Sabitlenmiş Tweet
ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂
492.6K posts

ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂
@MaidahMuhammad
#SocialMediaActivist Strictly No DM ❌
Katılım Eylül 2020
7.2K Takip Edilen154.5K Takipçiler

جی بالکل، اس کی وضاحت ضروری ہے تاکہ بات خلط ملط نہ ہو۔
سورۂ آل عمران آیت 61 “آیتِ مباہلہ” کہلاتی ہے:
﴿فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ﴾
اس آیت کے پس منظر میں نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کا واقعہ ہے۔ صحیح روایات کے مطابق جب نبی ﷺ مباہلہ کیلئے تشریف لائے تو آپ ﷺ اپنے ساتھ:
- حضرت علیؓ
- حضرت فاطمہؓ
- حضرت حسنؓ
- حضرت حسینؓ
کو لے کر آئے۔
📚 حوالہ:
صحیح مسلم
اسی بنیاد پر علماء کہتے ہیں کہ:
یہ ہستیاں یقیناً اہلِ بیت میں شامل ہیں، اور ان کی عظیم فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
لیکن اہم بات یہ ہے:
📌 اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ:
- صرف یہی اہلِ بیت ہیں
- یا ازواجِ مطہراتؓ اہلِ بیت میں شامل نہیں
کیونکہ “اہلِ بیت” کا لفظ قرآن میں سورۂ احزاب میں ازواجِ مطہراتؓ کے سیاق میں بھی آیا ہے۔
لہٰذا اہلِ سنت کا متوازن موقف یہ ہے کہ:
✔ ازواجِ مطہراتؓ بھی اہلِ بیت ہیں
✔ اہلِ کسا (علیؓ، فاطمہؓ، حسنؓ، حسینؓ) بھی اہلِ بیت ہیں
یعنی:
“اہلِ بیت” کو صرف ایک گروہ تک محدود کرنا درست نہیں۔
اسی لیے میں نے حضرت حسنؓ و حسینؓ وغیرہ کا ذکر “اہلِ بیت میں شمولیت اور فضیلت” کے طور پر کیا تھا، نہ کہ ازواجِ مطہراتؓ کی نفی کیلئے۔
اردو

@MaidahMuhammad @369_Sch آپ نے ایک جگہ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 61 کی تفصیل بتاتے ہوے اہل بیت جن میں امام حسن امام حسین علیہم السلام وغیرہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ ایسا کہیں پڑھا نہیں میں نے یا وہ بات سمجھ ہیں سکا وضاحت کریں گی
اردو

عجیب زمانہ آ گیا ہے۔
اگر کوئی شخص کتاب پڑھ کر بات کرے تو اُسے “مولوی” کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی جدید ٹیکنالوجی سے علم حاصل کرے تو طنز کیا جاتا ہے:
“اوے جا چیٹ جی پی ٹی توں لکھوا لیا!”
گویا مسئلہ “علم” نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ سامنے والا سوچنے کیوں لگا؟
ذرا سوچیے…
جب بلب ایجاد ہوا تو کیا لوگوں نے کہا:
“ہم موم بتیاں ہی جلائیں گے، یہ نئی چیز ہمارے بزرگوں نے استعمال نہیں کی!”
جب جہاز بنا تو کیا دنیا نے کہا!
“نہیں! ہم اونٹوں پر ہی سفر کریں گے کیونکہ یہی روایت ہے!”
کیا جس نے ٹیلی فون ایجاد کیا تھا اس نے یہ کہا کہ صرف میں اور میری بیوی اس پر باتیں کریں گے ؟
جب انٹرنیٹ آیا تو کیا انسانیت نے اُسے چھوڑ دیا؟
نہیں۔
دنیا نے ہر نئی ایجاد کو “آلے” کے طور پر استعمال کیا تاکہ علم، سہولت اور شعور میں اضافہ ہو۔
تو پھر اگر آج کوئی شخص چیٹ جی پی ٹی ، گروک یا جدید ذرائع سے معلومات حاصل کرتا ہے تو اس میں شرمندگی کیسی؟
شرمندگی تو تب ہونی چاہیے جب انسان سوال پوچھنا چھوڑ دے، تحقیق کرنا چھوڑ دے، اور صرف وراثت میں ملی سوچ کو مقدس سمجھ کر بیٹھ جائے۔
یاد رکھئے!
عقل استعمال کرنا جرم نہیں،
عقل بند کر دینا جرم ہے۔
چیٹ جی پی ٹی قرآن نہیں، گروک قران نہیں نہ آخری اتھارٹی ہے۔
یہ ایک “ذریعہ” ہے جیسے کتاب، لائبریری، گوگل یا استاد فرق صرف یہ ہے کہ یہ معلومات تیزی سے جمع کر دیتا ہے۔
اب یہ انسان پر ہے کہ وہ تحقیق کرے، حوالہ دیکھے، غلطی پکڑے اور سچ تک پہنچے۔
اصل خطرہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اصل خطرہ وہ ذہن ہیں جو سوال سے ڈرتے ہیں۔
کیونکہ سوال کرنے والا انسان سیکھ لیتا ہے مگر طنز کرنے والا انسان وہیں کھڑا رہ جاتا ہے جہاں صدیوں پہلے تھا۔
اردو

اور یہ جو آپ بار بار تکرار کرتے ہیں “ نیا نبی” یہ قرآن پاک میں کہاں لکھا ہے کس آیت کے کس لفظ کا یہ ترجمہ ہے ؟ یہ نہیں کہیے گا کہ یعنی اسکا مطلب یہ ہوا ۔۔۔ قران کریم کا معاملہ ہے ڈنڈی نہیں مارنی عقیدہ بدلنا ہے قرآن نہیں🙏
یہ “نیا نبی” والی جگاڑ بھی آپکو ایک پرانے کو اتارنے کے لئے لرنی پڑتی ہے جسکا قرآنُکریم میں کہیں ذکر نہیں وہی بات کہ غلط عقیدہ بدلیں قران پاک بدلنے کی گستاخی نہ کریں۔۔۔ اگر قراں پاک آپکے عقیدے کو بغیر جگاڑ لگائے ثابت نہیں کرتا تو مان لیں کہ قرآن آپ کے ساتھ نہیں ہے۔۔۔ تقوی سے کام لیں🙏
اردو

بات پھر وہیں آگئی لفظ خاتم جمع میں ت کی زبر کے ساتھ جہاں جہاں استعمال ہوا ہے پھر تو وہ سب کچھ ختم ہوجانا چاہئے بقول آپکے حضرت علی رض کو کہا خاتم الاولیا آپ کے حساب سے آخری ولی یا دوسرے معنے جو آپ کرتے ہیں ولیوں کو ختم کرنے والے تو انہوں نے تو کسی ولی کو ختم نہیں کیا یا پھر آپ ترجمہ کرتے ہیں مہر بمعنی سیل تو انہہوں نے تو کچھ بھی سیل نہیں کیا اب جہاں بھی یہ لفظ خاتم جمع میں استعمال ہوگا سب کچھ ختم سنجھیں مثلا خاتم الصفہا، خاتم الاصفیا؟ خاتم الفقہا، خاتم الاطبا، خاتم المحدثین، خاتم المہاجرین، خاتمالمفسرین وغیرہ چونکہ اجزائے ترکیبی یکساں ہیں لفظ خاتم ت کی زبر کے ساتھ ہے تو سب جگہ وہی ترجمہ کریں ڈنڈی نہ ماریں عربی زبان میں جب بھی جہاں بھئ خاتم اس ترتیب اور ترکیب میں استعمال ہوتا ہے اسکے معنی کہیں بھی آخری یا ختم کرنے والے کے نہیں ہوتے پہلے بھئ استفسار کیا مگر جواب نہیں ملا ۔۔۔ طالب علم ہوں سیکھنا چاہتا ہوں🙏
اردو

سورۂ جمعہ کی آیت:
﴿وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ﴾
(الجمعہ: 3)
کا مطلب جمہور مفسرین اور محدثین کے نزدیک یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ صرف عربوں کیلئے نہیں بلکہ بعد میں آنے والی دوسری اقوام اور نسلوں کیلئے بھی مبعوث ہوئے۔
اس کی تفسیر میں صحیح احادیث موجود ہیں حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، سورۂ جمعہ نازل ہوئی۔ جب یہ آیت پڑھی گئی:
﴿وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ﴾
تو صحابہؓ نے پوچھا:
“یارسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں؟”
اسی وقت حضرت سلمان فارسیؓ موجود تھے۔ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ سلمانؓ پر رکھا اور فرمایا:
“اگر ایمان ثریا (ستارے) پر بھی چلا جائے تو فارس (ایران) کے کچھ لوگ اسے حاصل کر لیں گے۔”
📚 حوالہ:
صحیح بخاری
صحیح مسلم
جمہور علماء کے نزدیک:
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ:
- بعد میں آنے والی غیر عرب اقوام، خصوصاً فارسی لوگ، اسلام قبول کریں گے
- اور دین میں بڑا علمی مقام حاصل کریں گے
اسی لیے:
- امام بخاریؒ
- امام مسلمؒ
- امام ابو حنیفہؒ
- امام غزالیؒ
- امام رازیؒ
وغیرہ غیر عرب تھے۔
❌ لیکن اس آیت میں کہیں بھی:
- مرزا غلام احمد قادیانی
- یا کسی نئے نبی
کا ذکر نہیں۔
کیونکہ قرآن واضح طور پر کہتا ہے:
﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾
(الاحزاب: 40)
اور نبی ﷺ نے فرمایا:
“لا نبي بعدي”
(میرے بعد کوئی نبی نہیں)
📚 صحیح مسلم
لہٰذا:
سورۂ جمعہ کی یہ آیت “بعد کی امتوں اور غیر عرب مسلمانوں” کے بارے میں ہے، نہ کہ کسی نئے نبی یا مدعیٔ نبوت کے بارے میں۔
اردو

@MaidahMuhammad @Adeebahsanalia @allrounder_chef سورہ جمعہ کی آیت و آخرین منھم لما یلحقو بھم کس کے بارے میں ہے؟ احادیث مبارکہ کی روشنی میں بتائیں🙏
اردو

یہ بات درست ہے کہ امام مہدیؑ کے ظہور کا عقیدہ امت کے ایک بڑے حصے (خصوصاً اہلِ سنت و اہلِ تشیع دونوں کے مختلف درجات میں) میں موجود ہے، لیکن میں نہیں مانتی کیونکہ اس کا ذکر نہ صحیفہ ہمام بن منبہ میں اور نہ ہی امام مالک کی مؤطا میں ہے۔ اس کا ذکر متعدد روایات میں آتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے امام مہدیؑ کے بارے میں عقیدہ “ایمان کا بنیادی اصول” نہیں بلکہ “فرعی/غیبی خبر” ہے، جس کی بنیاد قرآن کے صریح (explicit) نصوص پر نہیں بلکہ روایات پر ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ قرآن نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ دین کی اصل تشریح کسی آنے والے امام کے ظہور پر موقوف ہے، یا یہ کہ دین کی اصل حقیقت بعد میں آ کر “واضح” ہوگی بلکہ قرآن خود اعلان کرتا ہے:
﴿اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾ (المائدہ: 3)
یعنی دین مکمل ہو چکا ہے، نہ کہ مستقبل میں مکمل ہونا ہے۔
دین کی ہدایت مکمل طور پر رسول اللہ ﷺ کے ذریعے پہنچا دی گئی۔ اب قیامت تک دین کی بنیاد قرآن اور سنتِ ثابتہ ہی رہیں گی۔ کسی آنے والے فرد کے ظہور پر دین کی “اصلیت” دوبارہ define نہیں ہوگی
رہی بات امام مہدیؑ کی صحیح بخاری اور صحیح مسلم ان میں روایات میں ان کے ظہور کا ذکر موجود ہے، مگر ان روایات سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ دین کو “نیا یا پوشیدہ” بنا کر واضح کریں گے، یپچھلے تمام فہم کو باطل قرار دیں گے بلکہ عمومی مفہوم یہ ہے کہ وہ عدل قائم کریں گے ظلم کا خاتمہ کریں گے امت کی اصلاح کریں گے۔ لیکن دین کی “واحد درست تشریح” صرف انہی کے ساتھ مخصوص کر دینا قرآن کے اس اصول سے ہم آہنگ نہیں کہ دین مکمل اور محفوظ ہے اس لیے علمی طور پر بات یہ بنتی ہے کہ!
✔ امام مہدیؑ کا عقیدہ بطور غیبی خبر قابلِ احترام ہے لیکن ایمان کا حصہ نہیں ہے۔
✔ مگر اسے دین کی “واحد تعبیر یا نجات کا واحد دروازہ” بنانا قرآن و سنت کے عمومی اصول سے ثابت نہیں۔
✔ دین کی اصل ہدایت قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی واضح تعلیمات میں مکمل ہو چکی ہے۔
اختلاف اپنی جگہ، لیکن اصل معیار ہمیشہ دلیل اور نص ہی رہتی ہے، انتظار یا عقیدت نہیں۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا
اردو

@MaidahMuhammad @allrounder_chef دنیا اپنے آخری مراحل سے قریب ہوگی ہے امام مہدیؑ کے ظہور کی چاپ سنائی دے رہی ہے جن کی شاید آپ قائل نہیں
جبکہ میں ان کے ظہور کا شدت سے منتظر ہوں۔
جب وہ تشریف لائیں گے تو واضح کریں گے کہ اصل دین کیا تھا اور کن لوگوں نے کن ایجنڈوں کے تحت اسے بگاڑا۔ سب واضح ہو جائے گا۔
Stay blessed.
2
اردو
ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂ retweetledi

@Adeebahsanalia @MaidahMuhammad @allrounder_chef یہ بھی آپ کو کسی نے مس گائیڈ کیا
قرآن ہدایت کی کتاب ہے اور اللہ پاک نے آیات کھول کھول کے بیان کیں اور سیاق و سباق کے ساتھ مکمل بات بیان کی
مولانا حضرات ایک آیت لے کے ہی تو فساد برپا کرتے ہیں
آل عمران کی آیت نمبر 7 میں انہی لوگوں کا بتایا جو کچھ حصہ اٹھا کے تاویلیں کرتے ہیں
اردو
ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂ retweetledi
ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂ retweetledi

@MaidahMuhammad اللہ انسان کو بیدار کرنا چاہتا ہےکہ اپنی شعور کو بلند اصولوں اور اعلیٰ حقائق کی طرف متوجہ کرے, القرآن 2:170
“اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل فرمائی ہے، تو کہتے ہیں: نہیں، بلکہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔
اردو

جی میں نہیں آپ میرے جوابات کو اپنے عقیدے کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
میرے جوابات میں بھی آیتیں ہی لکھی ہوئی ہیں کوئی انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو نہیں لکھا ہؤا۔
طارق جمیل صاحب کس بات کی وجہ سے عتاب کا شکار ہیں مُجھے رتی برابر فرق نہیں پڑتا اور نہ میرا ایمان اتنا کمزور ہے کہ مجھے ایسی باتوں ڈر لگ جائے یہ چالاکیاں میرے ہاں نہیں چلتیں جناب
اردو

@MaidahMuhammad @chafzal_isb @allrounder_chef آپ میرے جوابات کو کسی مخصوص فرقے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، حالانکہ میں قرآن کی آیات پیش کر رہا ہوں۔ یہی بات ایک بار مولانا طارق جمیل نے بھی کی تھی اور تب سے وہ عتاب کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگ یہ دیکھیں کہ کیا کہا جا رہا ہے یہ نہیں کہ کون کہہ رہا ہے۔
اردو

@Adeebahsanalia @MaidahMuhammad @allrounder_chef اس آیت میں لفظ“اَمۡرُهٗ” امرتکوینیCreative Commandکے طورپہ آیا مثلاًآسمان پیدا ہوئے،زمین بنی،انسان پیداہوا،موت وحیات قائم ہوئی
اسکا کسی دنیاوی ہستی سے کوئی تعلق نہیں یہ امرِتشریعیLegislative Commandکے طورپہ نہیں آیا
قرآن کااسلوب ہے کہ ایک آیت سے نہیں سیاق وسباق سے مفہوم دیکھاجاتا
اردو
ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂ retweetledi

@MaidahMuhammad ہونڈا نہیں حکمران نے لوٹ مار مچائی ہوئی ہے۔ ٹیکسوں کی بھرمار ہے کوئی پوچھنے والا نہیں
اردو
ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂ retweetledi

@Adeebahsanalia @MaidahMuhammad @allrounder_chef او بھائی یہاں اللہ نے بتایا کہ وہ روز قیامت مردوں کو زندہ کرے گااور اللہ اس پہ قادر ہے
یہاں کسی کواختیارات تفویض کرنے کاذکر نہیں
آپ کو کسی نے مس گائیڈکیاہے
یسین کا آخری رکوع پورا پڑھ کے غور کریں کہ بات ہو کیارہی ہے
اللہ نے درخت میں آگ، زمین وآسماں کی تخلیق کی مثالیں بھی دی ہیں
اردو

آپ نے جو آیات اور دلائل ذکر کیے ہیں، وہ دراصل مختلف موضوعات کی آیات کو ایک مخصوص عقیدے کے ساتھ جوڑ کر ایک نتیجہ نکالنے کی کوشش ہے، جبکہ اصولِ تفسیر میں ہر آیت کو اس کے اصل سیاق (context) اور لغوی معنی کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔
سب سے پہلی بات!
“لا یمسہ إلا المطہرون” (الواقعہ: 79)
اس سے مراد “لوحِ محفوظ” ہے، نہ کہ عام دنیا میں قرآن کو چھونے کی شرط
اور “مطہرون” سے مراد فرشتے ہیں، نہ کہ مخصوص انسانی گروہ
“اہلِ بیت” (الاحزاب: 33)
یہ آیت ازواجِ مطہراتؓ کے سیاق میں ہے، کیونکہ اس سے پہلے اور بعد میں مسلسل خطاب “یا نساء النبی” کا ہے۔
اس لیے اہلِ بیت میں ازواجِ مطہراتؓ شامل ہیں اور حدیثِ کسا کے ذریعے حضرت علیؓ، فاطمہؓ، حسنؓ، حسینؓ بھی شامل ہیں۔ لیکن آیت کو صرف ایک گروہ تک محدود کرنا سیاق کے خلاف ہے
“راسخون فی العلم” (آل عمران: 7)
آیت میں واضح ہے!
“والراسخون فی العلم یقولون آمنا بہ”
یعنی راسخون فی العلم وہ لوگ ہیں جو ایمان کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں، نہ کہ وہ جن کے پاس “کل علمِ غیب” ہو اگر اس سے مراد صرف معصوم ائمہ لیے جائیں تو صحابہؓ، تابعین اور بڑے مفسرین سب اس تعریف سے باہر ہو جائیں گے، جو قرآن کے عمومی اسلوب کے خلاف ہے
“کتاب میں ہر چیز کا علم” (النحل: 89)
یہ آیت “ہدایت” کے لحاظ سے ہے، یعنی دین کی ضروری رہنمائی کتاب میں موجود ہے نہ کہ ہر تفصیلی علمِ کائنات کسی مخصوص فرد کے پاس منتقل کیا گیا ہے۔
حدیثِ ثقلین
یہ حدیث مختلف طرق سے مروی ہے، اور اس میں:“کتاب اللہ” اور “اہلِ بیت” کی محبت و احترام اور ان سے حسن سلوک کی تاکید ہے۔ لیکن اس حدیث سے یہ نتیجہ نکالنا کہ صرف اہلِ بیت ہی قیامت تک قرآن کے واحد معصوم مفسر ہیں
یہ عقل و شعور رکھنے والوں کا ماننا نہیں ہے۔
قرآن خود کہتا ہے:
دین مکمل ہو چکا ہے (المائدہ: 3)
اور رسول ﷺ نے دین کو امت تک واضح طور پر پہنچا دیا۔
اگر ہر دور کے لیے ایک “لازمی معصوم امام” تشریح کا واحد ذریعہ ہوتا تو قرآن اسے اتنی ہی صراحت سے بیان کرتا جتنی نماز، روزہ اور حج کو بیان کیا ہے
✔ اہلِ بیتؓ کی محبت اور احترام ایمان کا حصہ ہے۔
✔ حدیثِ ثقلین بھی ان سے وابستگی کی تعلیم دیتی ہے۔
✔ لیکن قرآن و سنت سے یہ بات ثابت نہیں کہ صرف ایک مخصوص گروہ ہی قیامت تک قرآن کی واحد معصوم تشریح کا اختیار رکھتا ہے۔
قرآن کا عمومی اسلوب علم، ہدایت اور ذمہ داری پوری امت میں تقسیم کرتا ہے، کسی ایک محدود سلسلے میں بند نہیں کرتا اور آپ کے مطابق جب ابن کثیر وغیرہ کو اس پر بولنے کا اختیار نہیں ہے تو آپ کو یہ اختیار کس نے دء دیا کہ قران کریم کے ترجمے کو شخصیت پرستی کی بھینٹ چڑھا دیں؟؟؟؟
وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب
اردو

@MaidahMuhammad @allrounder_chef یہ علم نہ طبری کے پاس تھا نہ ابنِ کثیر کے پاس۔ مجھے حیرت ہے کہ آپ طبری اور ابنِ کثیر کے قول کو مانتی ہیں، جنہیں اس معاملے میں بولنے کا اختیار نہیں، جبکہ جن ہستیوں کو اللہ نے اس کام کیلئے مقرر کیا ہے انہیں نہیں مانتیں، حالانکہ دینِ اسلام مکمل تسلیم کا نام ہے۔ (البقرہ:208)
3
اردو