Sabitlenmiş Tweet
ADD
5.3K posts

ADD retweetledi
ADD retweetledi
ADD retweetledi
ADD retweetledi

سندھ میں افغانستان سے لوگ لاکر بھرتی کیے جائیں؟ ابے چوتیے سالے یہ سندھ ہے میجارٹی سندھیوں کی ہے تو ظاہر سی بات ہے وہی نظر آئیں گے اس میں بھی تعصب؟ ایک پوری نسل ایم کیو ایم نے تباہ کردی اس میں سندھیوں کا کیا قصور ہے؟ اردو بھی بہت ہیں بیوروکریسی میں اگر تعصب کی عینک اتار کر دیکھو!
Junaid Raza Zaidi@junaidraza01
17 گریڈ اکاؤنٹس آفیسر سے ٹریژری آفیسر Treasury گریڈ 18 میں پروموٹ ہونے 28 کے 28 افراد صرف پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ہی زبان والے ہیں۔کیا سندھ کے اس ڈیپارٹمنٹ میں کوئی اردو بولنے والا ، پنجابی بولنے والا ملازم نہیں ہے ؟ریاست کے سامنے ہے کہ ہم کیوں انتظامی تقسیم چاہتے ہیں
اردو
ADD retweetledi
ADD retweetledi
ADD retweetledi

موکھی شراب خانہ:۔
کراچی میں سب سے پہلے شراب فروخت کرنے والی دو عورتیں، ماں اور بیٹی تھیں۔ بیٹی کا نام موکھی اور ماں کا نام ناتر تھا، جن کی کہانی تقریباً ساڑھے تین سو سال پرانی ہے۔
وسطی ایشیا کے جو بھی قافلے گزرتے تھے، ان کی گزرگاہ کا راستہ سندھ سے ہوتا تھا، جسے 'کونکر' کہا جاتا تھا۔ ناتر نے اپنا مے خانہ (شراب خانہ) اسی گزرگاہ پر کھولا اور وہ موکھی کے ساتھ مل کر یہ ساقی خانہ چلاتی تھی۔ ناتر پہلے مومل رانی کے محل 'کاک محل' میں رہتی تھی، لیکن جلد ہی اس نے وہ محل چھوڑ دیا اور کراچی کے علاقے گڈاپ میں آ کر رہنے لگی۔ وہاں اس نے شراب خانہ کھولا، جسے بعد میں اس کی بیٹی موکھی چلاتی تھی۔ قدیم سندھ شراب کی پیداوار کے لیے مشہور تھا۔
موکھی کا مے خانہ پورے علاقے میں مشہور تھا۔ ایک دن 'متارا' نامی آٹھ دوستوں کا ایک گروہ اس شراب خانے میں آیا۔ بدقسمتی سے شراب کے تمام مٹکے خالی ہو چکے تھے۔ انہوں نے ضد کی کہ 'کچھ بھی کر کے ہمیں شراب لا کر دو'۔ موکھی نے مجبوری میں ایک پرانا پڑا ہوا مٹکا نکال کر انہیں پیش کر دیا۔ وہ دوست شراب پی کر مطمئن ہو کر جب واپس چلے گئے، تو موکھی نے صفائی کے دوران اس پرانے مٹکے میں سانپ کی ہڈیاں دیکھیں۔ موکھی کو یقین ہو گیا کہ جو لوگ ابھی شراب پی کر گئے ہیں، وہ یقیناً مر جائیں گے کیونکہ شراب زہریلی ہو چکی ہوگی۔
کچھ دنوں بعد وہ 'متارا' پھر آئے اور اس دن والی شراب کی تعریف کرتے ہوئے کہنے لگے: "آج پھر وہی شراب پلاؤ"۔ موکھی نے انہیں مٹکے سے تازہ اور بہترین شراب پیش کی، لیکن وہ اصرار کرنے لگے کہ ہمیں وہی شراب چاہیے جو پہلے پلائی تھی۔
جب موکھی نے انہیں اس دن کی حقیقت اور سچ بتایا، تو وہ آٹھوں افراد یہ بات سنتے ہی صدمے سے وہیں انتقال کر گئے۔
وہ آٹھوں متارا کیرتھر جبل کے درمیان گڈاپ کے مقام پر دفن ہیں۔ وہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر موکھی کی قبر ہے، جسے مقامی لوگ "ساقی کی مزار" کہتے ہیں۔
موکھی کا ذکر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے 'سُر یمن کلیان' میں بھی کیا ہے:
آڻي اُتر واءَ، موکيءَ مٽ اُپٽيا؛
مَتارا تنهن ساءَ، اَچن سِرَ سَنباهِيو۔
(شمالی ہوا چلی تو موکھی نے مٹکوں کے منہ کھول دیے؛ اس خوشبو پر متوالے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر چلے آئے ہیں۔)
موکي تون به مَرُ متارا مري ويا
تنهنجو ڏوس ڏمر ڪير سهندو تن ري۔
(اے موکھی! اب تو بھی مر جا کہ وہ پینے والے متوالے مر گئے؛ اب ان کے بغیر تیرا ناز اور غصہ کون سہے گا۔)
ٻہ سما، ٻہ سومرا، ٻہ چنا، ٻہ چھواڻ
موکي گهر مزمان ايندا ھئا اٺ ڄڻا ــــ
مجھے مکھی کے گڈاپ/کراچی کے مے خانے کے بارے میرے دوست انور پیرزادہ کے ساتھ ائے چند دوستوں نے بتایا تھا۔۔۔مجھے بہت دلچسپ کہانی لگی۔۔آج اقبال صاحب نے بھی کچھ تفصیل دی۔۔
اردو






