Sabitlenmiş Tweet
Eshaal زہـــرہ
137.7K posts

Eshaal زہـــرہ
@Eshaal0
You are my strength, not my weakness💕💞
Katılım Kasım 2019
12.8K Takip Edilen46K Takipçiler

@TDN1974 ہم برازیل اور یوراگوئے کے بارڈر پر رہتے
لیکن رہتے برازیل سائیڈ پہ
اردو

@Eshaal0 Aisay bolain na. Mai UN may houn. Mai 6 months Brazilia may Raha houn. Es jaggah per. Complexo Sérgio Vieira de Mello - Quadra 802, Conjunto C, Lote 17, SEN, Brasília.
Português

@UmarHay54680695 ہم جہاں رہتے ہیں وہاں مسلم کمیونٹی نہیں ہے
بس 6 سے 7 پاکستانی فیملیز ہیں
اردو

@TDN1974 برازیل کے بارڈر پہ ڈیوٹی فری شاپس ہیں وہاں ڈالر کرنسی استعمال ہوتی ہے
اردو

@Eshaal0 Brazil currency is Brazilian Real or say plural Reais. Dollars Kahan say agayai.
English

وعلیکم السلام والرحمتہ اللہ وبرکاتہ

Hamza@HA72889
﷽ السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ🌹 صباح الخير #خاتم_النبیین_محمدﷺ #درود_وسلام جوکھڑے اور بیٹھے ہرحال میں اللّٰه کو یادکرتےاورآسمان اور زمین کی پیدائش پرغورکرتےاورکہتےہیں کہ اے الله! تو نےاس(مخلوق)کوبے فائدہ نہیں پیداکیاسو ہمارے دلوں میں ایمان کی شمع روشن رکھنا آمی
اردو

@Eshaal0 ٹشو پیپر بھی واش روم ٹوائلٹ والے تشریف صاف خشک کرنے والے استعمال کر رہے ہیں
اردو

بھارت کے شہر جبل پور میں برگی ڈیم کے قریب نرمدا ندی میں سیاحوں سے بھری ایک کروز اُلٹ گئی۔ کچھ لوگوں کو ریسکیو کر لیا گیا لیکن کچھ جان کی بازی ہار گئے اور جو جان کی بازی ہارے ان میں یہ ماں بیٹا بھی شامل ہیں۔
کروز کا سفر شروع کرتے ہوئے مسافروں کو لائف جیکٹ نہیں پہنائی گئی جب کروز کے نچلے حصّے میں پانی آنا شروع ہوا تو مسافروں نے اپنی مدد آپ کے تحت کچرے والا ڈسٹ بن خالی کر کے کروز سے پانی نکالنا شروع کیا اور لائف جیکٹ ڈھونڈ کے دوسرے مسافروں میں تقسیم کی اور جب کروز میں پانی کی سطح بڑھ گئی تو ڈرائیور نے اپنی جان بچانے کی خاطر پانی میں چھلانگ لگا دی اور کروز الٹنے پہ سیفٹی جیکٹ پہننے کے باجود مسافر پانی میں ڈوب گئے۔
بتایا جا رہا ہے کہ پندرہ گھنٹوں کے بعد ڈھونڈ ڈھانڈ کے ان ماں بیٹے کی ڈیڈ باڈیز جب پانی کی سطح کے اوپر لائی گئی تو دونوں ایک دوسرے سے اسی طرح لپٹے ہوئے تھے کہ ماں نے اپنے بچے کو سینے سے اس مضبوطی سے لگایا ہوا تھا کہ موت بھی ماں اور بیٹے کو جدا نہ کر سکی۔
ایک سوچ ذہن میں آئی کم از کم آخری لمحوں میں اس معصوم بچے کو یہ اطمینان ہوگا کہ وہ اپنی ماں کی آغوش میں ہے تو محفوظ ہے اور ماں کو یہ سکون کہ اس نے اپنے بچے کو اپنی بانہوں میں محفوظ کر رکھا ہے۔ درد، خوف اور موت کے اس لمحے میں بھی دونوں ایک دوسرے کا سہارا بنے رہے۔
اور ایک طرف لاہور اچھرہ کا وہ افسوسناک واقعہ جہاں ایک ماں نے اپنے ہی تین معصوم لختِ جگروں کو بیدردی سے گلے میں چھری پھیر کے ذبح کر دیا۔
ممتا کے یہ دو مختلف واقعات دیکھ کے احساس ہوتا ہے ماں صرف ایک رشتہ نہیں ایک کیفیت ہے۔ جب ماں واقعی ماں ہو تو اپنی اولاد کے لیے آخری سانس تک ڈھال بنی رہتی ہے اور جب ممتا مر جائے تو بچے دنیا میں کہیں بھی محفوظ نہیں رہتے ……
#جاگو

اردو













