محمد سِنان retweetledi
محمد سِنان
8.3K posts

محمد سِنان retweetledi

ھم نے روز اول سے امریکی پشت پناھی میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت اور فلسطین سے آگے عرب دنیا اور ایران تک اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی بھرپور اور غیر مبہم مخالفت کی ھے لیکن خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب پر حملوں کے نتیجے میں ایران کے بارے میں پیدا ھونے والا توسیع پسندانہ عزائم کا تاثر بھی مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستان کے لیے ناقابل قبول ھے اور ایران کو اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاھئیں کیونکہ پاکستان کی نظر میں یہ حملے غیر ضروری کشیدگی بڑھانے اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا سبب بن رھے ھیں۔
سعودی عرب پر حالیہ حملے مسلم امہ کو آپس میں دست وگریبان کرنے کا امریکی و اسرائیلی منصوبہ ھے ھم بار بار اس کی نشاندھی کررھے ھیں کہ اسلامی ممالک کو آپس میں تحمل اور برداشت کے ساتھ اسرائیل کے خلاف یکجہتی کا مظاھرہ کرنا ھوگا اور اپنی آزادی وحریت اور خودممختاری کے اعلی ترین قومی اور ملی مقاصد کے حصول کے لیے ایک اسلامی بلاک کی تشکیل کی طرف جانا ھوگا جہاں اسلامئ دنیا سیاسی اقتصادی اور معاشی میدانوں میں ایک دوسرے کا سہارا بن سکے۔
ھم ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور سالمیت کی سنگین خلاف ورزی سمجھتے ھوئے ان میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ھوئے سعودی قیادت وحکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہارکرتے ھیں
اردو
محمد سِنان retweetledi

أمير جمعية علماء الإسلام باكستان مولانا فضل الرحمن يدين الهجمات على السعودية ويدعو لوحدة إسلامية لمواجهة التحديات
أدان أمير جمعية علماء الإسلام باكستان مولانا فضل الرحمن بشدة العدوان الإسرائيلي على الشعب الفلسطيني، مؤكدًا أن موقفه كان ولا يزال واضحًا منذ البداية في رفض هذا العدوان المدعوم أمريكيًا، وكذلك رفض السياسات التوسعية التي تتجاوز فلسطين لتطال العالم العربي وإيران.
وفي بيان صحفي، أعرب فضل الرحمن عن قلقه إزاء التداعيات التي أعقبت الهجمات على المملكة العربية السعودية، مشيرًا إلى أن هذه التطورات أسهمت في ترسيخ انطباع بوجود نزعة توسعية لدى إيران، وهو أمر غير مقبول في نظر العالم الإسلامي، لا سيما الباكستان. ودعا طهران إلى اتخاذ خطوات عملية لتبديد هذا التصور، محذرًا من أن مثل هذه الأحداث تؤدي إلى تصعيد التوترات وتقويض جهود السلام في المنطقة.
وأضاف أن استهداف السعودية يأتي في إطار مخطط يهدف إلى إشعال الخلافات داخل الأمة الإسلامية، وجرّها إلى صراعات داخلية تخدم مصالح الولايات المتحدة وإسرائيل. وشدد على ضرورة أن تتحلى الدول الإسلامية بالحكمة وضبط النفس، وأن تعمل على تعزيز وحدة الصف في مواجهة التحديات المشتركة.
كما دعا إلى المضي قدمًا نحو تشكيل تكتل إسلامي موحد، يهدف إلى حماية السيادة وتحقيق المصالح العليا للأمة، وتمكين الدول الإسلامية من دعم بعضها البعض سياسيًا واقتصاديًا وتنمويًا.
وفي ختام بيانه، اعتبر مولانا فضل الرحمن الهجمات على السعودية انتهاكًا خطيرًا لسيادتها ووحدة أراضيها، معربًا عن بالغ أسفه لسقوط ضحايا، ومقدمًا التعازي للقيادة السعودية والحكومة والشعب، ولأسر الضحايا، مؤكدًا تضامنهم الكامل في هذه الظروف.
@MoulanaOfficial
@KingSalman
@HRHMBNSALMAAN
@KSAembassyPK
@KSAMOFA
@AmbassadorNawaf
@spokesman_moia
@badermasaker
#JUI #Pakistan #KSA
العربية
محمد سِنان retweetledi
محمد سِنان retweetledi
محمد سِنان retweetledi

محمد سِنان retweetledi

چھبیسویں آئینی ترمیم کے دوران ہم نے کچھ ترامیم دی تھی جو تسلیم کر لی گئی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس سے پاکستان کے اندر دستور کے مطابق اب سود بند ہوگا، لیکن دو ہزار چھبیس شروع ہے ایک سال بیچ میں رہ گیا ہے اور اس وقت تک سود کے خاتمے کیلئے کوئی اقدامات ہمیں بینکوں میں یا محکموں میں نظر نہیں آ رہے ہیں، کیا چاہتی ہے حکومت؟ یہ تو ایک ڈنگ ٹپاو سیاست والی بات ہے کہ جب مجبوری ہے تو ہر بات مان لی، جب اس مجبوری سے نکل گئے تو پھر اپنی وہی خوہ، وہی عادت، وہی روش، اس طرح تو عوام نہیں چلیں گے آپ کے ساتھ، جمعیۃ علماء اسلام، اسلامی قوانین کا دفاع کرے گی۔ اس وقت بھی جو آئین میں ترمیم کی گئی تھی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات ڈیبیٹ کے لئے ایوان میں لائی جائیں گی، ایک بھی ابھی تک کوئی سفارش وہ بحث کے لئے ایوان میں پیش نہیں کی گئی، اس سے حکمرانوں کی بدنیتی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
بدنیتی سے حکومتیں نہیں چلا کرتیں، جھوٹی نمائندگی کے ساتھ حکومتیں نہیں چلا کرتیں، ہم عوام میں ہیں اور ہم ملک کی نزاکتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سے چیزوں پر ابھی آخری اقدام سے پہلو تہی کر رہے ہیں، ورنہ یہ ایک دن کی مار ہیں۔
عوام میں ناراضی ہے حکومت سے بھی ناراض، ریاستی اداروں سے بھی ناراض، ان کے آپریشنز بھی نہ عوام کو امن مہیا کر رہے ہیں اور نہ اس کی طرف کوئی پیش رفت، بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کا والی بات ہے۔
#نکلو_مولانا_کے_سنگ
اردو
محمد سِنان retweetledi
محمد سِنان retweetledi
محمد سِنان retweetledi

مـیـرا قـائـد :
یہ ہلکی پھلکی مسکان اور تبسم آمیز لب و ادا .
پتہ نہیں کتنے دلوں پہ اس نے گہرام مچائی ہوگی .
قائد محترم سدا یوں ہی مسکراتے رہیں ...!!
@MoulanaOfficial
#نکلو_مولانا_کے_سنگ
اردو
محمد سِنان retweetledi

جمعیت علماءاسلام ھر جابر کے جبر کے خلاف ھمیشہ سے سینہ سپر تھی ھے اور رھیگی ان شاءاللہ، یہ سوچنا ان جابر قوتوں کا کام ھے کہ وہ کس قدر جمعیت علماء اسلام اور اسکی قیادت کو آزمانے کا جگر رکھتے ھیں۔
ھاں جن کا کردار”ذکر و انثی” دونوں میں نہیں ھوتا وہ ھمیں لڑنے کا ھنر سکھانے سے پہلے اپنے گھروں سے نکلنے کا ھنر ھی سیکھ لیں۔
#نکلو_مولانا_کے_سنگ
اردو
محمد سِنان retweetledi

امن وامان کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے، حکومتی رٹ ختم ہے یہاں کی صوبائی حکومت نہ ہی میں نہ شی میں ، آپریشن کے خلاف بھی اور فوج کے
شانہ بشانہ بھی، اس قسم کی ڈاما ڈول پالیسیوں سے حکومتیں نہیں چلا کرتیں، عوام کو ایک پرسکون حکومت چاہیے ایک ایسی حکومت جو عوام کو بھی سکون دے سکے، حکومت بھی مضطرب اور عوام بھی مضطرب، یہ پھر سٹیٹ نہ ہوا اس کو کوئی اور نام دینا ہوگا۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پشاور میں پریس کانفرنس
#نکلو_مولانا_کے_سنگ
اردو
محمد سِنان retweetledi

Maulana Fazl ur Rehman calls for in-camera parliamentary session on regional tensions.
The News
It has become difficult for Israel to maintain its existence. The world has now seen its real face,” MFR said. He further criticised the Donald Trump administration for its support of Israel, claiming it had led to increasing isolation both globally and domestically, with protests emerging within the United States.
Maulana Fazlur Rehman alleged that despite these developments, the government was attempting to appease Washington while diverting public attention from core domestic issues, adding that the Muslim world was under mounting pressure.
thenews.pk/print/1408669-…
English
محمد سِنان retweetledi

رکن قومی اسمبلی جمعیۃ علماء اسلام عثمان بادینی کا اجلاس سے اہم خطاب
اس وقت عالمی جنگ کی صورتحال نے مسلمانوں پر ایک عذاب کی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں پورے پاکستان میں مہنگائی کا شدید طوفان آیا ہے، خاص طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی وجہ سے۔
لیکن مجھے اب تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ہمارا ہمسایہ اسلامی ملک ایران، جس کے لیے ہمارے ہمیشہ نیک جذبات رہے ہیں اور آئندہ بھی ان شاء اللہ رہیں گے، وہاں سے ہمیں تفتان، گوادر اور پنجگور بارڈرز کے ذریعے تقریباً چالیس روپے فی لیٹر پیٹرول مل سکتا ہے، تو ہم اس فیول کو پاکستان میں کیوں استعمال نہیں کر سکتے؟
جبکہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے اور ایران بارڈر پر ایسی کوئی رکاوٹ نہیں کہ ٹرانسپورٹیشن ممکن نہ ہو۔
دوسری طرف مہنگائی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ راتوں رات اعلان ہوا اور گڈز ٹرانسپورٹ نے اپنے کرایوں میں ساٹھ فیصد اضافہ کر دیا۔ مسئلہ صرف بچوں کے اسکول جانے یا دفتر آنے جانے کا نہیں، بلکہ لوگوں کے گھروں کے چولہے جلانے کا ہے۔ عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو چکا ہے۔
یہاں کچھ معزز ارکان نے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اپنی کامیابیوں کی کہانیاں سنائیں کہ ہم نے بڑی دلیری سے مقابلہ کیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلے لیوی بڑھائی گئی اور پھر کمی کر دی گئی۔ کم از کم یہ تو کیا جاتا کہ جو فیول پہلے سے پاکستان میں موجود تھا، اسے سبسڈی پر فراہم کیا جاتا۔
ہماری پلاننگ یہ ہے کہ ہم مختلف اشیاء کو سبسڈی دیں، لیکن سوال یہ ہے کہ جس چیز کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے، یعنی فیول، اسی پر لیوی ختم کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر فیول سستا ہو جائے تو باقی شعبوں میں بھی ریلیف ملے گا۔
بلوچستان پہلے ہی اپنے معدنی وسائل کی وجہ سے پاکستان کے مسائل کا حل بن سکتا ہے، اور آج وہ فیول کے ذریعے بھی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ ایران سے روزانہ 22 لاکھ لیٹر فیول سمگل ہو کر آتا ہے۔ اگر ہم قانونی طور پر ایران کے ساتھ تجارت کریں اور مناسب ٹیکس ادا کریں تو یہ ملک کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
بھارت اور ایران اپنی کرنسیوں میں تجارت کر سکتے ہیں، تو پاکستان کیوں نہیں؟ بلوچستان میں پہلے ہی بے روزگاری بہت زیادہ ہے اور مہنگائی نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔
کراچی سے گوادر کا فاصلہ تقریباً 800 کلومیٹر ہے جبکہ تفتان سے کراچی کا فاصلہ 1600 کلومیٹر ہے۔ اگر بلوچستان کے لوگ چند کلومیٹر کے فاصلے سے سستا فیول حاصل کر سکتے ہیں تو انہیں اس کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟
اگر بلوچستان کو واقعی ریلیف دینا ہے اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ہے تو ایران کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ سرحدی علاقوں کے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ کراچی سے سامان تفتان تک 1600 کلومیٹر لے جایا جاتا ہے، جبکہ ایران سے آنے والی اشیاء چند کلومیٹر کے اندر پاکستان میں داخل ہو سکتی ہیں، مگر ہماری پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ ہم آئی ایم ایف کے محتاج ہیں، جبکہ ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم ایک خودمختار قوم ہیں، ایران تنہا مقابلہ کر رہا ہے اور اس ظالم کے ساتھ لڑرہا یے اور ہم اپنی معیشت پر خود ہی بوجھ ڈال رہے ہیں اور اپنے لوگوں پر عذاب ڈال رہے ہیں
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ عوام کو ریلیف کیسے دیا جا سکتا ہے۔ اس کا حل ہمارے سامنے ہے کہ ایران سے سستا فیول اور دیگر مصنوعات لا کر عوام کو سہولت دی جائے۔
مزید یہ کہ اطلاعات ہیں کہ آئندہ دنوں میں بجلی پر بھی ٹیکسز بڑھائے جائیں گے۔ دیہی علاقوں میں جہاں دکانوں کا کرایہ صرف پانچ سے سات ہزار روپے ہے، وہاں بھی وہی شرح لاگو ہے جو بڑے شہروں میں لاکھوں روپے کمانے والوں پر ہے۔ ان چھوٹے علاقوں کو کم از کم ریلیف دیا جانا چاہیے۔
جہاں تک زمینداروں پر ٹیکس کی بات ہے تو حقیقت یہ ہے کہ زراعت پہلے ہی تباہ حال ہے۔ زمیندار سے اپ خون لے لو۔اور مجبوری میں اپنی زمینوں سے وابستہ ہیں، ورنہ وہ بھی شہروں کا رخ کر چکے ہوتے۔
ہم سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا اور سنجیدگی سے تجاویز پر غور کرنا ہوگا، تاکہ اس اسمبلی کے فلور سے ایک متفقہ لائحہ عمل سامنے آئے جس پر پورے پاکستان کو اتفاق ہو۔
اگر مشکل وقت آیا ہے تو ہمیں مل کر اس کا حل نکالنا ہوگا، اور مجھے یقین ہے کہ پاکستانی عوام بھی اس میں ہمارا ساتھ دے گی۔
اردو
محمد سِنان retweetledi

شمالی وزیرستان کی تحصیل شواہ اور سپین وام میں آپریشن، عوام کو درپیش مشکلات، دریائے ٹوچی میں طغیانی کے باعث زرعی زمینوں اور آبادیوں کو پہنچنے والے نقصانات پر مفتی مصباح الدین کا پارلیمنٹ میں خطاب۔
شمالی وزیرستان کئی دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہے اور بدامنی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ عوام دونوں طرف سے غیر محفوظ ہیں۔ کل کا ایک واقعہ عرض کرتا ہوں کہ لوگ اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہو گئے اور آج بھی کھلے آسمان تلے موجود ہیں، جبکہ تیز بارش اور آندھی کا سامنا کر رہے ہیں۔
میں لوکل گورنمنٹ سے اس ایوان کے فلور پر درخواست کرتا ہوں کہ وہاں امن قائم کیا جائے اور ان متاثرہ لوگوں کو جلد از جلد اپنے گھروں تک رسائی دی جائے۔
اہم مسئلہ حالیہ سیلابی صورتحال ہے۔ مسلسل بارشوں کی وجہ سے دریائے ٹوچی، کیتو نہر اور دریائے کرم میں سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے۔ ہزاروں ایکڑ زمین زیرِ آب آ چکی ہے، جبکہ دریائے ٹوچی کے کنارے آباد بستیاں دریا برد ہو گئی ہیں۔
ہمزوی کے علاقے میں مکانات سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں، جبکہ میرعلی ڈویژن میں حسو خیل اور حیدر خیل کے مکانات بھی دریائے ٹوچی میں بہہ گئے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں اس کی ویڈیوز بھی پیش کر سکتا ہوں۔
میں نے بارہا اس ایوان اور صوبائی حکومت سے گزارش کی ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔ ان تینوں دریاؤں پر حفاظتی دیوار (Protection Wall) تعمیر کی جائے۔ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جائے تو لاکھوں ایکڑ زمین آباد ہو سکتی ہے اور ان علاقوں کی آبادی مستقبل میں اس طرح کی تباہی سے محفوظ رہ سکتی ہے، ان شاء اللہ۔
اس ایوان کا تیسرا سال چل رہا ہے، مگر قبائلی اضلاع کے اراکین، بشمول میرے، کو اب تک ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔ کیا ہم اس ملک کا حصہ نہیں ہیں؟ کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟
قبائلی اضلاع وہ علاقے ہیں جو دہشتگردی اور آپریشنز سے شدید متاثر ہوئے ہیں، جہاں تقریباً سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔ پھر ہمیں کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ کیا قومی خزانے میں ہمارا کوئی حصہ نہیں؟
میں اس ایوان کے فلور پر وزیراعظم سے اپیل کرتا ہوں کہ قبائلی اضلاع کے اراکین کو ان کا حق دیا جائے تاکہ ہم بھی اپنے علاقوں میں ترقیاتی کام کر سکیں اور عوام کی خدمت کر سکیں۔
یہ آپ کی ذمہ داری بھی ہے اور ہمارا حق بھی کہ ہمیں ہمارے وسائل فراہم کیے جائیں۔
#نکلو_مولانا_کے_سنگ
اردو
محمد سِنان retweetledi

رکن قومی اسمبلی محترمہ شاہدہ اختر علی کا اہم خطاب
اس وقت پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ایک تشویشناک صورتحال پیدا کر چکا ہے۔
پاکستان کی میڈل کلاس تقریباً ختم ہونے کو ہے اور خط غربت کے نیچے لوگ جا رہے ہیں۔
جنگی صورتحال ہمیشہ سے پیچیدہ رہی ہے۔ تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ جنگیں زیادہ تر سفارتی اور قیادت کے جذبے سے کامیاب ہوتی ہیں۔
مسلمان کا جذبہ شہادت ہے اور جو ارادہ ہے اگر اس سے جنگ لڑی جائیں تو یہ یقینا کامیابی ہوتی ہے اور اس کا ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ایران جس طرح اس جنگ میں کامیابی کی طرف جا رہا ہے وہ قابل تحسین ہے۔
ایک طرف امریکہ کا ڈونلڈ ٹرمپ ایک بد مست ہاتھی کی طرح اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے روز دھمکیوں پہ دھمکیاں دے رہا ہے دوسری طرف یورپ اپنی پہچان کی کوشش میں لگا ہوا ہے اپنی خود مختاری منوا رہا ہے ۔
تیسری طرف چین جو ہے وہ اپنے اثر رسوخ کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہے اور سب سے زیادہ اگر ہم دیکھیں تو مشرق کے وسطہ میں اس وقت مسلمان جو ہے وہ نقصان پہ نقصان اٹھا رہے ہیں ایک عالمی جنگ چھڑ چکی ہے جس میں الٹیمیٹلی نقصان پھر مسلمانوں کا ہے اور اس وقت حالت ہے اس میں پاکستان کا ایک قلیدی کردار ہے انتہائی اہم کردار ہے
میری تجویز ہے کہ پاکستان او آئی سی میں اپنا فعال کردار ادا کرے اور اقوام متحدہ میں بھی آواز بلند کرے۔ جس پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ خاموشی ہے۔
پاکستان کو مسلم ممالک کے ایک متحدہ بلاک کے قیام کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ دنیا میں مسلم ممالک کی اہمیت اور قوت بڑھ سکے۔
جہاں پہ پاکستان کی اہمیت ہے تو اس کردار کو نبھاتے ہوئے یو این میں بھی اواز اٹھانی چاہیے وہ یو این وہ معاہدات جہاں پہ امریکہ میں اگر ایک کتے کو بھی مارا جاتا ہے تو وہاں پہ بھی وائلیشن ہوتی ہے اور ہیومن رائٹ کی تنظیم میں اٹھتی ہیں کہ یہ جانوروں کی حقوق کی پاسداری نہیں کی گئی تو یہاں پہ جو فلسطین غزا شام عراق ہر جگہ بمباری کر رہا ہے کون کر رہا ہے اسرائیل کر رہا ہے امریکہ کر رہا ہے تو کیوں واضح پیغام نہیں دیا جا رہا ۔
ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ جس کے منہ کو خون لگ چکا ہے مسلمانوں کا۔جو کہ جنگی جرائم کا مجرم ہے اس کو ہم پیس نوبل انعام کے لیے تو منتخب کرتے ہیں لیکن ایک واضح پالیسی نہیں آرہی اخر کیوں؟
ایک واضح پالیسی آنی چاہیے ہمیں مسلم ممالک کا ایک یونائٹڈ بلاک بننے چاہیے کیونکہ اس وقت جو دنیا ہے وہ ایک نئی نظام کی تشکیل کی طرف جا رہی ہے ۔
اگر یہاں پالیسی واضح نہیں ہے تو پھر ہم کہاں جائیں گے؟ یہاں وہ معاہدات سامنے لائے جائیں، وہ ایم او یوز جو سائن کیے جاتے ہیں، ان پر یہاں بحث ہو تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ ان کی میریٹس کیا ہیں اور ڈی میریٹس کیا ہیں۔ ہمیں یہ بتائے جائیں۔
یہاں پہ انرجی کرائیسز کس وجہ سے ہیں؟ آئی پی پیز کے وہ معاہدات جنہیں ہم نہیں بدل سکتے، لیکن جہاں بھی حکومت نے رینیو ایبل انرجی کو انسینٹیوائز کیا، لوگوں نے اسے لگایا، اور آج سولر پالیسی پر مختلف غیر مستحکم پالیسیز ہر روز بدلتی رہتی ہیں۔
آج ایک بیان، کل دوسرا، پھر تیسرے دن تیسرا تو لوگ کہاں جائیں گے؟
ہمارا ملک بھی ہے اور سب سے پہلے ہمیں اپنی شناخت اور ملک کی سالمیت مقدم رکھنی چاہیے۔ ہم ایک وقت کا کھانا چھوڑ کر ملک کی حفاظت کر سکتے ہیں، لیکن آپ بھی خدارا وہ پالیسیاں سامنے لائیں جن پر عوام عمل کر سکیں۔ ایسا نہ ہو کہ موجودہ پالیسیز، جو انصاف پر مبنی نہیں ہیں، عوام میں ناپسندیدگی پیدا کریں۔
بجلی اور انرجی کے بحران میں، اگر بجلی کا بل دیکھا جائے تو اس پر متعدد ٹیکسز لگائے گئے ہیں
ایڈوانس ٹیکس، ایکسٹرا ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، اور سیلز ٹیکس الگ سے، اس کے علاوہ فائنینسنگ کاسٹ بھی شامل کر دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، پندرہ یونٹ بجلی کے بل کا آج کا ریٹ ساڑھے چھے سے سات ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے، تو لوگ کہاں جائیں گے؟
ہمیں دیکھنا چاہیے کہ یہ پالیسیاں کیوں ایسی ہیں۔ سولر اور رینیو ایبل انرجی کو کمزور کیوں کیا جا رہا ہے؟ کم از کم اسے رہنے دیا جائے، کیونکہ یہ گرین انرجی میں مثبت اثر ڈالتی ہے۔
ہمیں ایکسپلوریشن کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے،معدنیات اور ذخائر کو دریافت کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنی انڈیپینڈنس حاصل کر سکیں۔ مستقبل میں، خلیجی ممالک فوڈ انفلیشن کا شکار ہوں گے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اور یہاں سکلڈ ورکرز کی کمی نہیں۔ ہمیں اپنی زراعت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تاکہ آنے والے وقت میں مشکلات سے بچ سکیں اور برآمدات کے قابل بن سکیں۔ ہم اپنے مشرقی اور مغربی مسلم ممالک کو بھی ایکسپورٹ کر سکیں۔
زراعت کے ساتھ ساتھ اگر ہم اپنا لائیو سٹاک دیکھیں، جہاں انڈیا اور برازیل ریڈ میٹر ایکسپورٹ کرتے ہیں، تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ ہم ان سے بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں، اور زیادہ اخراجات بھی نہیں آئیں گے اگر ہم پریزرویشن پر توجہ دیں۔
اردو
محمد سِنان retweetledi

اسلام آباد: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کے زیر صدارت کور کمیٹی کا اجلاس
اجلاس میں مولانا عبدالغفور حیدری، انجنئیر ضیاء الرحمان، سنیٹر کامران مرتضٰی، علامہ راشد محمود سومرو، مولانا اسعد محمود، ملک سکندر ایڈوکیٹ ، مفتی ابراز شریک
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ
ہم نے روز اول سے امریکی پشت پناھی میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت اور فلسطین سے آگے عرب دنیا اور ایران تک اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی بھرپور اور غیر مبہم مخالفت کی ہے لیکن خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب پر حملوں کے نتیجے میں ایران کے بارے میں پیدا ہونے والا توسیع پسندانہ عزائم کا تاثر بھی مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے اور ایران کو اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاھئیں کیونکہ پاکستان کی نظر میں یہ حملے غیر ضروری کشیدگی بڑھانے اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا سبب بن رھے ہیں۔
سعودی عرب پر حالیہ حملے مسلم امہ کو آپس میں دست وگریبان کرنے کا امریکی و اسرائیلی منصوبہ ہے ہم بار بار اس کی نشاندہی کررہے ہیں کہ اسلامی ممالک کو آپس میں تحمل اور برداشت کے ساتھ اسرائیل کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اپنی آزادی وحریت اور خودممختاری کے اعلی ترین قومی اور ملی مقاصد کے حصول کے لیے ایک اسلامی بلاک کی تشکیل کی طرف جانا ہوگا جہاں اسلامئ دنیا سیاسی اقتصادی اور معاشی میدانوں میں ایک دوسرے کا سہارا بن سکے۔
ہم ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور سالمیت کی سنگین خلاف ورزی سمجھتے ہوئے ان میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ہوئے سعودی قیادت وحکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہارکرتے ہیں
@KingSalman
@HRHMBNSALMAAN
@KSAembassyPK
@KSAMOFA
@AmbassadorNawaf
@spokesman_moia
@badermasaker
#JUI #Pakistan #KSA
اردو
محمد سِنان retweetledi

آج بھی دو ہزار چوبیس کے الیکشن کی روش برقرار ہے، جتنے ضمنی الیکشن ہوئے ہیں عینی شاہدین، کہ آج بھی شکست خوردہ لوگ جو ضمنی الیکشن میں ہار چکے ہیں ان کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ پانچ ہزار ووٹ لینے والا ہارا ہوا ہے اور پانچ سو ووٹ لینے والا جیتا ہوا ہے، شرم انی چاہیے اس انتخابی نظام کو، اس الیکشن کمیشن کو اور ان قوتوں کو جو اس قسم کے نتائج کے لیے اپنے ریاستی قوت کو استعمال کرتے ہیں، کیا تبدیلی آئی ہے تمہارے اندر؟
اگر آپ ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم خوشامد کر کے سیاست کریں گے تو یہ جمعیۃ علماء اسلام کی روش نہیں ہے، یہ جمعیۃ علماء اسلام کی تربیت نہیں ہے، ہم نے سر اٹھا کر چلنا سیکھا ہے اور اپنے اکابرین سے سیکھا ہے اور وہی روش چلے گی، کہاں تک جانا چاہتے ہو یہ آپ بتائیں، ہم آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ سمندر نے کہا مچھلی سے کب تک تیرتے رہو گے؟ تو مچھلی نے کہا جب تک تیرے اندر موجیں مارنی کی طاقت ہے اس وقت تک میرے اندر تیرنی کی بھی طاقت ہے۔
اس حوالے سے ان شاءاللہ العزیز بارہ اپریل کو بہت بڑا اجتماع ہوگا اور اچھا میلہ لگے گا ان شاءاللہ اور عوام کو اعتماد دلائے جائے گا کہ آپ تنہا نہیں ہیں، کوئی تو ہے جو آپ کے پشت پر کھڑا ہے اور آپ کے حق کی بات کر رہا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پشاور میں اہم پریس کانفرنس
#نکلو_مولانا_کے_سنگ
اردو
محمد سِنان retweetledi
محمد سِنان retweetledi

دستور اســــــــلام کانفرنســــــــں مردان
12 اپریــــــــل ان شاءاللہ
مردان سپورٹس کمپلیکس
#JUIDigitalMediaKP #TeamJUIKP

اردو






