہوگا۔ ایرانی کنٹرول ختم کرنا ہے تو آبنائے ہرمز پر حملہ کرنا ہو گا۔ حملہ کرنے کیلئے زمینی فوج کی ضرورت پڑے گی اور امریکہ نے ایسا کیا تو مزید پھنستا جائے گا۔ اسی لیے ڈر یہی ہے کہ مذاکرات میں سہولت کاری کی باتوں کے باوجود یہ جنگ طول نہ پکڑ جائے۔ ایسی بات ہوتی ہے تو ہر طرف تباہی بڑھتی جائے گی۔ اور بیچ میں ہمارے برادر ملکوں کے حالات مزید بگڑ جائیں گے۔ امریکی ایران کے انرجی انفراسٹرکچر پر حملے کرتے ہیں تو ایران نے جواباً جی سی سی ممالک میں تباہی پھیلا دینی ہے۔ کیا امریکہ نے یہ جنگ اس لیے شروع کی کہ اس کے اپنے عرب اتحادی مشکلات میں پڑ جائیں؟
Ayaz Amir tweet media
اردو
6
19
59
2.4K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
غرور کا ایک دور ختم ہو رہا ہے ویتنام کی جنگ کئی سال جاری رہی اور گو اس میں امریکہ کی بہت سبکی ہوئی لیکن اس پسپائی کا اثر محدود تھا۔ امریکہ ہار گیا لیکن باقی چیزیں چلتی رہیں۔ ایران جنگ میں امریکہ کو جو سبکی اٹھانی پڑ رہی ہے‘ اس کے اثرات وسیع تر ہوں گے کیونکہ سارے تیل بردار خطے میں امریکہ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ تحفظ کے سارے مفروضے برباد ہوئے۔ جی سی سی ممالک جو اَب تک امریکہ پر انحصار کرتے تھے انہوں نے ایرانی میزائلوں کے سامنے امریکی تحفظ کی حقیقت دیکھ لی۔ سوائے جن کی آنکھیں بند ہیں باقی دنیا دیکھ رہی ہے کہ اس جنگ میں امریکہ کو شکست ہو رہی ہے۔ امریکہ اپنا کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ نہ امریکہ بیان کر سکا ہے کہ آنکھیں بند کر کے جو اس جنگ میں کودا‘ کیا مقاصد حاصل کرنا مقصود تھے؟ امریکہ میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ کچھ عذر تو پیش کیا جائے۔ پہلے روز امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ جنگ کا مقصد رجیم چینج ہے۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنے کا مقصد بھی بیان کیا گیا‘ وہی پروگرام جس کے بارے میں پچھلے سال جون میں کہا تھا کہ بی ٹو بمبار جہازوں نے ایران کی جوہری صلاحیت تباہ کر دی ہے۔ اب جو ایران نے آبنائے ہرمز کو بیشتر جہازوں کے لیے بند کر دیا ہے تو امریکہ ان ترلوں پر آ گیا ہے کہ کسی طریقے سے آبنائے ہرمز کھل جائے تاکہ جو نقصان گلوبل معیشت کو اٹھانا پڑ رہا ہے وہ ختم ہو۔ یعنی حملوں کے وقت مقاصد کیا بیان کیے جا رہے تھے اور ایک ماہ کی جنگ کے بعد بات کہاں تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر کی باتیں سُن کر تو لگتا ہے کہ واویلیاں مار رہے ہیں۔ دو تین روز پہلے کی کابینہ میٹنگ کا حال ملاحظہ ہو جہاں میڈیا کو بھی بلایا گیا تھا۔ امریکی صدر بولے جا رہے تھے لیکن باتوں میں کوئی ربط نہیں تھا۔ کبھی ایک چیز چھیڑ رہے ہیں اور اسی لمحے کہیں اور پہنچ رہے ہیں۔ اور بیشتر وزیروں اور مشیروں کا حال وہ تھا جو بھانڈوں کی محفل میں عموماً دیکھا جاتا ہے۔ سنجیدہ ماحول لگتا ہی نہیں تھا۔ یہ ہے عالمی سپر پاور کا حال جس نے بغیر سوچے سمجھے اس جنگ میں چھلانگ لگا دی اور وہ بھی اپنی منشا پر نہیں بلکہ یہ اسرائیل کا وزیراعظم تھا جس نے کہانیاں سنا سنا کر امریکی صدر کو اس جنگ میں دھکیل دیا اور جہاں اسرائیل کا مقصد پورا ہو رہا ہے کہ مسلم دنیا میں تباہی پھیلی ہوئی ہے‘ امریکی سرکار میں احساس پیدا ہو چکا ہے کہ ہم غلطی کیا غلطان کر بیٹھے۔ لیکن امریکہ کے سامنے مشکل اب یہ ہے کہ نکلنے کا راستہ اسے کوئی نہیں مل رہا۔ پندرہ نکات جو امریکہ نے پاکستان کو پکڑائے ہیں اور جو ہم نے ایران کو پہنچا دیے ایسے لایعنی قسم کے ہیں کہ امریکی عقل پر حیرانی ہوتی ہے۔ یہ جو ایک ماہ کی بمباری ہوئی دنیا کی تاریخ میں سخت ترین بمباری ہے۔ ماسوائے اس کے کہ جوہری ہتھیار استعمال ہوں اس سے زیادہ شدید بمباری ہو نہیں سکتی۔ ایران نے سب کچھ برداشت کرکے جوابی حملے ایسے کیے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ دونوں کے ہوش ٹھکانے آ گئے ہیں۔ خطے کے عرب ممالک میں امریکہ کے 13ملٹری اڈے ہیں اور ان پر ایرانی نشانے ایسے لگے کہ 13کے 13ناکارہ ہو گئے ہیں اور وہاں مقیم امریکی فوجیوں کے قیام کا بندوبست ہوٹلوں میں ہو رہا ہے۔ ان ہوٹلوں پر بھی ایرانی ڈرون اور میزائلوں کے حملے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے تو یہ سمجھا تھا کہ پہلے حملے میں ایرانی قیادت پر کاری وار ہوا اور مزید دو تین دن کی بمباری کے نتیجے میں اسلامی ری پبلک کا سارا انتظام نیست و نابود ہو جائے گا۔ ایسا کیا ہونا تھا اسرائیل اور امریکہ کو لینے کے دینے پڑ رہے ہیں‘ لیکن پھر بھی جو پندرہ نکات امریکہ نے دیے ہیں انہیں پڑھ کر تو یہ لگتا ہے کہ فاتح امریکہ ہے اور ایران مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے۔ حالانکہ بات بالکل الٹ ہے‘ امریکہ نکلنے کی صورت ڈھونڈ رہا ہے جو اسے آسانی سے مل نہیں رہی۔ یہ وہ امریکہ ہے جو سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد دنیا کی واحد سپر پاور رہ گیا تھا اور جو سمجھتا تھا کہ دنیا میں حقیقت وہ ہو گی جو ہم چاہیں گے۔ صدر جارج بش کے مشیر کارل روو (Karl Rove) کے مشہور الفاظ ہیں کہ دنیا میں ہم جو بھی کریں گے وہی سب سے بڑی حقیقت ہو گی۔ اور اب تک امریکہ اپنی مرضی کرتا آیا ہے۔ جھوٹ پر مبنی عراق پر حملہ کرکے اس ملک کو تباہ کیا۔ لیبیا میں کرنل قذافی کے ساتھ کیا ہوا۔ شام کی تباہی ہوئی‘ ان سب واقعات سے پہلے افغانستان پر کیا گیا حملہ۔ غزہ میں قتلِ عام اور حال ہی میں جو دنیا نے وینزویلا میں دیکھا کہ امریکی افواج کا حملہ اور وہاں کے صدر کو اغوا کرکے امریکہ لے جانا۔ وینزویلا کا ایڈونچر ہو رہا تھا تو صدر ٹرمپ کیوبا کے بارے میں بول پڑے کہ اس کے ساتھ جو چاہوں گا وہی ہوگا۔ یہ بخار سر چڑھا ہوا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قسمت ہاری اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی باتوں میں آ کر ایران پر حملے کی تان لی۔ متوقع حملے سے پہلے ایرانیوں نے لاکھ کوشش کی کہ حملے کا خطرہ ٹل جائے۔ وہ اس بات پر بھی راضی ہو گئے کہ جس یورینیم کی افزودگی وہ کر چکے ہیں اس کی طاقت وہ ختم کر دیں گے یعنی افزودگی صفر فیصد پر پہنچ جائے گی۔ صرف ایک بات پر اڑے رہے کہ افزودگی کا جو جائز حق ہے اس سے وہ دستبردار نہیں ہوں گے۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی جو امریکہ اور ایران کے بلاواسطہ مذاکرات کے سہولت کار تھے‘ نے یہ سب باتیں بیان کر دی ہیں کہ ایرانی اس حد تک تیار ہو گئے تھے۔ ہفت روزہ اکانومسٹ میں البوسعیدی نے اس موضوع پر مضمون بھی لکھا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ لگتا یوں ہے کہ امریکی اپنی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کھو بیٹھے ہیں۔ جس کا مطلب صاف الفاظ میں یہ ہے کہ امریکی فارن پالیسی پر کنٹرول کسی اورکا لگتا ہے۔ اشارہ صاف ظاہرہے اسرائیل کی طرف ہے۔ دیگر سارے بلنڈر امریکہ کر چکا ہے بس ایک رہ گیا ہے کہ خلیج کی طرف اپنے فوجی دستے بھیجے جو زمینی کارروائیاں شروع کریں۔ جاپان میں تعینات امریکی دستے خلیج کی طرف آ رہے ہیں۔ 82ایئربورن ڈویژن کا ایک بریگیڈ امریکہ سے خلیج کی طرف آ رہا ہے۔ جزیرہ خارگ‘ جس پر بڑی ایرانی تیل تنصیبات موجود ہیں‘ کی باتیں ہو رہی ہیں کہ وہاں کے قبضے کا سوچا جا رہا ہے۔ خلیج میں کچھ اور جزیرے ہیں ان کا ذکر بھی سنا جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز پر زمینی حملے کی باتیں۔ امریکی سبکی جو اَب تک ہوئی ہے بس اس میں یہی کسر باقی رہ گئی ہے‘ اور اگر امریکہ واقعی زمینی حملے کی طرف جاتا ہے تو سمجھ لیا جائے کہ تاریخ کے اس مرحلے میں امریکی عقل سے بالکل فارغ ہو گئے ہیں۔ جہاں زمینی حملے کی باتیں ہو رہی ہیں امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے دو روز پہلے پیرس میں کہا کہ زمین پر امریکی فوج کی ضرورت نہ پڑے گی کیونکہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران پر حملے کے خلاف سمجھے جاتے تھے۔ اب جو امریکہ مذاکرات کے لیے بے صبر ہوتا جا رہا ہے اشارے یہی آ رہے ہیں کہ امریکی سائیڈ سے مذاکرات کی قیادت وینس کریں گے۔ بلنڈر تو ہو چکے‘ دیکھنا اب یہ ہے کہ عقل کی بات رہ گئی ہے تو کہاں سے آتی ہے۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
1
12
44
1.4K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
اُمہ کا حال اُمہ کا حصہ ہم بھی تو ہیں اور حالِ اُمہ دیکھ کر کبھی ہنسی آتی ہے‘ کبھی رونے کو جی چاہتا ہے۔ خاندانی بادشاہتوں کے پاس تیل کی دولت اتنی کہ گنی نہیں جاتی لیکن اپنی کمزوری کی بنا پر امریکہ کی محتاجی اتنی کہ حیرانی کی انتہا نہیں رہتی۔ ایرانی قوم تو انقلاب اور جنگ کے کندن سے گزری ہے‘ وہ اس جنگ کی تباہی سہہ جائے گی لیکن ہماری برادر بادشاہتوں کا کیا بنے گا؟ اُن کے تحفظ کا سارا دارو مدار امریکی اڈوں کے گرد گھومتا تھا۔ امریکی اڈوں کی وجہ سے اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر سمجھتے تھے۔ اُس سوچ کا بھانڈا تو ایران نے ایسے پھوڑا کہ برادر ملکوں کی بے بسی دنیا کے سامنے عیاں ہو گئی۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں سے امریکی اپنے اڈے نہ بچا سکے اُنہوں نے عرب بادشاہتوں کی فضاؤں کو کیا بچانا تھا۔ چوتھے ہفتے میں جنگ جا چکی ہے اور تیل سے لدے ٹینکر خلیج فارس میں لنگر انداز کھڑے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز سے گزر نہیں سکتے۔ امریکی صدر‘ جو دنیا کے سامنے اب ایک نمونے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے‘ نے آبنائے ہرمز کھولنے کی کتنی دھمکیاں دیں۔ شروع میں یہ بھی کہا کہ امریکی بحری جہاز ٹینکروں کو بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزاریں گے۔ وہ بات نہ بنی تو اتحادیوں سے کہہ ڈالا کہ خلیج فارس کے تیل پر تمہارا انحصار زیادہ ہے تم آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے بحری جہاز بھیجو۔ امریکہ کی حالت اس جنگ کی وجہ سے یہ ہو گئی ہے کہ کسی ایک اتحادی نے مدد نہ بھیجی۔ پھر اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا کہ آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکر نہ گزرے تو ایران کے انرجی انفراسٹرکچر یعنی پاور سٹیشنوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔ الٹی میٹم کا وقت پورا نہیں ہوا اور اعلان کر دیا کہ پانچ دن کیلئے امریکی حملے بند رہیں گے۔ ساتھ یہ ہوائی چھوڑی کہ ایران کے ساتھ بامقصد مذاکرات ہوئے ہیں جس کی وجہ سے حملے بند کیے جا رہے ہیں۔ ایران نے اس دعوے کی کھلم کھلا تردید کر دی ہے کہ کوئی براہِ راست یا پیچھے سے مذاکرات نہیں ہوئے اور امریکی صدر بلّف یعنی جھوٹ بول رہا ہے۔ اتنا البتہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان‘ ترکیہ اور مصر دونوں طرف سے پیغام رسانی کا کام انجام دے رہے ہیں۔ لیکن اتنی بات تو دنیا کو نظر آ رہی ہے کہ آبنائے ہرمز ایران دشمن تیل کیلئے بدستور بند ہے اور ایرانی حملے اسرائیل پر جاری ہیں۔ یعنی ایران نے کوئی لچک نہیں دکھائی اور امریکی صدر پینترے بدل رہا ہے کیونکہ جنگ شروع تو کر دی اب نکلنے کی صورت نظر نہیں آ رہی۔ ہوا تو یہ تھا کہ جب صدر ٹرمپ نے ایران کے تیل انفراسٹرکچر پرحملے کی دھمکی دی تو ایران کی طرف سے جواب آیا کہ اس صورت میں علاقے کی تمام تیل پروڈکشن اور پانی کے ڈی سیلینیشن پلانٹوں پر حملے ہوں گے۔ اس جنگ میں دنیا کو اتنا پتا چل گیا ہے کہ ایران بھبکیاں نہیں کَستا اور جو کہتا ہے وہ کر دکھانے کی ہمیت رکھتا ہے۔ گلف ممالک کی تیل اور گیس پروڈکشن تو سب بند ہو گئی ہے لیکن اُن کے پاس پینے کا پانی بھی نہیں ہے۔ زیادہ انحصار انہی ڈی سیلینیشن پلانٹوں پر ہے اور انہیں کچھ ہو جائے تو کویت سے لے کر باقی ملکوں تک پینے کا پانی نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی دھمکیاں کارآمد ثابت نہ ہوئیں اور ہر گزرتے دن برادر ملکوں کی بنیادی کمزوریاں زیادہ عیاں ہوتی گئیں۔ ٹرمپ پینترے بدل رہا ہے تو اُس کی وجہ یہ ہے کہ قیادت کی ہلاکتوں اور بمباری کی تباہی کے باوجود ایرانی ہمت اور استقامت میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ بات تو یہاں تک بھی ہو رہی ہے کہ شاید براہِ راست مذاکرات کی صورت اسلام آباد میں پیدا ہو جائے۔ ایسا ہوتا بھی ہے تو کسی پُرامن حل کا قصہ مخدوش ہی لگتا ہے کیونکہ اگر بہ زبان حرب امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا تو سمجھ سے بالاتر بات ہے کہ وہ مقاصد مذاکرات کی میز پر کیسے حاصل کر لے گا۔ امریکی صدر کی زبان اب بھی گھمنڈ سے لدی پڑی ہے۔ کہتے ہیں کوئی جوہری ہتھیار نہیں‘ کوئی جوہری پروگرام نہیں۔ اور جو یورینیم افزودہ کیا جا چکا ہے وہ امریکہ کے حوالے کیا جائے۔ ہوش ٹھکانے آئیں تو امریکیوں کو سمجھنا چاہیے کہ دنیا کی طاقتور ترین بمباری کے سامنے ایران نے گھٹنے نہیں ٹیکے تو اُن کی لایعنی باتوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے؟ اب تو بہت سے امریکی خود کہہ رہے ہیں کہ اُن کا صدر عقل اور ہوش سے فارغ لگتا ہے اور اس جنگ کے دوران بدلتی باتیں اسی سوچ کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ پوری دنیا اس جنگ سے متاثر ہو رہی ہے اور ایک ایسا شخص دنیا کی مضبوط ترین ملٹری کا کمانڈر انچیف بیٹھا ہوا ہے۔ بہرحال جو کچھ بھی ہو رہا ہے دنیا کو سمجھ آ رہی ہے کہ یہ جنگ اسرائیل کی ہے اور اسرائیل اس مقصد میں کامیاب ہوا ہے کہ امریکہ کو اس جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ کیا برادر اسلامی ممالک اتنی بات سمجھنے سے قاصر ہیں؟ وہ نہیں دیکھ سکتے کہ جنگ کیسے شروع ہوئی اور کس منافقانہ طریقے سے ایران پر حملہ ہوا؟ کچھ تو امریکہ کو تنبیہ کرتے کیونکہ جو مصیبت اُن پر آن پڑی ہے وہ اس امریکی اور اسرائیلی حملے کی وجہ سے ہے۔ لیکن کیا داد ان کی عقل کو دینی پڑتی ہے کہ امریکہ کی مذمت میں ایک لفظ ان کے لبوں سے نہیں نکلا۔ ایرانی حملوں کی مذمت لیکن ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بارے میں سِلے ہوئے ہونٹ۔ ایرانی حملوں پر نہ روئیں‘ اپنی کمزوری اور لاچاری پر روئیں۔ ہمارے برادر ملک امریکی یاری کو اپنا دفاع سمجھتے تھے اور وہی اُن کی بربادی کا سبب بن رہا ہے۔ یہ خام خیالی ہے کہ جنگ بندی اور امن کا قیام جلد ہو جائے گا۔ کس بنا پر جنگ بندی؟ ایران کہہ رہا ہے کہ ضمانتیں مہیا ہوں کہ پھر سے ایسا حملہ نہ ہو۔ تباہی کا ہرجانہ دیا جائے۔ امریکی اڈے علاقے سے ختم کیے جائیں۔ یہ سب کچھ کون کرے گا؟ مستقبل کی ضمانتیں کون دے گا؟ پاکستان اور مصر کیا ایسی ضمانتیں دے سکتے ہیں؟ ٹرمپ کی زبان پر کون بھروسا کرے گا؟ ایرانی تو نہیں کریں گے‘ اُنہوں نے ٹرمپ کو بہت دیکھ اور آزما لیا۔ اور وہ جو دو رئیل اسٹیٹ ایجنٹ سٹیو وِٹکاف اور جیرڈ کُشنر جو کہ کلیدی ایلچی ہیں‘ اُن کی بات پر کون یقین کرے گا؟ لگتا تو یہ ہے کہ یہ تباہ کن جنگ جاری رہے گی اور جتنی طویل رہی ہمارے برادر ملکوں کا کام ہو جائے گا۔ اسرائیل کو فائدہ ہو گا‘ مسلم ممالک میں جتنی تباہی ہو اسرائیل والے اپنے لیے اچھا سمجھیں گے۔ وہ تو ایک بڑے اسرائیل کا خواب دیکھ رہے ہیں‘ دریائے فرات سے لے کر دریائے نیل تک۔ بڑے اسرائیل کا تصور اُن کی نظروں میں یہ ہے۔ خطرہ اسرائیل سے اور برادر ملکوں نے دشمنیاں ایران سے پال رکھی تھیں۔ اب سارے مفروضے ہوا ہو گئے ہیں۔ کہاں گئی وہ ساری چاپلوسی‘ وہ بوئنگ جہاز کا تحفہ‘ وہ انوکھے اندازِ استقبال؟ عقل ہوتی تو مل کر امریکی عزائم کو روکتے۔ لیکن ایسی بات کہاں ہونی تھی۔ امریکیوں کو بھی پتا تھا کہ جب یہ دوست ممالک ہم سے ملتے ہیں تو اندرونِ خانہ کہتے ہیں کہ ایرانیوں کو خوب مارو۔ اسی لیے تو حیرانی کی بات نہیں کہ امریکی اور اسرائیلی حملے ہوئے تو اُف کی ایک آواز نہ آئی۔ یہ تو کسی کے فرشتوں کو معلوم نہیں تھا کہ ایرانی قوم اس طرح ڈٹ جائے گی۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
4
21
71
2K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
ہمت اور استقامت اسے کہتے ہیں تیسرے ہفتے میں یہ جنگ پہنچ چکی ہے اور امریکہ کا غرور ایرانی قوم نے خاک میں ملا دیا ہے۔ اسرائیل کا بھی۔ کیا گھمنڈ تھا ان کا کہ تین چار روز میں ایرانی قوم گھٹنوں پر آ جائے گی۔ ہوا اُلٹ ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کہیں کیا اور آگے کا راستہ کیا ہے۔ بری طرح پھنس گئے ہیں اور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ یہی ان کا علاج ہے جو ایرانی قوم ان کا کر رہی ہے۔ انگریزی کا لفظ ہے بفون (Buffoon) یعنی بونگا۔ کیا بونگا انسان امریکیوں نے اپنا صدر منتخب کیا ہے۔ پہلے بھی گفتگو اس کی لایعنی ہوا کرتی تھی لیکن اب تو ایسا لگتا ہے کہ اس کا دماغ چل گیا ہے۔ اب نیٹو ممالک اور چین سے مدد مانگ رہا ہے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے۔ نیٹو ممالک کا مذاق اُڑاتا تھا‘ برطانوی وزیراعظم کا تمسخر اڑایا اور اب انہی سے کہہ رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے کوئی مدد بھیجو۔ مزے کی بات یہ کہ کوئی ملک اس کی بات پر کان دھرنے کیلئے تیار نہیں۔ ایک بار پھر کہنے کی ضرورت ہے کہ امریکیوں اور اسرائیلیو ںکا صحیح علاج ہو رہا ہے۔ ایک بات اچھی ہوئی ہے کہ ایک پاکستانی تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی‘ جو اس جنگ کی وجہ سے ایک عالمی شخصیت کے طور پر اُبھر رہے ہیں‘ نے پاکستانی حمایت کا ذکر کیا ہے اور تعریف بھی کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان ٹھیک کر رہا ہے۔ ہمارے سعودی عرب سے تعلقات قائم ہیں اور اگر ایران بھی یہی کہہ رہا ہے تو پھر حکومت کی شاباش بنتی ہے کہ عقل اور ہوش مندی سے کام لیا جا رہا ہے۔ اب یہ بھی امید کی جا سکتی ہے کہ ہمارے حکمران آنے والے وقت میں ٹرمپ کو مکھن لگانا بند کر دیں گے۔ پہلے جو مکھن لگایا اور خوب لگایا مصلحت پسند ی کے زمرے میں اُسے سمجھا جا سکتا ہے لیکن پھر بھی خوشامد کے ناتے حکومت سے جو کرتب سرزد ہوئے وہ قوم کیلئے کوئی اعزاز نہیں تھا بلکہ جو پاکستانی بھی اُن مناظر کو دیکھتا تو شرمندگی کا احساس ہوتا۔ لیکن اب امید لگائی جا سکتی ہے کہ مکھن لگانے کا دور ختم ہوا اور حکمران بات بات پر واشنگٹن کی اُڑان نہیں بھریں گے۔ ٹرمپ نے ایک مہربانی پوری دنیا پر کی ہے کہ امریکہ کی وقعت دنیا کی نظروں میں ایسے گرائی ہے کہ اس ایڈمنسٹریشن کی باتیں اب زیادہ سنجیدگی سے کوئی نہیں لے گا۔ اور صرف ٹرمپ کی لایعنی باتیں نہیں‘ امریکی وزیر دفاع کو دیکھیں جو فاکس نیوز پر اینکر ہوا کرتا تھا‘ اُس کی گفتگو کا انداز ہی ایسا ہے کہ پرلے درجے کا جاہل لگتا ہے۔ مانا کہ ایران کی بڑی تباہی ہوئی ہے لیکن اس میں قصور ایران کا تو نہیں‘ ان کی طر ف سے ہر ممکن کوشش ہوئی کہ جنگ کی بلا ٹل جائے لیکن امریکہ اور اسرائیل ایسے غرور میں مبتلا تھے کہ مذاکرات جاری تھے اور ایران پر وحشیانہ حملہ کر دیا۔ ایرانی قوم کی ہمت ہے کہ رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور دیگر لیڈران اُس حملے میں مارے گئے لیکن قوم کے قدم ڈگمگائے نہیں‘ استقامت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ کچھ نقصان برداشت کرتے ہوئے جوابی حملے ایسے کیے کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں کے ہوش ٹھکانے لگ گئے۔ ٹرمپ سے کسی رپورٹر نے پوچھا کہ اندازہ نہیں تھا کہ ایران آس پاس کے ملکوں پر حملہ کر دے گا تو اس نے کہا کہ ہمارے جو بڑے ایکسپرٹ تھے ان کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ ایسے حملے ہو سکتے ہیں۔ یہ ہے عقل کا وہ معیار جس کو سامنے رکھ کر ان دونوں ممالک نے ایران پر حملہ کیا۔ اسرائیل کے قریب ترین گلف کے دو ممالک ہیں‘ بحرین اور یو اے ای اور اس جنگ میں سب سے زیادہ رگڑا ان دونوں کو لگ رہا ہے۔ ہمارے اماراتی دوستوں کا تو حشر ہو رہا ہے اور وہاں یہ کیفیت ہے کہ حملوں کے مناظر کی وڈیو لیں تو آپ کی پکڑ دھکڑ ہو سکتی ہے۔ ہمارے دوستوں کی بھی کیا سوچ تھی کہ امریکی اڈے بنا رکھیں گے اور ہماری حفاظت ناقابلِ تسخیر ہو جائے گی۔ ایرانیوں نے حملے کیے ہیں امریکی تنصیبات پر اور حملوں کی وجہ سے ناقابلِ تسخیر حفاظت کے تمام مفروضے ہوا میں اڑ گئے ہیں۔ تیل ریفائنریاں بند ہو گئی ہیں‘ تیل کی پروڈکشن ختم کر دی گئی ہے۔ تیل سے لدے جہاز لنگر انداز ہیں اور آبنائے ہرمز کی طرف جانے کی ہمت نہیں کر سکتے۔ ٹرمپ نے پہلے بڑھک لگائی تھی کہ امریکی بحری جہاز تیل بردار ٹینکروں کو تحفظ فراہم کریں گے۔ وہ بڑھک ہوا ہو گئی اور اب ٹرمپ منتوں ترلو ں پر آ گیا ہے کہ دیگر ممالک کے جہاز آئیں تاکہ آبنائے ہرمز سے راہگیری ممکن ہو سکے۔ اندازہ لگائیے‘ دنیا کی طاقتور ترین نیوی اور آبنائے ہرمز کی طرف اکیلے جانے سے ڈر رہی ہے۔ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ایران کا پورا دفاعی نظام‘ بحری جہاز‘ میزائل لانچر تباہ کر دیے ہیں۔ دوسری طرف آبنائے ہرمز کے نزدیک آنے سے کترانا۔ ایران کا سب کچھ تباہ کر دیا ہے تو جاؤ اپنے بحری جہاز بھیجو اور آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف اپنا قبضہ جما لو تاکہ دنیا کے پھنسے ہوئے آئل ٹینکر خلیج فارس سے نکل سکیں۔ ان دونوں ممالک کی عقل ٹھکانے آئی ہوئی ہے کہ اب پندرہ ہزار حملوں کا کہہ رہے ہیں لیکن آبنائے ہرمز سے ان کا اور دیگر امریکی حمایتی ملکوں کا ایک ٹینکر بھی گزر نہیں پا رہا۔ مزے کی مزید بات یہ کہ پاکستانی ٹینکر گزرا ہے‘ ہندوستان کے دو ٹینکر گزرے ہیں‘ ایرانی تیل کی ترسیل چین کیلئے آبنائے ہرمز سے گزر رہی ہے اور امریکہ کچھ نہیں کر پا رہا۔ سوائے وحشیانہ ہوائی بمباری کے جس سے کوئی سٹرٹیجک مقصد حاصل نہیں ہو رہا۔ اتنی تباہ کاری جب آپ نے کر دی ہے تو کوئی مقصد تو سامنے ہونا چاہیے‘ ایسا مقصد جو آپ بیان کر سکیں۔ لیکن جیسا ہم دیکھ رہے ہیں پوری امریکی انتظامیہ کنفیوز ہے۔ جو منہ کھولنے کیلئے آتا ہے جنگ کا ایک مختلف عذر بیان کر رہا ہوتا ہے۔ پہلے کہہ رہے تھے رجیم چینج ہو گا‘ یعنی ایرانی عوام اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایران کا اسلامی نظام نیست و نابود ہو جائے گا۔ کبھی بات ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی ہوتی ہے اور اب کہہ رہے ہیں کہ ایران کی دفاعی صلاحیت تباہ کر رہے ہیں۔ صلاحیت تباہ کر رہے ہیں یا کر دی ہے تو خلیج میں پھنسے ٹینکروں کو تو باہر نکالو‘ لیکن وہ نہیں ہو رہا۔ بڑھکیں ماری جا رہی ہیں اور خدا معاف کرے حکومتیں جھوٹ تو بولتی ہیں لیکن تواتر کے ساتھ جتنا جھوٹ یہ امریکی صدر بولتا ہے اس کی کوئی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ جھوٹا تھا لیکن دنیا کے طاقتور ترین ملک کا صدر تھا۔ کبھی کہہ رہا ہے گرین لینڈ پر امریکہ کا قبضہ ہونا چاہیے‘ کینیڈا کو امریکہ کی ایک ریاست بن جانا چاہیے۔ مختلف ممالک کے لیڈروں کی بے عزتی کر رہا ہے اور وہ آگے سے چپ اسے مکھن لگا رہے ہیں کہ کہیں ناراض نہ ہو جائے۔ ہمارے لیڈروں نے بھی یہی کیا‘ بے جا کی مکھن نوازی دکھائی۔ اور پھر جس طرح کا وینزویلا پر حملہ کیا اور وینز ویلا کے صدر کو اس کی رہائش گاہ اس کے بیڈ روم سے اٹھا کر امریکی سپیشل فورسز لے آئیں تو دنیا میں یہی تاثر پھیلا کہ امریکہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ لیکن ٹرمپ کی قسمت ہاری جب بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ نتھی ہو کر بغیر وجہ کے ایران پر حملہ کر ڈالا۔ اور وہیں سے اس کی قسمت خاک میں ملنے لگی۔ اور ہاں‘ نیتن یاہو کہاں ہے؟ دورانِ جنگ صرف دو وڈیوز اور وہ فیک لگتی ہیں۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
7
55
194
5.2K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
ایران تاریخ رقم کر رہا ہے کیا غرور تھا امریکہ کا جب اس نے اور اسرائیل نے ایران پر یہ جنگ مسلط کی۔ مفروضہ یہ تھا کہ ایران پر ہوائی حملے کی شدت اتنی ہو گی کہ وہاں کا نظام چند دنوں میں ہی نیست و نابود ہو جائے گا۔ پہلے وار میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ اور بہت سے لیڈر مارے گئے اور امریکہ اور اسرائیل سمجھے کہ حکومت گئی۔ ایرانی عوام کو اکسایا گیا کہ اسلامی نظام کے خلاف کھڑے ہوں کیونکہ یہ تاریخی موقع پھر ہاتھ نہ آئے گا۔ امریکی میڈیا اور بی بی سی جیسے ادارے ایسی کہانیوں سے بھرے پڑے تھے کہ ایران پر اتنی تباہی برسائی جا رہی ہے کہ اس کی تپش برداشت نہ ہو سکے گی۔ آج جنگ کا سولواں دن ہے اور صورتحال یکسر تبدیل نظر آتی ہے۔ نظام قائم ہے‘ حکومت قائم ہے‘ نیا رہبرِ اعلیٰ چن لیا گیا ہے۔ امریکی غرور کا اس سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک سے زائد مرتبہ کہا کہ ایران کا نیا لیڈر ہماری مرضی کا ہو گا‘ جو ہمیں قبول ہو گا۔ آبنائے ہرمز بند ہے اور تیل کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں اور جنگ جاری رہی تو مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ عالمی معیشت پر برے اثرات پڑ رہے ہیں۔ اب پتا چل رہا ہے کہ ایران کی شکست تو دور کی بات تھی امریکہ اس جنگ میں پھنستا چلا جا رہا ہے اور امریکی پبلک میں سوال اُٹھ رہے ہیں کہ امریکہ اس جنگ سے کیسے نکلے گا۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی ہو گی تو اس کی شرائط پر۔ امریکی صدر جھوٹ پہ جھوٹ بولے جاتے ہیں کہ ایران کی اتنی تباہی ہوئی ہے‘ ہم نے نیوی ختم کر دی‘ میزائل لانچر ختم کر دیے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن آبنائے ہرمز کھل نہیں رہا‘ ایرانی تیل بدستور وہاں سے گزر کر جا رہا ہے لیکن بے شمار آئل ٹینکر جو خلیج فارس میں بند ہیں باہر نہیں جا سکتے۔ ایران کی تباہی ہوئی ہے لیکن وہ سب کچھ برداشت کر رہا ہے اور جوابی حملے ایسے ہیں کہ تشویش کی لہریں اسرائیل اور امریکہ میں زور پکڑ رہی ہیں۔ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ یہ میرے ذاتی خیالات ہیں۔ انٹرنیٹ پر سب کچھ موجود ہے اور ایک تجربہ کر لیں کہ کسی ذرا سے بھی باخبر پاکستانی سے بات کریں تو وہ کہے گا کہ امریکہ اس جنگ میں پھنس گیا ہے اور باہر نکلنے کا راستہ اسے نہیں مل رہا۔ ایرانیوں نے ایک کمال یہ کیا ہے کہ گلف ممالک کے امریکی اڈوں پر حملے کرکے بہت سے اہم ریڈار تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔ سب سے اہم ریڈار قطر میں موجود العدید اڈے پر تھا جو جنگ کے پہلے ہی دنوں میں عراقی حملوں کی زد میں آ گیا۔ یہ ریڈار امریکی میزائلوں کیلئے بہت اہم تھا اور اس کے تباہ ہونے سے امریکی میزائل نظام کو گہرا نقصان پہنچا ہے۔ امریکی صدر اور ان کے لایعنی قسم کے وزیردفاع پیٹ ہیگزٹ بار بار کہتے ہیں کہ ایران پر پانچ ہزار حملے ہو گئے‘ چھ ہزار ہو گئے۔ حملے ہوئے ہیں اس میں کوئی انکار نہیں لیکن اتنے مؤثر ہوتے تو آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہوتے۔ امریکی بحریہ دنیا کی طاقتور ترین بحریہ ہے لیکن آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں جما سکی۔ امریکی اور اسرائیلی اور ہی مفروضوں پر چل رہے تھے‘ ایران کی دفاعی صلاحیتوں کا اندازہ صحیح طور پر نہ کر سکے۔ ہمارے عرب بھائیوں کو دیکھیے‘ خوامخواہ کے رگڑے جا رہے ہیں۔ امریکی ملٹری اڈے ان سب ممالک میں اس خیال سے قائم کیے گئے کہ اڈوں کے ہوتے ہوئے ان ممالک کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو جائے گا۔ یہ مفروضہ ہوا میں اڑ گیا ہے کیونکہ ان سب اڈوں پر ایرانی حملے ہوئے ہیں۔ اڈوں کے ساتھ عرب ممالک نے دنیا کے مہنگے ترین ہتھیار امریکہ سے خریدے اور آزمانے کا جب وقت آیا تو وہ کام نہ آ سکے۔ درحقیقت اس سارے خطے میں جو دفاعی اور سٹریٹجک تصورات پائے جاتے تھے‘ ان سب کو ایران تبدیل کر رہا ہے۔ بنیادی تصور امریکی طاقت اور حاکمیت تھا۔ عرب بادشاہتوں نے اسی طاقت کو اپنے تحفظ کی سب سے بڑی ضمانت سمجھا ہوا تھا لیکن اس جنگ میں دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکی طاقت کا تصور ہِل کر رہ گیا ہے۔ عرب بادشاہتیں اس سوچ میں تو پڑی ہوں گی کہ تحفظ کی کیسی ضمانت ہے کہ ایرانی حملے رک سکے نہ آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکر گزر سکے۔ پاکستان جس قدر جلد اس نئی حقیقت کو بھانپ جائے اتنا اس کیلئے اچھا ہو گا۔ گزشتہ سال برادر اسلامی ممالک صدر ٹرمپ پر کیسے بچھے جا رہے تھے۔ طرح طرح کے تحائف‘ کرپٹو کرنسی جس میں ٹرمپ فیملی کا ذاتی مفاد ہے‘ میں بھاری انویسٹمنٹ‘ کہیں مہنگا ترین جہاز دیا گیا‘ کہیں خواتین کے بال ہلانے والے مخصوص رقص سے صدر ٹرمپ کا ویلکم ہو رہا ہے۔ پاکستان جہاز دینے کی پوزیشن میں تو نہ تھا‘ ہمارے لوگ زبانی جمع خرچ ہی کر سکتے تھے اور اس میں انہوں نے انتہا کر دی۔ لیکن اب ایران کے ہاتھوں امریکہ کو جو ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے اب کوئی برادر ملک صدر ٹرمپ کے سامنے پرانے انداز میں بچھے گا؟ اب کوئی انہیں جہاز گفٹ دے گا؟ کیونکہ جو چودھراہٹ امریکی عسکری صلاحیت کی وجہ سے قائم تھی‘ ہماری آنکھوں کے سامنے اس کا حشر نشر ہو رہا ہے۔ امریکہ کے مہنگے ترین انٹرسیپٹر میزائل کم پڑ رہے ہیں‘ پیسہ بے بہا خرچ ہو رہا ہے‘ تقریباً دو ارب ڈالر یومیہ‘ اور ایرانی میزائل اور ڈرون حملے بدستور ہو رہے ہیں۔ اتنا ناقابلِ تسخیر امریکہ ہوتا تو عراقی اور ایرانی کُردوں کی تلاش میں کیوں ہوتا کہ وہ آئیں اور ایران کے مغربی صوبوں پر حملہ کریں۔ کہاں گئیں وہ امریکی اور اسرائیلی سپیشل فورسز؟ ایران اتنا بے بس ہوتا تو اب تک ایسے حملے ہو جاتے۔ لیکن فتح حاصل نہیں ہو رہی‘ تشویش بڑھ رہی ہے۔ وینزویلا کے صدر کو اس کے بیڈ روم سے امریکی کیا اٹھا کر لے گئے‘ وہ سمجھ بیٹھے کہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ ایران سے مذاکرات میں اچھی خاصی پیش رفت ہو رہی تھی اور معاہدہ جو بہت حد تک امریکہ کے حق میں تھا‘ قریب ترین ہو گیا تھا۔ لیکن جب آپ عقل کو خیرباد کہہ دیں اور ایک بے پناہ گھمنڈ کا شکار ہو جائیں تو پھر آنکھوں پر پردے پڑ جاتے ہیں۔ انسان پھر سمجھ کی بات کو سمجھنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ یہی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہو رہا ہے۔ گھمنڈ کی قیمت انہیں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ جنگ بندی کے ترلے تو ایرانیوں کو کرنے چاہیے تھے لیکن یہاں بات الٹ ہے اور جنگ سے باہر نکلنے کا راستہ امریکہ کو نہیں مل رہا۔ ٹرمپ حکومت کی لایعنی باتیں تو ملاحظہ ہوں۔ کامیابی کے بے سروپا دعوے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک امریکی وزیر آبنائے ہرمز سے ایک ٹینکر کے گزرنے کی ٹویٹ کرتا ہے اور منٹوں میں وہ ٹویٹ ڈیلیٹ ہو جاتی ہے۔ جھوٹ کا اندازہ لگائیں کہ میناب ایلیمنٹری سکول میں 165کے قریب بچیوں کی شہادت ہوتی ہے اور اس واقعہ کا صدر ٹرمپ سے پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ایران نے ٹوما ہاک میزائل مارا ہو گا‘ حالانکہ دنیا جانتی ہے ایران کے پاس کوئی ایسا میزائل نہیں۔ نیویارک ٹائمز سمیت متعدد ادارے کہہ چکے ہیں کہ بچیوں کے سکول پر حملہ امریکی تھا۔ حالت اب یہ ہے کہ امریکہ میں شور مچا ہوا ہے کہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن اب تک واضح نہیں کر سکی کہ ایران پر حملہ کیوں ضروری تھا۔ صدر ٹرمپ سے سیدھی بات ہو نہیں رہی اور ہر لمحے یوں لگتا ہے کہ ان کا مؤقف بدل رہا ہے۔ اس جنگ پر بہت عمدہ تبصرے انٹرنیٹ پر آ رہے ہیں۔ کرنل ڈَگلس میکگریگر‘ جیفری سیکس‘ پروفیسر جان میرشائیمر‘ ہندوستان کے ڈاکٹر پراوِن ساہنی اور کئی دیگر۔ انہیں سنیے اور باخبر رہیے۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
12
120
438
16.9K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
اور ہم نے نوبل امن انعام کیلئے نامزد کر دیا یہ مجبوری کے سودے ہیں اور ہماری ملکی ذہانت اور قابلیت کے پیمانے ہیں کہ ہم نے اپنے اوپر مجبوریوں کا بوجھ کچھ زیادہ ہی لاد رکھا ہے۔ آج کی دنیا میں ایک یا دو ارب ڈالر کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ایک ایک‘ دو دو ارب ڈالر ہمارے دوست سالانہ رول اوور نہ کریں تو معیشت کا بھٹہ بیٹھ جائے۔ یو اے ای نے تو سالوں کا تکلف ہی ختم کر دیا ہے اور رول اوور ایک یا دو مہینے کا کر دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ سارا سال ہمارے حکامِ بالا اُن کی منتیں ہی کرتے رہیں۔ پھر بھی مانا کہ ہماری حالتِ زار کی مجبوریاں بہت ہیں لیکن قومی عزت کا کچھ تو خیال رکھا جائے اور کہیں خوشامد کرنی ہی پڑے تو کسی حساب کتاب سے کی جائے۔ لیکن ہم ہیں یا یوں کہیے سلاطینِ اختیار و اقتدار کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے مکھن لگانے کے تمام ریکارڈ ہی توڑ دیے گئے۔ کم از کم چھ بار میں نے کوشش کی ہو گی کہ یوٹیوب پر جنابِ وزیراعظم کے وہ الفاظ سنوں جو اُنہوں نے شرم الشیخ میں صدر ٹرمپ کی شان میں ادا کئے۔ لیکن یقین مانیے کہ پہلے دو یا اڑھائی جملوں کے بعد میرے گناہگار کان وہ الفاظ سن نہ سکے اور ہر بار وہیں مجھے وڈیو بند کرنی پڑی۔ بولنا شروع ہی ہوئے تو ادا ایسی تھی کہ پیچھے کھڑی اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی اپنا ہاتھ منہ پر لے گئیں اور ان کی آنکھیں ان کی حیرانی کی ترجمانی کر رہی تھیں۔ اس وڈیو میں صدر ٹرمپ کا چہرہ بھی دیکھا جائے‘ اس پر بھی ایک خاص تاثر اُبھر رہا تھا کہ اس حد تک بھی کوئی جا سکتا ہے۔ پتا نہیں کیا کیا کہہ دیا کہ دنیا کی تاریخ میں یہ بڑا اہم لمحہ ہے اور آپ مردِ امن ہیں اور آپ کی کاوش سے پچیس ملین جانیں بچ گئیں‘ نہیں تو ہندوستان اور پاکستان میں پتا نہیں کون سی جنگ چھڑ جانی تھی۔ اطالوی وزیراعظم تو سامنے کھڑی تھیں ان کے تاثرات وڈیو میں نظر آتے ہیں لیکن دیگر سربراہان پر بھی کیا کیفیت گزری ہو گی۔ صدر ٹرمپ جیسے شخص کو مردِ امن کے لقب سے نوازنا اور یہیں تک نہیں‘ فخریہ انداز میں اعلان فرمانا کہ پاکستان نے اس شخص کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا ہے۔ کسی نے انٹرنیٹ پر صحیح کہا کہ صرف صدر ٹرمپ کو اس اعزاز کیلئے نامزد کرنا کافی نہیں‘ اب تو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو بھی اس اعزاز کیلئے نامزد کرنا چاہیے۔ امریکی صدر کی خوشنودی حاصل کرنی ہے تو بات سمجھ آتی ہے لیکن جیسا عرض کیا کہ مکھن لگانا بھی کسی حساب کتاب کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ سعودی عرب ہمارا دوست ملک ہے اور ہمیشہ سے ہمارے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں لیکن پرانی تصویریں دیکھی جا سکتی ہیں کہ جب سعودی بادشاہ صدر ایوب خان یا بعد کے وقتوں میں دورے پر پاکستان آتے تو لگتا کہ برابری کا میلہ ہے۔ اب جو ملاقاتیں ہوتی ہیں تو ان میں ایسا لگتا ہے کہ ہم نیچے لگے ہوئے ہیں۔ وجہ پھر وہ مجبوری والی کیونکہ ہماری ضرورتیں ختم نہیں ہوتیں اور ان کو پورا کرنے کیلئے پاکستان کے ہاتھ ان کے سامنے کھلے رہتے ہیں۔ جنرل یحییٰ خان کے زمانے میں مراکش کے شہر رباط میں اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں مبصر کے طور پر ہندوستان کو دعوت دی گئی۔ جنرل یحییٰ اَڑ گئے کہ ایسا نہیں ہو سکتا اور کسی صورت ہندوستان کو دعوت نہیں دی جا سکتی۔ یہ بات مانی گئی اور دعوت نامہ منسوخ ہوا۔ شراب کے رسیا جنرل یحییٰ بعد میں مشہور ہوئے لیکن پہلے پہل عرب سربراہان سے ملتے تو برابر کے لگتے تھے۔ یہ درست ہے کہ وہ زمانہ رہا نہیں اور تیل بردار عرب بادشاہتوں کے پاس بہت پیسہ آ گیا ہے۔ لیکن جہاں اس دولت کی وجہ سے ان عرب ملکوں کی حیثیت بڑھی ہے پاکستان کی حیثیت جملہ نالائقیوں کی وجہ سے کم ہوئی ہے۔ وہ بڑے ہو گئے ہم نے اپنے آپ کو چھوٹا کر لیا۔ لطف کی بات یہ کہ ضروریات کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی گئیں۔ اس لیے ہاتھ پھیلانا اور کشکول کو آگے کرنا قومی شناخت بن گیا۔ پھر کوئی عجب نہیں کہ بات ترلوں پر آ جاتی ہے اور ہمارے سربراہان ترلے کرنے میں خاص ہنر پا چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جو سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہوا وہ بھی ہماری معاشی مجبوریوں کا شاخسانہ ہے۔ سوائے پیسے کے سعودی عرب ہماری کیا مدد کر سکتا ہے؟ کارگل میں کوئی بات ہوتی ہے سعودی فوجوں نے تو وہاں آنا نہیں۔ نہ پکتیکا اور ننگرہار میں طالبان کے خلاف ہمارے کام وہ آ سکتے ہیں۔ معاہدہ طے ہوا تو چہ مگوئیاں ہوئیں کہ کہیں پاکستان کی جوہری صلاحیت تو سعودی عرب کو درکار نہیں۔ لیکن یہ فضول کی قیاس آرائیاں تھیں کیونکہ سعودی عرب کو امریکہ اور اسرائیل سے تو کوئی خطرہ نہیں۔ سعودی حکمرانوں کا پرابلم ایران رہا ہے اور اس معاہدے کا کوئی معنی ہے تو وہ ایران کے تناظر میں ہی ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں تو ایران کے جی سی سی ملکوں پر حملوں کے بعد دفاعی معاہدے کے حوالے سے بات بھی ہوئی۔ مطلب یہ کہ پاکستان نے اپنے آپ کو ایک پیچیدہ صورتحال میں ڈالا ہوا ہے۔ بھولے سے بھی ایران کے خلاف کوئی اقدام ہوتا ہے تو مصیبت‘ سعودی عرب سمجھے کہ مدد مانگنے پر مدد نہیں آ رہی‘ وہ الگ مصیبت۔ پاکستان کو ایسی پوزیشن میں نہیں آنا چاہیے تھا لیکن جیسے عرض کیا کہ مجبوری کے سودے ہیں۔ یہ کوئی نہیں کہہ رہا کہ پاکستان دیوار سے سر ٹکرائے۔ لیکن یہ جو ہماری ایٹمی صلاحیت ہے کس کام کی جب حق اور باطل میں فرق واضح نہ رکھا جا سکے۔ اتنا تو کہنے کی ہمت ہو کہ ایران پر یہ جنگ ٹھونسی گئی ہے۔ مذاکرات چل رہے تھے اور جیسا کہ عمان کے وزیر خارجہ کہتے ہیں جوہری پروگرام پر معاہدہ قریب تھا جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اگر جی سی سی ممالک آج مشکل میں ہیں اور جنگ کے شعلے ان تک پہنچ رہے ہیں تو بنیادی وجہ اس صورتحال کی ایران کا ردِعمل نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکہ کا حملہ ہے۔ اتنا تو کوئی کہہ سکے کہ جارحیت کس نے کی۔ لیکن عملیت پسندی کے نام پر گول مول بات ہی یہاں سے آتی ہے کہ کہیں سعودی عر ب اور دیگر جی سی سی ممالک ناراض نہ ہو جائیں‘ کہیں صدر ٹرمپ ناراض نہ ہو جائیں۔ سفاک حملے میں ایرانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای مارے جاتے ہیں تو ایرانی سفارت خانے پر کوئی بڑی حاضری نہیں ہوتی۔اسحق ڈار گئے اور اب سنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے نئے رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کو تعزیت اور مبارکباد کا خط لکھا ہے۔لیکن ایرانی شہر میناب میں ایلیمنٹری سکول پر امریکی حملہ ہوتا ہے‘ 170 بچے جاں بحق ہو جاتے ہیں اور مذمت کا ایک لفظ یہاں سے نہیں نکلتا۔ مانا مجبوری لیکن اتنی بھی کیا۔ ایران کے پاس کچھ افزودہ یورینیم ادھر اُدھر پڑی ہے پر ایٹم بم نہیں۔ لیکن ایرانی قوم کی ہمت تو دیکھیں‘ گیارہ بارہ دن کی وحشیانہ بمباری سہہ رہی ہے اور ہمت ٹوٹنے کے بجائے لوہے کی مانند ہو رہی ہے۔ ایران کی مشکلات ہم سے کہیں زیادہ‘ خوشامد کی ادائیں وہ بھی دکھا سکتا تھا۔ گھٹنے ٹیکنے ہوں تو عملیت پسندی کا عذر مل ہی جاتا ہے۔ سوچا جائے تو حسینؓ بھی ''عملیت پسندی‘‘ دکھا سکتے تھے‘ جان شاید بچ جاتی۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
12
80
228
9.9K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
ہمتِ مسلمہ کی کوئی حد نہیں بات سادہ سی ہے لیکن بہت سے سیانوں کو سمجھ نہیں آ رہی۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے پاکستان کا دفاع مضبوط نہیں ہوا ‘کمزور ہوا ہے۔ ایران کو کچھ ہوا یا وہاں تباہی زیادہ مچی تو بیرونی خطرہ ہمارے قریب‘ ہماری سرحدوں تک آ جائے گا۔ اسلامی اخوت کی بات نہیں‘ ہمارے قومی مفاد میں ہے کہ ایران میں ایک مستحکم حکومت ہو۔ امریکی اور اسرائیلی طیارے ایرانی فضاؤں میں کھلے پھریں اور آگ اور تباہی پھیلائیں اور پاکستان سمجھے کہ اُس کا اس جارحیت سے کوئی لینا دینا نہیں‘ پرلے درجے کی بیوقوفی ہوگی۔ افغانستان میں جو کچھ چالیس سال سے ہوتا رہا اُس کا ہم پر اثر نہیں پڑا؟ افغانستان کی شورشوں نے پاکستانی مزاج اور پاکستانی ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ جس مذہبی انتہا پسندی کا آج رونا رویا جاتا ہے اس کی جڑیں افغانستان کی شورشوں سے جا ملتی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے چھوٹے موٹے لالچ کے لیے اپنی آنکھوں پر پٹیاں باندھیں جس کے نتیجے میں تباہی کو یہاں آنے کی دعوت ملی۔ ایران کی وحدت اور استحکام کو موجودہ جنگ سے کوئی نقصان پہنچتا ہے تو یوں سمجھنا چاہیے کہ ہماری مغربی سرحد یعنی بلوچستان کا بارڈر جتنا اب ننگا ہے اُس سے کچھ زیادہ ہو جائے گا۔ یہ چیز دیکھنے کے لیے کسی بھاری بھرکم ٹیلی سکوپ کی ضرورت نہیں۔ ایرانی حکومت کہیں نہیں جا رہی‘ سات آٹھ دنوں میں ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا سامنا کرنے کی اُس میں صلاحیت ہے۔ لیکن مفروضے کے طور پر اگر یہ مان لیا جائے کہ موجودہ حکومت کہیں جاتی ہے تو بعد میںجو بندوبست ہو گا اُس پر امریکی اور اسرائیلی اثر حاوی ہوگا۔ کیا یہ ہمارے فائدے کی بات ہوگی؟ کیا ہم چاہیں گے کہ اسرائیلی خفیہ سروس موساد کی پہنچ بلوچستان اور پاک افغان بارڈر تک ہو؟ اسلامی دنیا کے انفرادی ممالک کو حالیہ تاریخ سے کچھ سبق تو سیکھنا چاہیے۔ موقع ملا تو لیبیا کو بخشا گیا؟ معمر قذافی نے مغربی طاقتوں کی ہر بات مان لی تھی لیکن ان طاقتوں نے جب کرنل قذافی کو کمزور ہوتے ہوئے دیکھا تو اُسے نہ بخشا گیا۔ سرتے شہر جو کہ لیبیا کے مغرب میں ہے وہاں سے کرنل قذافی ایک کانوائے میں بھاگ کر جا رہا تھا اور فرانسیسی جہازوں نے اُس کانوائے پر حملہ کر دیا اور کرنل قذافی کو قریب ایک پانی کی لائن میں پناہ لینی پڑی۔ مغرب کے حمایت یافتہ باغی اُس مقام پر پہنچے تو وہاں سے کرنل قذافی کو گھسیٹ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عراق کے ساتھ جو ہوا ہم بھول گئے ؟ کون سے صدام حسین کے پاس جوہری یا اُس قسم کے ہتھیار تھے لیکن جھوٹ کا پلندہ اکٹھا کیا گیا اور جھوٹ کی بنیاد پر عراق پر حملہ داغا گیا۔ شام کے ساتھ کیا ہوا؟ حافظ الاسد شام کا سربراہ تھا تو شام کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک طاقت کے طور پر مانا جاتا تھا۔ اب کیا حالت ہے شام کی؟ اب کیا حالت ہے حزب اللہ کی؟ 2006ء میں حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کے دانٹ کھٹے کیے تھے لیکن آج طاقت کا توازن اُس خطے میں اس بری طرح متاثر ہوا ہے کہ اسرائیل مخالف قوتیں ایک ایک کرکے پِٹ رہی ہیں۔ ان سارے معاملات میں ایران کی غلطیاں ہوں گی۔ اپنے استحکام پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے ایران بیرونی جھمیلوں میں پڑا رہا۔ انقلاب کی زبان اور انقلابی نعروں سے گلف بادشاہتوں کو ایران سے شکایات رہیں۔ لیکن بہت پانی سمندروں میں بہہ چکا ہے اور اس حملے کی صورت میں نئی حقیقتیں سامنے آ گئی ہیں۔ سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ عرب بادشاہتوں کا احساسِ تحفظ بری طرح مجروح ہوا ہے۔ اورا ن بادشاہتوں نے دیکھ لیا ہے کہ امریکی تحفظ بے معنی چیز ہے اور ان ممالک کو خطرہ ایران سے نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکہ سے ہے۔ امریکہ کو سعودی عرب‘ قطر‘ بحرین‘ کویت اور یو اے ای کی اتنی فکر ہوتی تو ایران پر حملے سے پہلے کچھ تو ان ممالک سے صلاح مشورہ کر لیا ہوتا۔ لیکن اسرائیل نے ارادہ بنایا ایران پر حملہ کرنے کا اور امریکہ اُس کے ساتھ نتھی ہو گیا۔ بغیر کسی اور ملک کو بتائے یا کسی سے مشورہ کیے۔ نقصان ان ممالک کو اٹھانا پڑا ہے۔ ان سب کا تیل بند‘ آبنائے ہرمز بند‘ قطرکے گیس پلانٹ بند اور امریکہ اپنا تیل خوش و خرم بیچ رہا ہے۔ کرنل قذافی سے بھی عرب ممالک نالاں تھے۔ شام سے نالاں تھے۔ اپنے وقت میں صدام حسین سے بھی شکایات تھیں ۔ لیکن ان تینوں ممالک کی تباہی کے بعد عرب اور اسلامی دنیا کی حیثیت کمزور ہوئی ۔ رہی سہی کسر اس جنگ نے پوری کر دی ہے اور اس کے نتیجے میں لگتا تو یوں ہے کہ اس خطے کا سارا شیرازہ ہی بکھر گیا ہے اور امریکہ اور اسرائیل جو چاہیں کر رہے ہیں۔ ہاں‘ امریکہ اور ایران کے ارادوں کی تکمیل میں کوئی چیز حائل ہے تو ایران کی ہمت اور استقامت۔ امریکہ اور اسرائیل کے پاس جو کچھ ہے وہ ایران کی طرف پھینک رہے ہیں۔ سو سو اور دو دو سو جہازوں کے حملے ایران پر ہوئے ہیں لیکن ایران نہ صرف کھڑا ہے بلکہ امریکہ اور اسرائیل کو بھاری نقصان پہنچا رہاہے۔ کون سا امریکی اڈہ اس خطے میں ہے جہاں ایرانی میزائلوں نے حملہ نہیں کیا؟ کویت‘ بحرین‘ یو اے ای ‘ قطر اور سعودی عرب‘ ان سارے ممالک میں امریکی اڈے ہیں اور ان سب پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملے ہوئے ہیں۔ آزاد ذرائع کے تخمینوں کے مطابق امریکہ کو روزانہ ایک بلین ڈالر کا خرچہ پڑ رہا ہے۔ ایرانی ڈرون تو سستے داموں بنتے ہیں لیکن انہیں روکنے کیلئے جو امریکہ اور اسرائیل کو میزائل مارنے پڑتے ہیں وہ دو دو تین تین ملین ڈالرز پر جا پہنچتے ہیں۔ خبریں آ چکی ہیں کہ میزائل اور ڈرون شکن راکٹوں کی امریکیوں کو کمی پڑ رہی ہے۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ امریکی وزارتِ دفاع کانگریس کے سامنے پچاس بلین ڈالرکی ڈیمانڈ رکھنے جا رہا ہے۔ موازنہ کیا جائے تو ایران اور اُس کے حریفوں کا کوئی مقابلہ نہیں بنتا‘ اسلحے کے لحاظ سے امریکہ اور اسرائیل اتنے حاوی ہیں لیکن پھر بھی ایرانی قوم کو داد دینی پڑتی ہے کہ اتنا بھرپور مقابلہ کر رہی ہے۔ یہ کوئی نہیں کہہ رہا کہ آس پاس کے مسلم ممالک جن میں ہم بھی شامل ہیں اپنی فوجیں اس جنگ میں دھکیل دیں۔ لیکن اتنا تو بنتا ہے کہ کھل کے امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کی جائے۔ شاہ فیصل بھی تو تھے جنہوں نے 1973ء میں جب عرب ممالک اور اسرائیل میں جنگ چھڑی تو تیل کی برآمدات کی بندش کا اعلان کیا۔ اس بندش سے جیسے زلزلہ آتا ہے مغربی معیشتوں کو ایسا محسوس ہوا۔ لیکن شاید وہ وقت اور تھا اور آج کا وقت اور ہے کیونکہ عملی اقدامات تو دور کی بات ہے اسلامی دنیا کی حالت یہ ہے کہ مناسب الفاظ بھی اس سے ادا نہیں ہو رہے۔ یوکرین پر روس نے حملہ کیا تو پوری مغربی دنیا نے روس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یوکرین کے لیے امداد کے دریا بہا دیے۔ چار سال بعد بھی یوکرین کو مغربی ممالک سے امداد مل رہی ہے۔ یہاں ایران اکیلا کھڑا ہے۔ کوئی ایک مسلم ملک اُس کی امداد کو نہیں آ رہا۔ کسی ایک مسلم ملک نے کھل کر امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت نہیں کی۔ سب عملیت پسندی کے مجسمے بنے ہوئے ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے یہ جذبات کی بات نہیں ہمارا بنیادی مفاد اس میں ہے کہ ایک مضبوط ملک کی حیثیت سے ایران قائم و دائم رہے۔ نہیں تو بصورتِ دیگر پاکستان کی سالمیت اور وحدت کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
8
39
136
8.1K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
اور ہمارے ہاتھ بندھے کے بندھے رہ گئے کچھ کرناتو دور کی بات ہے کچھ مناسب کہنے کی صلاحیت بھی مملکتِ خداداد سے جا رہی ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ اسحاق ڈار گلف ریاستوںپر ایرانی حملوں کو بلاجواز کہہ رہے ہیں لیکن امریکی جارحیت کیلئے مناسب الفاظ اُنہیں نہیںمل رہے۔ گلف میں صورتحال خطرناک ہو گئی ہے لیکن یہ قصہ کس بلاجواز اور منافقانہ جارحیت سے شروع ہوا اُس بارے اسحاق ڈار آئیں بائیں شائیں سے کام لے رہے ہیں۔ پوری عرب دنیا لگتا ہے امریکہ کی کاسہ لیسی کی پالیسی پر گامزن ہے اور اسلامی دنیا کی واحدایٹمی قوت کی حالت یہ ہے کہ لاچاریاں اتنی معاشی مجبوریاں اتنی کہ جو عزت اور وقار کا سٹینڈ لینا چاہیے وہ نہیں ہو پا رہا۔ یہ کوئی عام سی جارحیت ہم نہیں دیکھ رہے‘ امریکہ اور اسرائیل ایران کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہاں کی اسلامی حکومت کو بدلنا چاہتے ہیں۔ یہاں اس احساس کی کمی ہے کہ ایران کی تباہی ہو گئی تو پاکستان کا حال کیاہوگا۔ اسی صفحے پر خالد مسعود نے کل لکھا کہ ایران میں امریکی اسرائیلی عزائم پورے ہوتے ہیں تو اسرائیل کی عملاً سرحد بلوچستان تک آن پہنچے گی۔ لیکن یہاں اللے تللوں سے کام لیا جا رہا ہے کہ امریکہ ناراض نہ ہو جائے‘ دوست عرب ممالک کسی بات کا بُرا نہ منا جائیں۔ اس کوشش میں جو بڑی تصویر ہے یعنی امریکہ اسرائیل حملے کی اُس سے صرفِ نظر کیا جا رہا ہے۔ اتنا تو نظر آنا چاہیے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ ایرانی خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر ایرانی لیڈروں کے قاتل کون ہیں؟ غزہ میں بربریت کا ذمہ دار اسرائیل ہے مگر اسرائیل کو امداد کہاں سے ملی؟ وہ اسلحہ بارود کہاں سے آیا؟ اور پاکستان کی حالت تو دیکھئے یہ سب جانتے ہوئے صدر ٹرمپ کی شان میں وہ وہ قصیدے پڑھے گئے کہ دیکھ اور سن کر شرم آتی ہے۔ ٹرمپ کو بھی دیکھئے کہ چالبازی کا اتنا ماہر کہ دو تین تعریفی کلمات پاکستان کی طرف ادا کر دیے اور ہمارے لوگ آپے سے باہر ہو گئے۔ اتنی عقل تو ہونی چاہیے کہ سلاطینِ اقتدار دیکھ سکیں کہ پاکستان کا حقیقی مفاد کس میں ہے‘ علاقے کی سالمیت میں یا بے معنی تعریفی الفاظ میں؟ اسلامی دنیا کے حوالے سے امریکہ نے کون سی کسر چھوڑی ہے؟ کیا عراق‘ کیا لیبیا‘ کیا شام سب کو امریکی عزائم کی تکمیل میں تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن آفرین ہو اسلامی دنیا پر کہ سب کچھ دیکھ کر سربراہانِ اُمہ مجسمے بنے رہے۔ اور یہ جو ہمارے تیل کی دولت سے لدے دوست عرب ممالک ہیں اسی دولت نے ان کیلئے خوف کاسامان پیدا کیا ہے۔ امریکی اسلحہ خرید کر نڈھال ہو گئے لیکن جو آگ کے شعلے اب اُٹھ رہے ہیں اُن میں وہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ اسلحے کے انبار کچھ خاص کام نہیں آ رہے۔ اور جو امریکیوں اور اسرائیلیوں نے سوچ رکھا تھا کہ بمباری کے نتیجے میں قیادت مٹ جائے گی اور اُس کے مٹنے سے اسلامی ریاست ختم ہو جائے گی‘ یہ خام خیالی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر لیڈروں کی شہادت کے بعد بغیر کسی مشکل کے قیادت کی تبدیلی ہو چکی ہے اور ایران کے عزم اور استقامت میں جیسا کہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے‘ ذرا سی لغزش نہیں آئی۔ سائبر کی دنیا اس جاری جنگ پر تبصروں سے بھری پڑی ہے لیکن بیشتر یہی کہہ رہے ہیں کہ اسلامی ریاست کہیں جانے والی نہیں اور نقصان ایران کو جو بھی ہو جنگ جاری رہے گی۔ اور اس کا دورانیہ لمبا ہوتا ہے تو نقصان امریکہ کا ہو گا۔ امریکہ اسرائیل نے جو کرنا تھا کر دیا‘ اور کتنی بمباری کریں گے؟ حوثیوں پر امریکہ نے بمباری کا آغاز کیا تھا اور ایک مہینے میں اندازہ ہوا کہ اسلحہ اور میزائل بہت خرچ ہو رہے ہیں جس کا امریکہ متحمل نہیں ہو سکتا۔ اُس ایک ماہ کے آپریشن میں امریکہ کا ایک بلین ڈالر خرچ ہو گیا تھا۔ امریکی اور اسرائیلی میزائلوں کی تعداد لامحدود نہیں۔ ایران کے میزائل بھی لامحدود نہیں لیکن اُس کے پاس اتنے ہیں کہ تھوڑی سی ٹُک ٹُک سے پورے علاقے میں کہرام مچتا رہے گا۔ آیت اللہ خامنہ ای کا فتویٰ تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ایران ایک نئے جوہری معاہدے کے لیے تیار ہو گیا تھا‘ عمان کے وزیرخارجہ نے اس بارے دنیا کو تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔ لیکن امریکہ اور اسرائیل حملے پر تُلے ہوئے تھے اور حملہ اُنہوں نے کر دکھایا۔ اب جو ہوتا ہے دیکھا جائے گا اور جو نتائج اس بڑھتی ہوئی شورش کے رونما ہوتے ہیں وہ سب کو بھگتنے پڑیں گے۔ لیکن اتنی بات تو واضح ہو جانی چاہیے کہ ایران گھٹنے نہیں ٹیک رہا۔ امریکہ اور اسرائیل کے سامنے کھڑا ہے اور اپنی ہمت سے باقی اسلامی دنیا کو شرم دلا رہا ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ایک عجیب صورتحال میں اس نے اپنے آپ کو ڈال دیا ہے۔ اسلحہ بارود‘ جوہری صلاحیت کس کام کی ‘اس نازک مرحلے میں جب ایک ہمسایے پر کھلی جارحیت ہو رہی ہے ہمیں تو اُس کی امداد کرنی چاہیے‘ بے شک کھلے بندوں نہیں درپردہ ہی سہی۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ایرانی قیادت کو ہماری حمایت کا یقین ہو‘ جو کچھ ہم اُن کے لیے کر سکیں وہ کریں۔ دوست عرب ممالک کے ساتھ ہمارے الگ تعلقات ہیں لیکن حق اور سچ کا کچھ تو خیال رکھا جائے۔ امریکہ کا گھمنڈ انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ سارے آثار بتا رہے ہیں کہ ایران وہ میدان ہوگا جس میں اس گھمنڈ کا کچھ علاج ہو سکے۔ دوست عرب ممالک کیلئے بھی یہ جنگ سبق ثابت ہوگی کہ امریکہ پر اندھے انحصار سے ان ممالک کو حاصل کیا ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنا سارا دھیان اس جنگ کی طرف رکھے۔ لیکن پاکستان کے اپنے ہاتھ افغانستان میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک طالبان پاکستان اور طالبان حکومت نے جارحیت کی تمام حدیں کراس کر لیں لیکن کھلی اور اعلانیہ جنگ تو آخری حربہ ہونا چاہیے۔ اُس سے پہلے دیگر راستے ڈھونڈنے چاہئیں تاکہ کوئی حل نکل سکے۔ جب ترکیہ اور قطر کی وساطت سے دوحہ اور استنبول میں طالبان حکومت سے مذاکرات ہوئے تھے تو ہمارے نمائندوں خاص طور پر خواجہ آصف کا لہجہ ہی عجیب تھا۔ تحکمانہ انداز میں اور الٹی میٹم کی زبان استعمال کرتے ہوئے کوئی مذاکرات ہو سکتے ہیں؟ وہاں طالبان نمائندوں نے زبانی کلامی وعدے کئے کہ ٹی ٹی پی کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ پاکستانی وفد کا مؤقف تھا کہ تحریری ضمانتیں دی جائیں۔ لگتا یوں تھا کہ زبردستی اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔ ایسا کبھی ہوتا ہے؟ ٹی ٹی پی کے بارے میں پاکستانی شکایات جائز ہیں لیکن مسئلہ طویل مدتی ہو اور ایسا کہ اُس میں اپنا کچھ قصور بھی بنتا ہو تو پھر دھیرے سے اور لچک سے ہی کام چلتا ہے۔ اب جو صورتحال پیدا ہو چکی ہے جتنی دیر رہے اُس میں نقصان پاکستان کا ہے۔ اب بھی ضرورت ہے کہ گولا بارود کی زبان استعمال نہ ہو اور بات چیت کے ذریعے کوئی راستہ ڈھونڈا جائے۔ بارڈر پر پاکستان ایک انچ پیچھے نہ ہٹے لیکن دور اور اندر کی بمباری پر سوچنا چاہیے کہ اس سے کیا حاصل ہوگا۔ ایک بات ذہن نشین رہے‘ سیاسی جمود جو پاکستان میں کارفرما ہے اُسے ختم کرنا پڑے گا۔ اظہارِ رائے اورآئینی سیاست کو جو جکڑ کر رکھا ہوا ہے اُس سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ اِس پر اہلِ نظر کچھ غور فرمائیں۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
11
37
150
4.8K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
ان پُر خطر لمحات میں اپنا گھر تو ٹھیک ہو اس وقت پاکستان اور افغانستان میں جو جھڑپیں ہوئی ہیں اور اسرائیل اور امریکہ نے پھرسے ایران پر حملہ کر دیا ہے‘ پاکستان کا داخلی اتحاد مثالی ہونا چاہیے تھا۔ کوئی سیاسی انتشار نہ ہوتا بلکہ سیاسی صورتحال ایسی ہوتی کہ ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی یہ نہ کہہ سکتے کہ 170 سیٹوں والا تو جیل میں ہے اور 80سیٹوں والے حکومت کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے پھبتی نہیں کَسی تھی حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ داخلی منظر نامے کے علاوہ پاکستان کو بیرونی جھمیلوں میں نہیں پڑا ہونا چاہیے تھا‘ لیکن ایک تو ہندوستان کیساتھ صورتحال بگڑی ہوئی ہے اور اگر یہی کافی نہیں تھا تو افغانستان کیساتھ جنگ کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ مانا کہ تحریک طالبان پاکستان یہاں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے اور اُس کی پشت پناہی طالبان حکومت کی طرف سے ہو رہی ہے لیکن اتنا تو ماننا پڑتا ہے کہ اس سارے افغان قضیے میں پاکستان اور اُس کے حکمران ٹولوں سے بہت غلطیاں سرزد ہوتی رہی ہیں۔ ٹی ٹی پی نے ریاستِ پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ شروع کی ہوئی ہے۔ پاکستانی فوج پورے علاقے میں ڈِپلائے ہے لیکن گوریلا جنگجوؤں کوفائدہ یہ ہوتا ہے کہ اپنی مرضی کے ٹارگٹ اور مرضی کا وقت حملے کیلئے چُن سکتے ہیں۔ روایتی فوج‘ جیسا کہ ہماری ہے‘ کو ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہے۔ یا تو ہوائی بمباری مسلسل اور زوردار ہو‘ پھر تو بات اور ہے۔ لیکن وقتاً فوقتاً یا کبھی کبھار کی بمباری سے گوریلا فورسز کا مقابلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ یہ مشکل امریکہ کو ویتنام میں پیش آئی اور سوویت یونین کو افغانستان میں۔ کوتاہی یا غلطی یہ ہوئی ہے کہ جب سولہ سال تک طالبان امریکہ سے برسرِپیکار تھے تو اس امر کا ادراک نہ کیا گیا کہ سرحدی علاقوں سے قبائلی قسم کے لوگ طالبان کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں اور لڑائی کرنے کی غرض سے افغانستان میں اُن کا آنا جانا شروع ہو گیا ہے۔ یہی عناصر ٹی ٹی پی کی بنیاد بنے۔ یعنی یہ قبائلی عرصہ دراز تک طالبان کے ہمنوا اور ہم خیال ہوکر طالبان کے ساتھ امریکہ مخالف کارروائیوں میں شامل رہے۔ یہ بھائی چارہ یا اتحاد میدانِ جنگ میں تیار ہوا۔پاکستان کی استدعا بالکل درست کہ طالبان اپنے ہاتھ ٹی ٹی پی سے کھینچ لیں لیکن اتنا سمجھنا ضروری ہے کہ خون اور گولی کے بندھن اتنے جلد نہیں ٹوٹتے۔ بہرحال اب یہ باتیں بیکار ہیں‘ بات بہت دور تک چلی گئی ہے حالانکہ ہمارے ہاں ایک سوچ یہ بھی تھی کہ اُن چار یا پانچ ہزار پاکستانی نژاد جنگجوؤں کو یہاں بلا کر کہیں آباد کر دیا جائے۔ اس کو غلط سمجھا گیا‘ البتہ یہ سوال متعلقہ ہے کہ وہ چار یا پانچ ہزار یہاں ہوتے تو اُن سے نمٹنا آسان تھا یا جو ننگرہار اور پکتیا میں بیٹھے ہیں اُن سے نمٹنا آسان ہے؟ بہرحال اس صورتحال کا اتنا ادراک ہونا چاہیے کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ طالبان رجیم نہیں ہے۔ ہمارے اور اُن کے درمیان اور کوئی تضاد نہیں سوائے اُن چار یا پانچ ہزار پاکستانی نژاد جنگجوؤں کے۔ اعلانِ جنگ آسان ہے تصورِ جنگ بھی آسان ہوتا ہے لیکن جنگ شروع ہو جائے تو پہلے سے بنائے تخمینے ہوا میں اُڑ جاتے ہیں اور نئی حقیقتیں سامنے آنے لگتی ہیں۔ اس وقت جب گولی بارود کا تبادلہ ہو رہا ہے تو قوم کا فرض بنتا ہے کہ مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہو۔ لیکن اتنی سمجھ تو ہونی چاہیے کہ مغربی سرحد پر دیرپا جنگ کسی صورت میں پاکستان کے فائدے کی بات نہیں۔ اور حالات کو مزید خراب ہونے سے پیشتر اب بھی لچک اور سیاسی حل کی تلاش پرزور ڈالنا چاہیے۔ بلوچستان کا ذکر نہیں ہوا حالانکہ وہاں بھی آگ لگی ہوئی ہے۔سوچنا بنتا ہے کہ جب اتنے خطرات اُمڈ رہے ہوں اور گولی بارود کی آوازیں پورے مغربی بارڈر سے آ رہی ہوں داخلی طور پر تو پھر اتحاد اور یگانگت کی فضا پیدا ہونی چاہیے۔ زیادہ کھل کے بات ہو نہیں سکتی کیونکہ مختلف قسم کی نزاکتیں اظہار کے راستے میں حائل ہو جاتی ہیں لیکن ہر سمجھ رکھنے والا پاکستانی سمجھ رکھتا ہے کہ داخلی یگانگت اور قومی اتحاد کے تقاضے کیا ہیں۔ یہ قوم بہت دیکھ چکی ہے کہ سپاہ کی ہمت اور استقامت کے باوجود جب فیصلے اکیلے اور بغیر وسیع تر مشاورت کے ہوتے ہیں تو خطرات کے بڑھ جانے کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ افواج کے ساتھ کون نہیں ہے ‘سب ہیں۔ پوری قوم کی دعا رہتی ہے کہ جنگ و جدل کی آزمائش آئے تو ہماری افواج ہی سرخرو ٹھہریں۔ لیکن یہ بھی تو ہے کہ کوئی پاکستانی نہیں چاہے گا کہ ہر طرف خطرات کے بادل چھائے ہوں‘جنگ کی آوازیں آ رہی ہوں اور داخلی طور پر مختلف وجوہات کی بنا پہ قوم کی یکسوئی میں کوئی خلل پڑے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں کسی کی صحت کے بارے میں آوازیں کیوں اُٹھیں؟دھیان تو سارا ملکی دفاع پر ہونا چاہیے۔ فیصلہ سازی کا معیار بہت اونچا ہو اور کوئی اندرونی عوامل ایسے نہ ہوں جن کی وجہ سے دھیان ادھر اُدھر جائے۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا ایران پر حملے کتنا عرصہ جاری رہتے ہیں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ ان حملوں کا مقصد کیا ہے۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر تو حملے پچھلے سال جون میں بھی ہوئے تھے۔ اب پھر سے حملے کیوں؟ کیا اسرائیل اور امریکہ کا ارادہ بندھ چکا ہے کہ ایران کی موجودہ مذہبی حکومت کو ہٹانا ہے؟ اگر یہ مقصد ہے تو جنگ کا دورانیہ دنوں کی گنتی سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ہم جو ایران کے ہمسایہ ہیں‘ ہماری تمام تر توجہ ان حملوں اور ان کے ممکنہ مضمرات پر مرکوز ہونی چاہیے نہ کہ کچھ دھیان افغانستان کی طرف ہو۔ کچھ دھیان بی ایل اے اور بلوچستان کی طرف اور کبھی دارالحکومت کے بالکل قریب یہ مخمصہ اُٹھے کہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا سلسلہ کیا اور کیسا ہونا چاہیے۔ خطرات کا دائرہ بہت وسیع ہو رہا ہے اور ایران والی بات پتا نہیں کہاں جا رکے اور پاکستان کا موجودہ حکمرانی بندوبست اڈیالہ کے خطرات سے ہی نہ نمٹتا رہے۔ ہندوستان سے پچھلے سال چار روزہ معرکے کے بعد یہ خواہش دل میں اُٹھتی کہ کتنا ہی اچھا ہو کہ قوم کا ہر شعبے میں معیار ہمارے ہوابازوں جیسا ہو جائے۔ جیسی کارکردگی لہو گرم کرنے والی پاکستان ایئرفورس کی رہی حکومت اور عوام کی ہو جائے۔ لیکن اُس آزمائش کے بعد حکمرانی کی چال میں کوئی فرق آیا؟ جذبۂ ایثار میں اضافہ کیا ہونا تھا وہی چال بے ڈھنگی‘ وہی شہ خرچیاں وہی فضول کی عیاشیاں۔ کہیں جہاز خریدا جا رہا ہے جس کے بارے میں سوچنا ہی طرفہ تماشا ہوتا‘ کہیں پنجاب سرکار کے لیے مہنگی گاڑیاں خریدنے کا شوشہ۔ ہماری سپاہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سینوں پر گولیاں کھا رہی ہیں اور یہاں غیر نمائندہ سیاسی حکمرانوں کی فضول خرچیوں کے سلسلے ختم نہیں ہو رہے۔ قرضوں میں دبی معیشت کی حالت یہ کہ یواے ای دو بلین ڈالر کا رول اوور بجائے سال کے فقط دو مہینوں کاکر رہا ہے اور حکومتی سرخیلوں کی منتیں ختم نہیں ہو رہیں۔ کیا ہوگا پھر؟کچھ نہیں ہوگا‘ کوئی ٹس سے مس نہیں ہوگا۔ حکیم لقمان کی دانائی آ جائے یہاں کسی پر کوئی فرق نہیں پڑنے کا۔سب عقلِ کُل۔ جنہوں نے اس ملک کو افغانستان کے معاملات میں ملوث کیا یہ کہہ کر کہ افغانستان میں تزویراتی گہرائی حاصل کرنے نکلے ہیں وہ بھی عقلِ کُل تھے۔ جنہوں نے درپردہ‘ امریکیوں سے چھپ کر‘ طالبان کی مدد کی وہ بھی عقلِ کُل تھے۔یہ عقلِ کُل کی ماری قوم ہے۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
10
10
70
3.2K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
اس لمحے معنی ٔ جہاد کیا ہے؟ ماضی کی رنجشیں اور رقابتیں اس وقت بے معنی ہیں۔ امریکی بیڑے ایران کے اس طرف اور اُس طرف حملے کی تیاریوں میں مصروف ہوں تو مسلک کی پیچیدگیوں سے بے نیاز ہر مسلمان کا انفرادی اور ہر اسلامی ملک کا اجتماعی طور پر فرض بن جاتا ہے کہ وہ جارحیت کے خلاف یعنی ایران کے ساتھ کھڑا ہو۔ جو کچھ ہو رہا ہے یہ نارمل بین الاقوامی تعلقات کا کوئی منظرنامہ نہیں۔ یہ تو کوئی گینگسٹر فلم کے سین ہمارے سامنے رونما ہو رہے ہیں۔ اتنی کھلم کھلا بدمعاشی اور اس انداز کی گفتگو جو دنیا امریکہ سے سُن رہی ہے ایسا رویہ تو گلی محلے کے بدمعاش نہیں اپناتے۔ دنیائے اسلام ہے کہ چپ ہے‘ مصلحت کی ماری اس ڈر کے تابع کہ امریکی صدر کی ناراضی مول نہیں لی جا سکتی۔ کسی مسلمان حکمران نے مثال کیا قائم کرنی تھی ڈیووس میں کینیڈا کے وزیراعظم نے جو تقریر کی اُس سے ہی کچھ سبق حاصل کر لیا جائے۔ کیسے شیر و شکر کے تعلقات امریکہ اور کینیڈا کے ہوا کرتے تھے لیکن صدر ٹرمپ کی باتوں سے تنگ آ کر مارک کارنی کو بھی کہنا پڑا کہ پرانا دور ختم ہو گیا ہے اور درمیانے درجے کے ممالک کو اب نئی راہوں کی تلاش کرنا ہو گی۔ تقریر بہت ہی عمدہ تھی اور بغور ملاحظہ کرنے کے لائق ہے۔ مسلمان ممالک یہ بھی دیکھ لیں کہ بڑے یورپی ممالک میں سے کسی نے بھی یہ صحیح نہیں سمجھا کہ غزہ کے حوالے سے بورڈ آف پیس ناٹک میں شامل ہوں۔ نہ برطانیہ‘ نہ فرانس‘ نہ جرمنی‘ نہ اٹلی‘ نہ کوئی سکینڈینیوین ملک۔ یہ اعزاز مسلمان ممالک ہی کو جاتا ہے کہ صف میں لگ کر اس ناٹک کا حصہ بن گئے ہیں۔ اور اس موقع پر جو تعریفی کلمات صدر ٹرمپ کے حضور میں چند لیڈران نے ادا کیے یہ سمجھ کر کہ وہ بڑا تیر مار رہے ہیں‘ مسلمانوں کیلئے لمحۂ فکریہ ہے کہ جو اُن کے سربراہ اور لیڈر کہلاتے ہیں وہ ذرا سی مجبوری کے سامنے کس حد تک جھکنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ اتنا تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ رجیم چینج کا تحفہ جو جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس قوم کو عطا کیا اُس شر سے پاکستانی قوم بچ جاتی تو پاکستان بورڈ آف پیس کا حصہ نہ بنتا۔ یہ تو دور کی بات رہی کہ صدر ٹرمپ کی شان میں کوئی تعریفی کلمات ادا ہوتے۔ پاکستانی مجبوریاں سمجھنے کیلئے یہ کہنا ضروری ہے کہ پورا پاکستان ایک شہر‘ یعنی فیصل آباد‘ کا یرغمالی بنا ہوا ہے۔ پاکستانی اکابرین تو اس ڈر کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے کہ پاکستانی برآمدات پر امریکی ٹیرف لگے تو فیصل آباد کی ٹیکسٹائل ملوں کے ایکسپورٹ آرڈر ختم ہو جائیں۔ ایٹم بم کے علاوہ اس ملک کی بے شمار صلاحیتوں سے کون سے انڈسٹریل کارنامے سرزد ہوئے ہیں؟ لے دے کے گارمنٹس مصنوعات‘ چمڑا‘ باسمتی چاول اور سیالکوٹ کے فٹ بال۔ بمشکل ملکی ضروریات کے مطابق گندم کی پیداوار پوری ہونے لگی تھی لیکن رجیم چینج والے آئے تو گندم کے ساتھ وہ کیا کہ اُس کی پروڈکشن ملکی ضروریات کے مطابق خطرے میں پڑنے کا ڈر ہے۔ جو ملک اپنے آپ کو زرعی ملک کہتا ہے باعثِ شرم ہے کہ دالیں امپورٹ کرتا ہے اور کوکنگ آئل کیلئے پام آئل بھی باہر سے منگواتا ہے۔ جو اس ملک کی تقدیر کے ساتھ کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں انہیں کیسے سمجھ آئے کہ کمپیوٹر اور جہاز تو پتا نہیں ہم سے کب بنیں گے‘ کچھ زراعت پر ہی توجہ دے دیں تاکہ کھانے پینے کی چیزوں میں تو ہم خودکفیل ہوں۔ لیکن عجیب ماجرا ہے افغان بارڈر کے بند ہونے سے پہلے پیاز اور ٹماٹر بھی وہاں سے آ رہا تھا۔ قرض میں ملک ڈوبا ہوا ہے‘ قرضوں کی ادائیگی دفاعی بجٹ سے تجاوز کر رہی ہے۔ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ ہو نہیں رہی اور سیکورٹی کی یہ صورتحال ہمارے دونوں مغربی صوبوں میں ایسی رہے جیسی ہے تو کون کمبخت یہاں پیسہ لگائے گا۔ پاکستانی جو باہر سے پیسہ بھیجتے ہیں اُسی سے ملک چل رہا ہے‘ نہیں تو ملک چلانے کیلئے اب بیرونی قرضے بھی ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ بہرحال ان سب عوامل کو ایک طرف رکھ کر جو فوری ردِعمل کی صورتحال بنی ہوئی ہے وہ ایران پر امریکی حملے کی صورت میں ہے۔ ایرانی قیادت اشتعال اور بڑھکوں کی زبان استعمال نہیں کر رہی۔ اُن کی طرف سے ایک بھی غیر محتاط بیان نہیں آیا۔ وزیرخارجہ خاص طور پر جو بات کرتے ہیں نہایت ہی نپی تلی ہوتی ہے۔ لیکن جو رسوائی اور بے عزتی امریکہ ایران پر لادنا چاہتا ہے اُس سے ایرانی قیادت انکار کر رہی ہے۔ ایران کا مؤقف بہت واضح ہے کہ ہم جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر رہے‘ یورینیم کی افزودگی کی شرح پر بات کر سکتے ہیں‘ لیکن افزدوگی کے حق سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ایران کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی بہت حد تک امریکی صہیونی لابی کے زیر اثر ہے۔ ایسے تجزیہ کاروں کی کمی نہیں جو کہتے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو امریکی فارن پالیسی برائے ایران چلا رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی کوئی عقل کی بات کرنے سے قاصر ہو گئے ہیں۔ اُن کی بنیادی لائن یہ ہے کہ ایران یورینیم افزدوگی کے حق سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے۔ یعنی زیرو افزودگی۔ اور صرف یہاں تک نہیں بلکہ بھاری بھرکم امریکی آوازیں کہہ رہی ہیں کہ ایران کا میزائل پروگرام بھی موجودہ مذاکرات کا حصہ بنے۔ یعنی ایران مکمل طور پر بے عزت ہونے کیلئے تیار ہو جائے۔ امریکہ کا مخمصہ یہ بنا ہوا ہے کہ ایران ایسا کرنے کیلئے ہرگز تیار نہیں۔ سٹیو وِٹکاف (Steve Witkof) مختلف مذاکرات میں صدر ٹرمپ کا خاص ایلچی ہے۔ فاکس نیوز کو اُس کا حالیہ انٹرویو تو اب ساری دنیا کے سامنے آ چکا ہے جس میںوہ کہتا ہے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ صدر ٹرمپ پریشان ہیں لیکن متجسس ضرور ہیں کہ ایران کے قریب اتنا فوجی سازو سامان اکٹھا ہونے کے باوجود ایران سرنڈر کیوں نہیں کر رہا۔ یعنی یہ بات اُن کی سمجھ میں نہیں آ رہی۔ اب دس پندرہ روز کا الٹی میٹم صدر ٹرمپ نے دے رکھا ہے اور یہ مدت پوری ہوتے اُن کی جھنجھلاہٹ انتہا کو پہنچی ہو گی۔ کیونکہ جو دو ایئر کرافٹ کیریئر وہاں کے پانیوں میں پہنچے ہوئے ہیں اُن میں اضافہ بھی ہو جائے ایران نے وہ نہیں کرنا جو امریکی خواہش ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حملہ ضرور ہو گا؟ بہت سے امریکی کمنٹیٹر کہہ رہے ہیں کہ حملے کا فیصلہ ہو چکا ہے لیکن اس بابت کچھ حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔ بہرحال اتنا ضرور ہے کہ ایران کی آج کی دفاعی صلاحیت وہ نہیں جو پچھلے سال جون میں تھی جب اسرائیلی حملے ایران پر ہوئے اور بی ٹو بمبار جہازوں سے امریکہ نے بھی اپنا تڑکا لگایا۔ اطلاعات یہ ہیں اور اس حوالے سے انٹرنیٹ پر بہت ہی اچھے اور معلومات افزا پوڈ کاسٹ موجود ہیں کہ چین کی مدد سے ایران کا طیارہ شکن اور میزائل شکن نظام بہت ہی بہتر اور مربوط ہو گیا ہے۔ جس قسم کا ایئر ڈیفنس نظام پاکستان کا تھا جب ہندوستان سے جھڑپ ہوئی اُس سے بھی زیادہ اونچے معیار کا نظام چینی مدد سے ایران نے حاصل کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ بارہ روزہ جنگ میں تمام تر اسرائیلی صلاحیت اور امریکی معاونت کے باوجود خاصی تعداد میں ایرانی میزائل اسرائیلی نشانوں پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ تب ایرانی صلاحیتیں وہ نہیں تھیں جو اطلاعات کے مطابق اب ہو چکی ہیں۔ بہرحال جیسا بھی ملٹری بیلنس ہے اسلامی ملکوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنے چپ کا روزہ توڑیں اور ایران کی حمایت میں کھل کر آئیں۔ اتنی بھی مجبوری کیا؟
Ayaz Amir tweet media
اردو
10
30
97
3.1K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
اخوتِ مسلمہ کی حالت تو ذرا دیکھ جینوسائیڈ کو اُردو میں کیا کہیں گے؟ نسل کشی ہی مناسب لفظ ہے اور یہی کچھ غزہ میں ہوا۔ اسرائیل کے ہاتھوں وہاں قتلِ عام ہوتا رہا اور عالمِ اسلام بے بسی کی حالت میں اس دو سال پر محیط سلسلے کو دیکھتا رہا۔ یہ جینوسائیڈ امریکی معاونت کے بغیر ہو نہیں سکتا تھا۔ ہوا باز اسرائیلی لیکن سارے کے سارے جہاز اور ان میں استعمال ہونے والا اسلحہ امریکی ساخت کا۔ مجبوری کی انتہا دیکھیے کہ کوئی بھی بڑا عرب یا اسلامی ملک کچھ نہ کر سکا۔ بیشتر ممالک تو کھل کر امریکہ کا نام بھی نہ لے سکے۔ صرف یمن کے حوثیوں نے کچھ ہمت دکھائی اور بحیرۂ احمر سے جو بحری جہاز گزرتے ہیں ان پر کچھ میزائل گرائے۔ باقی عرب اور اسلامی ممالک مصلحت پسندی کی ڈھال کے پیچھے چپ بیٹھے رہے۔ پھر جب ایران پر اسرائیلی اور آخر میں امریکی ہوائی حملے ہوئے تو پوری کی پوری اُمّہ اسی مصلحت پسندی کے خول میں دبی رہی۔ غزہ میں جنگ بندی جو اس ساری گھن گرج کے بعد عمل میں لائی گئی وہ بھی ان امریکی ہاتھوں کے طفیل ہوئی جو حقیقت دیکھی جائے خون سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ اس لیے کہ بھرپور امریکی امداد اور معاونت کے بغیر اسرائیل وہ کچھ نہ کر سکتا جو اس نے کیا ہے۔ چلیں یہ بھی ٹھیک ہے‘ جنگ و جدل کے میدان میں ایسا ہوتا ہے لیکن مجبوری کے پیمانے تو دیکھیے کہ غزہ‘ حزب اللہ‘ حماس کی تباہی اور ایران پر چڑھائی کے بعد اسلامی دنیا کے سرکردہ ممالک کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہوکر تالیاں بجانی پڑ رہی ہیں اور یہ داد دینی پڑ رہی ہے کہ صدر ٹرمپ امن اور شانتی کے علمبردار ہیں۔ اور ان ممالک میں جو زیادہ مجبور ہیں وہ ایسی تعریف کو وہاں تک لے جا رہے ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس بے بسی پر ہنسیں یا روئیں۔ 1973ء کا دور بھی تھا جب عرب اسرائیل جنگ چھڑی تو دنیائے اسلام نے مغرب کو تیل کی ترسیل بند کر دی اور مصر اور شام کے ساتھ بیشتر ممالک کھڑے ہو گئے۔ راتوں رات تیل کی قیمتیں چار گنا بڑھ گئیں اور مغربی معیشتوں کو بڑا دھچکا لگا۔ اور اب آج کا زمانہ ہے کہ غزہ کی آبادی پر انتہا کی بربریت ڈھائی گئی اور سوائے ہلکی پھلکی بے معنی گفتگو کے عالمِ اسلام کا کوئی ایک ملک بھی کچھ زیادہ نہ کر سکا۔ بے بسی کی اس سے بڑی نشانی کیا ہو سکتی ہے کہ اسرائیلی جارحیت کا معاون امریکہ اب غزہ میں امن قائم کر رہا ہے اور وزن رکھنے والے سارے اسلامی ممالک مجبور ہیں کہ صدر ٹرمپ کی زیر صدارت غزہ امن بورڈ کے رکن بنیں۔ منہ کھولنے سے بھی گریز کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کہیں ناراض نہ ہو جائیں۔ ان کی ناراضگی کوئی مول نہیں لے سکتا اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے خوشامد کا ہر حربہ استعمال ہو رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی عام گفتگو کا ایک نمایاں پہلو ہے کہ جسے تھپکی دینی ہو اور اپنا مطلب نکالنا ہو تو نہایت آسانی سے اس کی تعریف کر دیتے ہیں۔ کسی کو فنٹاسٹک (Fantastic) کہہ دیتے ہیں کسی کو گریٹ گائے (Great guy) کہہ دیتے ہیں۔ اور جن کو ایسے القابات سے نوازا جاتا ہے ان کی حالت یہ ہو جاتی ہے کہ پھولے نہیں سماتے۔ جن ممالک کے پاس تیل کی دولت ہے وہ اتنی ہے کہ بے حساب ہے۔ امریکی اسلحے کے ذخائر اتنے خریدے ہوئے ہیں کہ تاثر ملتا ہے کہ ہر مخالف کو روند کے رکھ دیں گے لیکن لاچاری اور مصلحت پسندی کے سامنے اتنی دولت اور اسلحے کے ذخائر کا فائدہ کیا؟ حماس کا نہتے اسرائیلیوں پر حملہ ایک بڑا بلنڈر تھا۔ لیکن جواباً نسل کشی کا جواز تو نہیں بنتا۔ اسرائیل میدان میں اکیلا ہوتا تو نسل کشی کا سلسلہ روا نہ رکھا جا سکتا۔ امریکی معاونت نے ہی غزہ کی جینوسائیڈ کو ممکن بنایا۔ لیکن مجبوری کا حساب تو لگایا جائے کہ غزہ المیے کے ہوتے ہوئے صدر ٹرمپ سعودی عرب اور یو اے ای کا دورہ کرتے ہیں تو میزبانی اس انداز سے ہوتی ہے کہ لگتا یوں کہ استقبال کی انتہا کا مقابلہ ہو رہا ہے۔ 1974ء میں لاہور میں منعقدہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے وقت عرب دنیا کے پاس تیل کی دولت آنا شروع ہوئی تھی۔ لیکن یہ جو آج کے دبئی اور ریاض کے مناظر ہیں یہ تب نہ تھے۔ غربت تو نہ تھی لیکن آج کل کے دولت کے پیمانوں کے سامنے وہ نسبتاً غریب ماحول ہی تھا۔ لیکن شاہ فیصل اور یاسر عرفات‘ الجیریا کے بومدین اور لیبیا کے معمر قذافی کو دیکھ کر دل خوش ہو جاتا تھا۔ لیکن سالوں بعد جو مسلم دنیا کے ساتھ ہوا... عراق پر حملہ‘ لیبیا کی تباہی اور شام میں خونریزی... اور اب غارت گری کے مناظر جو غزہ میں دیکھے گئے اور رواں اسرائیلی جارحیت لبنان اور مغربی کنارے پر‘ یہ سب مناظر آنکھ کے سامنے آتے ہیں تو عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ غارت گری کا سلسلہ واشنگٹن سے شروع ہوتا ہے اور خوشامد کا سلسلہ بھی واشنگٹن میں ہی ادا کرنا پڑتا ہے‘ اس سے زیادہ بے بسی کا عالم کیا ہو سکتا ہے۔ شکست و ریخت کا عمل شروع ہو تو کہیں رکتا نہیں۔ امریکہ اب ایران پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی بحری بیڑے بحیرۂ روم اور آبنائے ہرمز کے اردگرد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حملے کی پلاننگ ہو رہی ہے اور حالانکہ یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے‘ انٹرنیٹ پر جائیں تو بے شمار تجزیے دیکھنے کو ملیں گے جن میں کہا جا رہا ہے کہ ایران پر حملہ ہونے والا ہے۔ ایسے میں کتنی احتجاج کی آوازیں اسلامی دنیا سے اٹھ رہی ہیں؟ یہاں شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں‘ اس پورے خطے کی بقا کا مسئلہ ہے۔ عرب ممالک کو ایران سے اختلافات رہے ہیں لیکن اس پورے خطے میں ایک نیا نقشہ سامنے آ چکا ہے۔ اس میں تو ایک متحدہ لائحہ عمل پیدا ہونا چاہیے اور سعودی عرب سے لے کر ترکی تک اور وہاں سے پاکستان تک ایک ہی آواز بلند ہونی چاہیے کہ ایسے ممکنہ حملے کے ہم خلاف ہیں۔ لیکن ایسی کوئی آواز آ رہی ہے؟ خطرے کا ایک اور پہلو سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات ہیں۔ حیرانی کی انتہا ہو گئی جب ایک پوڈکاسٹ میں ایک سعودی دانشور اور سابقہ ممبر سعودی شوریٰ کونسل احمدالتویجری کو یہ کہتے سنا کہ یو اے ای اسرائیل سے ملا ہوا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی گیم کھیل رہا ہے۔ لیبیا میں معمر قذافی کے زوال کے بعد یو اے ای نے ایک خاص گروپ کی حمایت کی۔ سوڈان کی خانہ جنگی میں یو اے ای کی حمایت ایک فریق کو مل رہی ہے۔ صومالیہ کے اندرونی خلفشار میں یو اے ای کی مداخلت کی اطلاعات ہیں۔ اور حالیہ دنوں یمن میں یو اے ای کے کچھ اقدام رہے ہیں جن کا سعودی عرب نے بہت برا منایا۔ ایسا لٹریچر موجود ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ بہت پہلے سے اسرائیلی عزائم رہے ہیں کہ عرب دنیا کے ایسے ٹکڑے کیے جائیں کہ اسرائیلی تسلط ہمیشہ کیلئے ایک حقیقت بن جائے۔ ایسی باتیں پڑھ کر خیال بلوچستان کی طرف جاتا ہے۔ وہاں جو ہو رہا ہے کوئی چھوٹی گیم نہیں ۔ جہاں سوڈان‘ صومالیہ اور لیبیا اور شام میں نفاق کے عوامل شروع کیے جا سکتے ہیں کیا بلوچستان میں ایسا نہیں ہو سکتا؟ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟ بلوچوں کی اپنی ناراضگیاں ہیں‘ اس سے انکار کرنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ لیکن ایسی بے چینیوں کو استعمال بیرونی قوتیں اپنے مقاصد کیلئے کرتی ہیں۔ داخلی جھگڑوں سے سلاطینِ اقتدار کو فرصت نہیں مل رہی لیکن یہ جو سب آس پاس کی دنیا میں ہو رہا ہے اس پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
14
64
184
4K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
خراب تو خراب ہے کوئی کامیابی بتا دیں قومی ناکامیوں کی لمبی فہرست ہے‘ ایک ایٹم بم کے سوا کچھ بن نہ سکا۔ ایئر لائن نہ چلائی گئی‘ ریلوے نظام ہمارے ہاتھوں برباد ہوا‘ روسیوں کی سٹیل مل ہم سے نہ چلی۔ معیشت کا کیا بھانڈا ہمارے سامنے بن رہا ہے وہ قوم جانتی ہے۔ مانگے تانگے کی عادت اتنی پڑ گئی کہ قرضوں تلے پاکستان دب کر رہ گیا ہے۔ قرض کی ادائیگیوں اور دفاعی اخراجات کے بعد کیا رہ جاتا ہے۔ قوم کے ساتھ رونما ہونے والے بڑے سانحات کے بارے میں کوئی پوچھ گچھ تو ہوتی نہیں۔ کارگل جیسے ناکام اور خطرناک آپریشن کے بارے میں بھی یہاں سوال کبھی نہیں پوچھے گئے۔ یہ مانا کہ ہم جیسوں کی سوچ بڑی منفی ہے‘ کیڑے ہی نکالتے رہتے ہیں‘ کسی اچھی طرف دھیان نہیں جاتا۔ یہ تنقید قبول کر لی لیکن جو ایسی تنقید کرتے ہیں اتنی زحمت تو کریں کہ بتائیں قومی کامیابیاں کون کون سی ہیں۔ کون سے میدان ہیں جن میں ہم سرخرو ٹھہرے؟ کسی بھی ملک کا نظم وضبط سیاسی نظام سے چلتا ہے۔ کوئی بتائے تو سہی یہاں سیاسی نظام کیا ہے؟ الیکشن ہم کرا نہیں سکتے‘ کرا بھی دیں تو ان کے نتائج ہمیں ہضم نہیں ہوتے۔ پھر فارم 47 جیسی واردات ڈالنی پڑتی ہے۔ ایسا ایک دفعہ ہو پھر تو بات ہے لیکن یہاں سیاسی نظام چل نہیں سکا۔ اور قومی عقل ملاحظہ ہو کہ بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ یہ ہائبرڈ نظام ہے۔ بنگلہ دیش‘ جس کے عوام کو یہاں کے حکمران گزرے وقتوں میں حقارت سے دیکھتے تھے‘ ہمیں بتا رہے ہیں کہ کیا چیز ممکن ہو سکتی ہے۔ بنگلہ دیش کے ماضی کو چھوڑیے‘ حسینہ واجد کی آمریت تھی اس کے خلاف بنگلہ دیش کے عوام‘ مرد وں‘ عورتوں نے‘ بغاوت کر ڈالی۔ سینکڑوں جانیں قربان ہوئیں‘ تب جا کے وہ آمریت ختم ہوئی۔ بنگلہ دیشی ہم جیسے ہوتے تو کسی بھی عذر کو سامنے کھڑا کرکے الیکشن نہ کرواتے۔ کوئی آ جاتا خود ساختہ قوم کا مسیحا اور نجات دہندہ جو مسندِ اقتدار پر قبضہ کرکے کم از کم دس سال انتخابات نہ کرواتا۔ لیکن کوئی ایسا عذر نہیں پیش کیا گیا اور انتخابات ہوئے اور اس سے بھی بڑی بات انتخابات کے نتائج تسلیم کیے گئے۔ وہ روح پرور دن ہمیں بھی نصیب ہو جب یہاں ایسا ہو سکے۔ یہاں جو آتا ہے چالاکی اور دھونس کا ایک مربہ بنا کر قوم کے سروں پر لاد دیتا ہے۔ کوئی ایک ایسا تماشا کرنے والا ہو تو نام لیں لیکن جو آیا چاہے نام ایوب یا یحییٰ‘ ضیا یا مشرف‘ یہی ناٹک قوم کے ساتھ کیا گیا۔ بنگلہ دیش میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے انتخابات کو سویپ کیا ہے اور جماعت اسلامی دوسری بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہاں تو رواج یہ رہا ہے کہ انتخابات کے نتائج آئے نہیں اور گالم گلوچ شروع ہو گیا۔ وہاں بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نتائج کے بعد جماعت اسلامی کے لیڈر ڈاکٹر شفیق الرحمن کے پاس جاتے ہیں اور خیرسگالی کا پیغام دیتے ہیں۔ جب بنگالی ہمارے ساتھ اس مملکتِ خداداد کا حصہ تھے‘ انہیں طعنہ دیا جاتا تھا کہ بچے ہی پیدا کر سکتے ہیں۔ تب مشرقی پاکستان کی آبادی یہاں سے زیادہ تھی۔ اس ایک میدان میں ہم نے ان کو مات دے دی ہے‘ ہماری آبادی ان سے زیادہ اور آبادی کی بڑھوتی کی شرح ہماری کہیں زیادہ ۔ زمین ان کی تھوڑی ہے غربت بہت ہے جیسا کہ سارے ہندوستان اور پاکستان میں ہے لیکن ڈھنگ سے انہوں نے کچھ تو کیا ہے کہ برآمدات سے ہم سے زیادہ پیسہ کماتے ہیں اور خزانے میں فارن ایکسچینج ذخائر ان کے ہمارے سے کہیں زیادہ ہیں۔ لہٰذا قوم کے ٹھیکیداروں سے یہی استدعا ہے کہ ایٹم بم کے علاوہ اور بھی کچھ بتائیں کہ ہمارے کارنامے کیا ہیں۔ مانا کہ ہندوستان کے ساتھ چار روزہ مقابلے میں ہمارا پلڑا بھاری رہا۔ صحیح تعداد پتا نہیں کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہ جائیں تو ہر پندرہ دن بعد گرائے ہوئے جہازوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے لیکن اتنا تو ہے کہ ہمارے ہوا بازوں کا کردار بہت اچھا رہا۔ لیکن اس پر مت اٹکے رہیں‘ مقابلہ ہوا ختم ہو گیا اب آگے کو دیکھنا چاہیے۔ ان کی معیشت اور ہمارے معاشی کشکول کا کوئی موازنہ نہیں۔ معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور ان کی معیشت اب برطانوی معیشت سے آگے ہے۔ ہماری وہی چوکیداری ذہنیت ہے کہ کوئی دفاعی بندوبست ہو‘ چاہے سعودی عرب سے یا کسی اور سے اور ہمیں کچھ پیسے ملتے رہیں۔ ہر محکمہ ہمارا خسارے میں ہے‘ کل کے اخباروں میں پڑھا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کس حد تک مقروض ہے۔ موٹروے بنانے پہ ناز کرتے ہیں حالانکہ ان کے اخراجات پورے نہیں ہوتے اور خسارہ قوم کے پیسوں سے حکومت کو بھرنا پڑتا ہے۔ یہ جو مہنگی بجلی کے معاہدے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز سے ہمارے افلاطونوں نے کیے کبھی ان کے بارے میں بھی کوئی پوچھ گچھ ہو گی؟ یہ معاہدے پیپلز پارٹی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت میں شروع کیے۔ محترمہ کی حکومت تھی اور زرداری صاحب مردِ اول تھے۔ ان دنوں اسلام آباد میں ایک سفارتی تقریب میں ملے اور بڑے فخریہ انداز میں کہنے لگے کہ دیکھا ہم نے یہ کیسے تاریخی معاہدے کیے ہیں۔ ان تاریخی معاہدوں نے ملک کا ستیاناس کر دیا۔ ان پروڈیوسرزکے ساتھ معاہدوں کی روایت شریفوں نے جاری رکھی۔ چینیوں کے ساتھ بھی بجلی کے معاہدے کیے اور پتا نہیں ان معاہدوں میں کیا کشش تھی کہ ہر بار پاکستان کو گھاٹے کے سودوں کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ ہاں جی‘ پر آپ بھول رہے ہیں کہ انہوں نے میٹرو بسیں بھی دیں اور لاہور اورنج ٹرین چلائی۔ واہ کیا خوب کام‘ یہ سارے منصوبے مانگے کے پیسوں پر بنائے گئے جن پر سود اور ادھار کے پیسے قوم دہائیوں تک دیتی رہے گی۔ کوئی ان سے پوچھے تو سہی ان سفید ہاتھی منصوبوں کی کوئی ضرورت بھی تھی؟ بس چمک دکھانے کیلئے اور الیکشنوں میں سٹنٹ کھڑا کرنے کیلئے یہ منصوبے شروع کیے گئے۔ سارے کے سارے قوم کی گردن پر ایک طوق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ دیگر باتوں کو چھوڑیے‘ کوئی دس دن بھی گزرتے ہیں جب وزیراعظم صاحب ایک غیرملکی دورے پر نہیں جاتے؟ جب دیکھو باہر ہی گھوم رہے ہوتے ہیں۔ ایٹم بم کا ذکر اس لیے کہ ایران کی موجودہ حالت کو دیکھ کر رونا آتا ہے۔ امریکی اور کیا کچھ ان پر ٹھونس نہیں رہے اور ہر لایعنی بات ایرانیوں کو قبول کرنا پڑ رہی ہے۔ ایرانی کئی بار عندیہ دے چکے ہیں کہ ایٹمی پروگرام کی تقویت کو کم کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ معاشی پابندیاں اٹھائی جائیں۔ امریکہ ہے کہ پیچ ٹائٹ کرتا جا رہا ہے‘ صرف اس لیے کہ ایرانیوں سے تاریخی ناکامی ہوئی کہ ایٹم بم نہ بنا سکے۔ اپنی تمام کمزوریوں اور قباحتوں کے باوجود ہم نے ایٹم بم بنا لیا۔ لیکن اس کے بعد کچھ اور بھی کرتے‘ بجلی کے مہلک معاہدوں سے بچتے‘ کارگل جیسے بیکار ایڈونچروں میں نہ پڑتے‘ طالبان کی حیثیت کو کچھ پہلے سے بھانپ جاتے اور فضول کی دشمنیوں میں اپنی توانائیاں صرف نہ کرتے۔ لیکن نہیں! یہاں تو لگتا ہے قومی ضد بن چکی ہے کہ کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کرنا۔ سیاست چلنی ہے تو ہنگاموں پر موقوف ہونی ہے۔ الیکشن ہونے ہیں تو دھاندلی کا الزام اٹھنا ہے۔ کوئی لیڈر بھولے سے عوام میں مقبول ہو جائے تو اس کے درپے ہو جانا ہے کہ کیا مجال اس کی کہ عوام میں اپنا مقام بنا رہا ہے۔ یہ داستانیں کبھی ختم بھی ہونی ہیں؟ عقل نام کی چیز سے یہاں کام کبھی چلانا ہے؟ ستاروں پر کمند ڈالنے کی بات نہیں‘ بنگلہ دیش کو دیکھ کر ایک چج کا الیکشن تو یہاں ہو جائے۔ معجزہ ہو گا لیکن معجزوں کی امید رکھنے میں کوئی حرج تو نہیں۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
19
139
342
8.4K
Ayaz Amir
Ayaz Amir@ayazamir·
بس ایک آنکھ ہی تو ہے باقی تو سب خیریت ہے نہیں تو ذوالفقار علی بھٹو کے حالاتِ زندگی اور اُن کے انجام کا جائزہ لیں تو مملکتِ خداداد میں جب دشمنی کے پیمانے قائم ہو جائیں تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ تین ماہ تک پاکستان کے بڑے لیڈر جیل میں کہتے رہے کہ دائیں آنکھ کی بینائی میں فرق پڑ رہا ہے اور اُن کے اس کہنے پر کوئی خاص توجہ نہ دی گئی۔ آنکھوں کے قطرے ضرور دیے گئے جو کہ چکوال کی ہر فارمیسی پر دستیاب ہوتے ہیں لیکن کسی سپیشلسٹ کو نہ بلایا گیا۔ عمران خان کی خبر اوپر تو جاتی ہی ہوگی لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہاں اوپر بیٹھے ہوئے ایسی باتوں پر کم ہی دھیان دیتے ہیں۔ ہاں کوئی نوازشریف ہو تومرتب کی ہوئی رپورٹوں کو سامنے رکھ کر اُن کو علاج کی غرض سے لندن بھیجا جاسکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہی ہے کہ جس قیدی کا ذکر ہو رہا ہے اُس کا نام نوازشریف نہیں عمران خان ہے۔ اور اُن کے حوالے سے یہی سب سے بڑی قباحت ہے۔ عمران خان نے جو کچھ کیا اور جن کے ساتھ کیا ان کی نظروں میں ان کی خطاکاری ناقابلِ معافی ہے‘ کسی نرمی کے مستحق نہیں۔ پہلی بڑی خطا عمران خان کی یہ تھی کہ جو اپنے آپ کو پنجاب کے پکے اور دائمی ٹھیکیدار سمجھتے تھے ان کا سارا سیاسی بھانڈا انہوں نے پھوڑ کے رکھ دیا۔ جنرل مردِ حق کی سرپرستی اور رہنمائی میں ان کی اجارہ داری قائم ہوئی تھی۔ پیپلز پارٹی کی تو کوئی حیثیت نہیں تھی کہ اس اجارہ داری کا مقابلہ کرتی‘ پیپلزپارٹی کے تو خود پتے پنجاب سے فارغ کر دیے گئے تھے اور جسے انگریزی میں اِرریلیونٹ (Irrelevant) کہتے ہیں وہ اس کی پوزیشن پانچ دریاؤں کی سرزمین میں ہوچکی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ اجارہ داری اتنی طاقتور تھی کہ لگتا یہی تھا کہ اسے کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ لیکن کم بخت عمران خان آیا اور اس نے اس اجارہ داری کے ساتھ وہ کیا کہ شریف زادے آج تک نہ سمجھ سکے کہ ان کے ساتھ ہوا کیاہے۔ جن کے ساتھ ایسا ہو وہ اس قسم کے روحانی اور جسمانی زخم کبھی بھول سکتے ہیں؟ زمانے کا کھیل تو دیکھئے کہ جہاں ایک وقت میاں کے نعرے لگتے تھے آج کہیں لندن کے کسی شاپنگ سنٹر میں جائیں تو ڈر رہتا ہے کہ کہیں آوازیں ان پر نہ کَسی جائیں۔ دوسرا جو ناقابلِ معافی جرم عمران خان سے مرتکب ہوا وہ پردہ داروں کے حوالے سے ہے۔ پردوں کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کی گئیں کہ عوام محظوظ تو ہوئے لیکن جو نشانۂ گفتگو تھے وہ ان دنوں کا تمسخر کبھی بھول نہیں سکتے۔ اس لیے نرمی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ یہ تو عمران خان کو داتا دربار پر دیگیں چڑھانی چاہئیں کہ دو سال سے زائد قیدِ تنہائی میں شکایت صرف ایک آنکھ کی بینائی کے بارے میں ہے۔ نہیں تو جیسے عرض کیا یہاں تو بہت کچھ ہو جاتا ہے اور پھر پتا بھی نہیں چلتا کہ جو ہوا‘ کیسے ہوا اور کون سے عوامل پیچھے تھے اُس کرنے میں۔ اس بات پر کسی کو کوئی شک ہو تو ارشد شریف کی کہانی یاد کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا ہم تو یہی کہیں گے کہ عمران خان اپنے کو خوش قسمت ہی سمجھیں۔ ایک بات غور کرنے والی ہے کہ عمران خان کو جتنا خطرناک یہاں کے لوگ سمجھتے ہیں جیفری ایپسٹین بھی ایسی ہی رائے کا قائل تھا۔ اس کی ایک ای میل ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ ایرانی قیادت سے بھی زیادہ خطرناک یہ شخص ہے۔ یہ تب کی ای امیل ہے جب عمران خان وزیراعظم بن چکے تھے یا بننے جا رہے تھے۔ یہ تو اب عیاں ہو گیا ہے کہ جیفری ایپسٹین اسرائیلی سیکرٹ سروس موساد کا بہت ہی اہم اثاثہ تھا۔ یہ جنسی تعلقات کی کہانیاں اور کم عمر لڑکیوں کے ساتھ رنگ رلیوں کی داستانیں یہ تو ایپسٹین کہانی کا ایک حصہ ہے۔ بنیادی سوال تو یہ ہے کہ ایپسٹین کی دولت کہاں سے آئی؟ انٹرنیٹ ایپسٹین داستان کے بارے میں بھرا پڑا ہے لیکن اس سوال کا خاطر خواہ جواب اب تک نہیں ملا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ایپسٹین کا سارا جنسی تعلقات اور بلیک میلنگ کا نیٹ ورک اسرائیلی سیکرٹ سروس موساد سے ملا ہوا تھا۔ ایپسٹین کی داشتہ ٔ اول گیلین میکسویل کے باپ رابرٹ میکسویل کے بارے میں ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیلی ایجنٹ تھا اور موساد کے لیے کام کرتا تھا۔ برطانیہ میں اس نے اپنی بہت بڑی حیثیت بنا لی تھی ‘ پارلیمنٹ کا ممبر ہوا اور بھاری بھرکم اخباروں کا مالک تھا لیکن رہا اسرائیلی ایجنٹ۔ اس تناظر میں پھر دیکھیے کہ ایپسٹین عمران خان کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے کہ صہیونی اور امریکی نقطۂ نظر سے یہ شخص ایران سے زیادہ خطرناک ہے۔ ایپسٹین کی جو فائلیں نکل رہی ہیں اور اب تک جو نکلی ہیں‘ تیس لاکھ کے برابر ہیں۔ یا وہ لوگوں کو اپنے جزیرے پر بلا رہا ہے‘ اپنے پرائیویٹ جہاز پر سیر کرا رہا ہے یا اُنہیں جنسی تعلقات کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ جن کو لڑکیاں دستیاب کررہا ہے یا پیسے دے رہا ہے اُن کے بارے میں کوئی بری بات نہیں کہتا۔ بری بات کہتا ہے تو ایک شخص کے لیے جس کا نام عمران خان ہے۔ آنکھ کی بینائی کے متاثر ہونے سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ انصاف کے کاروانوں پر بھی بالآخر کچھ اثر پڑا ہے۔ نہیں تو ہم جیسے ناسمجھوں کو یہ گمان ہو رہا تھا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیمات میں کچھ ایسے نیند پرور نسخوں کا اثر پنہاں ہے کہ انصاف کے کاروانوں کو خبرہی نہیں مل رہی کہ دھرتی پر کیا ہو رہاہے۔ مختلف نکات پر جتنی درخواستیں پی ٹی آئی نے مسندِ انصاف کو ارسال کی ہیں اتنی عرشوں پر بھیجی جاتیں تو وہاں اچھا خاصا اثر ہو جاتا۔ یہ تو آنکھ والا معاملہ چھڑا کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ بنا کر جیل میں ملاقات کرنے کا راستہ مہیا ہوا۔ اور جو رپورٹ پھر سلمان صفدر نے اعلیٰ مسندِ انصاف کے سامنے پیش کی تب اس آنکھ والے مسئلے کی تفصیلات دنیا کے سامنے آئیں۔ ورنہ ملاقاتوں پر قدغن رہتی اور بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے لیے قطرے ہی مہیا ہوتے۔ رپورٹ مرتب ہوئی اور سپریم کورٹ نے پڑھی تب ٹھہرے ہوئے پانیوں میں بھونچال آیا اور فکر کی ایک لہر پورے دیس میں دوڑی۔ دوست ہو یا دشمن ایسے حالات بنائے جائیں ہمدردی کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ دیکھیے اب سلاطینِ اقتدار کا ردِعمل کیا ہوتا ہے۔ ایک بات سلاطین کے حق میں کہنا پڑے گی کہ عمران خان بیٹھا تو جیل میں تھا‘ خاندان کیا وکلا کی ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد رہی‘ لیکن ایوانانِ اقتدار میں چین نام کی چیز نہ آئی۔ ان دو سے زائد سالوں میں قیدی تو نہ گھبرایا لیکن اس سارے عرصے صیاد گھبرائے گھبرائے لگے۔ الیکشن اُڑا لیے گئے‘ فارم 47کے کرشمات اجاگر ہوئے‘ لیکن چین پھر بھی نہ آیا۔ کیا کیا نہیں ہوا‘ صدر ٹرمپ کی طرف سے تعریفی کلمات آئے‘ تھپکیاں ملیں‘ باامر مجبوری صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس جو کہ غزہ کے بارے میں ہے کا ممبر بننا پڑا۔ مسلمان ریاستوں کا بھی کیا حال ہے‘ نہ صرف پاکستان بلکہ ہم سے کئی گنا زیادہ طاقتور مسلم ممالک کو بورڈ آف پیس کا ممبر بننا پڑ رہا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کی ناراضگی مول نہیں لے سکتے۔ کہا جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرکے اقوام عالم میں پاکستان کی عزت بڑھ گئی ہے۔ چین تو پھر آئے۔ لیکن کاغذی مینڈیٹ کے ہوتے ہوئے چین نام کی چیز نصیب نہیں ہورہی۔
Ayaz Amir tweet media
اردو
40
524
1.4K
33.7K