Sahil Mehmood
12.9K posts

Sahil Mehmood
@chsahil45
اصول بیچ کر مسند خریدنے والو نگاہِ اہل وفا میں بہت حقیر ہو تم وطن کا پاس تمہیں تھا نہ ہو سکے گا کبھی کہ اپنی حرص کے بندے ہو بے ضمیر ہو تم
Islamabad, Pakistan Katılım Şubat 2013
2.5K Takip Edilen7.5K Takipçiler

غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے ہو سکتا ہے علی امین صاحب سے بھی ہوئی ہو لیکن جس طرح انہوں نے عمران خان کے فیصلے کی عزت اور مان رکھا ہے وہ قابل تحسین ہے.
انہوں سہیل آفریدی کی مکمل حمایت کی اور عمران خان کا حکم آتے ہی استعفی دیا اور بار بار تصدیق کی. 👇
#cmkpsohailafridi

اردو
Sahil Mehmood retweetledi


جب میں مر جاؤں گا تو مجھے کوئی فکر نہیں ہوگی… اور نہ ہی اپنے بے جان جسم کی کوئی پرواہ ہوگی… کیونکہ میرے مسلمان بھائی وہ سب کچھ کریں گے جو ضروری ہے، یعنی:
• وہ میرے کپڑے اتار دیں گے…
• مجھے غسل دیں گے…
• مجھے کفن میں لپیٹیں گے…
• مجھے میرے گھر سے نکالیں گے…
• اور مجھے میرے نئے مسکن (قبر) تک لے جائیں گے…
• بہت سے لوگ میری نمازِ جنازہ میں شریک ہوں گے…
• بلکہ کئی لوگ اپنی مصروفیات اور ملاقاتیں منسوخ کر دیں گے، صرف میری تدفین کے لیے…
یہ وہ لوگ ہوں گے جن میں سے شاید بہت کم نے کبھی میری نصیحتوں پر دھیان دیا ہو۔
پھر میری چیزیں ختم کر دی جائیں گی…
• میری چابیاں…
• میری کتابیں…
• میرا بیگ…
• میرے جوتے…
• میرے کپڑے…
اور اگر میرے اہلِ خانہ نیک ہوں گے، تو وہ ان چیزوں کو صدقہ کر دیں گے تاکہ وہ مجھے فائدہ دے سکیں۔
یقین رکھیں کہ دنیا مجھ پر نہیں روئے گی…
• دنیا کا نظام نہیں رکے گا…
• معیشت چلتی رہے گی…
• اور میری جگہ کسی اور کو نوکری مل جائے گی…
• میرا مال ورثاء کو منتقل ہو جائے گا…
جبکہ ان سب چیزوں کا حساب مجھ سے لیا جائے گا!
• تھوڑے کا بھی…
• زیادہ کا بھی…
• ذرہ ذرہ کا بھی…
اور موت کے وقت سب سے پہلے جو چیز مجھ سے چھین لی جائے گی، وہ میرا نام ہوگا!
جب میں مر جاؤں گا تو لوگ کہیں گے: “جنازہ کہاں ہے؟”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
جب وہ میری نمازِ جنازہ پڑھیں گے تو کہیں گے: “جنازہ لاؤ!”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
جب وہ مجھے دفن کریں گے تو کہیں گے: “میت کو قریب کرو!”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
لہذا مجھے میرے نسب، میری قومیت، میرے عہدے اور میری شہرت پر کوئی غرور نہیں ہونا چاہیے!
یہ دنیا کتنی حقیر ہے…
اور وہ حقیقت کتنی عظیم ہے جس کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں!
لہذا اے زندہ انسان! جان لو کہ تم پر تین طرح کا غم کیا جائے گا:
1. وہ لوگ جو تمہیں سرسری جانتے ہیں، کہیں گے: “بیچارہ!”
2. تمہارے دوست کچھ گھنٹوں یا دنوں تک غم کریں گے، پھر اپنی باتوں اور ہنسی مذاق میں مشغول ہو جائیں گے۔
3. گہرا غم تمہارے گھر والوں کو ہوگا، جو ایک ہفتہ، دو ہفتے، ایک ماہ، دو ماہ یا ایک سال تک رہے گا…
پھر وہ تمہیں یادوں کے گوشے میں ڈال دیں گے!
تمہاری کہانی دنیا والوں کے لیے ختم ہو جائے گی…
اور تمہاری اصل کہانی شروع ہو جائے گی…
تم سے چھن جائے گا:
• حسن…
• دولت…
• صحت…
• اولاد…
تم گھر، محلات، اور بیوی کو چھوڑ دو گے…
اور تمہارے ساتھ صرف تمہارے اعمال رہ جائیں گے!
اور یہی حقیقی زندگی کی شروعات ہوگی!
سوال یہ ہے:
آج سے اپنی قبر اور آخرت کے لیے کیا تیار کیا؟
یہ حقیقت سوچنے کی متقاضی ہے…
لہذا…
• فرض نمازوں کا خیال رکھو…
• نفل عبادات کرو…
• خفیہ صدقہ کرو…
• اچھے اعمال کرو…
• رات کی نماز ادا کرو…
تاکہ تم بچ سکو۔
اگر تم نے لوگوں کو اس تحریر کے ذریعے نصیحت کی جب تم زندہ ہو، تو قیامت کے دن تمہیں اس کا اجر ملے گا، ان شاء اللہ!
“اور نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔” (الذاریات: 55)
اردو

حضرت معاویہ نے اپنے زمانہ خلافت میں خود لوگوں کو حج کرایا، قضاعی کہتے ہیں ، سن چوالیس اور پچاس میں انھوں نے ہی لوگوں کو حج کرایا،سن ترسٹھ می عبد اللہ بن زبیر نے لوگوں کو حج کرایا، انھوں نے مسلسل آٹھ حج کرائے (الأثر ذکرہ ابن الجوزی فی مثیر العزم الساکن: ۲؍ ۴۴۱)
حضرت حسن بن علی نے مدینہ سے پیدل پچیس حج کیے ، اپنے ساتھ اونٹوں کو ہنکا کر لے جاتے تھے ، ابو نعیم حلیہ میں ذکر کیا ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس بات سے شرم محسو س ہوتی ہے کہ میں اپنے رب سے اس حالت میں ملاقات کروں اور میں نے اللہ کے گھر کا پیدل حج نہ کیا، انھوں نے مدینہ سے پیادہ پا مکہ تک بیس حج کیے ’’فمشی عشرین مرۃ من المدینۃ إلی مکۃ علی قدمیہ‘‘ (الأثر أخرجہ أبو نعیم فی الحلیۃ: ۲؍۷بسند ضعیف جدا فیہ عباس بن فضل بن عمرو الواقفی )
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے پانچ حج کیے ، تین پیدل، اپنے بعض حجوں میں انھوں نے بیس درہم خرچ کیے۔ ( الأثر ذکرہ ابن الجوزیفی مناقب الإمام احمد بن حنبل : ۳۶۲)
حسن دینوری نے سولہ حج پیدل کیے بغیر توشہ کے ننگے پیر ’’ماشیا حافیا بغیر زاد‘‘ (ذکرہ محب الدین الطبری فی القری لقاصد أم القری: ۴۷)
مغیر بن حکیم نے کچھ کم پچاس دفعہ ننگے پیر حالت احرام میں روزہ رکھتے ہوئے حج کیا ہے ’’نیفا وخمسین مرۃ حافیا محرما صائما‘‘ (الأثر ذکرہ محب الدین الطبری فی القری لقاصد أم القری : ۴۶)
یہ بیت اللہ کی فضیلت حرمت اور عزت ہے ، دیگر بزرگان دین نے تو ۷۰، ۸۰ بھی حج کیے ہیں ، اسی قدر عمرے بھی کیے ہیں ، وہ اس گھر کی عظمت وحرمت اور اس کے فضائل ومناقب اور اس کے مقامات مقدسہ، انبیاء علیہ السلام کی آمد اور دیگر اولیاء کی اس بابرکت گھر کے قصد کو جانتے تھے ۔
————————————-
دارالعلوم ، شمارہ : 8، جلد:103، ذی الحجہ 1440ھ مطابق اگست 2019ء
اردو

محمد بن سعد سے مروی ہے کہ پہلے سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ عبد الرحمن بن عوف کی قیادت میں لوگوں کو حج کرایا، پھر انھوں نے اپنے زمانہ خلافت میں تمام حج کیے ، لوگوں کو دس حج کرائے، آخری حج میں ازواج نبی صلی اللہ علیہ کو حج کرایا، اپنے زمانہ خلافت میں تین عمرے کیے، ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گیارہ حج کیے ہیں (الأثر بطولہ أخرجہ ابن الجوزی فی مثیر العزم الساکن : ۲؍۱۳۹، رقم الحدیث: ۳۴۵)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جب خلافت ملی تو عبد الرحمن بن عوف کو سن چوبیس ہجری میں امیر بنا کر حج پر روانہ کیا، حضرت عثمان نے سن پچیس ہجری میں لوگوں کو حج کرایا، پھر حضرت عثمان لوگوں کو سن چونتیس ہجری تک حج کراتے رہے ، پھر ان کو ان کے گھر میں محصور کردیاگیا، سن پینتیس میں حضرت عبد اللہ بن عباس نے لوگوں کو حج کرایا)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولایت سے پہلے حج کی تعداد معلوم نہیں ، ایام خلافت میں فتنہ کی وجہ سے حج نہ کرسکے ، چونکہ ان کی خلافت صرف چار سال نو مہینے رہی ، ان کو سن پینتیس کے حج کی خلافت حاصل ہوئی، چونکہ حضرت عثمان کا انتقال جمعہ ۱۸؍ذی الحجہ کو اسی سال ہوا تھا، سن ۳۶ میں جنگ جمل ہوئی، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حج کرایا، پھر سن سینتیس میں واقعہ صفین ہوا، لوگوں کو عبد اللہ بن عباس نے ہی حج کرایا، سن ۳۸ میں لوگوں کو قثم بن عباس نے حج کرایا، پھر سن ۳۹ میں شیبہ بن عفان پر اتفاق ہوا، انھوں نے لوگوں کو حج کرایا، رمضان سن چالیس میں حضرت علی کرمہ اللہ وجہہ کا انتقال ہوا (الأثر بطولہ ذکرہ ابن الجوزی فی مثیر العزم الساکن: ۲؍ ۱۴۳)👇
اردو

خانہ کعبہ: امتیازات وخصوصیات
روئے زمین پر سب سے محترم، مقدس اور باعظمت مقام ’’خانہ کعبہ‘‘ ہے ، اس میں مقام ابراہیم اور اللہ عزوجل کی نشانیاں ہیں ، قرآن کریم میں ہے: ’’فیہ آیات بینات ومقام أبراہیم‘‘ (آل عمران : ۹۷)۔
خانہ کعبہ کی ابتداء
قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے :
’’إِنَّ أَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّۃَ مُبَارَکاً وَہُدًی لِّلْعَالَمِینَ ‘‘ ( آل عمران: ۹۶) بیشک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ مکہ میں ہے جو لوگوں کے لیے متبرک جگہ اور سارے جہاں والوں کی ہدایت کا مقام ہے ۔اور اللہ عزوجل کا یہ بھی ارشاد گرامی ہے : ’’جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیاما للناس‘‘(سورۃ المائدۃ: ۹۷) (بنایا ہے اللہ نے کعبہ کو (جو) حرمت والا گھر ہے قائم رہنے کا باعث لوگوں کے لیے اور حرمت والے مہینوں کو اور قربانی کو اور پٹے والے جانوروں کو یہ( اس لیے) تاکہ تم جان لو کہ بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ ) اس کے علاوہ بے شمار آیتیں ہیں ، جو خانۂ کعبہ کی عظمت کو بیان کرتی ہیں ۔ 👇

اردو

