Mba Bilaj
181.2K posts

Mba Bilaj
@bilaj35
#Pakistan_Zindabad
Sharjah, United Arab Emirates Katılım Nisan 2014
3.8K Takip Edilen4.5K Takipçiler
Mba Bilaj retweetledi
Mba Bilaj retweetledi

دل تھام کے پڑھئے!
عمران سے ملاقات کرکے جب میں نے انکی زبانی انکی داستان سنی تو واللہ میں خود پر قابو نہیں رکھ پایا تھا،رات بھر مجھے ان دو ننھے منے بہن بھائی پر گزرے وقت کی داستان سن کر بہت رویا۔
یہ سال 2009 کی بات ہے،نیچے جو تحریر کاپی کی ہے یہ عمران کا لکھا ہوا ہے:
"میرا نام عمران ھے اور میری بہن کا نام لا ئبہ(اصل نام اسماء) ھے
ھم دونوں جب گھر سے نکلے تھے تب میری عمر چار۔ بہن چھ سال کی تھی۔
ہمارے گھر میں ماں باپ کے درمیان کوئ جھگرا ہوا،ماں ھم دونوں کو لیکر گھر سے نکل گئ ۔
تب رات زیادہ ہونے کی وجہ سے ھم فت پاتھ پر ہی سو گئے۔
جب آدھی رات میں آنکھ کھلی تو ماں نہیں تھی،میں اور بہن روتے روتے ڈرتے سہمتے سوگئے۔
صبح اٹھ کر پھر رونے لگے ۔
وہاں تین آدمی أئے انہوں نے ہمے ناشتہ کروایا ۔
ایک آدمی ھم دونوں کو اپنے گھر لے گیا،انہوں نے کئ روز ہمیں اپنے پاس رکھا ۔
ایک دن ایک بندہ آیا اور ان سے بولا یہ دونوں بچے مجھے دیں دے آپ،پھر وہ ہمیں اپنے ساتھ لیکر اپنے گھر لے آیا۔
وہ ہم پر ظ*لم کرتا اور گھر کے کام کرواتا تھا۔
جسکی وجہ سے ایک خاتون نے ہمیں کورنگی کے ایک شیلٹر میں داخل کرادیا ۔
مجھے تب اپنا نام بھی سہی سے یاد نہیں تھا ۔
میری بہن کہتی کہ اس نام اسماء ھے اور والد کا نام برھان ہے ۔
مجھے بس اتنا یاد ھے کہ ہمارے ابو ہمیشہ ٹوپی اور شلوارکمیز پہنے تھے ۔
کبھی کبھی یاد آتا ہے ٹرین میں صفر بھی کیا ہے۔
اور سمندر بھی گئے ہیں ۔
ابھی میرا نام عمران اور میری بہن کا نام لائبہ رکھا ھے
بہن کا کہنا ہے کہ ہمارے بھائ بہن یا کزن بھی ہیں
وہ ہمارے گھر آتے رہتے تھے۔ مجھے کنفرم نہیں ہے کہ میرا نام شیلٹر مے رکھا ہے یا یہی اصلی نام ہے۔ اسماء نے کہا ہے کہ گھر میں بھی یہی نام ہے۔"
یہ دلخراش داستان جب عمران کے ساتھ بیٹھ کر انکی زبانی سنیں تھی تو میں بالکل ساکت ہوگیا تھا اور میں سب کچھ بھول گیا اور ان بہنوں پر گزرے حالات کے سوچ میں بالکل گم گیا۔
اور عمران نے جب یہ بتایا کہ "بہن سے ملنے جاتا ہوں تو وہ بہت ہی حسرت کے ساتھ کہتی ہے بھائی گھر کا کچھ کرو نا""تو ایسے لگا جیسے کسی نے وار کردیا ہو دل پر۔
اگر کراچی کے دوست اس پوسٹ کو پورے شہر میں پھیلا دیں تو یہ دو بہن بھائی اپنے خاندان کے پاس پہنچ سکتے ہیں۔انکی زندگیاں سنور سکتی ہیں۔
خدارا اس پوسٹ کو ملک بھر میں عام کریں تاکہ دو پھول جیسے بہن بھائی اپنوں سے ملیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
24 may 2026
#waliullahmaroof

اردو
Mba Bilaj retweetledi

لاہور کے دوست مدد کریں
ان بابا جی کا نام محمد اسماعیل ولد غلام قادر ہے۔
بابا جی کی عمر 65 سال پے۔
سولہ مئی کو بابا جی لاہور کے علاقے گلبرگ میں گھر سے فجر کی نماز کے لئے نکلے واپسی پر گھر کا راستہ شاید بھول گئے ہوں گھر نہیں پہنچے ۔
تاحال بابا جی کا کوئی پتہ نہیں چلا۔سر پر سفید کپڑے کی پگڑی باندھی ۔
گھر کے بزرگ شخص کا اس طرح سے گم ہوجانا پورے گھرانے کے لئے باعث تشویش ہے اور سب بہت زیادہ پریشان ہیں۔جیسے کسی گھر کا سائبان گم ہوا ہے۔
برائے مہربانی تمام دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر۔ کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر اطلاع دیں
03162529829
18 may 2026
#waliullahmaroof

اردو
Mba Bilaj retweetledi

Did you hear about Yasin Malik, who has been languishing in Indian jails for more than 3 decades? I have written and composed this song for him, and it has been sung by Della Miles, the back vocalist of Michael Jackson and Whitney Houston.
#Kashmir
English
Mba Bilaj retweetledi
Mba Bilaj retweetledi

کیا میرا کام بھی ہوگا ناں۔۔؟!!
فیصل آباد:
اس نوجوان کا نام عرفان ہے والد کا نام ناہید یاد ہے
یہ سال 1998 کی بات ہے جب عرفان کم سن بچہ تھا،ماں باپ کا لاڈلا اور انکی آنکھوں کا تارا تھا،ماں باپ اپنے ساتھ بازار لیکر گئے تھے،بازار کے رش میں عرفان ان سے الگ ہوا اور بچھڑ گیا۔
عرفان کا کہنا ہے کہ مجھے یاد آرہا ہے ہم فیصل آباد میں رہتے تھے اور جس بازار میں امی ابو کے ساتھ گیا تھا اس بازار کا نام چوڑی بازار ذہن میں آرہا ہے۔ابو چمڑے کا کام کرتا تھا۔گھر گاؤں جیسے علاقے میں تھا۔ ابو کا نام ناہید یاد ہے۔ایک بھائی تھا اسکا نام یاد نہیں ہے۔ میرا نام "عرفان" بھی مجھے کنفرم نہیں اصلی نام ہے یا شیلٹر والوں نے رکھا تھا۔
میرے گھر والوں کو ڈھونڈو میری بڑی خواہش ہے اپنوں کو دیکھ لوں اور اس "زندگی" سے جان چھوٹ جائے بہت دل کرتا ہے گھر ملے چلا جاؤں۔
جاتے جاتے عرفان نے نہایت ہی بےبسی کی تصویر بن کر سوال کیا "ولی بھائی یار میرا کام ہوجائےگا ناں؟" تو میرا گلا بھرا گیا جواب میں ان شاءاللہ سے زیادہ کچھ نا کہہ سکا۔
آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر یہ تحریر پڑھ رہے ہیں برائے مہربانی انسانی فریضہ ادا کرتے ہوئے ضرور شئیر کریں۔
آپکا ایک شئیر عرفان کو محرومیوں سے نکال کر خوشحال بناسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
03162529829
14 april 2026
#waliullahmaroof

اردو
Mba Bilaj retweetledi
Mba Bilaj retweetledi

محمد اشفاق کراچی کے علاقے محمود آباد کا رہائشی ہے۔
تین بچوں کا والد ہے۔پہلے ٹھیک تھا بعد میں ذہنی توازن کھو بیٹھا تھا۔
رواں سال 2 مارچ کو گھر سے نکلا تھا آج تک معلوم نہیں کہاں گیا۔
گھر میں 80 سال کی بوڑھی ماں دن رات اپنے مجذوب بیٹے کے لئے رورہی ہے طبعیت بہت ناساز ہوئی ہے۔
کراچی کے دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
اشفاق کہیں بھی نظر آئے نیچے درج نمبرپر کال کریں
03162529829
10 april 2026
#waliullahmaroof #کراچی

اردو
Mba Bilaj retweetledi
Mba Bilaj retweetledi

“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
اردو
Mba Bilaj retweetledi

“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
English
Mba Bilaj retweetledi

Eid Mubarak to my Pakistanis.
This is the most painful Eid for me.
Around 10,000 of our workers and supporters are jailed and being treated as criminals for exercising their constitutional right to protest peacefully.
Our brave leaders including women leaders, Dr Yasmin Rashid and Aliya Hamza are in jail and refusing to leave PTI.
16 of our workers shot dead and 8 others suspected to have been killed but cannot be confirmed because relatives have gone underground because of the fear of police.
50 others suffered bullet wounds.
Shockingly no mention of the use of this excessive force by security forces on unarmed protesters. And no independent investigation to ascertain what really happened on 9th May.
Instead, by peddling a one sided anti-PTI official narrative, a reign of terror has been unleashed on anyone associated with the party with only one aim to dismantle it before elections.
InshAllah PTI and the nation will come out of this dark phase much stronger.
Also, there's been a total clampdown on media with all those critical of this fascist government facing its wrath.
Imran Riaz Khan has been abducted and his whereabouts unknown for over 40 days now, and 5 of our respected journalists who have had to flee the country, we remember them too on this Eid.
English
Mba Bilaj retweetledi

ایک مرتبہ پھرخاص طور پر ماہِ مقدس (رمضان المبارک) کے دوران اسرائیلی فوجیوں کےمسجداقصیٰ میں نمازیوں پر حملےکی شدید مذمت کرتاہوں۔OICکی ذمہ داری ہےکہ UNSC+ عالمی برادری کو بتائےکہ اس قسم کی وحشت سے پوری دنیامیں مسلمانوں کےجذبات کو شدیدٹھیس پہنچتی ہے۔
aljazeera.com/news/2023/4/5/…
اردو
Mba Bilaj retweetledi

کیا آپ بیٹھے بیٹھے پہاڑ جتنی نیکی کمانا چاہتے ہیں ؟
!! اگر ہاں تو اس پوسٹ کو شئیر کریں
اس بچے کا نام زاہد ہے،زاہد کی عمر چھ یا سات سال تھی،سال 2005 میں اپنی بہن کے ساتھ بکریاں چرانے گیا تھا۔ گھر لوٹتے ہوئے زاہد بہن سے الگ ہوا۔ بہن بکریوں کے پیچھے گئی ۔ زاہد گھر کا راستہ بھول گیا۔
رونا شروع کیا تو ایک شخص نے آکر پوچھا بیٹا کیا ہوا؟ زاہد نے کہا گھر نہیں مل رہا۔
اس شخص نے زاہد کو کہا بیٹا چلو تمہیں گھر پہنچاتا ہوں۔ زاہد خوشی خوشی ساتھ چلا۔
گھر کے بجائے وہ ظالم انسان ٹرین اسٹیشن آیا اور زاہد کو ٹرین میں ساتھ بٹھاکر کسی اور شہر لے گیا۔ زاہد کو ایک گھر میں لاکر بند کیا،اس گھر میں ایک خاتون بھی تھی۔
زاہد کا کہنا ہے کہ میں دو دنوں تک امی ابو کو یاد کرکے روتا رہا۔ ان سے منتیں کرتا رہا مجھے امی کے پاس لےچلو- مجھے جیسے ہی موقع ملا اس گھر سے فرار ہوگیا۔
فرار ہوکر شہر کی طرف آیا تو ایک صاحب کے ہاتھ لگا انہوں نے چند روز کوشش کی میرے گھر والوں کو ڈھونڈنے کی۔گھر والے نہیں ملے ۔ پھر مجھے وہ ملتان کے ایک شیلٹر میں چھوڑ کر گیا۔
میں نے اپنی فائل نکال کر دیکھی تو اس میں ملتان کے شیلٹر میں داخلے کی تاریخ 22 نومبر 2005 ہے۔
زاہد کو ملتان سے سینکڑوں کلو میٹر دور ایک اور شہر کے شیلٹر بھیج دیا گیا تھا- جہاں اس نے بیس سال کاٹے۔ اور آج وہ چوبیس پچیس سال کا جوان ہے۔
زاہد کو اب بمشکل رہائش ملی ہے۔ ماہانہ چھ ہزار روپے کے عوض کام لیا جارہا ہے۔ اور رہائش دی ہے۔ اپنا دکھ کسی سے بیان نہیں کرسکتا۔
گھر کے تمام افراد کے نام یاد ہیں۔ اپنا شہر اور علاقہ معلوم نہیں ہے۔
زاہد کے والد کا نام بدر اور والدہ کا نام ثمینہ ہے۔
دو بھائی ہیں ایک کا نام عادل اور دوسرے کا نام زاہد ہے۔ چار بہنیں ہیں۔ سلمیٰ ، عظمی، ثناء اور بانو۔
اور اتنا یاد ہے کہ پھوپھی کا گھر نیچے تھا اور انکا گھر اوپر تھا۔ گھر کے قریب کوئی اسکول تھا۔ مزید کسی رشتے دار یا جگہے کا نام معلوم نہیں ہے۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا اس پوسٹ کو پاکستان کے کوچے کوچے میں پھیلا دیں ۔ فیملی ممبرز کے نام یاد ہیں یہ اس کیس کے کامیاب ہونے کے لیے کافی ہے۔
ان شاءاللہ آپ کا ایک شئیر کسی اجڑے چمن کو پھر سے آباد کرسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں۔
+923162529829
7 mar 2026
#waliullahmaroof #missingchildren
#punjab #PakistanZindabad

اردو
Mba Bilaj retweetledi
Mba Bilaj retweetledi

Abrar Hassan, also known as WildLens by Abrar, recently visited Shaukat Khanum Hospital in Lahore, where he toured the facility and interacted with cancer survivor Hamza.
To calculate and give your Zakat, visit 👉 shaukatkhanum.org.pk/zakat/
#ZakatSeZindagi #SKMCH
English











