baghiiiii
468.9K posts

baghiiiii
@baghiii78
#khattak#islamabad#karak#ptiislamabad#ptikpkkarak#imrankhanpti#Pakistanzindabadjamhoorpaindabad

آپ سے ایک تعلق رہا ہے لہذا کوشش کی ہے تلخی نہ ہو لیکن کیاکریں جواب دینا پڑے گا۔ مجھے چینل میں آئے صرف دو تین ماہ آئے ہوئے تھے۔ کون سا چینل دو ماہ میں ریٹنگز پر نکالتا ہے؟شاید آپ کو کبھی نکالا گیا ہو۔ آفتاب اقبال صاحب کا کلپ شئیر کررہا ہوں سن لیں کس وجہ سے نکالا گیا تھا۔ آپ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے یہ کافی ہے۔ آپ کی اس وقت کیا حیثیت تھی کہ میں آپ کو فون کرتا کہ مجھے جنرل نکال رہے ہیں اور آپ میری مدد کرو اور مل کر بتائوں گا؟ اچھا لطیفہ گھڑ لیا ہے۔ جہاں تک ارشد شریف کی بات ہے آپ نے جو ارشد اور اس کی فیملی پر بدزبانی ٹوئٹر پر کی ہوئی ہے اور ا سکی بیوی کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا اس کے بعد بھی آپ ارشد کے وارث ہیں؟ آپ کو کسی نے بتایا تھا کہ آپ کے بارے گیلا تیتر والی ویڈیو ارشد شریف نے بنوائی تھی لہذا آپ کی تو ارشد اور اس کی بیوی سے سخت دشمنی چل رہی تھی۔ ارشد کے آپ کے بارے خیالات کو مجھ سے بہتر کون جانتا ہے۔ میں تو الٹا اس کو آپ کے حوالے سے بہت ٹھنڈا کرتا رہتا تھا ورنہ وہ بھی آپ کا بھی وہ وہی حشر کرتا جو اس نے ایک اور صاحب کا گوادر میں کیا تھا جب اس نے بھی آپ کی طرح ارشد اور اس کی بیوی کے بارے بدزبانی کی تھی۔ آپ کب سے ارشد کے سگے بن گئے ؟ اپنے گندے ٹوئٹس یاد ہیں جو ارشد/بیوی پر آپ نے کیے تھے؟ جب آپ اور چند آپ جیسے دیگر ارشد کے سارے دشمن اس کے گرد اچانک اکٹھے ہوئے تھے اور وہ بھولا/سادہ انسان آپ لوگوں کے چکر میں آیا تو میں نے اسے میسج بھیجا تھا کہ ان تین چاروں سے بچنا یہ سب تمہارے پرانے دشمن ہیں۔ انہیں تمہارے ساتھ پلانٹ کیا جا رہا ہے ۔ یہ تمہارے سابقہ دشمن/اب جعلی ہمدرد تمہیں گھیر کر شکاریوں کے سامنے ڈالیں گے۔ وہ میسجز آج بھی میرے پاس موجود ہیں۔ ارشد کے لہو کو آپ جسیوں نے بیچا ہے۔ ڈالرز کمائے ہیں۔اس کی لاش کو بیچا ہے۔ میں نے ایک دوست کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی جس کے گواہ موجود ہیں۔ اسے بتایا تھا یہ سب تمہارے پرانے دشمن تمہیں مروانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ہم دیہاتی لوگ دوستوں کو بانس پر چڑھا کر نہیں مرواتے۔ مطلب آپ جیسا بندہ کیسے ارشد کا دوست یا خیرخواہ ہوسکتا تھا جو اس کے بارے ٹوئٹر پر مسلسل بدزبانی کرتا رہا ہو اور اس کی بیوی کی کردار کشی کرتا رہا ہو ؟حیرانی ہے آج آپ ارشد کی قبر کے وارث بن بیٹھے ہیں جو واہ واہ کر کے اسے مققل گاہ تک لے گئے تھے۔ آپ لوگ اتنے بے رحم ہیں کہ اپنے بدلے لینے کے لیے ارشد کے جعلی ہمدرد بن گئے۔اس کے پانچ بچوں پر بھی رحم نہیں کیا۔ جہاں تک بار بار جواب کی بات ہے آپ کو نے میرے ٹوئٹ پر لکھا تھا جس پر میں نے آپ کو اہمیت دے کر جواب دیا اور آپ چھت سے جا لگے۔ میں نے آپ کو کبھی آپ کے کسی ٹوئٹ پر نہیں لکھا ۔ اب آفتاب اقبال زرا سنیں جھوٹ کون بول رہا ہے۔ آپ فرما رہے ہیں ریٹنگز کی وجہ سے نکالا گیا تھا۔ افتاب صاحب کو سنیں کیون نکالا گیا۔ ویسے اگر مجھے رینٹنگز پر نکالا جارہا تھا تو آپ کو میری فکر کیوں لاحق ہوگئی تھی۔ یہ میرا اور آفس کا ایشو تھا۔ بہرحال آفتاب اقبال کا کلپ سنیں اور اپنے جھوٹ پر کچھ شرمندگی ہونے کی کوشش کریں 😎

آپ ٹی وی کے کچھ دنوں بعد مجھے جیو ٹی وی کے مالک میر ابراہیم کا میسج آیا کہ آپ ہمارے چینل پر آ جائیں۔ کچھ ان سے بات چیت ہوئی۔ پھر پتہ چلا کچھ پرابلم ہے۔ کلئرنس لینی ہوگی۔ میں نے کہا میں تو کسی سے کلیرنس لینے نہیں جائوں گا۔ دو تین دیگر چینلز نے بھی رابطہ کیا تو انہیں بھی فون کیے گئے کہ انہیں چینلز پر نہیں رکھنا۔ انہوں نے بھی کہا آپ کلیرنس لے لیں۔ میں نے مجھے کسی سے کلیرنس نہیں لینی۔ گھر ہی ٹھیک ہیں۔۔ صحافت کلیرنس کرا کے نہیں کرنی۔ پھر کہوں گا کسی کا دوش نہیں۔ میرے اپنے فیصلے ہیں جن کا ذمہ دار ہوں۔ ہر فیصلے کے نتائج ہوتے ہیں۔ ہر فیلڈ/پروفیشن میں مسائل hazards ہوتے ہیں، میڈیا میں بھی ہیں۔




یہی بات میں نے بھی کہی کہ کلاسرا صاحب کا پروگرام ریٹنگ نہیں عسکری ناراضی سے بند ہوا۔ یہ بات بھی درست ہے کہ بہت سی باتیں عمران خان سے بالا بالا ہوتی تھیں۔ معاملات آئی ایس پی آر اور آب پارہ والے چلاتے تھے۔ ہم سے رابطہ بھی سول حکومت کی بجائے یہی لوگ کرتے تھے۔ بہت کچھ ہے لکھنے کو


عمران ریاض صاحب۔ چلیں اس بہانے آپ سے یہاں بات ہوجاتی ہے۔آپ اپنے بارے اتنے حساس نہیں ہیں جتنے عمران خان کے بارے میں ہیں کہ چھوٹی سی بات بھی ہم کہہ دیں تو آپ ضرور ان کی صفائی دیتے ہیں اور مجھے آپ کی یہی بات پسند ہے۔ آپ خان صاحب پر پورا حق ملکیت رکھتے ہیں۔ Complete Sense of Possession جی آپ کا فون آیا تھا کہ تیار ہو جائیں آپ کا شو بند ہورہا ہے۔ ان دنوں آپ کی رسائی فوجی جرنیلوں تک تھی۔ میں نے کہا جی بسم آللہ۔ اب یہ تو آپ ہی بتا سکتے ہیں کہ آپ کو کس فوجی جنرل نے بتایا تھا کہ رئوف کا شو بند ہورہا ہے؟ آپ نے ہی نام لیے بغیر فوجیوں کا بتایا تھا کہ وہ بند کرا رہے ہیں اور آپ کی مہربانی کہ آپ نے کہا ہم اس پر مزاحمت کریں گے۔ اب آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں نے آپ کو فوجیوں کا کہا۔۔۔ مجھے تو علم ہی نہ تھا کہ میرا شو بند ہورہا ہے تو کسی جنرل کا نام کیوں لیتا؟ آپ نے مجھےوہ خبر بریک کی تھی۔ میں تو وہ بتا سکتا ہوں جو مجھے چینل انتظامیہ نے کہا تھا کہ آپ وزیراعظم عمران خان سے مل لیں اورڈی جی ائی ایس پی آر سے مل لیں اور اپنے معاملات حل کریں۔ میں نے جواب میں کہا تھا میں دونوں سے نہیں ملوں گا اور نہیں ملا تھا۔ میں نے کہا تھا میرا کنٹریکٹ آپ ٹی وی کے ساتھ تھا کسی فوجی جنرل یا وزیراعظم سے نہیں تھا۔ انتطامیہ کا جواب تھا کہ پھر آپ کا شو بند ہوگا، سات ڈیجٹس تنخواہ/نوکری ختم۔ ہمیں مسکرا کر ہاتھ ملا کر باہر نکل آیا تھا اور کبھی مڑ کر نہ گیا نہ کبھی ان صاحب سے گلہ کیا ۔ آپ کے فون کے اگلے روز ارشد شریف نے E7 کیفے پر کہا تمہیں منع کیا تھا آپ ٹی وی نہ جائو جب تمہیں سما ٹی اور ہم ٹی وی کی آفر ہے۔ تم آپ ٹی وی چینل میں مروت /دوستی نبھانے گئے تھے اب بھگتو۔ آج صبح تمہارے چینل کے سربراہ کی عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے اور ایجنڈے پر تم تھے۔ تم نے عمران خان یا فوجی جنرل سے ملنا نہیں لہذا تم کل سے بیروزگار لہذا اب کوئی نئی جاب ڈھونڈتے ہیں۔ چینلز کا سربراہ وزیراعظم سے مل کر آیا اور مجھے کہا آپ عمران خان سے مل کر اپنے معاملات ٹھیک کریں۔ ان سے نہں ملنا تو ڈی جی آئی ایس پی آر سے مل لو۔ میں دونوں سے نہیں ملا۔ مجھے بعد میں جنرل فیض حمید کا ایک قریبی بندہ ملنے آیا تھا کہ آپ کو نکلوانے میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں۔ وزیراعظم نے بار بار اصرار کیا۔ دو تین دفعہ جنرل باجوہ کو بھی کہا گیا کہ ان کا شو بند کرائیں۔ میں نے انہیں بھی یہی کہا جس نے بھی کہا ہو کہ اسے نکال دیں مجھے کوئی گلہ نہیں کہ آپ ٹی وی جانے کا فیصلہ میرا تھا جو غلط فیصلہ تھا۔ میرے پاس سما ٹی اور ہم ٹی وی کی آفرز تھیں۔ ارشد سمیت سب دوستوں نے کہا آپ ٹی وی مت جائو۔ سما ٹی وی جائو ( نوید صدیقی صاحب کو آج بھی یاد ہوگا۔ظفر صدیقی صاحب بھی دوبئی سے آئے اور دس بجے رات شو کی ڈیل پکی تھی)۔ درید قریشی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔ان کی بھی دس بجے شو کے پیشکش موجود تھی۔ ہمارے دوست محمد مالک نے وہ ڈیل کرائی تھی۔ میں آپ ٹی وی اس لیے گیا کہ ایک سال پہلے آفتاب اقبال کے والد ظفر اقبال صاحب نے فون کر کے کہا تھا آفتاب آپ کا بھائی ہے وہ چینلز لا رہا آپ نے اس کے چینل کو جوائن کرنا ہے۔ انہوں نے میرے مرحوم محسن اور دوست ڈاکٹر ظفر الطاف کا حوالہ دیا تھا جس پر میں اپنے دیہاتی پن اور سادگی کی وجہ سے انکار نہ کرسکا۔ لہذا ارشد اور دیگر دوستوں کی مخالفت اور سما ٹی وی/ہم ٹی وی کی پیشکش چھوڑ کر آپ ٹی وی اپنا ایک پرانا وعدہ/ڈاکٹر ظفر الطاف کا حوالہ نبھانے گیا تھا۔ میں کسی کو الزام نہیں دیتا۔ میرا فیصلہ تھا آپ ٹی وی جوائن کیا۔ یہ بھی میرا فیصلہ تھا جب چینل انتظامیہ نے کہا جا کر عمران خان اور ائی ایس پی آر کے جنرل سے مل کر انہیں مطمئن کرو ورنہ فارغ، تو میں نے ایک کے بعد دوسری غلطی نہیں کی اور نہ عمران خان سے ملنے گیا نہ جنرل سے ملا۔ گھر چلا گیا۔ دونوں فیصلے غلط یا ٹھیک وہ میرے تھے اور میں ان کی ذمہ داری خود لیتا ہوں۔ بعد میں مراد سعید، شہباز گل، ڈاکٹر بابر اعوان نے مجھے کہا کہ ہم خان سے بات کریں گے اور شاید انہوں نے کی بھی تھی۔ میں نے ان دوستوں کا بھی شکریہ ادا کر کے انکار کر دیا تھا کہ صحافت کسی وزیراعظم یا فوجی جنرل سے بات چیت/مزاکرات یا انہیں مطمئن کر کے نہیں کی جاسکتی۔ 🙏
















