Sabitlenmiş Tweet
F D
85.5K posts

F D
@fd7861
Be the change that you wish to see in the world 💚
Katılım Temmuz 2022
3.3K Takip Edilen12.3K Takipçiler
F D retweetledi

دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا
اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا
اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
شرح:
علامہ اقبال کے یہ اشعار جدید تہذیب، طاقت کے منبع، انسان کی روحانی حیثیت اور مستقبلِ انسانیت کے بارے میں نہایت گہرا فکری اعلان ہیں۔ اقبال یہاں دنیا کو ایک نئے معرکۂ روح و بدن کے دہانے پر کھڑا دیکھتے ہیں۔ اس معرکے سے مراد صرف مذہب اور مادہ کا سادہ تصادم نہیں، بلکہ دو مختلف تصوراتِ انسان کا ٹکراؤ ہے۔ایک وہ انسان جو روح، اخلاق، ذمہ داری اور خدا آگاہی سے تشکیل پاتا ہے، اور دوسرا وہ انسان جو محض جسم، خواہش، طاقت، پیداوار اور تسلط کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے۔
علامہ نے عصرِ حاضر کے چہرے سے نقاب اٹھایا ہے۔ “دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش” میں اقبال ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ انسان ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف روح، اخلاق، ایمان اور انسانی عظمت ہے، اور دوسری طرف مادہ، خواہش، مفاد اور بے رحم طاقت۔ یہ صرف خیالات کی جنگ نہیں، بلکہ انسان کے مستقبل، اس کی شناخت اور اس کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والا معرکہ ہے۔ اسی لیے اقبال فرماتے ہیں: “تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو اُبھارا”۔ یعنی وہ تہذیب جو خود کو روشن، مہذب اور ترقی یافتہ کہتی ہے، اسی کے باطن سے ظلم، جنگ، استحصال، خونریزی اور انسان دشمن قوتیں جنم لے رہی ہیں۔ آج کے عالمی حالات اس شعر کی زندہ تفسیر ہیں، جہاں ترقی کے نام پر انسانیت کو کچلا جا رہا ہے اور طاقت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
پھر اقبال حق کی اصل قوت کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں: “اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا”۔ یہاں مومن سے مراد وہ بیدار، غیرت مند، باکردار اور ثابت قدم انسان ہے جو حالات کے جبر کے سامنے جھکتا نہیں، جو باطل کی چکاچوند سے مرعوب نہیں ہوتا، اور جو اپنی روحانی طاقت سے تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں “اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا” ایک ایسی تہذیب کی تصویر ہے جو مشین، صنعت، طاقت اور مادی ترقی کے نشے میں انسان کے باطن کو کھو بیٹھی ہے۔ اقبال کا پیغام نہایت واضح اور لرزا دینے والا ہے: دنیا کی اصل نجات مشینوں، اسلحے اور مادی قوت میں نہیں، بلکہ زندہ ضمیر، بلند کردار، اخلاقی جرات اور ایمان کی حرارت میں ہے۔ جب تک تہذیب روح سے خالی رہے گی، اس کے ہاتھوں انسانیت زخمی ہوتی رہے گی اور جب تک مردِ مومن اپنی پامردی، خودی اور حق گوئی کو زندہ رکھے گا، باطل کی ہر مشین، ہر قوت اور ہر غرور آخرکار شکست سے دوچار ہوگا۔
بُڈھّے بلوچ کی نِصیحت بیٹے کو
امغانِ حجاز

اردو

یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قلب کو گرما دے، جو رُوح کو تڑپا دے
اس دور کی ظُلمت میں ہر قلبِ پریشاں کو
وہ داغِ محبّت دے جو چاند کو شرما دے
شرح:
یہ اشعار علامہ اقبال کے فکری اور روحانی شعور کا نہایت پُرسوز اظہار ہیں۔ اقبال بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے ہیں کہ مسلمان کے دل میں پھر سے ایسی زندہ، بیدار اور تپتی ہوئی آرزو پیدا ہو جو اسے سکونِ غفلت میں ڈوبا نہ رہنے دے بلکہ اس کے باطن میں حرارت، بے قراری اور جستجو کی کیفیت پیدا کر دے۔ یہاں “زندہ تمنّا” سے مراد وہ بلند ولولہ ہے جو انسان کو محض دنیاوی آسائشوں کا اسیر نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے حق، عمل، قربانی اور مقصدِ حیات کی طرف لے جاتا ہے۔ اقبال آرزو کی اس شدت کو بیان کرتے ہیں کہ مومن کا دل پھر سے سوزِ یقین سے گرم ہو، اور اس کی روح میں ایسی تڑپ بیدار ہو جو اسے اپنے کھوئے ہوئے مقام کی بازیافت پر آمادہ کر دے۔ اقبال کے نزدیک زندگی کی اصل علامت یہی باطنی اضطراب ہے کیونکہ جس دل میں تڑپ باقی نہ رہے، وہ اگرچہ دھڑکتا ہو، حقیقت میں مردہ ہے۔
اقبال اس تاریک دور کی روحانی و اخلاقی زبوں حالی کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ “اس دور کی ظلمت” صرف ظاہری اندھیرا نہیں بلکہ فکر کی گمراہی، دلوں کی ویرانی، محبت کی سرد مہری اور انسان کے اپنے رب اور اپنی اصل سے دور ہو جانے کی علامت ہے۔ اقبال دعا کرتے ہیں کہ ہر پریشان، زخمی اور بے قرار دل کو محبت کا ایسا داغ عطا ہو جو اس کے وجود کو پھر سے منور کر دے۔ یہاں “داغِ محبت” نہایت معنی خیز استعارہ ہے؛ یہ وہ چوٹ ہے جو بظاہر زخم ہے مگر حقیقت میں زندگی کا چراغ ہے۔ یہ عشقِ حقیقی کا وہ نشان ہے جو انسان کے باطن کو پاکیزگی، سوز، اخلاص اور نور سے بھر دیتا ہے۔ “جو چاند کو شرما دے” میں اقبال محبت کے اسی نور کی بلندی بیان کرتے ہیں کہ اگر دل میں سچا عشق جاگزیں ہو جائے تو اس کی تابانی آسمانی چاندنی سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ اقبال فریاد یہ ہے کہ امت کو پھر وہی سوزِ محبت، وہی حرارتِ ایمان، اور وہی تڑپِ بندگی نصیب ہو جائے جس سے مردہ دل زندہ اور تاریک زمانے روشن ہو جاتے ہیں۔
نظم:دعا
کتاب:بانگِ درا

اردو
F D retweetledi
F D retweetledi
F D retweetledi
F D retweetledi
F D retweetledi
F D retweetledi
F D retweetledi

اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، پس ہمیں معاف فرما۔
*امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
"اگر تم دعا کر رہے ہو اور تمہارے دل میں اپنی ضرورتوں کا ہجوم ہو جائے (کہ کیا مانگوں اور کیا چھوڑوں)، تو اپنی پوری دعا کو 'اللہ کے عفو و درگزر(معافی) پر منحصر کر دو؛ کیونکہ اگر اس نے تمہیں معاف کر دیا، تو تمہاری تمام حاجتیں بن مانگے ہی تمہارے پاس آ جائیں گی۔"
[منہاج القاصدین (343/1)]
اردو












