Deo | دیو
3.5K posts

Deo | دیو
@deo_ashraf
Nowadays, ppl don’t defend what’s right, they defend whom they like r benefit from. O & G Professional Democrat l Sports l Politics l Poetry l Music l Hiking |

عوام کی قوت برداشت ختم ہو چکی ھے۔ 😭


جب اس ملک میں ڈیرہ کروڑ بچہ سکول سے باہر ہے کہ ان کے لیے فنڈز نہیں،روزانہ اربوں روپے بنکوں سے کمرشل قرض بھاری سود پر لے کر تنخواہیں دی جارہی ہیں، پٹرول گیس بجلی کی قیمتیں بڑھ کا ٹیکس لگا کر پیسہ عوام سے رو پیٹ کر اکٹھا کیا جارہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے بچت سکیم کے نام پر اپنے وزیروں کی تنخواہیں، ارکان اسمبلی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر بیس فیصد کٹ لگایا گیا ہے تاکہ اخراجات کم ہوں اس وقت ہی سیکورٹی ایکسچنج کمشن آف پاکستان کے افسران ایک ارب روپے سترہ ماہ پرانی تاریخوں سے چپکے سے وصول کر کے پتلی گلی سے نکل گئے ہیں اور سونے پر سہاگہ کہ سات ارب روپے لاگت کا دفتر بھی بنا رہے ہیں۔ اب پتہ چلا ہے اس اجلاس کے مستند منٹس بھی نہیں مل رہے جس میں یہ چھکے مارے گئے ہیں۔ یہ اس ملک میں کیا ہورہا ہے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ سرکاری بیوروکریسی کرپٹ ہوتی ہے یہ کمشن کے زیادہ بورڈ ممبران اور کمشنرز تو پرائیوٹ سیکٹر سے آئے ہیں ۔۔ انہوں نے یہ کیا ات مچا رکھی ہے ؟ ہوش ربا انکشافات مکمل پروگرام لنک 👇 youtu.be/BylvHNaeOhM?si… via @YouTube @NeoNewsUR @fawadnb @NasrullahMalik1 @RabeeaSK @SECPakistan @MIshaqDar50 @sherryrehman @CMShehbaz @Financegovpk @StateBank_Pak @FBRSpokesperson @Rashidlangrial @BilalAKayani @ShahNafisa @RajakhurramNA48 @naveedqamarmna @sharmilafaruqi @PalwashaKhan18 @JunaidAkbarMNA @sherafzalmarwat @afnanullahkh





روبینہ چانڈیو کو جب کاری قرار دے کر قتل کیا گیا تو SHO حاکم ہکڑو نے مقتولہ کو بغیر غسل اور کفن کے اس ہی ڈریس میں جو خاتون نے پہنی ہوئی تھی جب اس کو قتل کیا اور وہ ڈریس ایک ثبوت تھی اس جرم کا اس ہی لال جوڑے میں دفن ہونے دیا اور بعد میں تین فٹ کا ایک کھڈا کھود کر اس میں مقتولہ کی لاش کو پھنکوا دیا بعد میں پانچ لاکھ روپے لےکر سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کرکے اصل مجرمان کو بچا لیا۔



کسان کے ساتھ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے؟ گندم کا سرکاری ریٹ 3500 روپے فی من بتایا گیا، مگر مارکیٹ میں کسان کو صرف 2800 سے 3000 روپے تک مل رہے ہیں۔ آخر وہ جگہ کہاں ہے جہاں کسان اپنی گندم 3500 میں بیچ سکے؟ کیوں حکومت واضح نہیں بتا رہی؟ اوپر سے ڈیزل مہنگا، کھاد کے ریٹس آسمان پر، بیج اور اسپرے بھی مہنگے… ہر طرف سے اخراجات بڑھا دیے گئے، لیکن جب کسان کی محنت کا پھل دینے کا وقت آیا تو اسے اس کا حق بھی نہیں دیا جا رہا۔ پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ یا تو سرکاری ریٹ پر فوری خریداری یقینی بنائے، یا واضح کرے کہ کسان کہاں جا کر اپنی گندم فروخت کرے۔ اگر کسان کو اس کی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں ملے گا تو زراعت کیسے بچے گی؟ یہ صرف کسان کا مسئلہ نہیں، یہ پورے ملک کی خوراک اور معیشت کا مسئلہ ہے۔ @NadeemAfzalChan @BBhuttoZardari


بھٹو صاحب جو کچھ بھی تھے جمہوریت پسند نہیں تھے انکی نظر میں جمہوریت کا استعمال طاقت حاصل کرنے سے زیادہ نہیں تھا آپ نے اپنا دور حکومت مخالفین پر زمین تنگ کرتے اور اپنے اختیارات کو وسعت دیتے گزاری پارلیمنٹ، عدالت اور میڈیا کو حقارت کی نظر سے دیکھتے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے تمام حربے استعمال کئے لیکن مقدر نے ساتھ نہیں دیا آپ نے صنعت کو قومیا کر پاکستانی معیشت کو جو نقصان پہنچایا آج تک اسکا مداوا نہیں ہو پایا لیکن چونکہ انکی سیاسی اولاد موجود ہے کوئی اس بارے بات نہیں کرتا


ہمارے دوست وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب کا یہ اعتراف کتنا خوفناک ہے اس کا اندازہ شاید کسی کو امریکہ ایران چکر میں نہیں ہوا۔ وہ سی ڈی اے کے وزیر انچارج ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ مجھے بھی اس ادارے میں کام ہو تو دس لاکھ روپے (رشوت) دینی پڑے گی۔ نقوی صاحب دو سال سے اس ادارے کے سربراہ ہیں جس کے بارے کہہ رہے ہیں وہاں کرپشن کا ریٹ دس لاکھ ہے۔ وہ ادارہ جس میں وزیراعظم تک کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے آپ وزیروں کو تو چھوڑ ہی دیں۔ نقوی صاحب دو سال سے اس سونے کی کان جیسے ادارے کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ وہ اپنے لاڈلے کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا کو لائے اور اسلام آباد کا پہلے چیف کمشنر اور پھر سونے کی کان سی ڈی اے کا چیرمین لگا دیا اور وہ چیرمین خود کو نقوی صاحب کے علاوہ کسی کو جواب دہ نہیں سمجھتا تھا بلکہ اکثر قائمہ اجلاسوں میں ان کی رعونت اور تکبر کو سب نوٹ کرتے تھے۔ پچھلے سال جولائی میں سترہ ارب تو دسمبر میں چوبیس ارب کے پلاٹ بیچے گئے۔ مطلب چھ ماہ میں سی ڈی اے کے پاس چالیس ارب تھا۔ ہزاروں درخت کاٹے گئے، جنگل تباہ کیے گئے، غیرضروری اور ناقص فلائی اوور اور سڑکیں بنائ گئیں جو پہلی بارش پر ٹھس ہوئیں۔ ماحول تباہ کیا۔ پورے شہر کو ایک گریڈ بیس کے افسر نے تہس نہس کر دیا اور ابھی چند دن پہلے رندھاوا صاحب اور نقوی صاحب چین گئے اور وہاں سے فرمایا کہ اسلام آباد شنگھائی بنے گا۔ شنگھائی خاک بنتا الٹا آج وزیر صاحب فرما رہے ہیں وہ ان دو سالوں میں جب رندھاوا نقوی جوڑی اس ادارے کو چلا رہی تھی وہ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔ یہ نتیجہ نکلا ہے ایک گریڈ بیس کے افسر کو خوفناک اختیارات دینے کا۔ یہ دراصل رندھاوا صاحب کے خلاف چارج شیٹ ہے کیونکہ دو سال سے وہ سفید سیاہ کے مالک تھے۔ نقوی صاحب کو اپنی اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سی ڈی اے کی وزارت کا چارج چھوڑ دینا چاہئے۔ ان دو سالوں کا آڈٹ ہونا چاہیے کہ چالیس ارب کہاں خرچ ہوا۔ لاہور کا لاڈلا کنٹریکٹر کون تھا جسے سب اربوں کے کنٹریکٹ نصیب ہوئے۔ رندھاوا صاحب تو اپنے ساتھ درجن بھر ڈی ایم جی افسران ڈیپوٹیشن پر لائے تھے ان کی یہ کارگردگی تھی کہ ریٹ دس لاکھ روپے چل رہا ہے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ جس گریڈ بیس کے افسر کے دور میں رشوت کا ریٹ دس لاکھ تک جا پہنچا ہے اسے نقوی صاحب نے ڈی جی پاسپورٹ لگا دیا ہے۔ دو سال بعد نقوی صاحب ہمیں پاسپورٹ آفس کا ریٹ بتا رہے ہوں گے کہ کام کرانا ہے تو دس لاکھ ریٹ ہے؟ اگر سی ڈی اے کا ریٹ آج دس لاکھ ہے تو رندھاوا صاحب کیسے کلئرنس لے کر ایک اور سونے کی کان کے مالک بنا دیے گئے ہیں۔ ؟ ان کے خلاف کیا کاروائی ہوئی جن کے دور میں بقول ریٹ دس لاکھ تک پہنچ گیا ہے؟ نقوی صاحب یہ آپ کی ناکامی ہے اور آپ کو اس کی ذمہ داری لینی چاہئے۔ مان لیں یہ آپ کے بس کا کام نہیں ہے۔ جب رندھاوا صاحب پورا شہر اجاڑ رہے تھے آپ ان کے محافظ بن کر کھڑے تھے حالانکہ جب وزیراعلی تھے تو بڑا آپ کی کارگردگی کا شور سنا تھا۔ پنجاب بارہ کروڑ کا صوبہ اور اسلام آباد پچیس لاکھ لیکن یہاں آپ ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں اور اب بتا رہے ہیں جس ادارے کو آپ نے دو سال ہیڈ کیا اس کا ریٹ دس لاکھ ہے۔ نقوی صاحب کے دس لاکھ ریٹ انکشاف سے اب آپ سب کو خواجہ آصف کی بات سمجھ آرہی ہے کہ پاکستان بیوروکریٹس بیرون ملک شہریت اور پرتگال میں دھڑا دھڑ جائیدادیں کیسے خرید رہے ہیں۔۔ 😎 @CMShehbaz @MaryamNSharif @MohsinnaqviC42 @CDAthecapital @SohailAshrafGor @RandhawaAli @betterpakistan @DrMusadikMalik @JunaidAkbarMNA @BarristerGohar @KhawajaMAsif @KhSaad_Rafique @PalwashaKhan18 @ShaziaAttaMarri @sherryrehman @RajakhurramNA48 @Nabilgabol @SyedAghaPPP @sherafzalmarwat @DrTariqFazal @naveedqamarmna @HinaRKhar @SanaMastiKhel


اندازہ کریں مارچ 2024 سے جو اس ملک کا وزیر داخلہ ہو اور اپریل 2022 سے اقتدار بھی انکے ہاتھوں میں ہو۔۔پی ڈی ایم کے دو سال اور پھر اب دو سال سے زائد سے وزیر اعظم شہباز شریف ہو اور انکی مدت میں 100 ارب ڈالر کی لانڈرنگ کا اعتراف بھی کر لیں،تو آپ اندازہ کر لیں ملک میں حکمرانی کا اور اداروں کا کیا حال ہوگا۔




Pakistan, Turkey, Egypt and Saudi Arabia appear to be emerging as regional power bloc independent.co.uk/news/world/mid…








